ثمینہ تبسم کا ’نیا چاند‘


بدن پر خواہش کی ننھی شاخوں پر جب پھول کھلنے لگیں اور نگاہو ں کی برف پگھلنے لگے ، راتوں کے پچھلے پہروں میں جب نیند ٹوٹے تو شریر میں جس نئے جنم کی انگڑائی کا احساس جاگتا ہے وہ ایک عورت کے لیئے انسان ہونے کا ادراک ہے۔

اور جب وہ اپنی عمر کے کچے پن میں معصومیت کے کسی نازک لمحے انجانے میں اس انکشاف کا دعویٰ کر بیٹھتی ہے تو ایک ایسے سماج میں جو منکر اور نکیروں کا سرپھرا اور اندھا ہجوم ہو اُسے گناہ گار قرار دے دیتا ہے پھر وہی ہجوم اُسے منصف کی دہلیز پر، اونچے ایوانو ں اور باوردی دربانو ں کے سامنے دن دہاڑے پتھروں کی بارش کی زد میں ذلت و رسوائی کا نشان ِعبرت بھی بنا دیتا ہے ۔

آج سے چودہ برس پہلے خود پر تنگ ہوتے ایک ایسے ہی ہجوم کو چیر کر سات سمندر پار بھاگ جانے والی ثمینہ تبسم نے ایک ایسے خواب نگر میں جا بسنے کی اڑان بھری تھی جو اُسے ایک ”فرد“ کا منصب دینے کا وعدہ کرتا تھا۔ ایک ایسا فرد جو اپنی مرضی سے ممنوعہ اور غیر ممنوعہ شجر پر اگنے والے ہر اُس ثمر کو چکھنے کا مجاز ہو جس کے لئے اسے اپنی ہستی کو کشکول بنا کر بھیک نہ مانگنی پڑے۔

وہ اس نظام ِ درس سے انکاری تھی جو اسے ایک ایسے بہشتی زیور سے آراستہ کرنے پر مصر تھا جس کی آرائش زباں بندی اور زیبائش گونگی بہری اور اندھی فرماں بردای ہے۔ اس کے معصوم ذہن کو اس جذبہ ممنوع سے ڈرایا جا رہا تھا جو فطرت کی وجہ بقا ہے اُسی زہریلے سانپ کے ڈنک سے بچنے کے لئے ضروری تھا وہ ڈر کی چادر اوڑھ لیتی۔۔۔

مجھے بتایا گیا

خواہش نہ کرو

تمہارے لئے یہ گناہ ہے

اس آگ کو اپنے اندر اتار لو

میں پا رس بن گئی

مجھے چھونے والا معتبر ہوا

اور میں

اپنے جذبوں کے ہاتھوں

سنگسار ہو ئی ۔ 

(معمہ)

اسے لگا اگر وہ چپ چاپ باڑے کی اس کھونٹی سے بندھی رہی تو عنقریب بیلو ں اور سانڈوں کے غول میں سے شہوت کے ہل میں جتا ہوا کوئی ایک بیل فقط معجزہ تولید و تناسل کی آ رزو میں اپنا ازلی حق جتاتے ہوئے اسے اپنی کھیتی سمجھ کر اس کی زرخیزی کو روند دے گا۔

جو نصاب اسے سَر کرنے کو تھمایا گیا تھا اس میں درج تھا کہ وہ اپنے شریک تلذّذ، ہم بستر خدا کی طر ح ملٹی پل آرگیزم کی خواہش کا ارتکاب نہ کرے ورنہ ایکسٹسی کے اس فسوں کے جر م میں رات بھر سات آسمانو ں سے لعنتوں کی آ گ اس کے مفتوح جسم پر کوڑے برساتی رہے گی ۔

وہ ڈر گئی ، ہراساں ہو گئی اور اس نے حبس کے زنداں سے کھلی فضاﺅں کی ہجرت ٹھان لی ۔

وہ نو ستمبر دو ہزار ایک کی سیاہ صبح تھی جب وقت کے کیلنڈر پر تاریخ نے پنّا پلٹا تو اقتصادی عالمگیریت کے فلک بوس مینار مغلوب اور غالب طاقتوروں کے تصادم میں ایسے لرزے کہ علامتی طور پربظاہر زمین بوس ہو گئے، اس ٹکراﺅ نے ہزاروں، لاکھو ں، کروڑوں انسانوں کے خون سے بالا دستی اور حق تلفی کی تقسیم کی بنیاد پر انسانی تہذیب کی ایک ایسی ہولناک تاریخ قلم بند کرنا شروع کر دی جو ابھی تک اپنے آخری باب کی تلاش میں ہے۔ عین اُسی روز ثمینہ تبسم حسین میپل کے رنگوں سے گندھی سفید برفوں تلے دبی دیار غیر کی پراَمن مٹی کو اپنی ماں سمجھ کر اس کی گود میں اپنے مقدر کے موتی چگنے محو پروازتھی ۔ ہجرت کے راستے میں اسے ایک حیران کن اور گمشدہ موڑ پر اپنے قافلے کو پڑاﺅ دینا پڑا جہاں اس کے پیرو ں کے نیچے اس اکھاڑے کی پتھریلی زمین تھی جس پرصدیو ں سے ڈنٹر پیلتی تہذیبو ں نے کبھی نہ ختم ہونے والے دنگل کے لئے اپنے اپنے لنگوٹ کس لئے تھے ۔ آسمان پر ابابیل ، بُراق ، ڈرون اور گدھ اپنے اپنے شکار کی تلا ش میں منڈلا رہے تھے ۔ یہ وہ منظر نامہ تھا جب خواب نگر کے رَن وے پر پَرسمیٹتے ہوئے یہ مفرور اور گناہ گار عورت اتری تو اس کے پیشِ نظر یہ منظر تھا ۔

فلک بوس عمارتوں کی دھواں چھوڑتی چمنیوں سے کھنچتی افق کی لکیر پر جب وہ نگاہ ڈالتی تو اس کے اندر کی وہ ’زبیدہ‘ جس کے وجود سے اس نے ہمیشہ انکار کیا تھااور نظر چرائی تھی اس کے دل کے آ نگن میں دوپٹہ اوڑھے استغفار کی تسبیح پڑھتی اتنی ہی بلندی پر تخت نشین نظر آئی ۔ اُسے پتا بھی نہ چلا وہ بھی اس کے ہمراہ ’کارگو‘ ہو گئی تھی ۔ وہ آ ج بھی اسے طعنے دیتی ہے، چیختی چلاتی ہے، قہر آلود نظرو ں سے گھورتی ہے کَس کے دوپٹہ لیتی ہے، بڑے ہی غصّے سے تسبیح پر لاحول پڑھتی ہے اور اُسے کسی اندھے کنویں میں جاگراتی ہے لیکن جب آنکھ کھلتی ہے تو وہ ہسپتال کے بستر پر ہو تی ہے جہاں وہ اپنے آپ کو تسلی دیتے ہوئے قریب دکھائی دیتی لکڑی کو تھامتی ہے ”ٹچ وڈ“ کہتی ہے کہ بہر طور وہ جس نگر میں ہے وہاں ایک فرد کے منصب پر تو براجمان ہے ۔ باعزت اور قیمتی فرد۔ وہ اسی عہدے کی مراعات (fringe benefits) اور perks سے مستفید ہونے کے لئے تو یہاں آئی تھی ۔ ابھی وہ ان خوش کن حقیقتوں سے خود کو آشنا کر رہی ہو تی ہے کہ زبیدہ بھر جا گ جاتی ہے اور اسے اپنے نوکدار ناخنوں سے نوچتی ہے۔

یہ زبیدہ اس کے گلے کاطوق ہے وہ اسے اس احساس جرم سے کبھی نکلنے نہیں دیتی ہے۔

یہ سارے سچ ہیں

 جن کے بیچ میں ششدر کھڑی ہو ں

میں خود کو ایک انسان جان کے خود پہ رحم کرنے کی مجرم

میں اپنے جرم کا اقرار کرتی ہوں۔

وہ ترقی یا فتہ دنیا کے پر امن ترین کثیر الثقافتی ،pluralisticسماج میں اپنے شانے پر انسان ہونے کا تمغہ سجائے جب سرد برفانی راتوں میں سڑک پر نکلتی ہے تو فٹ پاتھوں پر سلیپنگ بیگ کے اندر ٹھٹھرتے سکڑتے ہوم لیس سٹیزن کو دیکھتی ہے جو اُسی پاسپورٹ اور سیٹزن شپ سرٹیفکیٹ کا مالک ہوتا ہے جس سے مستفید ہو نے کے لئے اس نے اپنی نہتی شناخت کو تیاگ دیا تھا تو ایسے میں وہ خود بھی تھوڑی دیر کے لئے بے چھت، بے گھر اور بے سایہ ہو جا تی ہے۔

اُس پہر چاروں اور پھیلا نفی اثبات کا گہرا سمندر اسے کسی اور انجان دنیا کی طرف بلاتا ہے ۔ تشکیل کی مٹی ، تکمیل کی مٹی سے ملنا چاہتی ہے ۔ کشف ِ ذات ، بصارت اور بصیرت کے مزید فریب چاک کرتا ہے تو وہ خود کو فرد نہیں ”صارف“ پاتی ہے ۔ ایک ایسا صارف /consumerجس کے بدن کی تکان اور رات دن کی چکّی میں پستے رہنے کی وجہ سے پیشانی سے بہتامشقت کا پسینہ اجرت اور مداوے کی کسوٹی پر پرکھے گئے فلاحی ریاست کے گوشوارے اسے زندگی کا نہیں ”دھندے“ کا گیان دیتے ہیں ۔

شام کے ملگجے اندھیروں میں

صاف ستھری سڑک کے دونوں طرف

اپنے دھند ے پر آ نکلتی ہیں

اور گاہک تلاش کرتی ہیں

ٹیکسیاں بھی عجیب ہوتی ہیں

                          (دھندا۔ صفحہ122)

آپ خود بتائیے اس ہولناک تنہائی میں اپنے کتوں کے ساتھ گھروں کو لوٹتے پڑوسی ، پیاس بڑھاتی ہجر کی تلخی، بدن میں اترتی انتظار کی تھکن اسے ”نئے چاند“کی امید نہ دلائے تو کیا وہ اماوس کی اس کبھی نہ ختم ہو نے والی رات کے ساتھ چاندنی کا سوگ مناتی رہے گی ۔۔۔؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں