علی ظفر کے نزدیک جنسی ہراسانی کیا ہے؟


ملک کی معروف گلوکارہ و ماڈل میشا شفیع کے پاکستان کے مقبول گلوکار او فلمی دنیا کے ہیرو علی ظفر پر جنسی ہراسائی کا الزام لگانے کے بعد ہراسائی کے موضوع پر بحث چھڑ گئی ہے۔ علی ظفر کے حق میں بولنے والوں کا کہنا ہے کہ میشا شفیع نے گلوکاری میں ناکامی کے وجہ سے سستی شہرت پانے کے لیے علی ظفر پر جنسی ہراسائی کا الزام لگایا ہے اور علی ظفر پر تو دنیا بھر کی لاکھوں حسینائیں فدا ہیں جو ان پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو ہر وقت تیار رہتی ہیں بھلا علی ظفر کو کیا پڑی میشا شفیع جیسی خاتون کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی۔ دوسری طرف میشا شفیع کے حق میں بولنے والوں کا خیال ہے کہ علی ظفر ایک مغربی طرز زندگی گذارنے والا ایک پلے بوائے ہے جو ہندوستانی فلم انڈسٹری کے ماحول سے متاثر ہوکر سمجھتے ہیں کہ لکس ایوارڈ جیسے پروگراموں کے انعقاد کے بعد پاکستانی شوبز کے دنیا لالی وڈ کو چھوڑ کر بالی اور ہالی وڈ کو کاپی کرنے لگی ہے جہاں پر ہر کوئی اپنی موج مستی میں مگن رہے گا۔

اس لیے علی ظفر نے موقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے میشا شفیع پر اپنا ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی جو اب اس کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

جنسی ہراسائی لالی وڈ بالی وڈ اور ہالے وڈ سمیت مغربی اور مشرقی معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے۔ مگر سزا اور جزا کا تعین کرنا بہت مشکل بلکہ نا ممکن کام نظر آتا ہے۔ جنسی ہراسائی کی تعریف اور تعین میں بھی طبقاتی تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک عام شخص کے لیے معاشرے میں کسی کو چھیڑنا، گھورنا، پیچھا کرنا، سیٹی بجانا یا زبردستی ہاتھ ملانا جسنی ہراسائی کے زمرے میں آتا ہے ۔ اگر پاکستان کی شو بز کی دنیا میں دیکھا جائے تو وقت کے ساتھ آزاد خیالی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک وقت تھا جب شو بز سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو لوگ برا سمجھتے تھے مگر معاشرتی تبدیلیوں کے باعث ہماری سوچ میں بھی تبدیلی آئی ہے اور اب اچھے اور پڑھے لکھے گھراںوں سے بھی لوگ شوبز میں اپنا نام کما رہے ہیں۔ لالی وڈ پر بالی وڈ اور ہالی وڈ کے اثرات بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ اب گلے ملنا، بوسہ لینا، کسی کو آفر مارنا بس ایک عام سے بات سمجھی جاتی ہے۔ بالی وڈ میں ہراسائی کا مطلب یقیناً اس سے بہت آگے ہوگا جس کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ علی ظفر نے میشا شفیع کو کس طرح اور کس حد تک جنسی طور پر ہراساں کیا ہے کہ وہ چپ پر قابو نہیں رکھ سکیں۔ میشا شفیع نے اپنے پہلے انٹرویو میں بتایا کہ علی ظفر نے انہیں مسلسل دو بار جنسی طور پر ہراساں کیا جس پر خاموش نہ رہ سکی۔

اب یہ بھی سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ علی ظفر کے نزدیک جنسی ہراسائی کا کیا مطلب ہے شاید جو میشا شفیع کے مطابق جنسی ہراسائی ہے وہ علی ظفر اور دوسری شو بز کے خواتین کے مطابق نا ہو اور علی ظفر میوزک کنسرٹس میں اکثر وہ کام کو تفریح سمجھ کر کرتے ہوں جسے میشا شفیع جنسی ہراسائی کہہ رہی ہیں۔ ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کی شکایت لے کر پولیس والے کے پاس پہنچا کہ جناب اس نے مجھے گالی دی ہے جب پولیس والے نے اس شخص کو بلا کر پوچھا کہ گالی کیوں دی ہے تو وہ شخص بولا جناب میں نے گالی کب دی ہے یہ شخص جس کو گالی بول رہا ہے ہم تو اپنے گھر میں جب بہت خوش ہوتے ہیں تب یہ الفاظ اپنے گھر میں استعمال کرتے ہیں۔

یہ تو اب آنے ولا وقت ہی بتائے گا کہ علی ظفر میشا شفیع کو عدالت لی جاتے ہیں یا پھر میشا شفیع عدالت جاتی ہے۔  ہمیں جنسی ہراسائی کے خلاف سخت اقدامات اور آگاہی مہم کی ضرورت ہے کہ تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں