عمران مخالف مظاہرہ: سیاسی بداخلاقی کا نمونہ


editبرطانیہ میں مقیم پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حامیوں نے عمران خان کی سابقہ بیوی جمائمہ خان کے گھر کے باہر مظاہرہ کرکے، پاکستان کی قومی سیاست کو ذاتی عناد، دشمنی اور شخصیت پرستی کا نمونہ بنایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف پاناما پیپرز کے حوالے سے اصولوں پر بات کرنے سے گریز کررہی ہیں۔

عمران خان نے 2013 کے انتخابات کے بعد برسر اقتدار آنے میں ناکامی کے بعد نازیبا زبان کے استعمال اور دھرنوں اور مظاہروں کی سیاست کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وہ بعض اوقات اسٹیج سے دوسرے لیڈروں کے بارے میں ایسی گفتگو کرتے ہیں جو سماجی اخلاقیات کی سطح سے کمتر ہوتی ہے۔ لیکن پاناما پیپرز افشا ہونے کے بعد سے مسلم لیگ (ن) اور وزیر اعظم نواز شریف کے حامیوں اور وزیروں نے جارحانہ اور غیر اخلاقی رویہ اختیار کیا ہے۔ ایک طرف وفاقی کابینہ میں شامل وزیر عمران خان کی سرکردگی میں کام کرنے والے فلاحی منصوبوں کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ تو کل لندن میں مسلم لیگ (ن) کے حامیوں نے لیڈی گولڈ اسمتھ یعنی عمران خان کی سابقہ بیوی اور ان کے دو بچوں کی ماں جمائمہ کے گھر کے باہر مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی۔ عمران خان بھی اس وقت اس گھر میں مقیم تھے اور اور ان کے وہاں سے نکلنے پر بھی مخالفانہ نعرے بازی کی گئی۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کے خلاف مظاہرہ یا اس پر سخت سست تنقید ہر مخالف کا حق ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ ذاتی حملوں سے گریز کیا جائے اور تنقید کسی واضح دلیل کی بنیاد پر ہو۔

دلیل کی حرمت سے ہماری قوم کافی عرصہ ہؤا نجات حاصل کرچکی ہے لیکن اب یوں لگتا ہے کہ سیاست میں اخلاقیات کا بھی جنازہ نکالا جا رہا ہے۔ جمائمہ کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ اسی اخلاقی زوال کی نشانی کہا جا سکتا ہے۔ یہ مظاہرہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم بھی ’بغرض علاج‘ لندن میں مقیم ہیں۔ اس لئے برطانیہ میں مسلم لیگ (ن) کے جیالوں نے نواز شریف کو خوش کرنے کے لئے اس مظاہرہ کا اہتمام کیا تھا۔ نواز شریف نے ایک روز قبل برطانیہ میں اپنی پارٹی کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ اس لئے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ انہیں اس مظاہرہ کا علم تھا۔ انہوں بھی اپنے حامیوں کو یہ گھٹیا حرکت کرنے سے نہیں روکا۔ کسی سیاسی لیڈر کی سابقہ بیوی اور بچوں کے گھر کے باہر اس قسم کا مظاہرہ سیاسی بدحواسی اور اخلاقی پستی کی نئی انتہا ہے۔

اس دوران وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ پروپیگنڈا شروع کیا ہے کہ عمران خان نے 2010 کے سیلاب کے بعد متاثرین کی مدد اور ان کے گھر تعمیر کرنے کے لئے چار ارب روپے جمع کئے تھے لیکن وہ ضرورت مندوں پر صرف نہیں ہوئے کیوں کہ انہوں نے ابھی تک اس کا آڈٹ نہیں دیکھا۔ اس سے قبل وزیر اطلاعات پرویز رشید کی قیادت میں یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ شوکت خانم کے فنڈ کے تین ملین ڈالر کسی آف شور کمپنی میں ڈبو دئے گئے تھے۔ حالانکہ عمران خان بتا چکے ہیں کہ یہ رقم واپس لائی جا چکی ہے اور شوکت خانم کے اکاؤنٹس کی پڑتال کی جا سکتی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان سے سیاسی حساب چکتا کرنے کے لئے ان کے فلاحی منصوبوں کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس طرح عمران خان کا نقصان تو نہیں ہو گا لیکن ان منصوبوں سے استفادہ کرنے والوں کی سہولتیں ضرور متاثر ہو سکتی ہیں۔

ان حالات میں لازم ہے کہ فریقین گھٹیا ہتھکنڈے استعمال کرنے کی بجائے پاناما پیپرز سے حاصل ہونے والی معلومات کے بارے میں حقائق دلیل کی بنیاد پرسامنے لانے کی کوشش کریں۔ عمران خان کو بھی ان معلومات کو پاکستانی عوام کے لئے ’خدا کا تحفہ ‘ جیسے الفاظ استعمال کرنے اور حقائق جانے بغیر الزامات کی بوچھاڑ سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کو اپنے لیڈروں کی دولت کا دفاع کرنے کی بجائے یہ بتانا چاہئے کہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے پاس کل کتنے اثاثے ہیں اور یہ مال و دولت کس طرح حاصل کی گئی ہے۔

سب کو یہ جان لینا چاہئے کہ نہ تو آف شور کمپنی بنانا جرم ہے اور نہ ہی یہ معلومات سامنے آنے سے کہ حسن و حسین نواز آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ، سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ دولت کہاں سے حاصل کی۔ اس سے تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ ان کمپنیوں میں کتنا سرمایہ لگایا گیا ہے۔ سب سیاسی لیڈروں کی ذمہ داری ہے کی وہ ملک کے عوام کے ہیجان اور پریشانی میں اضافہ کرنے اور افواہ سازی اور تصادم کی بنیاد بننے کی بجائے حقائق کو جاننے اور مروجہ طریقہ کے مطابق آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ پاکستانی سیاست کو الزام تراشی کی بجائے تعمیر اور خدمت کی علامت بنانے کی ضرورت ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 413 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali