کندھا اور اعتماد


saghir sb میری ماں بچپن میں مجھ سے پوچھتی تھی کہ انسان کے جسم میں سب سے اہم عضو کون سا ہوتاہے۔ میں ایک عرصے تک اس بارے میں سوچتا رہا، اندازے لگاتا رہا۔ انہیں جب بھی موقع ملا مجھے اپنے پہلو میں بٹھا لیتی اور پوچھتی، ‘تم جانتے ہو انسان کے جسم میں سب سے اہم عضو کون سا ہے ؟’ میں بھی اندازے سے جواب دیتا۔ وہ مسکرا دیتیں۔ یہاں تک کہ میں جوان ہوگیا اور ماں کے سوال کا جواب سوچ لیا۔ ایک روز جب انہوں نے سوال کیا تو میں نے کہا ‘کان’ کیوں کہ میں سمجھتا تھا کہ کوئی انسان اگر آواز نہیں سن سکتا تو اس کی زندگی اہم نہیں ہے۔ میرا جواب سن کر وہ حسب معمول مسکرائی اور بولی ’’ نہیں میرے بچے تم دیکھو دنیا میں کتنے لوگ ایسے ہیں جو بہرے ہوتے ہیں ان کے لیے زندگی کی بہت اہمیت ہے اور ان کی اس دنیا میں بھی اہمیت ہے ‘تم سوچتے رہو میں پھر تم سے سوال کروں گی۔’

اس کے بعد کئی برس اور گزر گئے، انہوں نے مجھ سے پھر سوال کیا۔ میں اس سے پہلے بہت دفعہ اس سوال کا جواب اس کی منشا کے خلاف دیا تھا۔ اب کی بار میں نے کہا ’’ نظر‘‘ اور وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جس انسان میں دیکھنے کی صلاحیت نہیں جس کی آنکھیں نہ ہوں اس کی زندگی کیا ہے؟‘‘
ماں نے سنا تو حسب سابق مسکرا دیں۔ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولیں۔ دیکھو بچے ! تم تیزی کے ساتھ سیکھ رہے ہو لیکن تمہارا جواب درست نہیں۔ تم روز بروز بہتر ہو رہے ہو لیکن دیکھو اس دنیا میں اندھے بھی ہیں۔ یہ دنیا ان کے لیے بھی ہے۔”

میرے اور ماں کے درمیان سوال و جواب کی تکرار جاری رہی۔ ماں کا ہمیشہ ایک ہی سوال رہا اور میرا جواب ہمیشہ کی طرح غلط۔ ایک سال ایسا آیا کہ میرے دادا فوت ہو گئے۔ ہمارے گھر میں ہر کوئی دکھی اور پریشان تھا۔ ہر ایک رو رہا تھا۔ خاص طور پر میرے والد بہت رو رہے تھے۔ یہ زندگی کا دوسرا موقع تھا جب میں نے اپنے ابا کو روتے دیکھا۔ دادا کی میت کو آخری بار دیکھنے کے بعد میری ماں مڑی اور مجھ سے پوچھا ’’ کیا تم جانتے ہو کہ انسانی جسم کا کون سا حصہ بہت اہم ہے؟‘‘

مجھے اس سوال پر دھچکا سا لگا کیونکہ یہ اس سوال کا موقع نہیں تھا۔ میں ہمیشہ اس سوال کو اپنے اور ماں کے درمیان ایک کھیل سمجھتا رہا تھا۔ ماں نے میرے چہرے کا اضطراب پڑھ لیا تھا وہ بولی۔

“یہ سوال بہت اہم ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ تم واقعی اپنی زندگی میں رہتے ہو۔” یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی اس نے اپنے آنسو پونچھے اور بولی “میں نے ماضی میں جب بھی تم سے سوال پوچھا تم نے بدل بدل کر جسم کے ہر حصے کا نام لے کر جواب دیا۔ میں نے ہر بار تمہارا جواب مثال دے کر غلط ثابت کیا۔ آج وہ دن ہے جب تمہیں یہ انتہائی اہم سبق سیکھنا ہے۔” یہ کہہ کر اس نے پیار سے میرے سر پر ہاتھ رکھا۔ میری آنکھوں میں جھانکا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ بولیں۔

’’ انسانی جسم کا سب سے اہم حصہ کندھا ہے۔‘‘

’’ یعنی ‘ اس لیے کہ کندھے نے میرا سر اٹھا رکھا ہے ؟‘‘ میں نے ماں سے پوچھا۔

’’نہیں ‘‘ وہ بولی ’’ کندھا اس لیے اہم ہوتا ہے کہ جب کبھی کوئی ہمارا پیارا دوست یا عزیز دکھ سے بے حال ہوتا ہے تو کندھا غم زدہ انسان کا سر تھام لیتا ہے۔‘‘  ماں رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی۔

’’میرے بچے ہر انسان کو رونے کے لیے اپنی زندگی میں ایک کندھے کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں خواہش کرتی ہوں کہ تمہیں تمہاری زندگی میں بہترین دوست اور پیار ملے۔ تمہیں ہمیشہ ایک کندھا میسر رہے۔ جب تمہارے سر پر دکھوں، غموں اور مصیبتوں کا پہاڑ پڑے تو اس بوجھ کو ہٹانے کے لیے ایک کندھا موجود ہو جس پر سر رکھ کر تم رو سکو۔”

تب میں نے جانا کہ کندھا کتنا اہم ہوتا ہے۔ میری حیرت اور بڑھی جب ماں نے کہا “یاد رکھو یہ کندھا جتنی زیادہ عمر کا ہوگا تمہیں سکون ملے گا۔ اگر یہ کندھا بھائی کا ہوگا تو اچھا ہے، دوست ہوگا تو بہت اچھا، باپ کا ہوگا تو بہترین ہے۔ جب یہ کندھا بچے کو ملتا ہے تو اس کے دکھ کافور ہو جاتے ہیں۔ یہ کندھا بھائی کے غم اٹھاتا ہے۔ یہ کندھا اگر بادشاہ کا ہو تو ملکوں سے دکھ ختم ہو جاتے ہیں۔

میری ماں کی کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔اس نے مجھ سے پھر ایک اور سوال شروع کر دیا کہ انسانی رویوں اور رشتوں میں سے وہ کون سا رشتہ ہے جو چلا جائے تو واپس نہیں آتا۔

’’ اخلاق ‘‘ میں نے اسے کہا۔ اس نے نفی میں اپنا سر ہلایا اور بولی ’’ اصلاح طلب ہے انسان اخلاق بدلنا چاہتا ہے تو یہ واپس آ جاتا ہے۔ میں لاجواب ہوگیا۔ رویے کے حوالے سے اس نے مجھ سے پوچھا چند بار پھر سوال کیا۔ میں نے ایک بار کہا ’’ انصاف ‘‘ اس نے پھر نفی میں سر ہلایا اور بولیں “میرے بچے انصاف ترک کر دینا برا ہے، لیکن اسے واپس اپنا لینا ناممکن ہے۔” میں نے شکست تسلیم کر لی۔

اب میں جوان ہو چکا تھا۔ میرے ابا بھی فوت ہو گئے تھے ‘یعنی ایسا کندھا چھن گیا تھا جس پر سر رکھ کر رویا جا سکتا تھا۔ لیکن میری ماں کا کندھا موجود تھا۔ایک روز ایسا آیا کہ ہمارے گھر میں کچھ دور کے مہمان آئے تھے۔ میری ماں نے اپنا بٹوہ ڈائنگ ٹیبل پر رکھا تھا۔ ہم سب کھانا کھا رہے تھے۔ مہمانوں میں سے ایک نے بٹوے کی طرف گھور کر دیکھا اور پھر میری ماں سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’ اس بٹوے میں کیا ہے ؟‘‘

’’ خالی ہے ‘‘ ماں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

تب ماں سے اس نے پوچھا ’’ اگر یہ خالی بٹوہ میں آپ کو بتائے بغیر اٹھا لوں تو کیا ہوگا ؟‘‘ ماں نے میری طرف دیکھا اور بولی ’’ میرے بچے آج تمہارے سوال کا جواب مل گیا ہے بوجھو تو جانیں۔‘‘

میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ میں نے سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا اس نے اپنا سوال دہرایا۔

انسانی رویوں اور رشتوں میں سے وہ کون سا ہے جو ایک بار چلا جائے تو واپس نہیں آتا۔ میں نے کہا۔ ’بٹوہ ؟‘‘

سب کھلکھلا کر ہنس پڑے لیکن میری ماں اب بھی سنجیدہ تھی اس نے ایک نظر مہمان کو دیکھا اور پھر میرے کندھے پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔’’ اعتماد‘‘

میرے بچے اعتماد چلا جائے تو پھر کبھی واپس نہیں آتا۔

آج میری ماں نے میری زندگی کے دوسرے سوال کاجواب دکھا دیا تھا۔ یہ سبق آخری سبق تھا جس نے میری زندگی مکمل کر دی یعنی کسی انسان کا اعتماد ختم ہو جائے تو بحال نہیں ہوتا اور کندھا چھن جائے تو دکھ ختم نہیں ہوتے۔ اس روز میری ماں کا انتقال ہوگیا تھا۔ مجھ سے وہ کندھا اس روز چھن گیا جس پر سر رکھ کر میں رو سکتا تھا۔ اب رہ گیا اعتماد۔۔۔ جس روز وہ چلا گیا۔ تب میرے بچوں کا کندھا چھن جائے گا۔۔۔!!

کندھا اور اعتماد رعایا کی زندگی ہوتا ہے۔ یہ کام بادشاہوں کا ہے کہ وہ کندھا باقی رکھیں اعتماد زندہ رکھیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “کندھا اور اعتماد

  • 26-04-2016 at 8:52 pm
    Permalink

    دلکش تحریر

  • 26-04-2016 at 10:37 pm
    Permalink

    !!!omda

Comments are closed.