پاناما لیکس: چائے کی پیالی میں طوفان


Fazle Rabbi Rahiپاناما لیکس، چوٹی کے سیاست دانوں کا لندن کی طرف مراجعت اور چھوٹو گینگ کے خلاف ’’فوجی آپریشن‘‘ یہ سب ایسے انکشافات، حالات اور واقعات ہیں جنھوں نے ملک کے اندر بھونچال کی سی کیفیت پیدا کردی ہے۔ نیوز چینلز کو گرما گرم موضوعات مل گئے ہیں اور ٹاک شوز میں جانے پہچانے بقراطی اینکرز اور ان شوز کی رونق بڑھانے والے مخصوص سیاسی و صحافتی چہرے، جن میں کسی نے اپنے سیاسی لیڈر کا دفاعی مورچہ سنبھالا ہوا ہے تو کسی نے ان دفاعی مورچوں پر تابڑ توڑ بم باری کرکے ان میں شگاف ڈالنے کی ذمہ داری لی ہوئی ہے، روز قوم کی ذہنی خلجان میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ ٹاک شوز میں ہر اینکر خود بھی چیختا، چنگھاڑتا ہوا سوالات داغتا ہے اور شو میں شریک مہمان بھی ایسے لہجے میں گھن گرج کر باتیں کرتے ہیں جیسے وہ آپس میں گتھم گتھا ہوکر ایک دوسرے کو لتاڑ رہے ہوں، پچھاڑ رہے ہوں۔ یہ ہے ہمارے ملک میں مکالمے کا کلچر۔ جسے دیکھ کر حساس لوگ یقیناً ذہنی کرب و اذیت میں مبتلا ہوتے ہوں گے جب کہ بیشتر دیکھنے والوں کے لیے یہ ایک لطف انگیز تماشا ہوگا۔

دوسری طرف شریف فیملی پر پاناما لیکس کے ذریعے جو الزامات عائد کیے گئے ہیں، ابھی تک ان کی واضح تردید سامنے نہیں آسکی ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے جس انکوائری کمیٹی کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ بھی ابھی تک ظہور پزیر نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ارکانِ اسمبلی ناکام دفاع کا فریضہ بہ خوبی انجام دے رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں میاں نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں جب کہ ایک سکہ بند اینکر پرسن نے تو یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ میاں صاحب کئی درجن سوٹ کیسوں سمیت ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔ اس سے معلوم پڑتا ہے کہ نیوز چینلز سے وابستہ بعض صحافیوں کی ذہنی سطح پستی کے کن عمیق غاروں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے اور جنھیں اس مؤثر میڈیا کے ذریعے قوم کی تربیت اور رہنمائی کا فریضہ انجام دینا چاہئے، خود انہیں کس قدر تربیت و رہنمائی کی ضرورت ہے۔

قومی سطح پر یہ بازگشت بھی سنائی دیتی ہے کہ ہمارے سیاست دان اور حکمران جب سرکاری دوروں پر بیرون ملک سفر میں ہوتے ہیں تو انہیں کبھی بیماری لاحق نہیں ہوتی، وہ اپنے دوروں کے دوران کبھی بھی کسی ہسپتال کا رُخ نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ڈاکٹر سے اپنا طبی معائنہ کراتے ہیں۔ تاہم جب وہ کسی سیاسی مسئلہ میں پھنس جاتے ہیں، ان پر غیرمعمولی بدعنوانی کے سنگین الزامات لگنے لگتے ہیں یا کسی بڑے اسیکنڈل (جیسے پاناما لیکس) میں ان کا نام آتا ہے، تو ان کی صحت یک دم خراب ہوجاتی ہے اور وہ دبئی، یورپ یا امریکا کے لیے رخت سفر باندھ لیتے ہیں لیکن وہاں پہنچ کر ان کی نامعلوم موسمی بیماری کو شِفا نصیب ہونے لگتی ہے۔ اس کی مثال ہمارے سابق جنرل، پرویز مشرف اور سابق صدر آصف علی زرداری کی ہے۔ جنرل صاحب تو جیسے ہی دبئی پہنچ گئے، ان کی بیماری نو دو گیارہ ہوگئی اور انھوں نے سگار سلگاتے ہوئے فوری طور پر اپنی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا۔ اس طرح سابق صدر صاحب بھی کئی مہینوں سے بیماری کی رِدا اوڑھ کر کبھی دبئی اور کبھی یورپ کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین مثال تو ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف کی ہے جن پر پاناما لیکس کے الزامات لگتے ہی بیماری نے آن گھیرا۔ کیا وطن عزیز میں کوئی ہسپتال ایسا نہیں جس میں سیاست دان اور حکمران اپنا طبی معائنہ یا علاج کرا سکیں؟ اگر نہیں تو نواز شریف جن کی حکمرانی کا دورانیہ پنجاب کی مسلسل وزارتِ اعلیٰ سے لے کر تین دفعہ ملک کے وزیراعظم ہونے تک قریباً تیس سال بنتا ہے، اس میں انھوں نے عالمی معیار کا کوئی ایک ہسپتال کیوں نہیں بنایا اور اگر پاکستان میں اعلیٰ معیار کا کوئی ہسپتال اور ماہر ڈاکٹرز موجود ہیں تو وہ بیرون ملک کیوں طبی معائنہ اور علاج کے لیے چلے جاتے ہیں؟ ایسے حکمرانوں کا تو سخت محاسبہ ہونا چاہئے۔

دنیا میں شاید ہی کسی اور ملک کو پاکستان جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔ ہر حکمران نے قوم کا خزانہ بڑی بے دردی سے لوٹا ہے۔ خواہ وہ جمہوری حکمران ہو یا عسکری لیکن ان میں سے کسی کو بھی ابھی تک سزا نہیں ملی۔ پاناما لیکس کے مقابلہ میں بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آتے رہے ہیں، اس وقت سوئس بنکوں میں پاکستانیوں کے دوسو ارب ڈالر پڑے ہیں لیکن جن حکام کو قوم کی لوٹی ہوئی دولت بدعنوان سیاست دانوں، جرنیلوں، صنعت کاروں اور بیورو کریٹس وغیرہ سے واپس لینی ہے، وہ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں اور ہمیشہ وہی لوگ یا تو اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے ہیں اور یا اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے سب ایک دوسرے کو تحفظ اور اقتدار میں باریاں دیتے ہیں۔

انسان کو پرتعیش زندگی گزارنے کے لیے کتنی دولت کی ضرورت ہوتی ہے؟ ہمارے مقتدرین نے اپنی زندگیوں کو پرتعیش بنانے کے لیے اس سے سو گنا زیادہ دولت اکٹھی کی ہوئی ہے لیکن ان کی ہوس ختم ہونے میں نہیں آ رہی ہے۔ یہ کیسی دولت ہے جس میں انہیں سکون میسر نہیں۔ ہمہ وقت وہ الزامات کی زد میں رہتے ہیں۔ قوم انہیں بد دعائیں دیتی ہے اور ان سے نفرت کرتی ہے۔ وہ خود اپنے ہی ملک میں امن و سکون سے نہیں رہ سکتے۔ خود انہیں ہمہ وقت جان کے خطرات لاحق رہتے ہیں۔ وہ سکیورٹی کے حصار کے بغیر ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت نہیں کرسکتے۔ اپنے ملک، جس میں وہ کسی نہ کسی سطح پر حکمران ہوتے ہیں، آزادی سے گھوم پھر نہیں سکتے۔ وہ بدعنوانی کے ذریعے اکٹھی کی گئی دولت سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔ اگر بیرون ملک جاتے ہیں یا وہاں مستقل قیام کرتے ہیں تو انہیں وہ عزت اور احترام نہیں ملتا جو ایک سابق حکمران کو اپنے ملک میں ملتا ہے۔ تو پھر ہمارے حکمران اپنی دولت جمع کرنے کی ایک حد مقرر کیوں نہیں کرتے؟ اس کے بعد وہ اگر ملک و قوم کی مجموعی حالت سنوارنے کا تہیہ کریں اورملک کو نہ صرف اپنے لیے، اپنی اولاد اور عوام کے لیے پر امن اور خوشحال بنانے کا دل و جان سے جتن کریں تو کیا یہ سب کے لیے بہتر نہ ہو گا؟ اگر وہ اپنے وطن کی مٹی سے وفاداری کریں اور عوام کو ایک پرامن، خوشحال اور باوقار زندگی کے مواقع فراہم کریں تو کیا اس طرح انہیں اپنے ملک میں امن و سکون اور ضمیر کی طمانیت نصیب نہیں ہوگی؟ پھر انہیں اپنی اولاد، دولت اور کاروبار بیرون ملک منتقل نہیں کرنا پڑیں گے اور خود انہیں بھی پرائے ملک میں اجنبیوں کی طرح زندگی گزارنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ انہیں طبی معائنوں اور علاج کے بہانے اپنا اقتدار بچانے کے لیے برطانیہ اور امریکا کا رُخ نہیں کرنا پڑے گا۔ انہیں اپنے جرائم کے لیے قوم کے سامنے شرمندگی اور خفت اٹھانا نہیں پڑے گی۔ کیا ہی اچھا ہوگا کہ ہمارے حکمران خود بھی امن و سکون اور خوشحالی کی دولت سے مالا مال ہوں اور وہ قوم و ملک کو بھی اسی خوشحالی میں شریک کریں۔

موجودہ ہل چل اور بھونچال حسب معمول چائے کی پیالی میں طوفان کی مانند ہے۔ ہماری عدالتیں اور احتساب کے ادارے اتنے مضبوط اور خود مختار نہیں کہ وہ بدعنوانی کے مرتکب مقتدرین کا کڑا احتساب کرسکیں۔


Comments

FB Login Required - comments