ایک سندھی علی نواز چانڈیو کا خط


میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا نام علی نواز چانڈیو ہے اور میں ضلع دادو کے ایک گوٹھ میں رہتا ہوں۔ بہت زمانے پہلے ہمارے بزرگ ہجرت کر کے سندھ آ گئے تھے اور پھر سندھ کی محبت نے کہیں جانے نہ دیا۔ اب میرا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے۔ میرے پانچ بچے ہیں دو بیٹیاں اور تین بیٹے اور ایک بیٹا فوت ہو گیا ہے (جو کہ ایک بہت درد بھری کہانی ہے، جس کا تذکرہ ابھی نہیں کرناچاہتا)۔ تین سال ہو گئے ہیں بیوی کو فالج ہوئے، تو اب گھر کا زیادہ تر کام کاج بھی مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ بیٹیاں اپنے اپنے گھر والیاں ہیں۔ ایک بیوہ بہن بھی میرے ساتھ رہتی ہے۔ اس کے ہاں کوئی اولاد نہیں۔ اس نےگھر میں ہی ایک امام باڑہ بنا لیا ہے اور ہر وقت پنجتن پاک کا ذکر کرتی رہتی ہے۔ میری دونوں بہوئیں بہت اچھی ہیں مگر میں خود بیوی کا خیال رکھنا چاہتا ہوں۔ اس غریب نے بھی ساری زندگی ہماری خدمت کی۔ کبھی آرام سے نہ بیٹھی۔ گھر کے کام سے فارغ ہوتی تو رلیاں سیتی رہتی یا کپڑے سلائی کرتی۔ زندگی میں آرام نہیں دیکھا۔ میرے بابا کہتے تھے کہ آرام قبر میں جا کر کریں گے اور میں بھی یہی سوچتا ہوں۔ شاید اسی کا نام زندگی ہے۔

سائیں میرا گوٹھ مائی خیراں کی قبر کے پیچھے تھا مگر اب شہر بڑا ہو گیا ہے تو مائی خیراں کی قبر گاؤں کے بیچوں بیچ آ گئی ہے۔ کیا مائی خیراں کو جانتے ہیں آپ؟ اس زمانے میں ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا یہ اپنے دس سال پرانے سیلاب سے بھی بڑا اور خوفناک۔ پانی بہت بڑھ گیا تھا کچے میں۔ خدا خدا کر کے جان بچا کے، ہم لوگ تھوڑا اونچائی پر آئے اور یہاں اپنے خیمے لگا لئے۔ مائی خیراں اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ایک دیگچہ بھی لانے میں کامیاب ہو گئی تھی اور گزر سفر کے لئے اس دیگچے میں چنے ابال کر بیچا کرتی تھی آس پاس والے سب غریب تھے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ دے دیا کرتے تھے اور مائی خیراں کا گزر بسر بھی ہو جاتا تھا۔

سائیں یہ وہی مائی خیراں تھی جس کے دیگڑے میں بنے ہوئے چنے بھٹو سائیں نے بھی کھائے تھے۔ بلکہ اپنی سرکار کے دوسرے لوگوں کو بھی کھلائے تھے۔ مائی خیراں کو بھٹو صاحب نے ایک بڑا نوٹ بھی دیا تھا۔ مائی تھی تو غریب بیوہ، پر دل کی سخی تھی وہ نوٹ ساری حیاتی سنبھال کررکھا۔ کہتی تھی بھٹو سائیں نے مزوری (مزدوری) نہیں، انعام دیا ہے۔ بھلا اتنا بڑا نوٹ کوئی مزور کو دیتا ہے۔ ایک دن اپنی کٹیا کے پاس ہی مر گئی بیچاری۔ نوٹ کا پتہ نہیں کیا ہوا۔

سائیں وہ زمانہ اچھا تھا۔ بوڈ (سیلاب) نے تباہی مچائی تو بھٹو صاحب گلی گلی، گاؤں گاؤں سب کا درد بانٹنے آئے اور اتنی مدد کر دی کہ غریب غربا پھر چار دیواری میں بیٹھنے کے قابل ہو گئے۔ اب تو پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے سیلاب آئے، طوفان آئے، آفت آئے، آگ لگ جائے کوئی داد فریاد سننے والا نہیں ہے۔ ۔ خدا غرق کرے بھٹو سائیں کے قاتلوں کو۔ سنا ہے بھٹو کا نواسہ اپنے نانا کی تصویر ہے۔ اللہ سائیں حیاتی دے پر سائیں دل ابھی سے ڈرنے لگا ہے۔ دوسرا بھٹو بننا آسان نہیں ہے سائیں۔ اور زمانہ برا ہے۔ سنا ہے بھٹو سائیں کو شہید کرنے والے کے دربار میں بھی بہت درباری جمع ہوتے تھے اور قاتل کی خوب خوشامد کرتے تھے۔ سائیں ابھی تک سوچ کے عجب حیرت ہوتی ہے کہ بھٹو سائیں کے قاتلوں کے ہاتھوں سے بھی لوگوں نے انعام لئے۔ بس طرح طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ سائیں ضمیر ضمیر کی بات ہے پر خدا ایسا نوالہ دشمن کو بھی نہ کھلائے۔ مگر قدرت بادشاہ ہے سائیں۔ ہمارے بھٹو سایئں کے قاتل کو زمین اور آسمان کے بیچ لے جا کر بھسم کر دیا۔

پھر بھٹو کی بیٹی آئی وہ بھی دل میں غریب غربا کا احساس رکھتی تھی پر ظالموں نے اسے بھی شہید کر دیا بہت تکلیف ہوئی سائیں۔ لوگ بے ادب بھی بہت ہو گئے ہیں۔ کسی نے کہا بینظیر کو مار دیا۔ میں نے کہا نہ بھائی ایسے نہ کہو شہید بھی کبھی مرتے ہیں کیا؟ مرتے تو میرے اور تم جیسے ہیں۔ ہمار ے بھٹو بابا اور بی بی کو شہیدوں کا رتبہ ملا۔ سائیں وہ دن بہت کڑے تھے، خدا دشمن کو بھی نہ دکھائے۔ ایک بی بی کا صدمہ۔ پھر ایسا خطرناک طوفان کہ پورے کے پورے گوٹھ ڈوب گئے۔ کوئی والی نہ وارث۔ بسوں میں بھر کے لوگوں کو کراچی لے کر جا رہے تھے کہ پانی کم ہو جائے تو واپس آ جانا۔ بیچارے ڈھور ڈنگر، گھر کا سارا سامان، اللہ کے حوالے کر کے نکلے۔ پر صاحب، اللہ نہ دکھائے کسی کو ایسے دن۔ پیٹ کا دوزخ برا ہے سایئں، نہ چاہتے ہوئے بھی گھر چھوڑنا پڑا۔

کراچی میں ظلم یہ ہوا کہ میرا چھوٹا بیٹا کھو گیا۔ میں سات دن گلی گلی روتا بھٹکتا پھرا اور ساتھ اس معصوم کی مسکین ماں۔ پھربہت مشکل سے ایدھی صاحب کے سرد خانے میں اس کی لاش ملی۔ یہ وہ دن تھے سائیں جب شقی القلب لوگ بچوں کی لاشیں بوریوں میں بند کر کے پھینک دیا کرتے تھے۔ بس قیامت دیکھ لی سائیں زندگی میں۔ میں اکیلا نہیں تھا۔ بہت سے ماں باپ روتے پیٹتے دیکھے۔ کوئی داد فریاد سننے والا تھا نہیں۔

مضمون کا بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں