”خواہ مخواہ کی زندگی“ میں میرواہ کی راتیں


zahid hassanرفاقت حیات کا ناول ”میرواہ کی راتیں“ اس مثلث کی آخری کڑی ہے جو پچھلے دنوں میرے زیر مطالعہ رہے۔ قوسیں، دائرے، مسطتیلیں اور مثلثیں تشکیل دیتے ہوئے یہ ناول زندگی کے مختلف بیانئے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کا لوکیل، کردار بیانیہ اور زندگی سے مکالمے کا انداز یکسر مختلف تھا۔ اختر رضا سلیمی کے ”جاگے ہیں خواب میں“ آزاد مہدی کے ”ایک دن کی زندگی“ اور اب رفاقت حیات کے ناول ”میرواہ کی راتیں“ نے مجھ پر ایک نئی طرح کی زندگی منکشف کی ہے۔ ہوا یہ کہ رفاقت حیات کو ناول وجاہت مسعود صاحب کو پڑھانا مقصود تھا۔ بیچ میں وسیلہ میں بن گیا۔ سو یہ ناول مجھ تک بھی پہنچ گیا۔ بالکل ویسے ہی غیر متوقع اور حیرت انگیز طور پر جیسے برسوں پہلے ”پاکستان پنجابی ادبی بورڈ، میں ہوتے ایک کڑکتی دوپہر میں مجھے ایک فون موصول ہوا کہ ”میں رفاقت حیات ہوں، کراچی سے آیا ہوں، آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔“ رفاقت سے کچھ عرصہ پہلے عذرا عباس اور انور سن رائے صاحب کے گھر ایک کھانے پر ملاقات ہو چکی تھی۔ کھانے کی یہ دعوت جو ازاں بعد ایک ادبی نشست میں بدل گئی تھی۔ جس میں پہلی بار انور سن رائے کی بے پناہ خوبصورت اور منفرد نظمیں سننے کو ملیں۔
رفاقت حیات، ادبی بورڈ پہنچے۔ جون کی طویل اور شدید دوپہر میں تادیر گفتگو رہی۔ اس دوران انہوں نے مجھے اپنی کہانیوں کی کتاب ”خواہ مخواہ کی زندگی“ پڑھنے کو دی۔ اپنے نام ہی کی طرح عمدہ کہانیوں کی کتاب، بعض کہانیاں تو اپنے موضوع ، اسلوب اور کردار نگاری کے حوالے سے یادگار!
یقینا رفاقت حیات کو کردار نگاری میں تخصیص حاصل ہے۔ وہ ڈرامہ بھی لکھتا ہے اور ڈرامے میں دیگر کچھ چیزوں کے علاوہ کردارنگاری پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے …. کچھ عرصہ پہلے رفاقت حیات کا یہ ناول ”آج“ کے خاص شمارے میں شائع ہوا تو میں داروغہ والا میں استاد مکرم محمد سلیم الرحمن سے یہ شمارہ مستعار لے آیا۔ صرف اور صرف رفاقت حیات کا یہ ناول پڑھنے کی غرض سے۔ میں نے ایک ہی نشست میں یہ ناول پڑھ ڈالا۔ کچھ ایسا اس ناول میں تھا۔ نذیر کا کردار، میرواہ کی بستی، اس کا حساس موضوع، دھیان دے کر لکھی ہوئی عمدہ نثر یا پھر سندھ، سندھی روایات اور تہذیب کو بنا عظمت کا نشان بنائے بیان کیا جانا۔ ناول عمدہ تھا۔ سو اب ایک بار پھر سے کتابی صورت میں ملا ہے تو باردگر مطالعہ جاری ہے۔
چاچا غفور اور خیرالنسائ، ناول کے دیگر اہم کردار ہیں۔ نورل، جس کے ساتھ مل کر نذیر، زندگی کے دکھوں اور مصیبتوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے ایک نئے راستے پر چلتا ہے جہاں اسے برقعہ پوش خاتون شمیم اور دیگر عورتوں کے پیکر پردہ سکرین پر بہتے نظر آتے ہیں ۔ جن کے ساتھ ساتھ وہ بھی بہتا چلا جاتا ہے۔ شمیم اور خیر النساءکے مابین الگنی پر لٹکے جھولتے ہوئے کپڑے کی مانند پھڑپھڑاتاہوا نذرل (نذیر)۔ ناول میں خاصے کی چیز سندھ کے گوٹھوں اور ذخیروں کا بیان ہے جس کی طرف بہت کم توجہ دی ہے لکھنے والوں نے۔یہی لوکیل اور اس کا خوبصورت بیانیہ ہی تو ہے جو ناول کی اہمیت میں دونا اضافہ کرتا ہے۔Title Page0001
”وہ چاروں طرف سے کماد کی فصل میں گھرا ہوا تھا۔ ادھر ادھر نظر ڈالنے پر اسے ایک پگڈنڈی دکھائی دینے لگی ۔وہ اس پگڈنڈی پر چلنے لگا۔ کچھ آگے جا کر وہ فصل سے باہر نکلا۔ احتیاط سے آس پاس دیکھتے ہوئے اس نے گوٹھ کی جانب جانے والا راستہ عبور کیا اور اس طرف کھڑی فصل کے اندر چلا گیا۔ فصل کے درمیان چلتے چلتے اسے پانی کی قلقاریاں سنائی دینے لگیں“۔ (صفحہ 103 )
123 صفحات کے اس ناول میں رفاقت حیات نے کہانی، کرداروں اور زبان کو جامعیت کے
ساتھ پیش کیا ہے۔
”سماع گاہ میں فرش کی صفائی کے بعد کھلے صحن میں چٹائیاں بچھا دی گئیں۔ مقامی فنکار طبلے اور ہارمونیم سنبھالے اپنی مخصوص نشستوں پر آکر بیٹھ گئے۔ لنگر ختم ہونے کے بعد محفل سماع سے لطف اندوز ہونے والے بہت کم لوگ باقی رہ گئے تھے۔ کچھ ہی دیر میں پورے احاطے میں طبلے کی تھاپ اور ہارمونیم کے سر پھیل گئے اور سب کے سب لوگ سروں کی کشش میں کھنچے سماع گاہ میں آ آ کر ڈیرہ ڈالنے لگے۔ (صفحہ 78 )
”میرواہ کی راتیں“ ایک ایسا ناول ہے جو ناول کی تعریف پر پورا اترتا ہے ۔ جس کی تعمیر و تشکیل کے لیے رفاقت حیات نے سندھ دھرتی کے دور دراز علاقوں، بستیوں کے لوگوں، ان کی زندگیوں میں سانس لیتی صبحوں اور شاموں کو بیان کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ کراچی جیسے جدید شہر سے کچھ ہی فاصلے پر ایک ایسی دنیا بھی ہے جو ایک ہی زمانے میں رہتے ہوئے اس سے سینکڑوں برس کی دوری پر واقع ہے۔


Comments

FB Login Required - comments