اب اور بھلا کیا ٹانگو گے؟


mujahid mirza

بات چلی تھی بیکن ہاؤس یونیورسٹی میں نعرے لکھے سینیٹری پیڈز آویزاں کرنے سے اور آ گئی نوخیز مردوں کی آلودہ، خشک ہو کر کلف کی مانند اکڑی میانیوں والی شلواریں ٹانگنے کی خواہش تک۔
عرض اتنی سی ہے کہ کسی معاملے سے متعلق تعلیم اپنی جگہ بجا اور ضروری لیکن کچھ معاملات میں تمدن و تہذیب کو ملحوظ خاطر رکھے جانے میں نہ صرف یہ ہے کہ حرج نہیں ہوتا بلکہ ایسا کرنا مستحسن ہوتا ہے۔

مقصد پند و نصائح کرنا نہیں بلکہ حوائج سے متعلق نجی پن یعنی پرائیویسی کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ حیض کا تعلق جنسیات سے محض اتنا ہے کہ یہ بارور نہ ہوئے بیضے کے تلف ہونے کا بین ہوتی ہے البتہ اس کا تعلق جنس یعنی جینڈر سے ضرور ہے۔ کسی گذشتہ بلاگ یا کالم میں کسی خاتون نے لکھا تھا کہ ہمیں ’سینیٹری پیڈ ایسے لپیٹ لپاٹ کر خریدنے پڑتے ہیں جیسے ( کوئی بنیادی ضرورت کی چیز نہیں بلکہ) چرس یا کوکین خرید رہے ہوں‘۔ کسی شے کو اتنا معیوب یا مخفی بنا دیا جانا ظاہر ہے کوئی عمومی رویہ نہیں کہلا سکتا لیکن اس پر اتنا دکھی یا شاکی ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ مغرب میں الکحل کا استعمال کم و بیش ایک عموم ہے۔ اور نہیں تو تقریب کے موقع پر بیشتر لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں مگر پھر بھی سرعام اس کا استعمال اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ آپ کو امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس ہو یا سپین، اگر نوجوان خاکی کاغذ کے لفافے میں ملفوف کچھ پیتے دکھائی دیں تو سمجھ لیں کہ وہ آب جو یعنی بیئر ہے۔ اگر کبھی کبھار لفافہ کچھ زیادہ لمبا لگے تو وہ وائن ہوگی یا شیمپین۔ ایک چیز جس کا گھر میں یا نجی محفلوں میں استعمال معیوب نہیں بلکہ ضروری خیال کیا جاتا ہے، اسی چیز کا سرعام استعمال کرنا مناسب خیال نہیں کیا جاتا تاہم لوگ کرتے ہیں البتہ خاکی لفافوں میں لپیٹ کر۔ اسی نسبت سے اگر کوئی سینیٹری پیڈز کاغذ میں لپٹے ہوئے نہ خریدنا چاہے تو اس پر کوئی انگلیاں نہیں اٹھائے گا۔ یہ بس ہمارا خیال ہوتا ہے۔

چند روز پیشتر معروف شاعر اور دانشور جناب افتخار عارف نے سوشل میڈیا پرانگریزی زبان میں ایک استفسار لکھا تھا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے، ’میں اس عمر میں بھی اگر کوئی حسین چہرہ دیکھ لوں تو بوکھلا جاتا ہوں، کیا یہ نعمت ہے یا لعنت؟‘ اس ضمن میں میرا ان کو جواب تھا کہ یہ نعمت ہے یعنی انسان اس عمر میں بھی ذہنی طور پر کورچشم نہیں ہوا، ہاں یہ اور بات کہ ہم جب عمر کے کسی خاص حصے میں خود پر غلاف منڈھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے طور پر احساس ہوتا ہے کہ یہ عمل کوئی لعنت ہے۔

حیض آنا یا نوخیز مردوں کی شلوار نم ہونا خالصتاً فطری عمل ہے، اس پر پشیمانی، پریشانی یا بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی قطعی ضرورت نہیں لیکن نہ تو گھر میں پندرہ سولہ سال کاکوئی نوخیز ماں بہنوں کے سامنے نم میانی لیے پھر سکتا ہے اور نہ ہی حیض میں مبتلا کوئی خاتون باپ بھائی کی موجودگی میں حیض کے داغ لیے گھوم سکتی ہے۔ یہ ہمارے برصغیر کی تہذیب ہے۔ اس کے برعکس عرب سرزمین کے لوگ حیض اور جنسی معاملات میں پہلے بھی کھلے تھے اور آج بھی کھلے ہیں۔ آپ عربوں میں رہ کر دیکھیں گھروں میں باپ بیٹیوں کے سامنے اور بیٹیاں باپ کے سامنے ان معاملات کا ایسے ہی ذکر کر رہی ہوتی ہیں جیسے ’آج کیا پکایا جائے‘ کا تذکرہ۔

جنسی تعلیم دیا جانا انتہائی ضروری ہے لیکن اس طرح نہیں جس طرح مغرب میں ( ویسے مغرب کے مختلف ملکوں میں اس سے متعلق مختلف معیارات اور اصول ہیں ) بلکہ اپنے ماحول، مذہب، معاشرے، تہذیب و ثقافت کی پاسداری کرتے ہوئے۔ ہمارے ہاں چونکہ معاشرہ مغرب کی مانند ہمہ جہت بالیدہ نہیں چنانچہ مخلوط تعلیمی اداروں میں جو کہ اب سکولوں کی صورت میں عام ہیں، مشترکہ کلاس میں جنسی تعلیم دیے جانے کے اثرات مثبت کی نسبت منفی نکل سکتے ہیں کیونکہ یہاں گھٹن زیادہ ہے اور اختلاط کے مواقع مفقود۔

جنسی تعلیم دیے جانے سے متعلق سب سے پہلے معاشرے میں اس بارے میں بحث کو عام کرکے معاملے کی قبولیت کو ممکن بنانا ہوگا پھر قانون سازی کرنی ہوگی اور طے کرنا ہوگا کہ کونسی جماعت سے یہ تعلیم شروع کی جائے۔ مغرب میں مختلف ملکوں میں پانچویں سے آٹھویں جماعتوں میں یہ تعلیم دی جانی شروع کی جاتی ہے۔ فوری طور پر اس ضمن میں کھل کر بات اس لیے نہیں کی جا سکے گی کہ سکولوں سے باہر اب بھی قدغن کا کلیشے موجود ہے۔ اس سلسلے میں سکول کے علاوہ اگر کسی کو اپنے بڑے بھائی، بہن، ماں ، باپ سے ہدایت درکار ہوگی تو وہ میسر نہیں آ سکے گی۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارے ہاں نفسیاتی مسائل کے ماہرین کی شدید کمی ہے اور لوگ نفسیاتی ماہرین سے اس لیے بھی رجوع نہیں کرتے کہ کہیں انہیں دیوانہ نہ سمجھ لیا جائے۔ جنسی نفسیاتی عوارض کے ماہرین تو ہمارے ہاں ہیں ہی نہیں۔

اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی ہے جو ایک مثبت آغاز ہے۔ اس ضمن میں ہر جانب کے نکتہ ہائے نظر سامنے آ رہے ہیں۔ معاملہ محض جینڈر سے متعلق یا جنسیات کے بارے میں معاملات کا ہی نہیں ہے بلکہ کوئی بھی میدان ایسا نہیں ہے جس میں ہمارے ہاں مسئلے موجود نہ ہوں اور ایسا بھی نہیں کہ ان سب کے سینیٹری پیڈ اور نم شلواریں نہ ٹانگی جا چکی ہوں۔ اب اور بھلا کیا ٹانگو گے؟


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “اب اور بھلا کیا ٹانگو گے؟

  • 18-04-2016 at 3:42 pm
    Permalink

    Very beautifully articulated.

  • 18-04-2016 at 4:04 pm
    Permalink

    عمدہ ہے، جناب

    • 18-04-2016 at 10:58 pm
      Permalink

      شکریہ سیّدنا! شادو آباد رہیں!!

  • 18-04-2016 at 8:42 pm
    Permalink

    جب ہم اپنے موزے اور بنیان بھی اتارتے ہیں تو خیال رکھتے ہیں کہ کسی کو بو محسوس نہ ہو. حالانکہ یہ پسینہ آنا ایبنارمل تو نہیں.
    پھر بھلا ایسے داغ دھبے لے کر پھرنا کیا شائستگی ہے ؟
    یہ عورتیں آزاد بھی ہیں اور دنیا کی فکر سے بے خبر بھی , اور ویسے بھی خوامخواہ نخرے کرنا بھی تو نسوانی مسئلہ ہے .

    • 19-04-2016 at 2:53 pm
      Permalink

      ژولیاں تو اردو پنجابی زدہ خالصتا” فرانسیسی شخص ہے۔ کل وہ اس ضمن میں کہہ رہا تھا کہ پاک و ہند میں مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو ماڈرنزم کی ایسی ایسی بیہودہ حرکتیں کرنا پسند ہیں جن کا کلاسیکی ماڈرنزم سے دور کا بھی تعلق نہیں۔
      ہم آج بھی “آرائشی زبان” استعمال کرنے کے چکر میں ہیں۔ ہم سب میں شائع ہونے والے بیشتر مضامین زبان کی وجہ سے طے نہیں کیے جا سکتے کہ وہ افسانہ ہیں، انشائیہ ہیں، صحافتی مضامین ہیں یا محض کالم۔ مگر لوگوں کو یہ سب پسند ہے شاید یہ بھی وہی ماڈرنزم ہو جس کا ذکر ژولیاں نے کیا۔
      25 برس سے یورپ میں ہوں، کئی ملکوں میں گیا ہوں، آج تک کسی کو حیض کے خون کا داغ لگے نہیں دیکھا۔ بی این یو کی طالبات نے داغ لگا کر جو تصویر بنوائی ہے وہ پشت کے نچلے مہرے سے رستا ہوا خون تو لگتا ہے مقام حیض سے ٹپکنے والا نہیں۔

Comments are closed.