دیوارِ گریہ کے آس پاس


برطانیہ کے ایک دانشور لارڈ مینکرفٹ (lord Mancroft) کا قول ہے۔ کہ تقریر تو معاشقے کی مانند ہوتی ہے اُسے شروع تو کوئی بھی کر سکتا ہے مگر ختم کرنے کے لئے بڑا سلیقہ اور بڑی استادی چاھئیے، اس قول کو پڑھنے کے بعد میں نے اپنے آپ کو بہت کوسا کہ یہ قول میری نظروں سے عین اس تقریب سے پہلے کیوں گزرا اور چلو اس پے نظر پڑ ہی گئی تو ٹکی کیوں اور ٹک گئی تو یہ قول ذہن میں اٹک کیوں گیا۔ خیر جس طرح ہم معاشقے میں بھی بد نصیب اور غریب صورت ٹھرے تو اس کے مطابق یہ طے ہوا کہ نہ اسے شروع کیا جا سکتا ہے اور نہ سلیقہ شعاری اور استادی سے ختم۔ لیکن خیال آیا کہ ہمارے ہاں تو تقریر اور معاشقہ دونوں کی شروعات مشکل ہے اسے ختم کرنے کے لئے خود کچھ نہیں کرنا پڑتا بلکہ یہ کام معزز سامعیں تقریر میں اور محلے والے معاشقہ کے معاملے میں اس کارِ خیر کو بڑھ چڑھ کر اس کے منتقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔

میں کوئی نقاد یا استاد تو ہوں نہیں کہ علمی اور ادبی ترازو پے اس سفر نامے کو تولوں۔ کاشف مصطٰفے کے اس سفر نامے کو اقبال دیوان صاحب نے بہت خوبصورتی اور عمدگی سے کراچی کے شور شرابے اور موٹروں کے دھویں سے آلودہ فضاء میں لمبی سانسیں لیتے ہوئی تدوین و ترتیب کا کارنامہ سر انجام دیا۔ دیوان صاحب نے اول تا آخر سادہ اور عام فہم زبان میں گفتگو کی ہے، لکھنے والے ہی جانتے ہیں کہ آسان زبان میں مطالب ادا کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔ ان کا یہ خاصہ ہے کہ وہ کسی عام سی بات کو بھی انتہائی خوبصورتی اور جادوئی انداز سے شاہکار بنا تے اور نثری طرزِ بیان میں ڈھال دیتے ہیں اور یہ تو پھر ایک دل والے ڈاکڑ کا بھیجا ہوا سفر نامہ تھا۔

دیوان صاحب کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ صرف ایک مصرے سے دو دیوان نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ سفر نامہ پڑھتے ہوئے مجھے قدرت اللّہ شہاب مرحوم کا ایک کردار مصطفے یاد آیا وہ نوجوان جو کینسر کی حالت میں شب و روز ان کی راہنمائی کرتے ہوئے اپنے مسلمان ہونے کا فرض ادا کرتا رہا لیکن اپنے حصے کی مزدوری نہایت شکریہ کے ساتھ اپنی دائیں یا غالباً بائیں جیب میں رکھ لی اور یہ قصہ کم و بیش 3 یا 4 دھائی پہلے کا ہے لیکن اس سفر نامہ میں ڈاکٹر صاحب نے جن کرداروں کا ذکر خیر فرمایا وہ اس دورِ حاضر کی معاشی مجبوریوں، وہاں کے باسیوں کی زبوں حالی اور تکلیف دہ شب و روز کے باوجود فقط خدمت اور دوستی پر آمادہ ہوئے بڑی حیران کن بات ہے۔ میرے بینکاری کے استاد (مشتاق یوسفی صاحب) جنھیں آج تک مجھے دیکھنے اور ملنے کی تکلیف دہ صورتِ حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور امید واثق ہے کہ آنے والے ماہ و سال میں بھی انھیں اس قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

میں انھیں استاد ان کی باقی تمام صفات سے ہٹ کر مانتا ہوں کیونکہ ہم میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے سود خوری جس کا وہ برملہ اعتراف گاہے بگاہے فرماتے رہتے ہیں میرا تعلق بینکاری سے ہے اس لئے موضوع کوئی بھی ہو کم بخت اس پیشے کی یہ خوبی کہ لیں یا پھر عادت کہ جمع اور خرچ کا حساب شروع ہو جاتا ہے تابوتِ سکینہ کے ساتھ دفنائے گئے چند کاغذات کی اہمیت تو اس طرح بیان کی گئی ہے کہ حیسے ہمارے ہاں کے میٹرک یا بی اے کے گیس پیپر ہوں کہہ جو طالب علم سال بھر مکمل عیاشی اور آوارہ گردی کریں اور امتحانات کے قریب ترین چند ایام میں وہ نوٹس گھول کر بلکہ گھوم پھر کر پئیں اور کامیابی اور شادمانی ان کے قدموں میں، رہا معاملہ محنت کا وہ گئی بھاڑ میں۔ ان چند اوراق کے متعلق اگر یوسفی صاحب کے ہردلعزیز مرزا سے پوچھا جائے تو وہ Templar Knights، ان کے پوپ، کیتھولیک چرچ اور خفیہ تنظیم فری میسن سے واسطہ اور بنکوں سے اُن کی تعلق داری کے خلاف گلہ و شکوہ کریں گے بلکہ واشگاف الفاظ میں پرزور مذمت کریں گے کہ جنھوں نے اکیلے ہی اکیلے ان رازوں تک رسائی حاصل کی اور برصغیر میں بسنے والوں بالخصوص پاکستانیوں کی حق تلفی کی۔ صرف چند ایک اور وہ بھی خیر مذہب اُن سے مستفیض ہوئے اور اس مادہ پرست سلطنت کے بلا شرکت غیرے ( یہاں بلا شرکت غیرے سے مراد باقی مذاہب ہیں) بادشاہ بن گئے۔

ترکوں۔ مغلوں اور عربوں سے برصغیر کے مسلمانوں کا رشتہ ہمیشہ محبت و احترام کا رہا ہے اپنے ایک جاننے والے سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی تو ان کا زاویہ نگاہ بلکل مختلف تھا وہ کہنے لگے ان ہر دو اقوام میں سے ایک کا زیادہ زور باہمی رشتہ با وساطت شرعی راھداری پر ہی مرکوز رہا۔

اس سفر نامہ میں عربوں کی صورت حال خواہ وہ مسلم ہوں یا یہودی بہت تکلیف دہ نظر آئی مسلم تو شاید جانے انجانے میں کئیے گئے چند فیصلوں کی وجہ سے اس بھٹی کا ایندھن بنے ہوئے ہیں لیکن کم بخت یہودیوں کا یہودیوں کے ساتھ سلوکِ زوف سمجھ سے بالاتر ہے۔ لیکن کیا کیا جائے کہ وقتِ حاضر میں بدی منہ پھٹ ہو چکی ہے اور نیکی گونگی۔ ان فلسطینی عربوں اور دوسری تمام مظلومین کے لئے بہت اچھی باتیں کی گئیں جسے بڑے معاندانہ جذبے سے پڑھا اور سمجھنے کی کوشیش کی۔ فلسطینی اپنی جگہ اور حق کے لئے تنہا کوشاں ہیں اور ہم فقط دعا کا وسیلہ رکھتے ہیں یہ سرگزشت غم انگیز بھی ہے اور شرم ناک بھی، میری دعا ہے کہ ہم سیاسی، مسلکی اور مذہبی فتووں سے بالاتر ہو کر سائنس، ٹیکنالوجی، دانش، دانائی اور ہنر مندانہ معجز نمائی کے اُس مقام تک پہنچیں کہ ہمیں صرف فلسطینیوں کے لئے نہیں بلکہ تمام مظلومین کی حاجت روی کے لئے کسی صیہونی یا غیر صیہونی یہودی کی اجازت کی ضرورت نہ رہے۔

دیوارِ گریہ کے آس پاس: سفر نامہ

ترتیب و تدوین: محمد اقبال دیوان

فیصل آباد ریڈز۔ اپریل 2018

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

نوید گل اعوان کی دیگر تحریریں
نوید گل اعوان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں