خدا کو اب دل میں ہی رکھیں


wisi 2 babaخدا کے ساتھ ذاتی تعلقات نہایت خوشگوار بھی ہیں اور دوستانہ بھی۔ یہ تعلقات ایک دن میں ایسے نہیں ہوئے۔ پہلے غلامانہ رہے پھر تابعداری کے درجے میں آئے۔ ایک وقت لگا انہیں خوشگوار اور دوستانہ ہونے میں۔

ہم ابھی چھوٹی کلاسوں میں ہی تھے جب پہلی بار ایک بڑے دھماکے کی آواز سنائی دی۔ کسی توپ سے گولہ داغ دیا گیا تھا یا شاید کسی جہاز نے ساؤنڈ بیرئیر توڑا تھا۔ ایک ہم جماعت نے ہماری کلاس ٹیچر سے پوچھا مس کیا روس آ گیا۔

اب ضروری ہو گیا تھا کہ روس کا پتہ کریں۔ جلدی پتہ لگ گیا۔ کچھ محلے کی مسجد میں مولوی صاحب نے بتایا۔ کچھ مدد نسیم حجازی نے کی، حالانکہ انہوں نے براہ راست کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ یہ ہم ہی تھے جو ایسا سمجھے کہ یہی کہہ رہے ہیں۔ پتہ لگایا اتنی سی سمجھ آئی کہ روسی خدا کو نہیں مانتے۔

استاد سیاف کا کمانڈر ہمسایہ تھا۔ ان کا بیٹا ویسے تو پاکستانی جہاز دیکھ کر بھی مرغیوں کے ڈربے میں چھپ جایا کرتا تھا۔ ہم البتہ جہاد کا عزم اسی سے ولولے لے کر پکا کیا کرتے تھے۔ پاکستان کا جہاز اغوا کر کے کابل لے جایا گیا تھا۔ ہم لوگوں نے انہی دنوں چھٹی کلاس پاس کی تھی۔ یہ سب دیکھ کر ہمارا صبر جواب دے گیا۔

ہم لوگ ایک منصوبہ بنا کر کابل پہنچ گئے۔ اس کے بعد ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا وہ حیران کن تھا۔ مجاہدین نے افغان پولیس نے حتیٰ کہ روسیوں نے بھی غرض یہ کہ ہم جس کے ہتھے چڑھے اس نے ہمیں چھوٹے سائز کا الو کا پٹھا ہی سمجھا اور بھگا دیا۔

ہمارے ساتھ بری ہوئی تھی۔ خدائی فوجدار بن کر گئے تھے، خدا کے منکر حضرات نے ہمیں لفٹ ہی نہ کرائی۔ وہ تو چلو کافر و مرتد تھے مجاہدین نے بھی بھگا ہی دیا تھا۔ اب ان سب پر خدا کا حکم نافذ کیسے کرنا ہے۔ سوچتے رہے، پوچھتے رہے، بڑے ہوتے گئے۔ خیال آیا کہ پتہ تو کریں خدا کا حکم ہے کیا؟

جس طرح سنڈی یا کپاس کا کیڑا پودے کی سیر کرتا ہے۔ ویسے مذہب کی کتابوں میں جا گھسے، کتابوں کے کیڑے ہی ہو گئے کہ حکم پتہ لگے جو ناٖفذ کرنا ہے۔ یہ تو پتہ لگ گیا تھا کہ مسلمانوں نے ہی کچھ کرنا ہے۔ مسئلہ یہ ہوا کہ جب کافی یقین ہو گیا کہ کیا کرنا ہے تو کسی سے ملاقات ہو گئی۔

ملاقاتی نے ہمارے عزم اور ولولے دیکھے تو صرف ایک سوال پوچھا کہ دنیا فتح کرنے کے یہ منصوبے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ ملاقاتی کو پیار سے سمجھایا کہ ایک تو یہ ہمارے دین کا حکم ہے دوسرا خدا کیا کہے گا کہ اک دنیا اس سے منکر ہوئی بیٹھی اور ہمیں پروا ہی نہیں۔ ملاقاتی نے ایک عدد کتاب پکڑائی کہ جا کاکا پہلے یہ پڑھ کر آ پھر بات کرتے ہیں۔

کتاب ان اسلامی فقہ کے بارے میں تھیں جو تاریخ کے مختلف ادوار میں سامنے آئیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ تاریخ ہو گئیں۔ مذہبی سوچ کیسے بدلتی رہی۔ وقت کے ساتھ کیسے کچھ لوگ اس لئے بھی تاریخ ہوئے کہ انہیں شاگرد ہی نصیب نہ ہوئے، ایسے شاگرد جو ان کی سوچ کو آگے بڑھاتے۔

کتاب ریس لگا کر ختم کی، اپنے ملاقاتی کے سامنے دوبارہ پیش ہو گئے۔ ہماری متزلزل صورت دیکھ کر انہوں نے کہا دیکھو مذہب ضرورت رہا ہے، آئندہ بھی رہے گا۔ اس کی تشریح کا طریقہ کار وقت کے ساتھ بدلتا رہا ہے البتہ بنیادی ظواہر برقرار ہی رہیں گے، ان کا تعلق عبادات سے ہے۔

بیان جاری رکھتے ہوئے ملاقاتی نے کہا کہ اگر مسلمانوں نے کبھی کلمے پر ہی غور کیا ہوتا تو اتنا جان ہی لیتے کہ کیسے چھوٹے بڑے خدا دینے والے عقائد سے خداؤں سے ایک کلمے نے ہی جان چھڑا دی ہے۔

ملاقاتی نے کہا کہ سورۃ فاتحہ پر کبھی غور نہیں کیا تو سورۃ اخلاص پر ہی کر لیتے۔ یہ تو سوچ لیتے کہ خدا کہہ رہا ہے کہ وہ بے نیاز ہے۔ کائنات بنا کر بے نیاز ہے۔ تمھیں صحیح سلامت پیدا کر کے بے نیاز ہے۔ تم اس کی مخالفت کرو یا حمایت، وہ بے نیاز ہے۔ ایک انسان ایک دن میں خدا کے دیے ہوئے کون کون سے وسائل استعمال کرتا ہے۔ ہوا پانی روشنی اگر یہ سب پیسوں کے زور پر فراہم کرنے ہوں تو انکی مالیت کا اندازہ لگاؤ کبھی۔ صرف خون صاف کرنے والی ایک مشین کی قیمت دیکھ لو۔ وہ مشین بھی خون گردوں کی طرح صاف کرنے سے قاصر ہے۔ یہ سب کچھ فراہم کرنے والا خدا کہتا ہے کہ وہ بے نیاز ہے۔

ہم مسلمان خدا کو بازار میں لے کر نکل آئے ہیں۔ خدا کے من چاہے منصوبے جن کی تشریح ہم نے خود بنائی ہے سب پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ خدا کو اب واپس گھر لے کر جانے سے بھی گزارا نہیں ہو گا۔ اب اسے دل ہی میں بٹھائیں۔ یہ ہماری اوقات سے زیادہ تو ہے ہی۔ شاید خدا کا منشا بھی یہ نہیں کہ ہم انسانوں کی زندگی میں مداخلت کریں اور اسے مشکل بنائیں۔

ہمیں خدا کو گھر واپس لے کر جانا تھا۔ پر ہم تو خدا کا تعارف گھر میں بھی ایسے کراتے ہیں کہ وہ ہماری پسماندگی کی وجہ بن کر رہ گیا ہے۔ بچے جب پوچھتے ہیں کہ دنیا پانی روشنی کیسے بنی تو ہم خدا نے بنائی کہہ کر فارغ ہو جاتے ہیں۔ ہم نہیں سوچتے کہ شاید خدا ایسا نہیں چاہتا۔ وہ تو بار بار چیلنج کرتا ہے کہ غور کرو، فکر کرو، یہ سب جانو اور اسے تسخیر کرو۔


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “خدا کو اب دل میں ہی رکھیں

  • 18-04-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    سبحان اللہ بہت خوب

  • 18-04-2016 at 7:13 pm
    Permalink

    shukr hae, k yoon sochnay walay mojood hain.

  • 19-04-2016 at 1:28 am
    Permalink

    بہت خوب

    • 19-04-2016 at 1:41 pm
      Permalink

      شاہ جی کراٹے تو مدت ہوئی آپ نے چھوڑ دیئے تھے ، اب تو آپ پہچانے ہی نہیں جاتے۔

  • 19-04-2016 at 1:57 pm
    Permalink

    اعلیٰ ،،

Comments are closed.