بھلا جاب کرنے والی عورت بھی شرم والی ہوتی ہے؟


گھر سے باہر کام کرنے والی عورت بھلا کیسے با حیا ہوسکتی ہے۔ وہ تو بے شرم اور بے حیا عورت ہے۔ گھر سے باہر نکلیں گی تو ہراساں بھی کیا جائیں گا۔ بے شرم عورت کیسے تیار ہوکر جینز اور شرٹ پہن کر گھومتی ہے۔ غیر مردوں سے باتیں کرتی ہے۔ روزگار کمانے کے لیے گھر سے باہر نکلنے والی بھلا، اُس کو کیا معلوم کہ شرم وحیا کیا ہوتی ہے۔ باہر نکلو گی تو غیرت مند مرد اوپرسے نیچے تک تو دیکھیں گا۔ جملے بھی کسے گا۔ دوستی کی دعوت بھی دیںگے۔ اپنے جذبات کی تسکین کے لیے اگر غیرت مند مرد دو چاردفعہ ادھر اُدھر ہاتھ لگا بھی لیتا ہے تو بھلا بے شرم عورت کو کس بات کی حیا، کس بات کی جھجک۔

ٹی وی اسکرین کی زینت بننے والیاں، چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے والیوں کو تو جنسی ہراساں کیا ہی جائیں گا۔ اس پر اتنا واویلا مچانے والی کونسی بات ہے۔ بلاوجہ ہمارے میڈیا نے علی ظفر اور میشا کا معاملہ اٹھایا ہوا ہے۔ علی ظفر اور میشا میں سچا کون جھوٹا کون۔ اس بات کا فیصلہ تو الگ بات ہے۔ اس سے پہلے ہی بعض لوگوں نے اپنی عدالت لگا فیصلہ سنادیا۔ ظاہر ہے مغربی لباس زیب تن کرکے علی ظفر کی بانہوں میں ہاتھ ڈال کر تصویریں بنوانے والی مجرم ہے۔ آئی بڑی شرم حیا کی باتیں کرنے والی۔

اسکول، کالج، یونیورسٹی جانے والی بچیوں کو بھی شرم چھو کر نہیں گزری۔ کیا ضرورت ہے تعلیم حاصل کرنے کی۔ اب اگر برقع پہن کر یا اپنے آپ کو چادر میں لیپٹ کر گھر سے باہر نکلی ہو تو بس اسٹاپ، بسوں میں کسی نے چھیڑ دیا یا ایک دو جملے بازی کردی تو کون سی قیامت آگئی۔ اور اگر کسی استاد کے جذبات جاگ گئے تو کون سی بڑی بات ہوگئی، غلطی تو عورت کی ہے ناں کیا ضرورت تھی گھر سے باہر نکلنے کی۔

بیچارے ہمارے معاشرے کے بعض غیرت مند مرد۔ جن کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اب بہن نے پسند کی شادی کی خواہش ظاہر کردی تو غیرت تو جاگنی ہی تھی۔ گولی ماری اور کردیا کمرے میں قید، بے شرم عورت ایک ماہ تڑپ تڑپ کر مرگئی۔ بہن یا بیٹی نے پسند کی شادی کرلی پھر بزرگوں کی سربراہی میں پنچایت بھی لگے گی اور سزا کے طور پرکرنٹ لگا کر قتل بھی کرنا لازمی ہے۔

جن بزرگوں کی سربراہی میں پنچایت بیٹھائی جاتی ہے۔ آخر وہ غیر شرعی فیصلہ کیسے سناسکتے ہیں۔ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ان غیرت مند مردوں کونہیں معلوم کہ شرعی طور پر لڑکی کو پسند کی شادی کی اجازت ہے نکاح کے وقت لڑکی کی رضامندی بھی پوچھی جاتی ہے۔ بھائی نے اگر کسی بے شرم لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا تو بھلا اس میں لڑکے کا کیا قصور۔ قصورتو لڑکی کا ہے۔ تو سزا بھی صنف نازک کو ہی ملے گی۔ ایک لڑکی زیادتی کا نشانہ بنی تو بدلے میں دوسری لڑکی کو بھی زیادتی کا نشانہ بنایا جائے گا۔ ایسے ہی تو ہوتے ہیں غیرت مندی کے پیمانے۔

غیرت مندی کے پیمانوں کا تو مجھ جیسی کم عقل لڑکی تھوڑا تھوڑا سمجھ آگیا۔ مگر بے غیرتی کا کیا پیمانہ ہے۔ جو مرد جنسی ہرانسمنٹ جیسے فعل سے چار قدم دور رہتے ہیں۔ جو اپنی بہن یا بیٹی کوآزادی دیتے ہیں۔ بیٹیوں اور بیٹے میں فرق نہیں رکھتے۔ بہن یا بیٹی کو اس بات کاحق دیتے ہیں کہ زندگی کا نیا سفر وہ فیملی کی رضا مندی سے اپنے مند پسند ہمسفر کے ساتھ شروع کرسکتی ہے۔ بہن یا بیٹی کو ٹھیک اور غلط کی تمیز سیکھا کو خوداعتمادی اور تعلیم کے زیورسے آراستہ کرتے ہیں۔ کیا ایسے مرد بے غیرت ہوتے ہیں؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
صائمہ ساجد کی دیگر تحریریں
صائمہ ساجد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں