نواز شریف نے نیب کو نہیں، بیل کو دعوت دی ہے


آج میاں نواز شریف کا ایک بیان نظر سے گزرا تو ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہماری ہمیشہ سے یہ رائے تھی کہ جو شخص بھی سیاست یا کاروبار وغیرہ میں ایک طویل عرصے تک اپنی اونچی پوزیشن برقرار رکھتا ہے وہ شاطروں کا شاطر ہوتا ہے۔ ٹاپ پر موجود افراد نہ صرف دوسروں کی گردن کاٹنے میں ہوشیار ہوتے ہیں بلکہ وقت پڑنے پر اپنی گردن بچانے کے فن کے بھی امام ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں ان افراد کی بات پر یقین تھا جو کہتے تھے کہ میاں صاحب بظاہر بھولے بن کر نہاری وغیرہ کھانے میں مصروف رہتے ہیں درحقیقت وہ ایک نہایت ہی ذہین اور چوکس انسان ہیں۔ دوسری طرف موجود وہ چند شرپسند ہمیں غلط دکھائی دیتے تھے جو یہ کہتے تھے کہ جب جنرل جیلانی نے میاں شریف مرحوم سے وزارت کے لئے ان کا ایک بیٹا مانگا تو انہوں نے یہ سوچ کر نواز شریف کو ان کے سپرد کر دیا کہ ”یہ کسی کام کا نہیں ہے جبکہ شہباز سیانا ہے اور کاروبار اسے سنبھالنا چاہیے“۔

میاں صاحب کی اس خاصیت کے تو ہم قائل تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دو سال بعد بم کو لات مار کر اپنی حکومت اڑا دیتے ہیں لیکن اسے فطری بشری تقاضا سمجھ کر درگزر کرتے تھے۔ جب پاناما کیس کو وہ بلاوجہ ہی پہلے عدالت لے گئے اور اس کے بعد وہاں ان کے وکیل نے ملزم ہونے کے باوجود بار ثبوت بھی اپنے اوپر لے لیا، تو پھر بھی ہم نے سوچا کہ شک کا فائدہ دینا چاہیے، چلو قانون کی بات ہے، میاں صاحب نے وکالت تو پڑھی ہے مگر پریکٹس نہ کرنے کی وجہ سے اس مقدمے کی اونچ نیچ سمجھ نہیں پائے ہوں گے اور ان کے وکیل نے ان کو مروا دیا۔

لیکن آج میاں صاحب نے کمال بیان دیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کو یہ تحقیقات بھی کرنی چاہیے کہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو پہلے سیکریٹری قانون اور پھر جج کیسے بنایا گیا۔

نیب کو بلانے کا مطلب ہے کہ کوئی سرکاری کرپشن ہوئی ہے جس کی مالیت پانچ کروڑ سے زیادہ ہے۔ میاں صاحب کے بیان کا مفہوم تو یہی بنتا ہے کہ نیب تحقیقات کرے کہ ثاقب نثار صاحب کو کس نے پانچ کروڑ یا زیادہ رقم بطور رشوت لے کر پہلے سیکرٹری قانون اور پھر ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا ہے۔

اب معاملہ یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس عزت مآب میاں ثاقب نثار کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بذات خود سنہ1997 میں ہونے والے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وفاقی سیکریٹری قانون تعینات کیا تھا اور سنہ 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دیتے ہوئے اس وقت کے صدر رفیق تارڑ نے جناب ثاقب نثار کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔

اب اگر نیب واقعی تحقیقات کرنے لگ گئی تو مسئلہ ہو جائے گا۔ تقرری کے کاغذات پر میاں صاحب کے اپنے دستخط ہوں گے۔ جناب ثاقب نثار کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے گا کہ وہ کسی غلط طریقے سے ان مناصب پر تعینات ہوئے ہیں اور یوں میاں صاحب کے الزام سے ان کی نیک نامی پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ لیکن میاں صاحب خود اس چکر میں پھنس جائیں گے کہ بتائیں وہ پیسے کہاں ہیں جو آپ نے لے کر غلط تعیناتی کی ہے، آپ کا تو اپنا اقبالی بیان ہے کہ یہ تعیناتیاں ایسی کرپشن کر کے کی گئی ہیں جو نیب کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور تعیناتی کرنے والے آپ خود ہیں۔

یعنی میاں صاحب نے نیب کو دعوت نہیں دی ہے، بلکہ بیل کو دعوت دی ہے کہ آ بیل مجھے مار۔ واقعی میاں صاحب خود کو پھنسانے کے ماہر ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1008 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar