ووٹ کی عزت سید مشاہد حسین کے ذریعے؟


”جنرل راحیل شریف، آپ نے پاکستان کے لیے وہ کچھ کیا ہے جو کوئی نہیں کرسکا‘‘، سینیٹر مشاہد حسین سید نے تقریر کا آغاز کیا۔ دو سال سے کچھ زیادہ ہوتے ہیں کہ وہ کوئٹہ میں سی پیک پر ہونے والے ایک سیمینار کے آخری سیشن میں تقریر کر رہے تھے اور سامعین کی پہلی صف میں اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف بنفس نفیس موجود تھے۔ مشاہد حسین سید کی خوبصورت انگریزی میں کہا گیا پہلا فقرہ ہی ہال میں بیٹھے اشخاص کی اکثریت کے دل کی آواز تھا لہٰذا اس نے سیدھا دلوں پر دستک دی اور ہر شخص متوجہ ہوگیا۔ ”آپ نے پاکستان کو آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشتگردی سے پاک کر دیا، آپ نے ملک میں پاک چین راہداری کی تعمیر کو ممکن بنایا اور آپ نے کراچی میں امن قائم کر کے پاکستان کی معیشت کی مضبوطی کا راستہ کھول دیا‘‘، مشاہد حسین سید کی فصیح و بلیغ گفتگو دریا کی روانی سے آگے بڑھ رہی تھی، خوبصورت الفاظ ان کی زبان سے موتیوں کی طرح پھسل رہے تھے اور جنرل راحیل شریف کے قدموں میں نچھاور ہورہے تھے۔ ”جنرل راحیل آپ نے بلوچستان کی اہمیت کو سمجھا اور یہاں کے دگرگوں حالات پر اتنی توجہ دی کہ آج ہم اس شہر میں موجود ہیں اور پاکستان کے مستقبل کی بات کر رہے ہیں‘‘، ایسا لگ رہا تھا کہ مشاہد حسین سید پر غیب سے مضامین اتر رہے ہیں۔ یہ تقریر نہیں نثر میں شاعری تھی اور اس خوبصورتی سے پڑھی گئی تھی کہ سننے والوں میں سے کوئی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، ہر فقرے کی داد حاضرین نے تالیاں بجا کر دی اور خوب دی۔ اس تقریر کا کمال یہ تھا کہ پہلے سے لے کر آخری لفظ تک جنرل راحیل شریف کی مدح میں تھی، مگر اتنے اعتماد سے کی گئی تھی کہ کسی طرف سے بھی خوشامد نہیں لگتی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے درمیان ان دنوں تناؤ بھی چل رہا تھا اس لیے یہ تقریر مشاہد حسین کی سیاسی ترجیحات کا پتا بھی دے رہی تھی۔ جب تقریر ختم ہوئی تو تالیوں کا نہ رکنے والاسلسلہ شروع ہو گیا جسے روکنے کے لیے سٹیج سے باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ جب یہ تقریب ختم ہوئی اور چائے کا دور چلنے لگا تو ایک سینئر صحافی نے مشاہد حسین سے کہا کہ اگر ایک آدھ فقرہ منتخب حکومت کے بارے میں بھی بول دیتے تو تقریر متوازن ہو جاتی۔ یہ سن کر وہ ذرا بے مزہ ہوئے، مسکرائے اور ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوگئے جو انہیں بہترین تقریر پر مبارکباد دینے کے لیے کھڑے تھے۔

اس سیمینار کے ٹھیک دو سال دو ماہ اور پندرہ دن بعد یعنی سترہ اپریل کو اسلام آباد کی نیشنل لائبریری کے ہال میں ایک سیمینار منعقدہوا جس کا عنوان تھا ”ووٹ کو عزت دو‘‘۔ اس سیمینار میں بھی سینیٹر مشاہد حسین سید مقررین میں سے ایک تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور دوسال دو ماہ پندرہ دن پہلے کی طرح پہلے فقرے سے ہی حاضرین و سامعین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ ان کا پہلا فقرہ تھا، ”میاں نواز شریف صاحب پاکستان کے لیے آپ نے وہ کچھ کیا ہے جو کوئی نہیں کرسکا‘‘۔ اس کے بعد لفظوں کے موتی بکھرنے لگے، فرمایا، ”میاں صاحب آپ نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردی کا خاتمہ کیا، آپ نے سی پیک جیسے اہم ترین منصوبے کو ممکن بنایا اور کراچی کو اس کا امن لوٹا کر پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنایا‘‘۔ میاں نواز شریف جو سٹیج پر بیٹھے تھے، سید مشاہد حسین کی تقریر کے مندرجات بڑے ذوق و شوق سے سن رہے تھے اور ان کا چہرہ چغلی کھا رہا تھا کہ جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ اس سے سو فیصد متفق ہیں۔ حیرت کی بات تھی کہ جن فقروں پر کوئٹہ میں تالیاں رک نہیں رہیں تھیں، بالکل وہی فقرے جب اپنے نئے ممدوح کے بارے میں سید مشاہد حسین دہرا رہے تھے تو بھرے ہال میں کوئی تالی نہیں بج رہی تھی۔ دو تین بار انہوں نے کسی زوردار فقرے پر اس امید پر ہلکا سا توقف کیا کہ شاید کوئی تالی بجے، مگر ہال میں بیٹھے لوگوں میں کوئی بھی انہیں داد دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ حتیٰ کہ جب انہوں نے زور دے کر کہا کہ ”میاں صاحب آپ نے بلوچستان کے دگرگوں حالات کو اپنی توجہ سے اتنا درست کرلیا کہ آج بلوچستان پاکستان کی ترقی کی بنیادی وجہ بن چکا ہے‘‘، تو بھی کچھ نہ ہوا۔ جب انہوں نے یہ فرمایا کہ، ”میاں صاحب، میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت آپ صوبہ سندھ میں بھی مقبول ترین شخصیت بن چکے ہیں‘‘، تو ہال میں چند ایک تالیاں بجیں اور دوبارہ خاموشی چھا گئی ۔ انہیں تقریر کرتے دیکھ کر بالکل محسوس نہیں ہورہا تھا کہ وہ یہ قصیدہ پہلے بھی کسی کی بارگاہ میں پڑھ چکے ہیں اور صرف عنوان بدل کر اپنے نئے قدردان کی عزت افزائی کر رہے ہیں۔ ان کے لہجے میں وہی اعتماد تھا جو کسی گلوکار کو اپنی ریاضت پر ہوتا ہے کہ اس کا فن اسے کسی بھی مجلس میں نیچا نہیں ہونے دے گا۔

اتفاق سے یہ خاکسار دوسال دو ماہ پندرہ دن پہلے کوئٹہ میں بھی موجود تھا اور ”ووٹ کو عزت دو‘‘ کی تقریب میں بھی پچھلی صفوں میں بیٹھا تھا۔ کوئٹہ میں یہ گمان تھا کہ قبلہ مشاہد حسین سید کو سی پیک کے بارے میں چونکہ کچھ معلوم نہیں ہے اس لیے انہوں نے جنرل راحیل شریف کے کارناموں کو اپنی تقریر کا موضوع بنا کر کام چلانے کی کوشش کی ہے۔ اسلام آباد کے سیمینار میں مشاہد حسین سید کو ایک بار پھر ”ووٹ کی عزت‘‘ پر کچھ فرمانے کی بجائے میاں نواز شریف کی مدح کرتے ہوئے دیکھا تو یقین ہوگیا کہ انہیں تو کیا شاید خود نواز شریف کو بھی ووٹ کی عزت کے بارے میں زیادہ علم نہیں۔ اگر ووٹ کی عزت کے بارے میں ان کے خیالات واضح ہوتے تو شاید مشاہد حسین سید ان کے دیئے ہوئے ٹکٹ پر سینیٹر نہ منتخب ہوتے۔ ایک انہی پر موقوف نہیں اگر ان کی جماعت کے اراکینِ پنجاب اسمبلی کو بھی ووٹ کی عزت کا کچھ پاس ہوتا تو وہ گروہ در گروہ مشاہد حسین سید کو ووٹ نہ دیتے جو پانچ سال تک جنرل مشرف کے دسترخوان کے ایک سرے پر بیٹھے رہے، پھر چودھری شجاعت حسین کی عطا کردہ سینیٹ کی نشست پر براجمان رہے اور اب اپنی قصیدہ خوانی کی بدولت ایک بار پھر نواز شریف کے مصاحبین میں شامل ہوچکے ہیں۔ اور یہ سب کچھ ایسے وقت پر ہوا جب خود نواز شریف کے مطابق ان کو ملے ہوئے کروڑوں ووٹوں کا تقدس پامال کیا جا چکا تھا۔ ان حالات میں بھی اگر مشاہد حسین سید ہی ان کا انتخاب ہیں تو پھر ان کی مردم شناسی پر آفرین کے سوااور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

”ووٹ کو عزت دو‘‘ بلا شبہ ایک خوبصورت نعرہ ہے، لیکن یہ نعرہ اس وقت جعلی لگتا ہے جب اس نعرے کے فلسفیانہ نکات قبیلۂ ق لیگ کے سابق ترجمان مشاہد حسین سید بیان فرمائیں، جنرل مشرف کے نفس ناطقہ دانیال عزیز ووٹ کی عزت کا مطالبہ کریں، ووٹ کو عزت دینے کے لیے قانونی مشاورت دستور شکنی میں جنرل مشرف کے معاون جناب زاہد حامد کی ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ووٹ کو عزت دینے کا مطالبہ کوئی تحریک نہیں محض ایک سیاسی حربہ ہے۔ کل تک ووٹ کو بے عزت کرنے والوں کا ساتھ دینے والے یہ لوگ آج ووٹ کی عزت کا پرچم ہاتھوں میں اٹھائے نواز شریف کے اردگرد نظر آتے ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ مقصود ووٹ کو عز ت دلانا نہیں بلکہ دلکش نعروں کے ذریعے ووٹر کو بے وقوف بنا کر ایک بار پھر بے عزت کرنا ہے۔ ووٹ کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں