انسانی حقوق کی پامالی کا ایک اور سال


ایک اورکم سن بچی جنسی جنونیت کا شکار ہوگئی، اورنگی ٹاؤن میں طویل عرصے سے آباد ایک خاندان کی بچی لاپتہ ہوئی، پولیس نے غریبوں کی فریاد پر توجہ نہیں دی، گمشدہ بچی کی لاش ملی۔ علاقے کے لوگوں نے احتجاج کیا تو پولیس حکام کو عوامی احتجاج کا بنیادی حق پسند نہیں آیا۔ پولیس والوں نے اندھادھند گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ مظاہرین میں موجود ایک ادھیڑ عمر شخص جو 6 بچوں کا باپ تھا، پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا۔

عوام کے احتجاج کے آئینی حق کو ریاستی ادارے نے تشدد کے ذریعے کچل دیا۔ پیپلز پارٹی جو کبھی عوامی احتجاج کے حق کی امین تھی اب برسر اقتدار آنے کے بعد سے عوام کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ سنددھ کے وزیر داخلہ نے فرمایا کہ احتجاج کی ضرورت نہیں تھی، سیاسی عناصر نے لوگوں کو احتجاج پر مجبورکیا، قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ پولیس حکام نے ہجوم پر فائرنگ اور ایک بے گناہ شخص کی ہلاکت بھارت کے زیر انتظام کشمیر جیسی صورتحال کی عکاسی کررہی ہے جہاں بھارتی فوجی دستے پتھر اٹھائے لوگوں پر خوب گولیاں برساتے ہیں اور نوجوانوں کی آنکھوں کو پھوڑ دیتے ہیں۔ اس واقعے سے تو یہ محسو س ہورہا ہے کہ اورنگی میں بھی بڈگرام جیسے حالات پائے جاتے ہیں۔

انسانی حقو ق کمیشن نے گزشتہ سال انسانی حقو ق کی صورتحال کی عکاسی کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ شایع کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کی صورتحال میں کمی کی بناء پر ملک کے مختلف علاقوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعدادکم ہوگئی ہے مگر گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اس سال کم ہلاکتوں کے باوجود ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی، اقلیتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی طرح شہریوں کے لاپتہ ہونے کی وارداتیں بڑھ گئی ہیں۔ مذہبی جنونیت کا خطرناک عنصریت بے گناہوں کو قتل کررہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کی تعداد اب تک کم نہیں ہوئی ہے۔ حکومت لاپتہ افراد کی بازیابی کے دعوے کررہی ہے مگر مجموعی صورتحال میں کوئی کمی نہیں آئی۔ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سپریم کورٹ نے 2007ء میں ایک کمیشن قائم کیا تھا، اس کمیشن کا سربراہ سپریم کورٹ کے جج (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کو مقررکیا گیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس غوث محمد اور خیبر پختون خواہ کے سینئر پولیس افسر کوکمیشن کا رکن بنایا گیا۔ اس کمیشن نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں کوئی قابل قدر کارنامہ انجام نہیں دیا۔ اس کمیشن کے پاس توہین عدالت کے اختیارات نہیں تھے۔کمیشن صرف ان افراد کی بازیابی کا فریضہ انجام دے سکا جن کو لاپتہ کرنے والے اداروں نے خود رہائی کا فیصلہ کیا تھا۔ لاپتہ افراد کی بناء پر پوری دنیا میں پاکستان کا تشخص مجروح ہوا ہے۔ پاکستان نے اب تک لاپتہ افراد کے بارے میں بین الاقوامی کنونشن پر دستخط نہیں کیے۔

اس کنونشن کے تحت لاپتہ کرنے والے ریاستی اہلکاروں کو فوجداری نوعیت کی سزا مل سکتی ہے۔ ایسا قانون نہ ہونے کی بناء پر اعلیٰ عدالتیں بھی مفلوج نظر آتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے ایجنڈے میں اس مسئلے پر بحث ومباحثہ ہوتا ہے اور جب پاکستان کشمیرکی صورتحال کی جانب نشاندہی کرتا ہے تو بھارتی مندوب اس مسئلے کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور پاکستان کو ایک اہم ترین فورم پر شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے مسئلے پر ایک مضبوط قانون نافذ ہونا چاہیے۔ گزشتہ سال خیبر پختون خواہ کے دوسرے بڑے شہر مردان میں ولی خان یونیورسٹی میں جنونی طالب علموں نے اپنے ساتھی مشال خان کو تشدد کرکے قتل کردیا تھا مگر ابھی تک قاتلوں کو حقیقی سزا نہیں ہوسکی۔ یہ حقیقت پھر عیاں ہوتی ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ جب تک ان جڑوں کے خاتمے کے لیے ریاست اقداما ت نہیں کرے گی، یہ صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔ کوئٹہ میں آباد ہزارہ برادری پر حملوں میں کسی صورت کمی نہیں ہوئی۔ اس خطرناک صورتحال کی بناء پر ہزاروں افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے جن میں سے بہت سے غیر قانونی طور پر آسٹریلیا جانے والی لانچوں کے حادثات میں مرنے والے پاکستانیوں میں شامل تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قصور میں زینب کے اغواء اور اس کے قتل کے بعد عوامی ردعمل سے قانون ساز ادارے متحرک ہوئے، ملک کے دوسرے علاقوں کے بچوں کے اغواء اور قتل کی وارداتوں پر پولیس فوری طور پر کارروائی پر مجبور ہوئی مگر پولیس کے طبقاتی نظام کی بناء پر بچیوں کے اغواء اور قتل کی سلسلہ رک نہ سکا۔ تھانوں اور ریاستی اداروں کے سیف ہاؤسز میں نظربند شہریوں پر تشدد کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ اس صورتحال میں بچوں کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی اورعدالتوں کا متحرک نظام انتہائی ضروری ہے۔ اس وقت جمہوری نظام کئی خطرات سے دوچار ہے۔ ایک طرف سویلین کے لیے راستے محدود کیے جارہے ہیں۔ دوسری طرف میڈیا کی آزادی کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی اور ریاست کی بے بسی کی بناء پر عام آدمی کا اعتماد مجروح ہورہا ہے۔

یوں فرد اور ریاست میں فاصلہ بڑھنے سے مستقبل پر سیاہ رنگ نمایاں ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالی کسی فرد یا گروہ کے حقوق ہی کی پامالی نہیں بلکہ ترقی کی رفتار کوکم کرنے کی کوشش بھی ہے جس کے نتیجے میں غربت کی لکیر کے نیچے آبادی کا تناسب بڑھتا ہے۔ رپورٹ کی اشاعت کے بعد اس کی ایڈیٹر عتاب کا شکار ہوئیں۔ نامعلوم افراد نے انھیں کئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا۔ لیپ ٹاپ اور دیگر دستاویزات ساتھ لے گئے۔ اس رپورٹ کی ایڈیٹر پر حملہ ظاہرکرتا ہے کہ مقتدرہ قوتیں حقائق کو برداشت کرنے پر تیار نہیں اور نہ ہی قانون کا احترام کرنا چاہتی ہیں۔

یہ ایچ آر سی پی کی رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشور کو آخری شکل دے رہی ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کی منشور سازکمیٹیوں میں شامل ماہرین کو اس رپورٹ کا بغور مطالعہ کرنا چاہیے اور بچوں کے جرائم کے خاتمے، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے تشدد، لاپتہ افراد کے مسئلے کے تدارک اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے جامع اصلاحات اپنے منشور میں شامل کرنی چاہئیں تاکہ عوام سیاسی جماعتوں کے منشورکی بنیاد پر فیصلہ کریں اور پھر سیاسی جماعتیں عوام کی طاقت سے اپنے منشور پر عمل درآمد کریں۔

بشکریہ: روز نامہ ایکسپریس

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ڈاکٹر توصیف احمد خان

بشکریہ ایکسپریس

dr-tauseef-ahmad-khan has 9 posts and counting.See all posts by dr-tauseef-ahmad-khan