’پاکستانی نیوز رومز میں سیلف سنرشپ میں اضافہ‘


پریس کلب

پاکستان میں مسلح گروہ بھی صحافیوں کو ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکتے ہیں

میڈیا کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز کا کہنا ہے کہ پاکستان کے نیوز رومز میں سیلف سینسرشپ میں اضافہ ہوا ہے جبکہ میڈیا کی آزادی کی بین الاقوامی درجہ بندی میں پاکستان بدستور 139 ویں نمر پر ہے۔

رپورٹرز ود آؤٹ باڈرز یعنی آر ایس ایف انڈیکس 2018 میں تنظیم نے پاکستانی میڈیا کو کافی متحرک اور فعال قرار دیا ہے لیکن تنظیم کا کہنا ہے کہ انتہا پسند گروپس، اسلامی تنظیمیں اور خفیہ ایجنسیاں صحافیوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

رپورٹ میں تنظیم نے مزید کہا ہے کہ متحارب دھڑے میڈیا کی مذمت میں پیش پیش رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ‘وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سیاسی و مذہبی جماعتیں ان صحافیوں کو نشانہ بناتی ہیں، ہراساں کرتیں ہیں، دھمکیاں دیتی ہیں یا جمسانی طور پر ان پر حملے کرتی ہیں جو ان کے نقطۂ نظر سے مخالف رائے رکھتے ہیں۔’

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس سال بھی صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم یہ اعدادوشمار گذشتہ پانچ برسوں میں کم ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2017 میں بلوچستان میں مسلح گروہوں نے صحافیوں کو اپنے بیانات کی کوریج نہ کرنے پر دھمکی دی تھی۔

سکیورٹی اداروں نے صحافیوں کو مسلح گروہوں کی کوریج نہ کرنے کے احکامات دیے تھے۔

2017 کے آخر میں اسلام آباد میں مذہبی گروہوں کے احتجاج کی رپورٹنگ کے دوران صحافی مذہبی جماعت کے کارکنوں اور پولیس کے مابین تصادم میں پھنس گئے تھے۔

جیو

پاکستان میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران نیوز رومز میں سیلف سنسرشپ میں اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم کی تازہ رپورٹ میں اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے کہ چین کے ماڈل پر ایشیا پیسفک علاقے میں دیگر ممالک بھی جن میں ویتنام اور کمبوڈیا شامل ہیں نقل کر رہے ہیں۔

چین انڈیکس میں 176 ویں نمبر ہر ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ کی پہلی مدت کے دوران، سینسرشپ اور نگرانی انتہائی سطح تک پہنچ گئی تھی۔ چین میں غیر ملکی صحافیوں کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

رپورٹ میں افغانستان، انڈیا، فلپائن اور پاکستان میں صحافیوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

میڈیا کی آزادی سے متعلق اس فہرست میں شمالی کوریا آخری یعنی ایک سو اسی نمبر پر رکھا ہے۔

مبصرین کے خیال میں پاکستان میں حالیہ دنوں میں پشتون تحفظ مومنٹ کے مسئلے پر میڈیا میں سینسرشپ کچھ زیادہ دیکھی جا رہی ہے اور صحافیوں کے لیے آزادنہ اظہار رائے کافی مشکل ہو گیا ہے۔

ان حالیہ واقعات کا بظاہر اس رپورٹ میں احاطہ نہیں ہوا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 3708 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp