مسلمانوں کے لیے مغرب کے اچھوت نگر


adnan-khan-kakar-mukalima-3اپریل 2020 عیسوی

مغرب میں مسلمانوں کی تیسری نسل پروان چڑھ چکی تھی۔ ان کی پہلی نسل وہ تھی جو اپنے ملک کی غربت اور ظلم و ستم سے جان بچا کر یورپ میں پناہ گزین ہوئی تھی۔ گوروں کے تعصب کے باوجود ان کو وہاں کے حالات اپنے ملک سے بہتر لگتے تھے اور وہ خوش تھے۔ دوسری نسل کی تربیت انہیں کے ہاتھوں ہوئی تھی اور اس کا اپنے آبائی وطن سے کچھ برا بھلا تعلق برقرار تھا۔ مگر تیسری نسل یورپ ہی کی پروردہ تھی اور اپنے آبائی ملک کو نہیں جانتی تھی۔

گوروں کے تعصب کو دیکھ کر، اور معاشی میدان میں ان سے پیچھے رہ کر اس نسل نے مذہب میں پناہ ڈھونڈی۔ اس کی بدقسمتی تھی کہ پیٹرو ڈالر کی برکت سے اب تک انتہا پسند فکر کے مسلم مذہبی مراکز مغرب میں کافی پھیل چکے تھے اور ان کو انتہاپسند مذہبی رہنما ہی ملے۔ اس تیسری نسل کا اپنے قدیم وطن سے کوئی رشتہ ناطہ باقی نہیں رہا تھا اور مغرب ہی اس کا وطن تھا۔ اور انتہا پسند راہنماؤں نے پولیٹیکل اسلام کی تعبیر کے سوا اسے کچھ نہ دیا تھا جس کے مطابق ان کو اپنے اس نئے وطن میں شرعی قوانین کا نفاذ کرنا تھا ورنہ ان کے عقیدے پر حرف آتا تھا۔ سو ان میں سے کچھ عملی و فکری دہشت گردی کی راہ پر چل نکلے اور خودکش دھماکے کرنے لگے اور کچھ نے مغرب میں شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے سیاسی جد و جہد شروع کر دی۔

مغرب ایک طویل عرصے تک چرچ کے تحت جبر و استبداد سہہ کر ریاست اور چرچ کی علیحدگی کو ہی پر امن زندگی کا طریقہ جاننے لگا تھا۔ اس کے لیے ایک بہت چھوٹی اقلیت کی طرف سے یہ مطالبہ کہ اس کی مذہبی تعبیرات پر مبنی قوانین بنائے جائیں، ایک ناقابل قبول خواہش کا اظہار تھا۔ یہ مطالبہ کرنے والے مغرب کے اپنے ملکوں کے جم پل تھے اور ان کو کسی دوسرے ملک نہیں بھیجا جا سکتا تھا جبکہ مغرب کے عوام میں انتہا پسند مسلمانوں کی دہشت گردی کی وجہ سے ان کے خلاف اتنی زیادہ نفرت پیدا ہونے لگی تھی کہ مسلمانوں کے خلاف مذہبی فسادات شروع ہو چکے تھے جس میں باقی یورپ کے علاوہ سب سے بڑی مسلم آبادی والے فرانس کی پانچ سے دس فیصد فرانسیسی مسلمان اقلیت کی مکمل نسل کشی کا خطرہ اب حقیقی روپ دھارتا نظر آ رہا تھا۔

ghetto

ایسے میں مسلمان نمائندوں، حکومتوں اور چرچ کے نمائندوں پر مشتمل ایک کانفرنس بلائی گئی جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ محض دو تین فیصد افراد کے عقیدے کا نفاذ ستانوے اٹھانے فیصد مغربی عوام پر نہیں کیا جا سکتا ہے، لیکن دہشت گردی سے بچنے کے لیے ان دو تین فیصد افراد کو ان کے علاقے میں ان کی پسند کے قانون کے نفاذ کی اجازت دی جائے۔ مختلف شہروں میں مسلمانوں کے لیے حصے مخصوص کیے گئے جن کا نام تو اقلیتی نگر تھا مگر ان کو بعض انتہا پسند مغربی شہریوں نے اچھوت نگر کا نام دیا، اور پھر رفتہ رفتہ یہ نام عام بول چال کا حصہ بن گیا۔ کچھ مسلمانوں نے اس پر اعتراض کیا تھا اور مغرب کو اس کے لبرل اور سیکولر اصول یاد دلائے تھے مگر مغربی حکمرانوں نے ان کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا کہ تم تو ان اصولوں کو مانتے ہی نہیں ہو، اور ہمارے ملک میں رہ کر بھی ہمیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہو، تو پھر برابری کیسی؟ یا تو تم بھی لبرل اور سیکولر سوچ کو اپنا لو، ورنہ پھر ہمیں تمہیں الگ علاقے دے دیتے ہیں جہاں تم اپنے عقیدے کے مطابق ہماری شرطوں پر رہ سکتے ہو۔

اقلیتی نگر کو اچھوت نگر کہنے والے انتہا پسند مغربی شہریوں کا کہنا تھا کہ ان آبادیوں کو اچھوت سمجھا جائے کیونکہ مغربی قوانین جن آزادیوں کو فرد کے لیے لازم سمجھتے تھے، ان آزادیوں پر ان اقلیتی آبادیوں کے قوانین کے تحت سزائے موت تک دی جا سکتی تھی۔ اس لیے ان سے دور رہنے میں ہی بہتری تھی۔

پیرس شہر کے شمالی حصے میں دو کلومیٹر طویل اور دو کلومیٹر عریض جگہ مختص کی گئی جس میں اچھوت نگر بسا دیا گیا۔ اس میں مسلمانوں کے لیے چھے ہزار مکانات تعمیر کیے گئے جن میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان رہتے تھے۔ اس کے ارد گرد بیس فٹ اونچی چار دیواری تعمیر کی گئی اور اس میں آمد و رفت کا ذریعہ دو پھاٹک تھے جن کے اندر کی طرف مسلمانوں کے شریعہ پیٹرول کے محافظ تعینات تھے اور باہر کی طرف پیرس کی پولیس۔ دیوار کی تعمیر کا خرچہ اچھوت نگر کے مسلمانوں سے زبردستی وصول کیا گیا۔

لیکن پھر بھی اچھوت نگر کے بیشتر مسلمان خوش تھے۔ وہ اب غیر مسلم اکثریت کے جسمانی اور ثقافتی حملوں سے محفوظ ہو چکے تھے، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اب وہ اپنے اس علاقے میں اپنی پولیٹیکل اسلام کی تفہیم پر مبنی قوانین بنا کر ان کے تحت زندگی بسر کر سکتے تھے۔ گو کہ اس معاہدے کی انہیں بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی تھی۔ ان کو اپنی شناخت کے طور پر اچھوت نگر سے باہر جاتے وقت پیلے رنگ کا ایک بیج سینے پر آویزاں کرنا پڑتا تھا اور عورتوں کے لیے پیلے رنگ کا حجاب لینا ضروری تھا۔ شروع شروع میں کچھ مسلمانوں نے اس رنگ پر اعتراض کیا تھا کیونکہ یہ قحباؤں کے لیے مخصوص تھا، مگر پھر وہ صبر شکر کر کے اس پر راضی ہو گئے۔ اس کے علاوہ ہر اتوار کو ان کے لیے چرچ کے پادری کا خطبہ سننا بھی لازم تھا تاکہ وہ دہشت گردانہ خیالات سے محفوظ رہ پائیں۔

مسلمانوں کے لیے پیشوں کی تخصیص بھی کر دی گئی تھی اور ان کمتر سمجھے جانے والے کم آمدنی کے مخصوص پیشوں کے علاوہ وہ کوئی اور کام نہیں کر سکتے تھے۔ فرانسیسی حکومت کا کہنا تھا کہ اہم پوسٹوں اور پیشوں میں مسلمانوں کی موجودگی سے یہ خدشہ ہے کہ وہ اپنی پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر ملک کے خلاف کارروائیاں کر سکتے ہیں اور مسلمان دہشت گردوں کی مدد کرنا بھی ان سے بعید نہیں ہے۔

اچھوت نگر میں رہائش کی اجازت کی سالانہ بنیادوں پر توثیق کی جاتی تھی۔ ہر سال ایسٹر کے موقع پر مسلمانوں کا نمائندہ پیرس کے میئر کے حضور پیش ہوتا تھا اور میئر اس کے کولہوں پر ایک لات رسید کرتا تھا جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ایک سال مزید رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ہر کرسمس کے موقعے پر مسلمانوں کو میئر کے سامنے پیش ہو کر فرانس سے وفاداری کا حلف اٹھانا پڑتا تھا۔ پیرس کے شہریوں کی تفریح طبع کے لیے مختلف تہواروں پر اچھوت نگر کے مسلمانوں کو مضحکہ خیز سوانگ رچا کر تماشے کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

شہر میں تلخی کی فضا ہوتی تو مسلمان اچھوت نگر کے گیٹ اندر سے بند کر دیا کرتے تھے تاکہ بدمست فرانسیسی اکثریت کا ہجوم حملہ آور ہو تو وہ قتل و غارت سے محفوظ رہیں۔ جبکہ اہم فرانسیسی تہواروں کے مواقع پر فرانسیسی پولیس یہ دروازے باہر سے بند کر دیا کرتی تھی تاکہ کرسمس، ایسٹر، نیو ائیر یا کسی دوسرے فیسٹیول وغیرہ کے موقع پر مسلمان ان میں گڑبڑ یا دہشت گردی نہ کر سکیں۔

اپریل 2070 عیسوی

ghetto_500

اچھوت نگر کی آبادی اس کے قیام کے وقت محض ایک لاکھ تھی اور مسلمان کافی کشادہ گھروں میں رہتے تھے۔ ایک گھر میں چار سے پانچ افراد رہائش پذیر تھے۔ مگر اب مسلمانوں کی کل آبادی پندرہ لاکھ ہو چکی تھی۔ وسیع مکانات اب تقسیم در تقسیم ہو کر چھوٹے چھوٹے اور تنگ مکانات میں تبدیل ہو چکے تھے۔ اچھوت نگر کے گرد فصیل ہونے کی وجہ سے وہ پھِیلنے سے قاصر تھا۔ اس لیے گلیاں تنگ ہونے لگیں، اور مکانات کی اونچائی بلند ہونے لگی۔ ایک منزلہ مکانوں کی بجائے اب پانچ پانچ منزلہ مکانات تعمیر ہو چکے تھے۔ اچھوت نگر کے باسی ان اونچے مکانات اور تنگ گلیوں کی وجہ سے سورج کی روشنی سے محروم تھے۔ کمتر پیشوں تک محدود کیے جانے کی وجہ سے ان کی آمدنی بھی بہت کم تھی اور مسلمان اب ایک شدید غربت کے عالم میں زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ کم آمدنی، کم تعلیم اور تنگ و تاریک گھروں میں رہنے کی وجہ سے بیماریوں نے مستقل ان کے گھروں میں ڈیرہ ڈال رکھا تھا۔

ان مغربی مسلمانوں کی پانچویں نسل نے اسی شدید غربت کے عالم میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ حیران ہوتے تھے کہ پیرس میں اچھوت نگر کے باہر کے لوگ اتنے خوشحال اور تعلیم یافتہ کیوں ہیں جبکہ وہ ان سے کٹ کر غربت و افلاس کی زندگی بسر کرنے پر کیوں مجبور ہیں۔ وہ جب اپنی پہلی نسل کے دیس کی کہانی سنتے تھے تو یہی سوچتے تھے کہ ان کے اجداد مغرب میں کیوں آئے، وہ اپنے آبائی ملک کی آزاد فضاؤں میں کیوں نہ رہے، جہاں غربت تو تھی مگر اتنی نہیں جتنی کہ اچھوت نگر میں تھی، اور وہ ملک بھر میں کہیں بھِی جا سکتے تھے اور کوئی بھی پیشہ اختیار کر سکتے تھے۔

اپریل 2016 عیسوی

مصنف نے قرون وسطی میں یورپ میں یہودیوں کے لیے بنائے گئے اچھوت نگروں، جنہیں گھیٹو کہا جاتا ہے، پر ایک مضمون لکھا۔ پھر اس نے سوچا کہ اب مغرب میں رہنے والے مسلمان جس راہ پر چل رہے ہیں، کیا مستقبل میں ان کا مقدر بھی یہی اچھوت نگر ہوں گے؟ یہ سارے حالات جو مسلمانوں کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں، قرون وسطی میں یورپی یہودیوں پر بیت چکے ہیں اور یہودیوں کو اس تعصب سے اسی وقت نجات مل پائی تھی جب سیکولر ازم اور لبرل ازم کے تحت ریاست نے سب شہریوں کو ان کے عقیدے سے بالاتر ہو کر برابر کا شہری ہونے کا حق دیا تھا۔ اگر یورپ نے بنیادی انسانی حقوق، آزادی اظہار اور انسانی برابری کے سیکولر اور لبرل اصولوں کو ترک کر دیا، تو کیا یہی اچھوت نگر ان مغربی اقلیتی مسلمانوں کا مقدر نہیں ہوں گے؟ ترقی یافتہ مغرب اگر لبرل اور سیکولر اصولوں کو ترک کر کے مسلمانوں کو اپنی ٹیکنالوجی اور ایجادات سے محروم کرنے پر اتر آیا اور کھلی جنگ کی کیفیت ہو گئی، تو کیا یہ مسلمان ملک ساری دنیا کے لیے ایک اچھوت نگر ہی نہیں بن جائیں گے؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

5 thoughts on “مسلمانوں کے لیے مغرب کے اچھوت نگر

  • 18-04-2016 at 7:50 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھا جناب۔
    اور پاکستان میں تو پہلے ہی سے اچھوت نگر قائم ہیں، اسلام آباد کے بیچ و بیچ برائے نام پاکستانی مظلوم عیسائیوں کی کچی بستیاں ، بھوتن پورہ ، فرانس کالونی ، سو کوارٹر وغیرہ کے نام سے دیسی گھیٹوز ھمارے مزھبی طبقہ کی اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کا منہ چڑا رھے ھیں ، لیکن وہ پنجابی کہاوت آپ نے سن رکھی ھو شاید جس کے مطابق ’ شرمندے ‘ کا مقام نازک پر پودا اگ آئے تو وہ اس کی چھاوں میں بیٹھنے کا اعلان کرتا ھے

  • 18-04-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    adnaan bhai chaa gaya tusii 🙂

  • 19-04-2016 at 12:58 am
    Permalink

    اُف۔ کیا ظلم ڈھا دیا ھے، اندھیرے میں چراغ جلا دیا ھے۔۔قوم نے بڑی مشکل سے سورج کو بجھایا تھا، عدنان صاحب
    اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
    میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
    احکام ترے حق ہیں ،مگر اپنے مفسر
    تاویل سے قرآں کو بنا سکتے ہیں پازند (علامہ اقبال)

  • 19-04-2016 at 11:47 am
    Permalink

    boht ala

  • 19-04-2016 at 1:38 pm
    Permalink

    بہت عمدگی سے ممکنہ حالات کی طرف اشارہ کیا- ہم لوگوں کا سب سے بڑا نفسیاتی مسٰلہ دوسرے ملکوں میں لبرل اور سیکولر حکومت ہونا اور اپنے ملک میں حکومت کا اکثریتی مذہب کے تابع ہونا ہے-

Comments are closed.