فیض آباد دھرنا کیس: ’پاکستان کسی فوجی نے نہیں بنایا‘


پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کسی فوجی نے نہیں بنایا بلکہ لوگوں کی جدوجہد سے بنا ہے جس میں ’ہمارے پیاروں کا لہو‘ بھی شامل ہے۔

بدھ کو فیض آباد دھرنے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کا کہنا تھا کہ ’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی عوام کو طاقت کے ذریعے دباؤ میں رکھیں گے تو یہ اُن کی غلط فہمی ہے‘۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بینچ میں شامل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزارت دفاع کے اہلکار کرنل فلک ناز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے دھرنے سے متعلق نئی رپورٹ جمع کیوں نہیں کروائی جس کا جواب دیتے ہوئے وزارت دفاع کے اہلکار کا کہنا تھا کہ عدالت نے دوسری رپورٹ کے بارے میں نہیں کہا۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب اس بارے میں پہلی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ دوسری رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزارت دفاع کے اہلکار سے استفسار کیا کہ دھرنے کے شرکا کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا کہ اُن کو مالی معاونت کہاں سے ملتی تھی جس پر کرنل فلک ناز کا کہنا تھا کہ چونکہ دھرنا دینے والوں کا تعلق ایک مذہبی جماعت سے ہے اس لیے ان کے فرقے سے تعلق رکھنے والے مدارس سے اُنھیں امداد ملتی رہی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان افراد کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے جو ان کو وسائل فراہم کرتے رہے ہیں ورنہ دھرنا دینے والے کوئی خاندانی رئیس نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اگر چند لوگ طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید ریمارکس دیے کہ فیض آباد پر دھرنا دینے والوں نے اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی بلکہ ان کے اس اقدام سے لوگ اسلام سے متنفر ہو رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’دھرنا دینے والی جماعت کے سربراہ خادم حسین رضوی نے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو گالیاں دیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی‘۔

اسلام آباد دھرنا

عدالت نے آئندہ سماعت پر وزارت دفاع کے سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل ضمیر الحسن شاہ اور اٹارنی جنرل کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

سماعت کے دوران نجی ٹی وی چینلز جیو اور ڈان کے نمائندوں نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے چینل فوجی علاقوں یعنی کینٹونمنٹ میں نہیں دکھائے جا رہے جس پر عدالت نے پیمرا کے نمائندے کو طلب کیا تو اُنھوں نے اس کی تصدیق کی کہ اُن کو اس طرح کی شکایات ملی ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر ملک کو سکیورٹی سٹیٹ بنانا چاہتے ہیں تو بھی بتا دیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ میڈیا مارشل لا کے دور میں آزاد تھا نہ اب ہے۔ اس از خود نوٹس کی سماعت دس روز کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4845 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp