شتر مرغ شتر مرغ ہوتا ہے اور گدھے؟


 hashir ibne irshadمجھے ذاتی طور پر پنیر پسند نہیں ہے۔ میرے گھر والے، میرے عزیز اور میرے دوست یہ بات سمجھنے سے مکمل قاصر ہیں کہ کوئی پنیر کو کیسے ناپسند کر سکتا ہے۔ ان کی اکثریت اس ضمن میں مجھے قابل رحم سمجھتی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ ان کے خیال میں پنیر نہ کھانے والا شخص محض کفران نعمت کا ہی مرتکب نہیں ہوتا بلکہ وہ  فوری دماغی معائنے کا بھی مستحق ٹھہرتا ہے۔ ظاہر ہے میں ان کے تجزیے سے اتفاق نہیں کرتا۔ تاہم پنیر سے میری بے رغبتی کھانے کی حد تک تو ہے مگر اس کی رنگا رنگی اور تنوع مجھے انتہائی شگفت انگیز لگتی ہے۔ کسی بھی اچھی سپر مارکیٹ کے سرد خانے میں سجی پنیر کی سینکڑوں اقسام آپ کو مسحور کرنے کے لئے کافی ہیں۔ یاران ذوق آپ کو بتاتے ہیں کہ کون سا پنیر کس لئے ہوتا ہے۔ کونسا کس پکوان کی زینت بنتا ہے۔ کونسا کس تقریب کے لئے مناسب ٹھہرتا ہے۔ کون سا پنیر مجھ جیسا خرید سکتا ہے اور کون سا صرف شاہان زمانہ کےلئے ڈھلا ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ہر پنیر ملک ما ست نہیں ہوتا۔

یورپی ممالک پنیر کی پیداوار کے لئے مشہور ہیں۔ ناروے کا ایک مشہور پنیر یارلسبرگ کہلاتا ہے۔  کچھ برس گزرے کہ یارلسبرگ نے یہ بتانے کے لئے کہ وہ کیوں خاص الخاص ہیں ایک تشہیری مہم بنائی۔ اس کا ایک اشتہار انتہائی دلچسپ ہے۔

اشتہار کا عنوان ہے ” صحیح شریک حیات کا انتخاب کیسے کیا جائے”

آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ  ایک نوجوان لڑکا ایک لڑکی سے ملنے صبح کے وقت اس کے گھر پہنچتا ہے۔ بادی النظر میں دونوں گرفتار محبت ہیں اور جلد ہی ایک سنجیدہ بندھن کے متمنی۔ لڑکی اپنے محبوب کو ناشتے کی پیشکش کرتی ہے۔ دونوں میز پر بیٹھتے ہیں۔

headinsandلڑکا پوچھتا ہے ” کیا یارلسبرگ مل سکتا ہے “

لڑکی کندھے اچکا کر اس کی طرف ایک پلیٹ سرکاتی ہے اور کہتی  ہے ” یہ ہے پنیر”

لڑکا تھوڑا سا پریشان ہو کر پوچھتا ہے ” پر یارلسبرگ نہیں ہے “

لڑکی اسلم رئیسانی کی سی بے نیازی سے کہتی ہے ” پنیر تو پنیر ہوتا ہے “

اس پر لڑکا دم بخود رہ جاتا ہے۔ کیمرہ اس کی آنکھوں پر ٹھہرتا ہے جہاں اسے اپنا ازدواجی مستقبل کچھ یوں نظر آتا ہے۔

میاں بیوی اکٹھے بیٹھے ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہیں۔ میاں ایک منظر کے کلائمکس میں گم ہے کہ بیوی اچانک چینل بدل دیتی ہے اور میاں کے ہڑبڑا نے پر اسی بے نیازی سے کہتی ہے ” تفریح تو تفریح ہوتی ہے “

اگلا منظر ہسپتال کا ہے۔ یاد رکھئے کہ یہ جوڑا سفید فام ہے۔  میاں بھاگا بھاگا لیبر روم میں داخل ہوتا ہے اور بیوی کی گود میں ایک سیاہ فام بچہ دیکھ کر بے ہوش ہوتے ہوتے بچتا ہے۔ بیوی بچہ اس کی ظرف بڑھاتی ہے اور کہتی ہے ” باپ تو  باپ ہوتا ہے”

Nawaz-Sharifایک جنازے میں بیوی آخر میں انتہائی شوخ سرخ لباس زیب تن کئے پہنچتی ہے اور تنقیدی نگاہوں کے جواب میں بس ایک جملہ ” لباس تو لباس ہوتا ہے”

اسی طرح کے کچھ اور مناظر اور پھر آخری منظر میں ایک نرس میاں کو دھکیل کر ایک نفسیاتی علاج گھر کے وارڈ میں بند کرتی نظر آتی ہے۔  سلاخوں کے پیچھے سے فریادی میاں اپنی بیوی کو آواز دیتا ہے اور بیوی ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دور سے ہی چلا کر آواز دیتی ہے ” گھر تو گھر ہوتا ہے”

منظر حال میں واپس آتا ہے اور لڑکا بوکھلا کر ناشتے کی میز سے آٹھتا ہے اور دونوں ہاتھوں سے لڑکی کو ایک محتاط فاصلے سے نہ نہ کرتے ہوئے کمرے سے راہ فرار اختیار کرتا ہے اور اسکرین پر ٹیگ لائن نمودار ہوتی ہے

” صرف یارلسبرگ ہی  یارلسبرگ ہوتا ہے “

چونکہ میں کبھی وزیر اعلیٰ  نہیں رہا اس لئے مجھے اس آخری فقرے سے صد فیصد اتفاق ہے اور اسی طرز اور لے میں جلسوں اور پریس کانفرنسوں اور ٹیلی ویژن اسکرین پر کئے گئے بوسیدہ دعووں کے تناظر  میں خاکم بدھن کچھ حق جملے آپ کی نذر ہیں

  • جیل گزارنے والا ہر شخص نیلسن منڈیلا نہیں ہوتا۔ صرف منڈیلا ہی منڈیلا ہوتا ہے
  • مسلم لیگ کا صدر صدر تو ہوتا ہے۔ قائد اعظم یا قائد اعظم ثانی نہیں ہوتا
  • habib+jalib+main+nahe+mantaلاہور لاہور ہوتا ہے اور پیرس پیرس ہوتا ہے اور ہاں استنبول استنبول ہوتا ہے
  • صرف شیر ہی شیر ہوتا ہے۔ تاہم بقول ابن انشاء کے اپنی گلی میں کتا شیر ہوتا ہے بالکل ویسے ہی جیسے دوسرے کی گلی میں شیر کتا ہو سکتا ہے
  • مرد حر مرد حر ہوتا ہے پر صرف حسین کے لشکر میں
  • وزیراعظم وزیراعظم تو ہوتا ہے پر چرچل چرچل ہی ہوتا ہے اور ٹروڈو ٹروڈو ہی ہوتا ہے اور ایک تاجر تاجر ہی ہوتا ہے
  • کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی پانی سے پیدا ہونے والی بجلی نہیں ہوتی۔ تاہم ماحولیاتی تباہی ماحولیاتی تباہی ہی ہوتی ہے
  • ہر محافظ محافظ نہیں ہوتا۔ اس کی تشریح آپ اپنی مرضی سے کر سکتے ہیں ۔ ضروری نہیں ہر بات کا مطلب وہی ہو جو آپ سمجھیں
  • IKآپریشن آپریشن ہوتا ہے پر دماغی ناسور کا علاج کمر اور گھٹنے کی سرجری سے کریں تو پھر وہی ہوتا ہے جو ہو رہا ہے
  • مذہب مذہب ہوتا ہے۔ پر کوئی مسئلہ ہوجائے تو پھر مذہب دین ہوتا ہے۔اور میرا مذہب میرا مذہب ہوتا ہے اور اگر میں اسلامی نظریاتی کونسل میں ہوں تو تمہارا مذہب بھی  وہی ہو گا جو میرا مذہب ہوتا ہے۔ ورنہ خبر رہے کہ توہین توہین ہوتی ہے پر بیٹاجی، توہین مذہب توہین مذہب ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   تاہم اس سارے قضیے سے پرے  انسانیت  انسانیت ہی ہوتی ہے
  • اسلامسٹ اسلامسٹ ہوتے ہیں، قدامت پسند قدامت پسند ہوتے ہیں۔ سوشلسٹ سوشلسٹ ہوتے ہیں  پر لبرل فاشسٹ ہوتے ہیں اور ہاں دیسی بھی ہوتے ہیں
  • صدر صدر ہوتا ہے۔ زندہ ہو یا مردہ
  • ڈیفنس ڈیفنس ہوتا ہے اور بحریہ ٹاؤن بحریہ ٹاؤن ہوتا ہے۔ لوگ چاہے جو مرضی کہیں
  • 1386580826_mandدہشت گرد دہشت گرد ہوتا ہے اور ہر گز مسلمان نہیں ہوتا چاہے مسلمان ہو بھی۔ اب اس جلیبی سے آپ اپنا نظریہ خود نکال لیں
  • “میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا ” انقلابی مصرعہ ہوتا ہے اور “میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا ” ڈھٹائی کا اعلان ہوتا ہے۔ دیکھنا بس یہ
    ہے کہ کہہ کون رہا ہے
  • نیا پاکستان نیا پاکستان ہوتا ہے بے شک کہیں نہ ہو
  • ڈرائی کلیننگ پلانٹ ڈرائی کلیننگ پلانٹ ہوتا ہے۔ پاک سرزمین پر لگے یا انصاف کے کارخانے میں۔ لیکن یاد رہے کہ سارے واشنگ پاوڈر ایک سے نہیں ہوتے
  • جج جج ہوتا ہے چاہے اس کی آف شور کمپنی ہو۔ چاہے وہ وزیرں سے احکام لے یا چاہے اس کی بیوی استعفی دے یا نہ دے۔ حاضر جج لاکھ کا ہوتا ہے تاہم ریٹائرڈ جج کی قیمت کا تعین بلحاظ کمیشن ہوتا ہے
  • حقوق نسواں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرے سے نہیں ہوتے۔۔۔۔۔ ورنہ اسلام خطرے میں پڑ جاتا ہے
  • عوام عوام ہوتی ہے پر آئس لینڈ، برطانیہ اور برازیل کے عوام وہاں کے عوام ہوتے ہیں اور پاکستان کے عوام پاکستان کے عوام ہوتے il_fullxfull.672499174_9mt8ہیں۔ اور احساس احساس ہوتا ہے اور بے حسی بے حسی ہوتی ہے۔ شترمرغ شتر مرغ ہوتا ہے اور شتر غمزے شتر غمزے ہوتے ہیں
  • گدھے گدھے ہی ہوتے ہیں چاہے دس کروڑ ہوں یا بیس کروڑ
  • اور میرے جیسا استاد استاد ہی ہوتا ہے بے شک بعد میں عقل کی باتیں شروع کر دے۔

Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “شتر مرغ شتر مرغ ہوتا ہے اور گدھے؟

  • 19-04-2016 at 2:49 am
    Permalink

    پُر مغز تحریر

Comments are closed.