بہشتی دروازہ اور منی بس


ali arqamصبح صبح مسافروں سے کھچاکچ بھری ہوئی منی بس میں سفر کے وقت بادلِ نخواستہ شرعی طریقے سے پائنچے پنڈلیوں تک اٹھا لینے پڑتے ہیں کیوں کہ سیٹوں کے بیچ ایک دوسرے کی جانب پشت کئے دو لائنوں میں کھڑے ہوں اور کھوے سے کھوا چِھل رہا ہو ، ایسے میں کنڈکٹر کو بیچ سے گزرنے پر اصرار ہو یا کسی مسافر کوخواتین کے لئے مخصوص حصے میں لگے ’بہشتی دروازہ‘ سے گزرنے کا شوق ہو تووہ رویہ قطار میں کھڑے لوگوں کو دھکیلتے ہوئے نیچے کچھ نظر آئے بغیر آگے قدم لیتا جاتا ہے کہ پاوں نیچے جگہ بنا ہی لیں گے بھلے کسی اورکے پیروں پر پڑیں یا پائنچوں سے لگیں انہیں کیا پرواہ۔اور جب پہلے سے بھری ہوئی بس میں نیا مسافر سوار ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ بس کے پائیدان میں کھڑے مسافر کو ملتجی نظروں سے دیکھتے ہوئے ساتھ میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ بھائی صرف ایک پاو¿ں ٹکانے کی ہی جگہ دے دو۔ جیسے یہ اس کے اختیار میں ہو۔ ہر نیا سوار ہونے والا مسافر اس کوشش میں ہوتا ہے کہ بس کا کوئی ایسا حصہ گرفت میں آجائے جسے وہ تھام کے لٹک سکے۔

اس بے تابی کا مشاہدہ دروازوں پر زیادہ نمایاں ہوتا ہے جب پاو¿ں کی جگہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آدھ درجن افراد دروازے اور سیڑھی سے چمٹتے جاتے ہیں اوران کے بیچ ا±ترنے والوں کو راستہ نہیں سجھائی دے رہا ہوتا کیوں کہ پائیدان اور دروازے کی ہینڈل سے لٹکے افراد بس سے نیچے قدم رکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہر کوئی بس کے آہنی حصوں سے توانائی کشید کررہا ہو اور پائیدان یا ہینڈل چھوٹ جانے سے وہ پلگ آف ہوجائے گا۔

buses-karachi_754650جہاں سے آپ بس میں سوار ہوں اگر وہ اڈّے کے قریب ہو تو بس رینگنے کے سے انداز میں چلی جارہی ہوگی اور مسافر بس کے کسی بھی بجائے جانے اور کرخت آواز پیدا کئے جانے کے قابل حصّے پرہاتھ برسانا شروع کردیں گے، اب اگر ڈرائیور کے مزاج میں خاکساری ہو تو وہ التجائیہ انداز میں درخواست کرے گا ورنہ دوسری صورت میں وہ یا تو بے نیازی سے ا±سی انداز میں گاڑی چلاتا جائے گا یا طیش میں آکر مسافروں سے الجھ پڑے گا اور پھر جوں ہی ٹوکن پوائنٹ قریب آئے گا تو بس والا موت کے کنویں کے اسٹنٹ مین کی طرح بس کو اس طرح دوڑائے گا کہ پچھلی سیٹوں پر بیٹھے مسافر وں کے سر مسلسل اچھلنے کے باعث چھت سے لگ رہے ہوں گے اور کچھ مسافر منہ بھر بھر کے ڈرائیور کو گالیاں دیں گے ایسے میں ’پولیٹیکلی کریکٹ‘ بیانئے کا مارا کوئی مسافر ہو تو وہ پورے سیاسی بندوبست کو ذمّہ دار ٹھہرائے گا اورکوئی انقلابی ہو تو وہ سماج کی ساخت و پرداخت پر ہی سوالات کھڑے کردینا اور اس کے بخیے ادھیڑنا شروع کردے گا۔ اس دوران بس میں سوار ہونے اور اترنے کے لئے بھی انتہادرجے کی مہارت درکار ہے ، جو آتے آتے آئے گی۔

An overloaded Pakistani minibus drives along a busy street during a transport strike in Karachi on July 14, 2009. Public transport operators in this southern port city, regarded as the South Asian country's financial capital, observed a day's strike to protest against the recent increase in oil prices up to 20 percent. AFP PHOTO/Rizwan TABASSUM

اگر آپ بس میں کھڑے ہوکر سفر کررہے ہیں تو اردگرد دھیان دینے کے بجائے سیٹ پر بیٹھے ، کسمساتے یا پہلو بدلتے مسافروں پرنظر رکھیں اورخالی ہوتی سیٹ پر جھپٹنے کے لئے ہر دم تیار رہیں کہ اس نفسانفسی کے عالم میں منصفانہ برتاو¿ کی توقع میں آپ سیٹ کے حصول سے محروم ہی رہیں گے۔ جب تک کھڑے ہیں اس وقت تک اپنے جسم کے دیگر مسافروں سے مس ہوتے حصّوں کے بارے میں کسی حسّاسیت کا شکار نہ ہی ہوں ویسے بھی ایمان اور آبرو سے بڑھ کر یہاں جیب کی فکر لازم ہے کہ جب حشر کا میدان سجا ہو تو پردہ داری کے تقاضے ویسے بھی ساقط ہوجاتے ہیں۔

بزرگوں سے سنا ہے کہ میدان حشر میں بھی اولاد آدم مادر زاد برہنہ ہوگی بس حالات کی سختی انہیں ادھر ا±دھر نظر دوڑانے کی مہلت نہ دے گی۔ خدا جانے کہ اس رائے کو درجہ استناد حاصل ہے کہ نہیں لیکن مستند و ضعیف کی بحث تلقین و تزکیہ اور بصائر وعبر کے عنوان سے قایم ابواب میں ویسے بھی نہیں چھیڑی جاتی، اس کے لئے تو جواز و استحباب یا عدم جواز اور کراہت کا باب مخصوص ہے ، اس سے بھی گریز مقصود ہے تو کچھ بھی کرئیے بس اظہار میں احتیاط برتیں کہ یہاں اعمال سے زیادہ تعزیریں اظہار پر قائم ہیں۔

بہر طور منی بس میں اور میدان حشر میں ایک مماثلت اور بھی ہے کہ قلب بڑے رقیق ہوجاتے ہیں اسی لئے تو بھانت بھانت کے بھکاری اور چندہ مانگنے والے چڑھ دوڑتے ہیں اور مسافروں سے کچھ نہ کچھ بٹور ہی لیتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اس دان میں ترس سے زیادہ ان کی مسلسل التجا، بے سری نعت خوانی اور رٹی رٹائی اور دسیوں بار دہرائی ہوئی تقریر کا بھی ہوتا ہے ، رہ گیا مسجد کا چندہ تو وہ تو جہاد کشمیر اور افغانستان کی طرح تاقیامت جاری رہے گا، کہ اسلام ہمیشہ خطرے میں اور مدرسہ ہمیشہ زیر تعمیر رہتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بہشتی دروازہ اور منی بس

  • 18-01-2016 at 4:29 pm
    Permalink

    آپ کی تحریر پڑھ کر لسبیلہ چورنگی سے روزانہ (ہفتے کے پانچ دن) کلفٹن کے علاقے دو تلوار تک جانے کی یادیں تازہ ہو گئیں۔ مضمون میں شامل تصویر بھی “خان کوچ” کی ہے، جس پر ہم پانچ سالوں میں نہ جانے کتنی بار چڑھ اور لٹک چکے ہیں۔

    رات کو دس یا ساڑھے دس بجے ذیبیسٹ سے “شام کی کلاس” لینے کے بعد لوٹنا ہمیشہ یادآتا ہے۔ بس میں جگہ ہو بھی تو کنڈیکٹر سے ساز باز کر کے ہم چھت پر چڑھ جاتے تھے۔ مائی کولاچی روڑ سے گزرتے ہوے سمندر سے اُٹھنے والے ہوا کے جھونکے چیرے اور جسم پر محسوس کر کے جو خوشی ںصیب ہوتی تھی اسے بیان کرنا مشکل ہے۔

    صبح کی ہیجان خیزی اور بس میں چڑھنے اور جگہ بنانے کے لئے روز کی ماراماری عموما رات کو خان کوچ کی چھت پر واپسی کی تاثیر سے میں جلد ہی بھول جاتا تھا۔

  • 20-01-2016 at 1:40 pm
    Permalink

    Fron the begining narrative was of a Pakistan but at as it is approached towards conclusion it turned into anti state even anti birth of Pakistan because who so ever talk about bad about the army by spinning the statement could be friend of anyone but not of the Pakistan,however we can say because there is lot of it also.I can say just one word Allah Pakistan Ki Hifazat Farma

Comments are closed.