طالبان کے ساتھ پاکستان کے بدلتے تیور


edit پاکستان نے افغان طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ”آپریشن عمری“ کے نام سے تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ بند کریں اور مذاکرات کے لئے تیار ہو جائیں بصورت دیگر سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ اسلام آباد کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا ہے کہ پاکستان نے چار ملکوں پر مشتمل گروپ کے تحت امن مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے سرتوڑ کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ پندرہ برس سے جاری افغان جنگ کی صورتحال مشکل اور پیچیدہ ہے۔ فریقین اپنی اور مخالف گروہوں کی قوت کے بارے میں غلط فہمیوں کا شکار رہے ہیں، جس کی وجہ سے امریکہ کی خواہش ، افغان حکومت کی سرتوڑ کوششوں اور پاکستان کی طرف سے تعاون کے اعلانات کے باوجود مذاکرات اور افغانستان میں پائیدار امن کی بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے۔ پاکستان گزشتہ برس جولائی میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ لیکن پہلے اجلاس کے بعد ملا عمر کے انتقال کی خبر عام کر دی گئی۔ اس کے نتیجے میں مذاکرات کا یہ عمل ادھورا رہ گیا تھا۔

اس کے بعد سے طالبان مسلسل قوت حاصل کرتے رہے ہیں اور انہوں نے باہمی جھگڑے اور قیادت کے سوال پر اختلافات پر قابو پانے کے نقطہ نظر سے مذاکرات سے مسلسل انکار کیا ہے۔ یہ صورتحال اب بھی کسی نہ کسی حد تک موجود ہے۔ لیکن اس دوران پاکستان نے افغانستان ، چین اور امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں قیام امن کے لئے کوششوں کا آغاز کیا تھا۔ چہار ملکی نمائندوں کے کئی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں تاہم طالبان کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لئے پاکستان کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ اسے افغان طالبان پر مکمل رسوخ حاصل نہیں ہے اور وہ اپنے معاملات میں آزاد ہیں۔ اس موقف کو بیرونی ممالک اور افغانستان مسترد کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مدد کے بغیر طالبان افغانستان میں اتحادی افواج کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔ اس بیان میں کچھ سچائی ضرور ہو سکتی ہے۔ کیونکہ حقانی نیٹ ورک نے شمالی وزیرستان کو طویل عرصہ تک اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہوا تھا۔ اس گروہ سے متعلق لوگ یا افغانستان میں اتحادی فوجوں کے خلاف سرگرم دوسرے عناصر حقانی نیٹ ورک یا شمالی وزیرستان کے دوسرے باغی گروہوں کے تعاون سے افغان و اتحادی افواج کی جوابی کارروائی سے محفوظ رہتے تھے۔ یعنی دہشت گرد افعانستان میں کارروائی کرنے کے بعد فرار ہو کر شمالی وزیرستان میں اپنی پناہ گاہوں میں پہنچ جاتے اور اتحادی افواج کی دسترس سے باہر نکل جاتے۔

امریکہ کئی برس تک اس سوال پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا کر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا  رہا ہے۔ اس دوران 2007 میں سوات آپریشن کے بعد  پاک فوج کی کارروائیوں سے بچنے کے لئے پاکستانی طالبان نے بھی افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پناہ لینا شروع کر دی۔ افغان حکومت یہ کہہ کر ان کے خلاف کارروائی سے انکار کرتی ہے کہ یہ علاقے اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔ دوسری طرف تحریک طالبان کے بھگوڑے عناصر نے افغانستان میں چین سے بیٹھنے کی بجائے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ دسمبر 2014 میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر المناک حملہ کے بعد پاک فوج نے ملک میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کا عزم کیا ہوا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے شمالی وزیرستان سمیت متعدد قبائلی علاقوں میں دہشت گرد گروہوں کے لئے زمین تنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف حصوں میں کارروائی کرتے ہوئے طالبان کے حامی نیٹ ورک توڑنے میں بھی کامیابیاں حاصل کی گئی ہے۔

افغان حکومت بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اختلافات کا شکار رہی ہے۔ صدر اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ تعاون کی حکمت عملی اختیار کی تو کابل میں ان کے لئے مشکلات پیدا کی گئیں اور جب اشرف غنی کے جذبہ خیر سگالی سے متاثر ہو کر پاکستان نے طالبان کو گزشتہ برس مذاکرات کا آغاز کرنے پر مجبور کیا تو ملا عمر کے انتقال کی خبر عام کر کے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ تاہم اس دوران کابل میں پاکستان دشمن اور بھارت نواز عناصر کو بھی اندازہ ہو گیا ہے کہ وہ مذاکرات کا راستہ روک کر پاکستان سے زیادہ افغانستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے ہیں۔ ملا عمر کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد قیادت کے کئی امیدوار سامنے آ گئے اور خود کو زیادہ سخت جان ثابت کرنے کے لئے ایک دوسرے سے بڑھ کر دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا۔ لیکن طالبان کی قیادت یہ محسوس کرنے لگی ہے کہ وہ جنگ اور دہشت گردی کے ذریعے اپنے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کر سکتی۔ اگرچہ اس وقت ملک کے نصف حصے پر طالبان کا براہ راست یا باالواسطہ کنٹرول موجود ہے اور افغان فوج میں بھی طالبان کی حمایت پائی جاتی ہے۔ اکثر یہ اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں کہ افغان فوجی طالبان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ لیکن امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں طالبان کو تن تنہا کابل پر حکومت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتیں۔

یہ بات بھی طے ہے کہ افغان طالبان کے بعض عناصر کے ساتھ پاکستان کی ہمدردی کے باوجود افغانستان میں مزاحمت کی پوری تحریک صرف پاکستانی انٹیلی جنس یا فوجی اعانت کی وجہ سے منظم نہیں ہوئی۔ طالبان کو افغان شہریوں کی قابل ذکر تعداد کی حمایت حاصل ہے اور پاکستان کی مدد کے بغیر بھی افغان طالبان ایک مضبوط عسکری قوت کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن پاکستانی فوج کی طرف سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف غیر مشروط جنگ کے اعلان اور قبائلی علاقوں میں پاکستانی حکومت کا اختیار بحال کرنے کے بعد طالبان کے لئے حالات ضرور تنگ ہوئے ہیں۔ افغان طالبان اسمگلنگ اور اہم لوگوں کو اغوا کر کے وسائل حاصل کرنے کے لئے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہ راستے اب مسدود ہو چکے ہیں۔ پاکستان نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ بعض افغان انتہا پسند گروہ تحریک طالبان پاکستان کی سرپرستی کرتے ہیں جو افواج پاکستان کے مقاصد کو براہ راست ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ خیبر پختونخوا پولیس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ افغان طالبان پشاور اور صوبے میں اغوا اور بھتہ وصول کرنے کے جرائم میں ملوث ہیں۔ اس طرح پاکستانی افواج کے علاوہ پاکستانی معاشرے میں موجود طالبان کے حامیوں کو بھی خاموشی اختیار کرنا پڑی ہے یا دفاعی پوزیشن پر جانا پڑا ہے۔

پاک فوج نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو کامیاب بنانے کا عزم بھی کیا ہوا ہے۔ یہ خطیر سرمایہ کاری ملک میں امن بحال کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں امن کا حصول اب افغانستان میں امن سے مشروط ہو چکا ہے کیونکہ پاکستان سے ملحقہ علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کو اس وقت تک ناکارہ بنانا ممکن نہیں ہو گا جب تک افغانستان میں امن کی امید پیدا نہ ہو اور طالبان مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے طویل جنگ کا سلسلہ بند نہ کر دیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کو اپنی اسٹریٹجک قوت سمجھتا رہا ہے۔ لیکن بھارت کی خفیہ ایجنسی نے افغان عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے پر تیار کر لیا ہے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ بھارتی ایجنسی ”را“ افغانستان کے علاوہ ایران میں بھی اپنے پاﺅں جما چکی ہے اور اس کی سرگرمیوں کا محور پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے۔ ان حالات میں فی الوقت بھارت کے ساتھ پائیدار امن کی کوششیں کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتیں۔ اس لئے یہ بات قابل فہم ہے کہ پاکستان کو کم از کم افغانستان کی طرف سے مکمل تحفظ کے لئے کام کرنا ہو گا۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اب یہ مقصد طالبان کو جنگ پر آمادہ کر کے نہیں بلکہ امن کے لئے قائل کر کے ہی حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس منصوبے میں چین کی خواہش اور دباﺅ بھی شامل ہو گا۔

ادھر افغان طالبان قوت حاصل کرنے کے باوجود ملکی معاملات میں بے اثر ہیں اور مسلسل افغان افواج اور ان کے اتحادیوں کے نشانے پر ہیں۔ اسی لئے اگرچہ افغان طالبان بظاہر مذاکرات سے انکار کرتے ہیں لیکن وہ امن کے لئے بات چیت شروع کرنے کے اشارے بھی دیتے رہے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کی حراست سے طالبان کے قیدیوں کی رہائی اور اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ سے طالبان کا نام ہٹانے کا مطالبہ ، افغان طالبان کی اسی خواہش کا پرتو ہے۔ تاہم درپردہ ضرور یہ بات طالبان تک پہنچا دی گئی ہو گی کہ اگر وہ یہ مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں مذاکرات کے لئے رضا مند ہونا پڑے گا۔ مذاکرات کی کوشش کرنے والا چہار ملکی گروپ یقینا کچھ مراعات دینے پر تیار ہو گا۔ صدر اشرف غنی طالبان کو سیاسی حصہ دینے کی بات کرتے رہے ہیں۔ لیکن یہ فوائد حاصل کرنے کے لئے افغان طالبان کو بھی کچھ مراعات دینا ہوں گی۔ ان میں دہشت گردی کا خاتمہ اور مذاکرات کا آغاز بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکی بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے طالبان لیڈروں کو پاکستانی افواج کے عزم کا اندازہ ہو گا اور انہیں سمجھنا پڑے گا کہ اگر انہوں نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو پاکستان نے جس طرح طویل عرصہ تک سہولتیں فراہم کی ہیں، اسی طرح تصادم کی صورت میں طالبان کی مشکلات میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ طالبان کو دی گئی وارننگ سے یہ اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ جی ایچ کیو اب بھارت کے مقابلے میں افغانستان کو اسٹریٹجک ڈیپتھ قرار دینے کی ڈاکٹرائن کو تبدیل کر رہا ہے۔ اگر یہ بات درست ثابت ہوئی اور افغان طالبان کو یہ پیغام پہنچا دیا گیا تو ان کے لئے پاکستان جیسے ساتھی کے بغیر جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔ اس وقت اگرچہ طالبان نواز تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ ناقص اور فرسودہ حکمت عملی کی وجہ سے طالبان کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن پاکستان کا ٹھوس اشارہ اس رویہ کو قلیل مدت میں تبدیل کرنے کی قوت رکھتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “طالبان کے ساتھ پاکستان کے بدلتے تیور

  • 19-04-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    میں نہیں سمجھتا کہ افغانستان کی پوری حکومت کے دعویدار طالبان اشرف غنی سے چند وزارتیں یا حکومت میں حصہ لے کر اپنی برسوں کی لڑی جانے والی جنگ چھوڑ دیں گے ۔ انہیں اپنی منزل بہت قریب نظر آرہی ہے اس لیے یہ کہنا شاید غلط ہو کہ وہ مذاکرات کرنے پر اس قدر جلد راضی ہوجائیں گے ۔ اور ویسے بھی وہ بار بار یہی کہتے ہیں کہ امریکا افغانستان سے مکمل طورپر نکل جائے تب ہم مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے ۔

Comments are closed.