رائیٹ ونگ کے نوجوان لکھاریوں کو گیارہ مشورے


aamir hashimپچھلے چند ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر رائیٹ ونگ سے تعلق رکھنے والے کئی نوجوان لکھنے کے حوالے سے متحرک ہوئے ہیں۔ اگلے روز ایک دوست نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چلو اج کل دے منڈے فیس بک پر ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کرنے کے بجائے کسی مثبت ، تعمیری کام سے لگ گئے ہیں۔ مجھے زیادہ خوشی اس کی ہے کہ نوجوان کتابیں پڑھنے، سوچنے اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کی طرف مائل ہوئے ہیں، جو ہمارے سماج کے لئے بڑی خوش آئند بات ہے۔ اس سب کے پیچھے محرک قوت تو محترم وجاہت مسعود اور ان کی ہم خیال دوستوں کی جانب سے شروع کردہ مکالمہ نما یدھ یا یدھ نما مکالمہ ہے ۔ اس نے وہی کام کیا جو ساٹھ کے عشرے کے اواخر اور خاص کر ستر کے عشرے کے اوائل میں ترقی پسندوں کی جانب سے آنے والی یلغار سے ہوا تھا۔ اس نے دائیں بازو کے مذہبی سوچ رکھنے والے نوجوان میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ انہیں اپنی نظریاتی شناخت خطرے میں نظر آئی تو وہ کھڑے ہوئےا ور اپنی پوری صلاحیتیں اور قوت نظریاتی ، فکری دفاع میں کھپا دیں۔ اس بارقدرت نے یہ نیک کام جناب وجاہت مسعود اور ان کے فکری ہم سفروں سے لیا۔ میرے دل میں ان کا احترام اس لئے زیادہ ہے کہ ایک نالائق یا اوسط درجے کے فکری حامی سے میرے نزدیک ذہین ، سوچنے سمجھنے پر مجبور کر دینے والا نظریاتی مخالف اہم ہے ۔ سماج میں جمود سے نظریاتی ہلچل پیدا کرنا زیادہ ضروری ہے۔ فکری مکالمہ جاری رہنا چاہیے ۔ کنزیومر ازم کے اس بے رحم، سفاک دور میں بے غرض قلمی جدوجہد کرنے والے مبارک اور تحسین کے مستحق ہیں۔ دلچسپی سے ان نوجوانوں کی تحریریں پڑھ رہا ہوں ، داد دینے میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا، بعض پوسٹیں تو اپنی وال پر بھی شئیر کیں۔ یہ سب سوال جواب بلکہ جواب الجواب پڑھتے ہوئے مجھے یہ محسوس ہوا ہے کہ پرجوش نوجوانوں کو چند ایک مفت کے مشورے دے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ ویسے تو ان سے کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، مگر میں نے اپنے رائیٹ ونگ کے نوجوانوں کو ذہن میں رکھ کر یہ تحریر لکھی ہے تو ممکن ہے دوسروں کے لئے بعض باتیں سودمند نہ ہوں۔ (یاد رہے کہ ان تمام مشوروں کو نظرانداز کرنے کی آپشن بدستور موجود ہے، کسی پر پابندی نہیں، ہر ایک اپنے انداز میں سوچ اور اس کا اظہار کر سکتا ہے ۔ )

 نمبر ایک : اسلامسٹ بمقابلہ سیکولرازم کا معرکہ ٹی ٹوئنٹی میچ ہرگز نہیں، اسے ون ڈے بھی نہیں سمجھنا چاہیے ۔ یہ کرکٹ کی اصطلاح میں ٹیسٹ میچ ہے۔ طویل دورانئیے کا کھیل ۔ جس میں دو تین باتیں اہم ہیں۔

اے: اس میچ نے جلدی ختم نہیں ہوجانا۔ لمبا معرکہ ہوگا۔ یہ قسطوں میں لڑی جانے والی جنگ ہے، باربار غنیم کے لشکر امنڈ امنڈ کر آئیں گے۔ ہر بار تلوار سونت کر لڑنا پڑے گا۔ انداز بدلتے رہیں گے ، سپاہیوں کے چہرے تبدیل ہوں گے گے،مگر اہداف وہی ہیں ۔ جان پہچانے، دیکھے بھالے۔ اس محاذ کا رخ کرنے والے سوچ سمجھ کر میدان میں اتریں۔ نظریاتی جدوجہد بعض اوقات مختلف فیز میں لڑی جاتی ہے۔ ہم سے پہلوں نے اپنے انداز میں یہ معرکہ لڑا۔ اب ہمارے زمانے میں اور ہم سے بعد میں یہی مسائل، مکالمے اور مجادلے چلتے رہیں گے۔

بی : ٹیسٹ میچ میں جلدبازی اور عجلت کے بجائے کھلاڑی کی محنت، تکنیک اور مہارت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ فکری مکالمے میں بھی یہ چیزیں اتنی ہی اہم ہیں۔ اچھی طرح تیاری کر کے ، سوچ سمجھ کر قدم بڑھانا چاہیے۔

سی : بہتر ہو گا کہ لکھنے والے اپنے اپنے کام کا تعین کر لیں۔ جیسے کرکٹ ٹیم میں کسی کا کام بائولنگ، کوئی بلے باز اور ایک وکٹ کیپر ہوتا ہے ۔ ہر ایک کی سپیشلیٹی ہوتی ہے۔ بیانیہ کی جنگ میں مل جل کر بھی کام ہوسکتا ہے ۔ جسے تحقیق میں دلچسپی ہے، وہ حوالہ جات پر محنت کرے اور اس اعتبار سے مواد سامنے لے آئے ، کسی کو سوالات اٹھانے میں مہارت ہے، وہ اس طرف کا رخ کرے، کسی کا ہنر مرصع نثرلکھنا ہے تو وہ اس پر ہی فوکس کرے، مغربی لٹریچر سے رسائی رکھنے والوں کو اس اینگل کو کور کرنا چاہیے ۔

نمبر دو : مکالمہ ہر حال میں نہایت شائستگی سے کرنا چاہیے۔ انکسار، استدلال اور علمی شائستگی تحریر کے بنیادی جوہر ہونے چاہئیں۔ طنز، تضحیک، دشنام اور اختلاف رائے کرنے والے پر لیبل چسپاں کرنے سے ہر صورت گریز کرنا ہوگا۔ رائیٹسٹوں کو یہ سوچ کر لکھنا چاہیے کہ وہ اسلامی مائنڈ سیٹ کے علمبردار ہیں اور ان کے تحریر ہی سے مذہبی سوچ رکھنے والوں کے کردار کو جانچا جائے گا۔ اس لئے اخلاق ، شائستگی اور متانت کا دامن قطعی نہ چھوڑا جائے ۔

 ہر تحریر یہ سوچ کر لکھی جائے کہ ہمارے سرکار، آقا اور محسن عظیم حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر اسے پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردعمل کیا ہوسکتا ہے۔ کوئی ایسا جملہ یا لفظ نہ ہو، جس سے سرکار مدینہ کی منور پیشانی پر کوئی شکن نمودار ہو اور انہیں لگے کہ ان کے امتی، ان کے نام لیوا دین اسلام کی بے توقیری کا باعث بنے۔ کوئی بھی سچا، کھرا رائیٹسٹ صرف اس لئے اس میدان میں اترتا اور اپنے دین، اپنی اخلاقی اقدار اور تصور دین کا دفاع کرتا ہے کہ روز آخرت اس کی یہ کاوش قبول ہو اور بخشش کا باعث بنے۔ اس لئے تحریر کا معیار بھی ویسا ہی کڑا اور سخت ہونا چاہیے ۔ بد تمیزوں، بد اخلاق، عامیانہ گفتگو کرنے والوں، پست الفاظ استعمال کرنے کے عادی لوگوں کی یہاں کوئی جگہ نہیں۔ رائٹسٹوں، اسلامسٹوں کو ایسے تمام لوگوں سے خود کو دور کرلینا چاہیے ، ان سے اعلان لاتعلقی کر لینا ہی زیادہ بہتر اور مناسب ہے۔ گھیٹا دفاع سے دفاع نہ کرنا افضل ہے۔

نمبر تین : یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مایوس ہونے یا ہمت ہار دینے کی کوئی وجہ نہیں۔ اسلامسٹوں کی جدوجہد اور نوعیت کی ہے۔ پاکستان میں اللہ کے فضل سے اسلامسٹوں نے بہت اہم آئینی جنگیں جیتی ہوئی ہیں۔ دستور پاکستان سے قرار داد مقاصد یا ملک سے اسلامی لفظ ہٹانا، یا پھر توہین رسالت قانون میں ترمیم وغیرہ ، یہ سب سیکولرسٹوں کا ایجنڈا ہے، مایوسی اور فرسٹریشن ہر بار انہی کے حصے میں آتی ہے۔ ریاست کو سیکولر بنانے کا خواب وہی دیکھ رہے ہیں،اس کی فکر بھی انہیں ہی ہونی چاہیے۔ رائیٹ ونگ نے تو جو کچھ حاصل کرنا تھا بڑی حد تک کر لیا، اب فوکس آئین پر عملدرآمد کرنے اور اسلامی معاشرے کے قیام پر کرنا چاہیے ۔ دعوت، تعلیم ، تربیت کا جوکام انفرادی، گروہی یا جماعتوں کی حد تک ہوسکتا ہے، وہ کیا جائے، حکومت میں آ کر ریاستی وسائل کی مدد سے کچھ کرنے کے مواقع جب ملیں تو ایسا کیا جائے ، نہ مل سکیں تو کم از کم پریشر گروپس کا کردار ادا کرتے رہنا ہوگا۔

 نمبر چار : ممکن ہے پوائنٹ نمبر تین پڑھ کر کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ ایسی صورت میں پھر اتنی محنت کی ضرورت کیا ہے؟ سادہ جواب یہ ہے کہ اسلامسٹوں کو اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے جوابی بیانیہ تشکیل دینا پڑتا ہے اور رہے گا۔ سیکولروں کے سوالات کے جواب دینا اس لئے ضروری ہے کہ اسلامی طرز فکرکو دلوں میں بسانے، دماغ میں اتارنے کے لئے استدلال ہی واحد ذریعہ ہے۔ نئی نسل تک اپنی بات دلیل کے ساتھ پہنچانی ہے۔ ان کے ذہنوں میں موجود الجھنیں کھولنی، سلجھانی اور مذہب کے خلاف پروپیگنڈے کا توڑ کرنا ضروری ہے۔ بہت سے مذہبی گھرانوں کے بچے ردعمل میں دوسری طرف اس لئے چلے جاتے ہیں کہ ان کے والدین نے نئی نسل کے سوالات کے جواب دینے کی زحمت ہی نہیں فرمائی، وہ سمجھتے تھے کہ شاہد ان کی فکر اولاد کے ذہنوں میں خود بخود منتقل ہوجائے گی ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔

 نمبر پانچ: ایک بات اور ذہن میں رکھیں کہ سیکولرفکر کے بیشتر علمبرداروں کو آپ دلیل سے قائل نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ قائل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اگلا قائل ہونے پر آمادہ ہو۔ جس نے طے کر رکھا ہو کہ مابعدالطبعیات کچھ نہیں اور صرف مادہ ہی سب کچھ ہے، اسے آپ مذہب کی اہمیت پر کیسے قائل کر سکتے ہیں؟ جو روز آخرت پر ہی یقین نہ رکھتا ہو، سرے سے خدا یا اس کے پیغمبر کے وجود ہی پر اسے شک ہو، اسے کس طرح الہامی دانش کا پیروکار بنایا جا سکتا ہے؟ میرا یہ مقصد نہیں کہ سیکولر سوچ رکھنے والے تمام ایسے ہوتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ بہت سے لوگوں کا یہ ایشو نہیں۔ وہ کسی بھی دوسرے مذہبی شخص کی طرح کی سوچ رکھتے ہیں، ان میں سے بعض ردعمل میں سیکولر ہوئے، کچھ کو مذہبی جماعتوں یا بعض تنگ نظر مولوی صاحبان کی شدت اور بے تدبیری اس جانب لے آئی، ایسے بھی بہت ہیں جو داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی متشددانہ پالیسیوں، لوگوں کو زبح کرنے اور سروں سے فٹ بال کھیلنے جیسی ویڈیوز دیکھ کر مذہب کا نام لینے والے ہر ایک گروہ سے متنفر ہوگئے۔ سیکولر سوچ رکھنے والوں میں یہ تمام شیڈز موجود ہیں، مگر سیکولرازم کی خالص علمی بنیادیں الحاد اور مذہب بیزاری پر استوار ہیں، اس لئے ان سے زیادہ دیر بچا نہیں جا سکتا۔

 سیکولروں کی ہارڈ کور کو متاثر یا قائل نہ کرسکنے کے امکان کے باوجود یہ مکالمہ جاری رکھنا ہوگا، اسلامی بیانیہ پوری صراحت اور گہرائی کے ساتھ تشکیل دینا ہوگا۔ ہدف وہ لوگ ہیں جو ابھی درمیاں میں ہیں، سوئنگ ووٹرکی طرح سوئنگ پیروکار بھی ہوتے ہیں۔ جو لوگ ابھی کسی جانب نہیں گئے، وہ لوگ جوکسی وجہ سے سیکولر ہوگئے ، مگر وہ مذہب کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہیں، انہیں چند کامن پوائنٹس پر قریب کیا جا سکتا ہے ۔ وہ لوگ بھی جو مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، رائٹسٹ ہیں، مگرانہیں دوسروں سے بات کرنے کے لئے دلائل کی ضرورت ہے۔ ان کی یہ کمی، ضرورت رائٹسٹ لکھاریوں کو پوری کرنا ہے۔

 نمبر چھ : سیکولرسٹوں سے بحث کرتے ہوئے ان کی کج بحثی اور مذہب پر حملوں کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا۔ ہم لوگ بعض چیزوں کو پہلے سے طے شدہ لے کر چلتے ہیں، سوچتے ہیں کہ بعض سیاسی سوال اور بحثیں ہوں گی، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر تو کوئی بات نہیں کرے گا۔ اسی طرح پاکستان کے حوالے سے ہم میں سے بہت سوں کو اس وقت شاک لگتا ہے،جب نظریہ پاکستان، قائداعظم، اقبال، لیاقت علی خان ، علامہ شبیر احمد عثمانی وغیرہ پر کوئی حملہ آور ہو۔ ہم اس سے یہ حملہ توقع نہیں کر رہے ہوتے، اسے ناف کے نیچے وار سمجھتے ہیں۔ اس سب کے لئے مگر پہلے سے تیار ہونا چاہیے ۔

 نمبر سات: یہ بات بھی اب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان میں اسلامی نظام، اسلامی معاشرے کا قیام نظریہ پاکستان ، تحریک پاکستان اور قرارداد مقاصد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ تقسیم کے مخالف ہوں، قائداعظم یا نظریہ پاکستان سے وابستگی نہ رکھتے ہوں یا اس درجہ حساسیت کے حامل نہ ہوں اور اپنے مذہبی میلان کی وجہ سے پاکستان میں نفاذ اسلام کی بات کریں، تحریک چلائیں۔ ایسی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس پر یکسوئی حاصل کر لیں۔ اگر نظریہ پاکستان سے دستبردار ہوگئے، اسلامی مملکت کے دعوے، خواب سے ہاتھ کھینچ لیا تو پھرملک میں اسلامی قوانین، اسلامی معاشرے کا خواب بھی بھول جائیں۔ پاکستان تب لفظی طور پر نہ سہی، عملی طور پر سیکولر ریاست بن جائے گی۔

 نمبر آٹھ : (پوائنٹ نمبر سات کی یہ ایکسٹینشن ہی ہے، مگر اہمیت واضح کرنے کے لئے اسے الگ پوائنٹ بنایا ہے۔)  یاد رکھیں ،تحریک پاکستان، نظریہ پاکستان، قائداعظم اور مسلم لیگ کے دوران تحریک کئے گئے وعدے ہی وہ بنیاد فراہم کرتے ہیں، جس پر پوری اسلامی تحریک استوار ہوتی ہے، قرارداد مقاصد اس کے بغیر پاس ہونا ممکن نہں تھی۔ سیکولر حلقہ اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے، اس لئے وہ بار بار قراردار مقاصد پر حملہ آور ہوتا ہے، نظریہ پاکستان کا تمسخر اڑاتا ، اسے بے حقیقت ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیاقت علی خان کے قد کاٹھ کو چھوٹا ثابت کرنا، علامہ شیبر احمد عثمانی پر حملے محض اس لئے کئے جاتے ہیں کہ قرارداد مقاصد کے موید یہی لوگ تھے۔ جب ان پر سے تقدس کا لبادہ نوچ کر الگ کر لیا جائے تو پھر اس قرارداد کی حیثیت کسی بھی اسمبلی میں پیش ہونے والی قرارداد کی سی رہ جاتی ہے۔

 نمبر نو : یاد رکھیں کہ قائداعظم رحمتہ اللہ کی شخصیت بھی پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے، یہاں اسلامی نظام قائم کرنے اور رول ماڈل اسلامی معاشرے کی تشکیل کے سپنے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ سب باتیں قائداعظم کہتے رہے تھے، ان کے بے شمار جملے، فقرے ، بیانات اور انٹرویوز اس حوالے سے ہیں۔ چونکہ قائداعظم کی ذات پاکستان اور پاکستانی عوام سے منسلک ہے،اس لئے سیکولر حلقہ قائد کی گیارہ اگست والی تقریر کے حوالے دینے پر مجبور ہے، سمجھدار سیکولر جانتے ہیں کہ قائداعظم کی الفاظ کی تعبیر وتشریح کر کے ایک قومی بیانیہ تشکیل دینا آسان ہے،اسی لئے بار بار اسی ایک تقریر کے حوالے دئیے جاتے رہیں گے۔ شدید بوریت کے باوجود ہمیں یہ سب سہنا پڑے گا، جواباً بار بار قائد کی دوسری تقاریر کے حوالے دینے پڑیں گے۔بار بار ایسا کرنا پڑے گا۔ یہ عمل دونوں طرف سے جاری رہے گا، شائد آنے والے برسوں، عشروں تک۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ بیشر سیکولر قائداعظم کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثر اپنی تحریروں میں التزام کے ساتھ انہیں جناح صاحب لکھیں گے۔ یہ دراصل لٹمس ٹیسٹ ہے، جدید دور کا کوئی بھی لکھاری جو اپنی کسی تحریر میں قائداعظم کے بجائے جناح صاحب لکھے، سمجھ لیجئے کہ اس کے اندر کا تعصب اور قائداعظم کے لئے نفرت اور بیزاری ابل ابل کر باہر آ رہی ہے۔ جناح صاحب لکھنے کی آزادی صرف ان کے ہم عصروں کو دی جا سکتی تھی، باچا خان یا جی ایم سید ایسے آخری لوگ تھے۔ ان کے بعد کی نسلوں کو یہ حق نہیں ۔ ہمارے قائد محمد علی جناح کو قائداعظم کہنا پاکستانی روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ اس روایت کو تسلیم بھی عرصہ پہلے کیا جا چکا ہے ۔ اس سے انحراف وہی کرے گاجو قائد کی دشمنی اور مخالفت میں اعتدال کی حدعبور کر چکا ہو، ورنہ کوئی بھی سمجھدار سیکولر ایسی غلطی کر کے خود کو بے نقاب نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ اکثر دیکھا جائے گا کہ مولانا آزاد کو اکثر سیکولر لکھاری بہت اہمیت دیں گے، مولانا کے علمی قد کاٹھ سے زیادہ بغض قائداعظم اس کا باعث ہوگا۔

 علما کے حلقے میں سے ایک گروپ جو زہنی طور پر جمعیت علما ہند کے قائدین سے زیادہ قریب ہے، ان کے لئے بھی قائداعظم کی شخصیت کو تسلیم اور قبول کرنا آسان نہیں، مگر پاکستان مین اسلامی جدوجہد کے لئے قائداعظم کی شخصیت کو ساتھ لے کر ہی چلا جا سکتا ہے۔ اس کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے یہ لوگ اپنے تصور کا دوبارہ سے جائزہ لیں اور تحریک پاکستان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح علامہ اقبال اور حضرت مدنی والے مناقشہ کے بعد کچھ لوگ اقبال کے لئے بھی ناپسندیدگی کی ایک زیریں لہر رکھتے ہیں، انہیں بھی اقبال کی عظمت کو ازسرنو سمجھنا ہوگا۔ اقبال کا ورلڈ ویو حیران کن ہے۔ اسلامی معاشرے یا اسلامی ریاست کے لئے اقبال کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔

 نمبر دس: یہ بات شروع میں آنی چاہیے تھی، مگر اس پر اختتام کرنا بھی کم اہم نہیں۔ یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام اور سیکولرازم کا امتزاج کسی طور ممکن نہیں۔ کسی بھی ملک میں یا تو اسلامی ریاست ہو گی یا سیکولرریاست ، اسلامی معاشرہ تشکیل پائے گا یا پھر سیکولر معاشرہ۔ ان کو ملانے کی بچکانہ کوشش کبھی کامیاب ہوئی نہ ہوگی۔ یہ کہنا کہ کسی قسم کا دیسی مسلم سیکولرازم ممکن تھا، ایک بڑا فکری مغالطہ ہے۔ دیسی مسلم سیکولرازم نام کی کسی اصطلاح کا کوئی وجود نہیں، یہ بن بھی نہیں سکتی۔ بات سادہ سی ہے کہ آپ نے یہ طے کرنا ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی ریاست میں رہنا ہے یا پھر بندوں کی بنائی ہوئی ریاست میں، اللہ کے بتائے ہوئے قوانین، وضوابط پر عمل کرنا ہے یا پھر انسانی عقل سے آخذ کئے ہوئے قوانین کو چلانے کی کوشش کرنا ہے۔ ان دونوں تصورات کو کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟

 یہ نقطہ بھی واضح ہوجائے کہ پاکستانی تناظر میں علامہ شبیر احمد عثمانی کا ماڈل ہی قابل قبول ہوگا۔ حضرت علامہ حسین احمد مدنی کے تمام تر احترام کے باوجود ان کا ماڈل بھارتی ماڈل ہے، ایک ایسے معاشرے کا جہاں کثیر المذاہب لوگ رہتے ہوں، جہاں مسلمان اکثریت میں نہ ہوں۔ سیکولرازم کا مطالبہ وہیں ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کوئی کہے کہ بھارت میں اسلام نافذ کیا جائے تو اس کی عقل پر شک کیا جائے گا، پاکستان میں البتہ یہ مطالبہ ہوگا اور قابل فہم بھی سمجھا جائے گا۔ دیوبند مکتب فکر کے لوگوں کو یہ مان لینا چاہیے کہ جمعیت علما ہند بھارت کے لئے ہے اور جمعیت علما اسلام پاکستان کے لئے۔ اس بیریر سے گزرنے کے بعد یہ لوگ یکسوئی کے ساتھ اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح مولانا آزاد کے علمی ، ادبی سحر میں کون گرفتار نہیں، مگر پاکستانی بیانیہ میں قائداعظم پہلے آتے ہیں، مولانا آزاد اس فریم ورک میں فٹ نہیں ہوتے۔ نہایت احترام کے ساتھ انہیں بھارتی سیکولرسٹوں کے لئے چھوڑ دیجئے ۔ مولانا آزاد کی پیش گوئیاں بھی ہمارے ہاں سب سے زیادہ ذوق شوق سے تقسیم ہند کے مخالف اور سیکولر حلقے ہی استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان کے بیانیہ میں فٹ ہوتی ہے۔ بڑے پیار اور احترام کے ساتھ مولانا آزاد سے اختلاف کیجئے۔ ہو سکے تو منیر احمد منیر کی کتاب مولانا آزاد کی پیش گوئیاں پڑھ لیجئے،دوسرارخ سامنے آ جائے گا۔

 اسی طرح جاوید غٓامدی صاحب کا یہ تصور کہ ریاست سیکولر ہو، حکومت البتہ مسلمان ہوگی، یہ بھی آخری تجزیے میں سیکولرسٹوں کو سپورٹ کرتا ہے۔ جناب غامدی اور ان کے ذہین تلامذہ کی فکر ایک خاص سٹیج پر جا کر سیکولر فکر کے ساتھ ہی جا کر کھڑی ہوتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ غامدی صاحب کے بیانیہ پر کبھی سیکولر تنقید نہیں کریں گے، انہیں سوٹ جو کرتا ہے ۔ غامدی صاحب پر ہمیشہ اسلامسٹوں کی طرف سے تنقید،اور جواب بیانیہ دیا جاتا ہے۔

 نمبر گیارہ : اب تک ان بحثوں کو پڑھنے والوں کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ سیکولر دوست کس طرح بات کو ایک جگہ سے کھینچ کر دوسری جگہ لے جاتے ہیں، ایک ساتھ کتنے مفروضے ، مغالطے بھر دیتے ہیں تاکہ یکسوئی کے ساتھ جواب نہ دیا جا سکے۔ دانستہ طور پر رائیٹسٹوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ انہیں معلوم ہے کہ جماعت اسلامی اور جے یوآئی کے مابین ماضی میں مسائل رہے ، تو ان نکات کو بار بار اٹھایا جائے گا۔ جماعت اسلامی والوں کو الجھانے کے لئے تقسیم کے وقت مولانا مودودی کی آرا کا مسئلہ چھیڑا جائے گا، کبھی جماعت کی مسلم لیگی مخالفت پر سوال ہوگا، کبھی کسی اورایشو کو چھیڑ دیا جائے گا۔ اس کا صاف جواب دینا چاہیے کہ یہ سب ماضی کے ایشوز ہیں۔ بنیادی نقطہ یہی ہے کہ کیا پاکستان اسلامی ریاست ہو یا سیکولر؟ اسلامی نظام آنا چاہیے یا سیکولر نظام؟ ہماری اخلاقی نظام کی بنیاد مذہب پر ہونی چاہیے یا پھر اس اخلاقیات کی تشکیل ہر ایک خود کرتا پھرے۔ ان بنیادی سوالات پر بحث مرکوز رکھنی چاہیے، نان ایشوز میں الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں، اپنی توانائیاں ادھر صرف نہ کی جائیں۔ ہر حلقہ فکر کی طرح رائیٹ ونگ میں فالٹ لائنز موجود ہیں، انہیں ایکسپوز کرنے سے گریز کریں۔ آپس میں لڑنے کے بجائے اصل مدعے کی طرف توجہ رکھیں۔ اس کی زیادہ اہمیت ہے۔ اجر بھی اسی کا ملنا ہے۔ یہ اپنی مسلکی، جماعتی شناخت سے اٹھ کر دین اسلام کے لئے فکری جدوجہد کرنے کا وقت ہے۔ اللہ سے مدد مانگئیے ، وہی توفیق دے گا، تحریر اور خیالات میں برکت اور وہی قبول بھی فرمائے گا۔

 اسلامسٹ بیانیہ کے لئے معروف مذہبی کتب کا سب کو علم ہی ہے، میں دو تین کتابوں کی طرف نشاندہی کرنا چاہوں گا۔ ان میں سے ایک ڈاکٹر طارق جان کی سیکولرازم، مغالطے ، مباحثے ہے۔ اسے منشورات لاہور نے شائع کیا ہے ، اس کی ای بک بھی دستیاب ہے۔ ڈاکٹر طارق صاحب نے بڑی عمدگی سے کئی ایشوز پر قلم اٹھایا ہے۔ اس پڑھنا فائدہ مند ہوگا۔ قائداعظم کے اسلامی تصور کے حوالے سے بہت سی کتب شائع ہوچکی ہیں، کسی سے حوالہ جات کے لئے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ علامہ اسد کا کام بھی ان مباحث میں بہت کارآمد ہے۔ ان کی کتاب یورپین بدو کمال کی ہے۔ علامہ اسد نے اس پر بھرپور بحث کی ہے کہ پاکستان میں اسلامی دستور کیوں بنایا جائے؟ پروفیسر احمد رفیق اختر نے بھی سیکولرازم کے خلاف بھرپور طریقے سے لکھا ہے۔ پروفیسر صاحب کی سیکولرازم کی علمی بنیاد جو الحاد پر مشتمل ہے، اس پر کڑی تنقید ہے۔ اسے پڑھنے سے نئے دلائل ملیں گے۔

(محترم بھائی عامر ہاشم خاکوانی صاحب نے نہایت اچھے اور مناسب نکات سپرد قلم کئے ہیں۔ عامر بھائی نے مہذب اور غیر جانبدار مکالمے کے اصول بیان کئے ہیں۔ ہم سب کو ان نکات پر کھلے دل سے غور و فکرکرنا چاہیے۔  امید کرنی چاہیے کہ بھائی عامر ہاشم خاکوانی ہمارے اجتماعی مکالمے کی رہنمائی   کرتے رہیں گے۔)


Comments

FB Login Required - comments

52 thoughts on “رائیٹ ونگ کے نوجوان لکھاریوں کو گیارہ مشورے

  • 19-04-2016 at 3:45 am
    Permalink

    عامر خاکوانی صاحب کی سادہ دلی کے قربان۔ انکا یہ جملہ اپنی کوشش اور خواہش پر خود ہی ایک فیصلہ کن تبصرہ ھے۔
    “ہر حلقہ فکر کی طرح رائیٹ ونگ میں فالٹ لائنز موجود ہیں، انہیں ایکسپوز کرنے سے گریز کریں۔ آپس میں لڑنے کے بجائے اصل مدعے کی طرف توجہ رکھیں۔”
    اے بسا آرزو کہ خاک شود

    • 22-04-2016 at 1:29 pm
      Permalink

      محترم سعید ابراہیم، پہلی بات تو یہ کہ خاکوانی صاحب نے واضع طور پر لکھا ہے کہ یہ رایٹ کی لکھاریوں کو مشورہ ہےآپ کویا پورے پاکستان کو نہی، تو اسلام، سعودیہ اور ایران کہاں سے آ گیا. موصوف کی سادگی پر ہنسی نہی روکتی کے آپ ایران اور سعودیہ کو اسلامی ملک سمجھتے ہیں. اور پرائمری کلاس کا بچا بھی یہ بات جانتا ہے ہے ایران اور سعودیہ کا آپسی بیر اسلام نہی بلکے دیگر وجوہات کی وجہ سے ہے، اسلام کے صدقے تو انہیں نہ چاہتے ہوے بھی مل کر بیٹھنا پڑھتا ہے، او آئ سی کے اجلاسوں میں. اور اسلام صرف اسلام ہے ہمارے لئے تودیوبند اور بریلی دو مدراسسوں کے نام ہیں، آپ کا پتا نہی. (راشد الز ماں )

  • 19-04-2016 at 5:19 am
    Permalink

    عامر خاکوانی صاحب کا بیانیہ کنفیوزڈ اور متضاد خیالات سے لبریز ہے۔ اور انہیں معلوم ہے کہ اسلامسٹ بھی اسی “بیماری” کا شکار ہیں۔ اپنی جانب سے انہوں نے جو قیمتی مشورے دئیے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ ان کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہونے والا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اپنی جانب آتی ہوئی بندوق کی گولی کا مقابلہ خیالی تلواروں سے کیا جائے۔ وہ پاکستان میں جس مذہب کے نفاذ کے نقیب ہیں، وہ دنیا کے صرف دوممالک ایران اور سعودی عرب میں نافذ ہے اور اس مذہب کے صدقے ہی ان کا آپسی بیر قابلِ دید ہے۔ ان میں ایک ببانگِ دہل وہابی اسلام کا علمبردار ہے اور دوسرا شیعہ اسلام کا۔ یہ پاکستانی اسلامسٹوں کو جو مسلک سے بلند ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں، بہتر ہے یہ مشورہ سعودی اور ایرانی علماء کو لکھ بھیجیں۔ اور دیکھیں کہ وہ اپنے اپنے اسلام کی روشنی میں کیا جواب دیتے ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کریں کہ پاکستان میں بریلوی اسلام نافذ کرنا چاہئیے یا دیوبندی اسلام؟ اور اگر انکی نظر میں مسالاک سے اٹھ کر کوئی خالص اسلام بھی ہے تو نوجوان اسلامسٹوں کی رہنمائی کے لیے اس کے خدوخال بیان کردیں۔

  • 19-04-2016 at 10:08 am
    Permalink

    میں بالکل بهی ‘مسلط کردہ یا یوٹوپیائی’ سیکولر ازم کا حامی نہیں ہوں، پاکستانی سیکولر ہوں، یا پاکستانی مسلمان و دیگر مذاہب کے ماننے والے، اکثریت اپنے قول و فعل میں بودے ثابت ہوتے ہیں. لیکن جناب یہ بات سمجهنے سے قاصر ہوں، کہ پہلے ہمیں مسلمان کی تعریف پر پورا اترنا ہے، یا اسلامی ریاست کی تشکیل کسی طالبانی/داعشی طریقے سے کرنی ہے، پهر ویسا با کردار بننا ہے جیسا مذہب کا مطالبہ ہے؟

  • 19-04-2016 at 10:16 am
    Permalink

    یہ بهید بهی جلد عیاں ہو جاے گا کہ لبرل کہلانے والوں کا استعمال اسی طرح ہو رہا ہے جیسے کبهی مذہب کے ٹهیکے داروں کا ہوا. ایک منصوبے کے تحت ‘لبرل ڈیسک’ کو متحرک کیا گیا، اور ‘جہاد ڈیسک’ کو ‘ہولڈ’ پہ رکها ہے. ملائیت کو تو پینتیس چالیس سال مل گئے، لبرائیت کو اتنا وقت نہیں دیا جاے گا.

  • 19-04-2016 at 10:46 am
    Permalink

    محترم عامر خاکوانی صاحب نے سیکولر + لبرل سوچ کے سدباب کی خاطر ہدایت نامہ برائے اسلامسٹ + راءیٹست لکھاریاں کی اشاعت کے لیے ایک سیکولر فورم کا انتخاب کر اپنے موقف پر یقین کو ثابت کرنے کے ساتھ سیکولر سوچ کی وسعی القلبی جو پاکستان کی حد تک ان کے ممدوح اسلامسٹوں میں مفقود نظر آتی ہے کی تصدیق بھی فرما دی ہے.
    جہاں تک ان کی ہدایات کا تعلق ہے تو ان میں بہ ظاہر دکھائی دیتے والے بہت سے تضادات میں سے صرف ایک کی وضاحت اگر فرما دیں تو الجھن رفع ہو جائے گی.
    آپ ایک جانب تو آپ فانٹ لائنز کو ایکسپوز کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں. (اگرچہ اس پر کچھ لوگ حقائق چھپانے آوازہ بھی کسیں گے، تاہم اس وقت یہ پہلو میرے پیش نظر نہیں) دوسری جانب آپ خود ہی جاوید احمد غامدی صاحب کو اسلامسٹوں کی صف سے خارج کر رہے ہیں.
    میرا محترم عامر خاکوانی صاحب سے سوال ہے کہ اس طرح کیا آپ خود ہی فالٹ لائن ایکسپوز کرنے سے بھی آگے بڑھتے ہوئے اسلامی فکر رکھنے والوں کو تقسیم نہیں کر رہے؟

  • 19-04-2016 at 11:35 am
    Permalink

    جناح کو جو قائد اعطم نہ کہے تو مان لو وہ سیکولر ہے۔۔۔۔ ان کو جناح صرف ان کے ہم عصر کہہ سکتے ہیں ۔ خاکوانی صاحب آپ فتوی کیوں لگا رہے ہیں اور وجاہت صاحب آپ لگانے بھی دے رہے ہیں۔

  • 19-04-2016 at 12:31 pm
    Permalink

    Come on.let’s start the game.

  • 19-04-2016 at 12:31 pm
    Permalink

    کیا خوب صورت بات لکھی ہے
    جناب عامر خاکوانی صاحب
    ہر تحریر یہ سوچ کر لکھی جائے کہ ہمارے سرکار، آقا اور محسن عظیم حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر اسے پڑھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردعمل کیا ہوسکتا ہے۔ کوئی ایسا جملہ یا لفظ نہ ہو، جس سے سرکار مدینہ کی منور پیشانی پر کوئی شکن نمودار ہو اور انہیں لگے کہ ان کے امتی، ان کے نام لیوا دین اسلام کی بے توقیری کا باعث بنے۔ کوئی بھی سچا، کھرا رائیٹسٹ صرف اس لئے اس میدان میں اترتا اور اپنے دین، اپنی اخلاقی اقدار اور تصور دین کا دفاع کرتا ہے کہ روز آخرت اس کی یہ کاوش قبول ہو اور بخشش کا باعث بنے۔
    دانائے راز نے کہا تھا کہ
    تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
    روز محشر عذر ہائے من پذیر
    گر تو بینی حسابم را ناگزیر
    از نگاہِ مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم پنہاں بگیر

  • 19-04-2016 at 12:44 pm
    Permalink

    بہت عزت اور احترام کے ساتھ اسلامسٹ بھائیوں میں پائے جانے والے دہرے معیار کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ یہ دیکھی گئی ہے کہ انہیں باقاعدہ طور پر اسکی تربیت دی جارہی پے. ملاحظہ فرمائیے :
    1. جہاں مسلمان اکثریت میں نہ ہوں. سیکولرازم کا مطالبہ وہیں ہوسکتا ہے

    2. دیوبند مکتب فکر کے لوگوں کو یہ مان لینا چاہیے کہ جمعیت علما ہند بھارت کے لئے ہے اور جمعیت علما اسلام پاکستان کے لئے۔

    کیا آپ یہ بتانا پسند فرمائیں گے آپکو ہندستان میں سیکیولزم کیوں چاہیئے؟

    • 20-04-2016 at 10:22 am
      Permalink

      This is relativity not double standard 🙂

  • 19-04-2016 at 1:02 pm
    Permalink

    Hamza Alavi was not Islamist. He was from Left and secular. His thesis on Khilafat Tehreek is remarkable not to mention his other great work. He was against Abul Kalam by misguiding Muslims and he praised Quaid e Azam. The question or comment is Khakwani Sahib’s binary is extremely reductive. One can at the same time be Islamist and anti Quaid and he could be secular and admirer of Quaid. The seeds of secularization are within religion. Max Weber has convincingly shown that rationalization of Christianity led to secularization of Christian world.

  • 19-04-2016 at 1:27 pm
    Permalink

    پنجاب کی سرحد سے اِس طرف والے لوگوں کا اس مکالمے میں کودنا یوں تو “بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ” والا معاملہ ہو گا ۔۔۔۔۔ مگر زیرلب مسکراہٹ کے باوجود اس سادہ لوحی پہ حیرت نما احساس جاگا ہے کہ جناح صاحب کیوں کہ ہمارے لیے قائداعظم ہیں تو اس لیے انھیں قائد اعظم کہنا سب پہ فرض ٹھہرا، ورنہ حب الوطنی سے خارج۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت محمد کے نام پہ مسلمانوں سمیت سب پہ درود پڑھنا لازم ہے، جو نہ پڑھے طے ہے کہ وہ ان کا احترام نہیں کرتا (حالاں کہ ان کے نام پہ درود پڑھنے والوں کی اکثریت اپنے عمل سے ان کا کتنا احترام کرتی ہے، اس کی لیے مثالوں کی ضرورت تو نہیں!)۔ ایسے ہی جناح صاحب کو جو قائداعظم نہ کہے وہ گویا ان کی توہین کا مرتکب ٹھہرا۔ آپ مولانا آزاد سے ‘پیار سے اختلاف’ تو کر سکتے ہیں، مخالفین مگر پیار سے جناح صاحب کو قائداعظم نہ لکھنے کی رعایت نہیں لے سکتے ۔۔۔۔۔ اور مدیر محترم اس ہدایت نامے کو ‘اجتماعی مکالمے کی رہنمائی’ گردانتے ہیں۔۔۔۔ عجب، ثم العجب!!!

    • 19-04-2016 at 6:52 pm
      Permalink

      کیونکہ قائداعظم ہمارے لئے قائداعظم ہیں تو انہیں قائداعظم کہنا سب پر فرض ٹھیرا۔۔۔۔۔۔؟کیا مطلب ہوا اس جملے کا؟
      جناب آپ جس ملک میں رہتے ہیں، جس کے شہری ہیں، جس کے تعلیمی اداروں میں آپ نے تعلیم پائی، اتفاق سے اسی ملک کے بانی کا نام محمد علی جناح ہے، جسے قائداعظم ان کے زمانے ہی میں تسلیم کر لیا گیا تھا، کہا جاتا تھا، حتیٰ کہ ان کے سب سے بڑے سیاسی حریف مہاتما گاندھی نے بھی قائداعظم کہہ کر خط لکھا۔ جناب محمد علی جناح کو قائداعظم کہنا ہماری یعنی پاکستانیوں کی تہذیبی ، سماجی، علمی روایت کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ یہ تو ایک امر واقعہ ، ایک حقیقت ہے۔ اس میں کسی کو کیا شک ہے ؟
      قائداعظم کو قائداعظم صرف وہی لوگ نہیں کہتے ، التزام کے ساتھ جناح کہتے ہیں، جو ان کو ناپسند کرتے، انہیں پاکستان کا قائد نہیں مانتے اور درحقیقت قیام پاکستان ہی کے مخالف ہیں۔ اس میں کون سا ایسا ابہام ہے، جو کسی کو سمجھ نہیں آ رہا۔ قائداعظم کے خلاف یہی چارج شیٹ لگائی جا سکتی ہے کہ انہوں نے پاکستان بنا دیا، ورنہ کون سا جرم ان سے ہوگیا؟اور کس بنا پر انہیں اس تکریم کے لفظ سے محروم کیا جائے گا۔
      درود والی بات تو آپ نے ٹھیک کہی، اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارکہ ہے، جس میں انہوں نے اپنے نام کے ذکر پر درود نہ بھیجنے والوں پرسخت وعید کی ہے۔ تو جو شخص اللہ اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھتا ، جو شخص مسلمان ہے ، وہ ہو نہیں سکتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کہے، لکھے جانے پر درود پاک نہ بھیجے ۔ یہ کوئی منطق کا معاملہ نہیں، جس میں دو نقطہ نظر ممکن ہوسکتے ہیں۔ درود پڑھنے سے گریز کرنے والوں کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر تمام مسالک متفق ہیں۔
      قائداعظم نہ کہنے والا معاملہ ظاہر ہے اس طرح بالکل نہیں نہ کوئی ایسا کہنے کی جرات کر سکتا ہے ۔ مگر قائداعظم کو جناح کہنے والے ایک خاص نفسیاتی کیفیت کے تو شکار ہیں، یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے اور تیقن کے ساتھ کہی جا سکتی ہے ۔
      باقی سادہ لوحی تو یقیناً ہمارے ساتھ ہوسکتی ہے۔ اس میں کوئی کلام نہیں۔ اپنی کم علمی پر معذرت ہی پیش کی جاسکتی ہے۔

  • 19-04-2016 at 1:28 pm
    Permalink

    میری ناقص رائے میں اسلامسٹ کا رائٹسٹ ہونا یا سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے تاہم ہ مشورے افادیت سے خالی نہیں جبکہ کئی باتیں خالصتاََ مصنف کی ذاتی رائے پر ہی مبنی ہیں جو بجائے خود جواب طلب ہیں۔ جو امور پاکستان میں اسلامسٹ/سیکیلر/رائٹسٹ سمیت تقریباََ تمام ہی مکتبہ ہائے فکر میں نمایاں ہیں اُن میں عدم برداشت، اپنی دلیل کو مضبوط ثابت کرنے کے لیئے مخالف پر طنز و تمسخر کا ارتکاب جو بسا اوقات تضہیک تک چلا جاتا ہے، دلیل کے مقابل جوابی دلیل کے بجائے الزامات اور باتوں کا رخ موڑنا، مخالف کے موقف میں اپنے موقف کے اعتبار سے مفاہیم کی تبدیلی کی کوشش، کسی بات کو جانے/سمجھے/پڑھے بغیر ہی اُس پر رائے زنی وغیرہ عام ہیں۔ میری ناقص رائے میں اسلامسٹ اصلاح طلب ہی سہی مگر دیگر کے مقابلہ میں کسی قدر رہنمائی اور اجتماعی سوچ کے حامل ہیں لیکن سیکیلرز میں تا حال واضح منزل تو درکنار رہنماء اصول تک مفقود نظر آتے ہیں، اپنی اپنی ڈفلی اقور اپنا اپنا راگ والا معاملہ عام ہے

  • 19-04-2016 at 1:49 pm
    Permalink

    بہترین اور جامع۔ یہ ایک معرکے کی عملی ہدایات ہیں ۔ اور کسی طرف پہنچانے کے لیے ہیں ۔ صرف لگے ہی رہنے کے لیے نہیں۔ البتہ ہدایات دینے کے لیے جس جگہ کاانتخاب کیا گیا ہے وہاں لوگ ان سے ضرور ”لطف اندوز “ ہورہے ہیں ۔

    • 19-04-2016 at 5:09 pm
      Permalink

      نیچے دئیے گئے طویل کمنٹ میں یہ وضاحت کر دی ہے کہ اس جگہ کا انتخاب میں نے نہیں کیا۔ یہ تحریر ہم سب کو نہیں بھیجی گئی، برادرم وجاہت مسعود نے ازراہ تلطف اسے خود شائع کیا ہے۔ ویسے آپ کے اس کمنٹ اور دیگر دوستوں کے کمنٹس سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ہم سب گویا ایک سیکولر سائٹ ہے۔ کیا ایسا ہی ہے؟ اور کیا ہم سب کے ایڈمن آپ کے اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں؟ میری معلومات کے مطابق تو نہ وجاہت مسعود اور نہ ہی عدنان خان نے کبھی یہ دعویٰ کیا ہے بلکہ ہم سب پر کئی خالص مذہبی حلقے کے لوگوں کے مضامین لگائے جا رہے ہیں۔ تو پہلے آپ طے کر لیں کہ ہم سب کے بارے میں جو تصور آپ لوگوں کے ذہنوں میں در آیا ہے، ایسا کیوں ہوا؟

      • 19-04-2016 at 5:15 pm
        Permalink

        ادارہ ‘ہم سب’ کسی ایک مکتب فکر سے خود کو نہیں جوڑتا ہے۔ منتظمین کے اپنے نظریات جو بھی ہوں، لیکن وہ ہر اس نظریے اور پوسٹ کو شائع کرنے کے قائل ہیں جو کہ مہذب انداز میں اپنا مقدمہ پیش کرے، خواہ یہ پوسٹ اسلامسٹوں کی ہو، سیکولروں کی، لبرلوں کی، سرمایہ داروں کی یا کمیونسٹوں کی۔

        ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ مضامین کے سلسلے میں انتظامیہ جج نہیں ہے، بلکہ پڑھنے والا جج ہے۔

      • 19-04-2016 at 5:39 pm
        Permalink

        بہت عمدہ ، میرا بھی یہی خیال تھا اور ہے۔ میرا خیال ہے کہ اب برادرم راشد ، مبشر اوردیگر کے اعتراضات ازخود دم توڑ جاتے ہیں، جن کے خیال میں ’’ہم سب‘‘ ایک سیکولر فورم ہے۔

      • 19-04-2016 at 6:19 pm
        Permalink

        آپ کے بارے میں ہم طے فرما چکے ہیں کہ اپنی دوستی کا رشتہ برقرار بلکہ زیادہ مضبوط کرنا ہے تو آپ کے کسی تنقیدی، شگفتہ یا طنزیہ مضمون کا جواب نہیں دیا جائے گا۔ اس کے بارے میں مولانا وحیدالدین خان کی المشہور اعراض والی تھیوری استعمال کی جائے گی۔ 🙂 مزید براں کہ ایسی تحریروں کو پڑھا بھی نہیں جائے گا اور اس کی کسر آپ کی دیگر شگفتہ تحریروں کو پڑھ کر پوری کی جائے گی ۔ 🙂

  • 19-04-2016 at 1:54 pm
    Permalink

    یہ بات بہت بار کہی اور سنی گئی کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں سیکیولرازم کیوں چاہیئے اور پاکستان میں کیوں نہیں؟ اس لیئے کہ وہاں وہ اقلیت میں ہیں اور یہاں اکثریت میں؟ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے لیکن اگر تھوڑا بھی غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانان ہند مسلم لیگ کے علیحدہ وطن کے مطالبہ پر ہی دو دھڑوں میں وضح طور پر منقسم ہوگئے تھے۔ اگر مسلم لیگی علیحدہ وطن کو اسلامی طرز معاشرت کے احیاء و بقاء کے لیئے ضروری خیال کررہے تھے تو دوسری طرف ہند کی تقسیم کو مسلمانوں کی تقسیم پر قیاس کیا جارہا تھا۔ مسلم لیگی جہاں ایک ممکنہ خدشہ کے پیش نظر ایک تصور بیان کررہے تھے تو دیگر مسلم رہنماء اسے دستیاب زمینی حقائق کے منافی گردان رہے تھے۔ بنظر غائر اگر دیکھا جائے تو دونوں ہی فریق کسی حد تک اپنے موقف میں صحیح تھے

    • 19-04-2016 at 6:33 pm
      Permalink

      اس میں ایک تھوڑا سا اضافہ کرتا چلوں کہ میں پاکستان میں رہتا ہوں، میرا ایشو پاکستان ہی ہے۔ ہندوستان یا دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے مشورے دینے کی ذمہ داری دانشوروں کی ہے، میری نہیں۔۔ وہی یہ ذمہ داری قبول فرمائیں۔ سادہ سی بات مگر یہ ہے کہ جہاں کہیں مسلمان اقلیت میں ہیں، وہاں پر وہ اکثریت کو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہمارا نظریہ قبول کرو، ملک پر ہم اپنا نظام نافذ کریں گے۔ اپنے حالات کے مطابق وہ کوئی بھی لائحہ عمل بناتے ہیں اور زیادہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ اکثریت کے ساتھ مل جل کر رہا جائے، اپنے لئے جو کچھ مل سکتا ہے لیا جائے اور ملکی صورتحال پرامن رکھی جائے۔ یہی سوچ یورپ اور امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کی ہوتی ہے، یہی بھارت کے مسلمانون کی ۔ یہ قابل فہم بات ہے ۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی کہ اس بات پر طنز کرنے کی کیا منطق ہے؟ جو لوگ یہ بات کہتے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کے لئے سیکولرازم تو پھر پاکستانی مسلمانوں کے لئے سیکولرازم کیوں نہیں ہونا چاہیے، انہیں ایک لمحے کے لئے اپنے موقف پر نظر ڈال لینا چاہیے، بات فوراً سمجھ میں آ جائے گی۔

  • 19-04-2016 at 4:42 pm
    Permalink

    درد دل سے بھری ہوئی تحریر ہے. سیکولر حضرات کے پاؤں تلے سے زمیں نکلتی جا رہی ہے. یہ لوگ عدم برداشت کا الزام اسلام پسندوں پر لگاتے ہیں مگر خود ان میں برداشت کا کتنا مادہ ہے؟ اس کا اندازہ خاکوانخاکوانی صاحب کی اس تحریر پر ان کے تبصروں ہی سے لگالیجیے.

  • 19-04-2016 at 4:51 pm
    Permalink

    بہترین اور جامع اللہ آپ کی صلاحیتوں میں برکت دے
    لبرلز کے پائجامے گندے ہو گے ہیں اس تحریر سے

    • 19-04-2016 at 11:38 pm
      Permalink

      ابو طلحہ‘ یہ کیا انداز گفتگو ہے؟

  • 19-04-2016 at 5:05 pm
    Permalink

    دو تین باتوں کی وضاحت ضروری ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تحریر ہم سب کے لئے نہیں لکھی گئی تھی اور نہ ہی ادھر بھیجی گئی ہے۔ اوپر دو تین دوستوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا۔ جی بے فکر رہیے میں نے یہ تحریر ہرگز ہم سب کو نہیں بھیجی نہ ہی یہ سوچ کر لکھی تھی کہ یہ ادھر شائع ہوگی۔
    یہ تحریر میں نے کسی ویب سائیٹ کو نہیں بھیجی، اپنی فیس بک وال پر ہی لگایا اسے ۔ البتہ بعد میں آئی بی سی کے سبوخ سید کو کہا کہ وہ اسے لگا لیں، مگر وہ اس سے پہلے اپنے طور پر، بلکہ کہنا چاہیے کہ ازراہ تلطف اسے لگا چکے تھے ۔ آرچر آئی کے ثاقب ملک نے بھی ایسا ازخود ہی کیا، کسی اور نے اسے لگایا یا شائع کیا تو ازخود ہی کیا۔ برادرم وجاہت مسعود نے یہ تحریر ازراہ تلطف ازخود وال سے لے کر لگائی۔ یہ ان کی اس محبت اورتعلق خاطر کا غماز ہے جو وہ اس فقیر کے لئے رکھتے اور اکثر اس کا اظہار کرتے ہیں۔ میں برادرم کی محبت کا ممنون ہوں۔
    تیسری بات یہ ہے کہ وجاہت مسعود صاحب نے اس مضمون کے آخر میں نیلی روشنائی سے لکھے اپنے نوٹ میں لکھا کہ یہ مہذب اور غیر جانبدار مکالمے کے اصول بیان کئے گئے ہیں۔ عرض یہ ہے کہ مہذب کی تو بات ٹھیک ہے، مگر یہ غیر جانبدار مکالمے کے اصول نہیں ہیں، اس لئے کہ یہ پہلے سے سوچ کر ایک خاص حلقہ فکر کے نوجوانوں کے لئے لکھے گئے، جس میں انہیں ہمدردانہ طور پر کچھ مشورے دئیے گئے۔ یعنی ایک واضح پوزیشن لیتے ہوئے، کچھ تعصبات(یاد رہے کہ یہاں تعصبات کا ذکر علمی انداز میں کیا) کو پہلے سے ذہن میں رکھ کر یہ اصول رقم کئے گئے، جس میں یہ فرض کیا گیا کہ پڑھنے والے رائٹسٹ، اسلامسٹ ہیں اور وہ سیکولرحلقے سے فکری طور پر نبردآزما ہیں۔ ان لوگوں کو یہ مشورے دئیے گئے کہ اگر مکالمے میں حصہ لینا ہے تو پھر ڈھنگ سے لیا جائے ۔ اس تحریر کا مصنف (جو خود کو اعلانیہ ایک رائٹسٹ کہتا اور اس پرایک خاص قسم کا پرائیڈ لیتا ہے) ایسا کرنے پر قطعی نادم نہیں ، دانستہ طور پر، سوچ سمجھے ارادے کے تحت ، بڑی محںت سے یہ طویل نوٹ لکھا گیا، اس امید کے ساتھ کہ اس سے رائیٹسٹوں کو نفع پہنچے گا۔
    باقی جس طرح وجاہت مسعود صاحب نے اوپر وضاحت کی، ان میں سے چند پوائنٹس یقیناً ایسے ہیں، جن کا اور لوگوں کو بھی فائدہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر شائستگی سے مکالمہ کرنے کا اسلوب۔
    اگر ہمارے سیکولر دوست فرمائش کریں تو اپنی ذہنی بساط کے مطابق ان کے لئے بھی چند رہنما اصول مرتب کئے جا سکتے ہیں۔ آخر ہم نے بھی تو یہ خاک بہت پہلے سے اڑائی ہوئی ہے۔ 🙂
    دوسرا

  • 19-04-2016 at 5:37 pm
    Permalink

    عزیز بھائی عامر ہاشم، میں ہر اس شخص کو پاکستان کا اثاثہ سمجھتا ہوں جو اپنی سوچ اور فکر کے مطابق سیاسی مکالمے میں حصہ لیتا ہے بھلے وہ خود کو سیکولر کہے یا اسلامسٹ یا کوئی بھی nomenclature اختیار کر لے۔ سیاسی عمل میں پرامن شرکت، دوسروں کو اختلاف کا حق دینا اور اس پر غور کرتے رہنا کہ ہمارے وطن کے لئے کونسا راستہ بہتر ہو سکتا ہے، میری نظر میں وطن دوستی کا ثبوت ہے۔ اسی لئے خاکسار اور اس کے دوستوں نے “ہم سب” کی ترکیب اختیار کی ہے۔ ہم کسی پاکستانی کو خود سے منفک نہیں سمجھتے۔ آپ کی نوازش کہ آپ نے “مہذب” کے لفظ سے اتفاق فرمایا۔ میں نے غیر جانبدار کسی برے معنوں میں استعمال نہیں کیا تھا۔ میری رائے یہی ہے کہ مکالمے میں پہلے سے کسی نقطہ نظر کو درست اور کسی کو غلط قرار دینے سے درست نتائج تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ نے بجا فرمایا کہ آپ نے خط تنصیف کی دوسری طرف کی خاک بھی اڑا رکھی ہے۔ بذات خود یہ امر اس دعوے کا ثبوت ہے کہ ہم سب اپنی سوچ میں مختلف مراحل سے گزرتے ہیں۔ اسی لئے ہمیں دوسروں سے اختلاف کرتے ہوئے ان کی نیت یا دیانت فکر پر انگلی اٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

    • 19-04-2016 at 5:51 pm
      Permalink

      حضرت آپ کی اسی رواداری، برداشت اور تفہیم نے تو ہمارا دل جیت رکھا ہے۔ جس انداز سے آپ مکالمے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، وہ قابل تحسین ہے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے، آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے اور اہل عیال سے آنکھیں ٹھنڈی کرے، آمین۔
      میں نے اس لئے کہا کہ یہ ایک غیر جانبدار مکالمہ نہیں کہ بذات خود یہ مکالمہ کم اور مکالمہ آرائی کے خواہش مند لوگوں کے لئے ہلکے پھلکے انداز میں چند مشورے تھے کہ جسے شوق ہے اس طرف آنے کا ، وہ سنجیدگی کے ساتھ اور کچھ پڑھ لکھ کر آئے تاکہ ان کی تحریروں کو پڑھنے والوں کو وقت ضائع ہونے کا احساس نہ ہو اور بات آگے بڑھتی محسوس ہو۔
      درست بات ہے کہ مکالمے میں پہلے سے کسی نقطہ نظر کو درست اور کسی کو غلط قرار دینے سے درست نتائج تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ مکالمہ کرنے والے ظاہر ہے کسی خاص نقطہ نظر کے حامل ہوتے ہیں، بعض چیزوں کو وہ درست اور بعض کو غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں، تب ہی اپنے سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والے سے مکالمہ ہوگا۔ ورنہ اگر پہلے سے کوئی رائے قائم ہی نہ ہو تو پھر مکالمہ کیا ہوگا۔ کلاس روم میں تو ایسا ممکن ہے کہ طلبہ دماغ کی سلیٹ خالی لے کر استاد کا لیکچر سنتے اور پھر ان کے ذہن پر کچھ نقوش ابھرتے ہیں۔ اچھا استاد البتہ انہیں سوچنا سکھاتا ہے، اپنی رائے ان کے ذہن میں داخل نہیں کرتا۔
      مکالمہ میں بہتر رویہ یہی ہے کہ آپ اپنی رائے لے کر آگے بڑھیں، اسے سمجھانے اور دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ باہمی تعصبات میں کچھ کمی ہوجائے گی، ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا رویہ ختم ہوجائے گا اور مخالف نقطہ نظر رکھنے والے کے موقف کو علمی بنیاد پر سمجھنا آسان ہوجائے گا۔
      دوسرا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ اپنی رائے میں کچھ اضافہ ، کمی ہوسکتی ہے۔ یہ ممکن ہے اور اس امکان کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اس لئے اس احتمال کو ساتھ رکھنا چاہیے ، مگر اپنی دانست میں کسی رائے کو درست اور کسی کو غلط سمجھنے میں کوئی حرج نہیں ۔ یہ میری طالب علمانہ رائے ہے۔

  • 19-04-2016 at 6:54 pm
    Permalink

    برادر عزیز، میں آپ کی رائے سے متفق ہوں۔

  • 19-04-2016 at 7:15 pm
    Permalink

    جہاں مسلمان اکثریت میں نہ ہوں. سیکولرازم کا مطالبہ وہیں ہوسکتا ہے
    Give me break

  • 19-04-2016 at 9:30 pm
    Permalink

    کیا عامرخاکوانی صاحب نے اپنی اپیل صرف صرف رائٹ ونگ تک محدود کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے؟ کیا ان کے خیال میں کوئی رائٹ ونگرسیکولر نہیں ہوسکتا؟ انہوں نے فرمایا ہے کہ ’’رائیٹسٹوں کو یہ سوچ کر لکھنا چاہیے کہ وہ اسلامی مائنڈ سیٹ کے علمبردار ہیں۔‘‘ کیا کوئی رائٹسٹ غیر مسلم نہیں ہوسکتا؟

    کاش خاکوانی صاحب نوجوان لکھاریوں کو یہ مشورہ بھی دیا ہوتا کہ نفرت سے دامن بچا کر رکھیں۔ اپنے اور دوسروں کے خیالات کا تنقیدی جائزہ لیتے رہیں۔ ذہن کھلا رکھیں اورتعصب کو اپنے قریب نہ آنے دیں۔ کوئی بات لکھنے سے پہلے مناسب تحقیق کیا کریں۔

    خاکوانی صاحب نے کہا ہے کہ ’مکالمہ ہر حال میں نہایت شائستگی سے کرنا چاہیے۔ انکسار، استدلال اور علمی شائستگی تحریر کے بنیادی جوہر ہونے چاہئیں۔ ‘یہ بہت اچھا مشورہ ہے۔ کیا وہ خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں؟ میں نےچھ ماہ پہلے ’دنیا پاکستان‘میں ’ارشاد عارف صاحب سے چند مودبانہ گزارشات‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے خاکوانی صاحب نے جو زبان استعمال کی اس میں انکسار‘ استدلال اورعلمی شائستگی کی کافی کمی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا ’’کمزور تحریر ہے، یوں لگا جیسے لیٹر ٹو ایڈیٹر کے لئے لکھی گئی۔ اس تحریر کے اندر خود بڑے تضادات موجود ہیں اور یہ کلیشوں کے سینگوں پر کھڑی ہے۔‘‘ انہوں نے کسی کمزوری کی نشان دہی اور نہ کسی نےتضادکی۔ کیا کلیشوں کے پرخچے اڑانے والی تحریر کو’کلیشوں کے سینگوں پر کھڑی‘ قراردینا انکسار‘ استدلال ‘ علمی شائستگی اور اصابت رائے کا شاہکار تھا؟ یہ ہے اس مضمون کا لنک جس پر خاکوانی صاحب کا تبصرہ بھی موجود ہے۔
    http://dunyapakistan.com/39293/rawan-tabsra-shakil-ch/#.VxYHl00cTIU

    خاکوانی صاحب نے نوجوان لکھاریوں کو’ڈاکٹر‘ طارق جان کی سیکولرازم کے خلاف لکھی گئی کتاب پڑھنے کا مشورہ دیا ہے۔ طارق جان صاحب کس شعبہ کے ڈاکٹر ہیں؟ کیا انہوں نے پی ایچ ڈی کررکھی ہے؟ آپ ان کی اس خواہش کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ بنگلہ دیش ‘پاکستان اور ہندوستان کو متحد ہونا چاہیئے۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ چونکہ انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لئے انہیں جاتے وقت حکومت مسلمانوں کے حوالے کرنی چاہیئے تھی۔ یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔

    Still, many South Asian Muslims insist Islam is the one and only force that can bring the subcontinent together and return it to preeminence as a single whole. “We [Muslims] were the legal rulers of India, and in 1857 the British took that away from us,” says Tarik Jan, a gentle-mannered scholar at Islamabad’s Institute of Policy Studies. “In 1947 they should have given that back to the Muslims.” Jan is no militant, but he pines for the golden era of the Mughal period in the 1700s, and has a fervent desire to see India, Pakistan and Bangladesh reunited under Islamic rule.–Time, August 2, 2007

  • 19-04-2016 at 10:47 pm
    Permalink

    شکیل چودھری صاحب میں نے ارشاد احمد عارف صاحب کے کالم پر لکھے آپ کے مضمون پر جو تبصرہ کیا تھا، وہ ابھی تک آپ کے دل میں گویا کسی کانٹے کی طرح پیوست ہے، بھلا نیہں پائے آپ اسے، حالانکہ اس کے بعد آپ سے کئی بار بار ہوچکی، مختلف کمنٹس ہوتے رہے ، مگرآنجناب کی انا اس پہلے والے گھائو کو بھلا نہیں پائی۔ حالانکہ میرا مقصد آپ کی توہین کرنا یا تکلیف پہنچانا ہرگز نہیں تھا۔ مضمون پڑھ کر جو مجھے محسوس ہوا، وہ میں نے لکھ دیا تھا۔ بعد میں آپ کے ردعمل سے البتہ محسوس ہوا کہ شائد سخت تبصرہ ہوگیا۔ خیر میں اس تبصرے کی ایک بار پھر معذرت کر لیتا ہوں۔ دل آزاری کبھی میرا وتیرہ نہیں رہا۔ خدا خوش رکھے۔

    • 20-04-2016 at 4:47 pm
      Permalink

      عامرخاکوانی صاحب‘ میں تو آپ کے کمنٹ کو تقریباً بھول چکا تھا لیکن آپ کے مشوروں نے مجھے اس کی یاد دلادی۔ آپ فرمارہے ہیں کہ میرامضمون پڑھ کوآپ کوجو محسوس ہوا‘ وہ آپ نے لکھ دیا۔ مجھےتو لگا تھا کہ کہ آپ ایک تعلق نبھا رہے تھےورنہ آپ اتنی خلاف حقیقت باتیں نہ لکھتے۔ تعلقات کی اپنی اہمیت ہوتی ہے لیکن انسان کو اپنی اصابت رائے کی قربانی بہت سوچ سمجھ کردینی چایئے۔
      کسی کی تحریر پر تنقید کرتے ہوئے اپنے محسوسات اور تعصبات کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ورنہ دوسروں پر اعتراض کرتے کرتے آپ خود اعتراض کا ہدف بن جاتے ہیں۔ آپ کو شاید یاد ہو ایک قاری نے لکھا تھا کہ ’’عامر خاکوانی صاحب کا اعتراض سمجھ سے باہر ہے۔ انہوں نے نہ تو کسی مقام کی نشاندہی کی اور نہ ہی کوئی دلیل دی۔ ان کے کمنٹ سے لگ رہا ہے کہ وہ صرف اپنے پیٹی بھائی کی مدد کوآن پہنچے ہیں۔‘ بہرحال میرا مقصد معذرت کروانا نہیں‘ صرف آپ کو احساس دلانا تھا۔ آپ نے معذرت کرکے بڑے پن کا مظاہر ہ کیاہے۔

  • 19-04-2016 at 11:06 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب نے بہت عمدہ اور صائب مشورے دئے ہیں..مجھے نہیں خیال کہ کوئی مثبت سوچ رکھنے والا ان کی افادیت کا قائل نہیں ہوگا..
    جزاکم اللہ خیرا.

  • 19-04-2016 at 11:31 pm
    Permalink

    ’’جناب محمد علی جناح کو قائداعظم کہنا ہماری یعنی پاکستانیوں کی تہذیبی ، سماجی، علمی روایت کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ یہ تو ایک امر واقعہ ، ایک حقیقت ہے۔ اس میں کسی کو کیا شک ہے ؟
    قائداعظم کو قائداعظم صرف وہی لوگ نہیں کہتے ، التزام کے ساتھ جناح کہتے ہیں، جو ان کو ناپسند کرتے، انہیں پاکستان کا قائد نہیں مانتے اور درحقیقت قیام پاکستان ہی کے مخالف ہیں۔‘‘

    قائداعظم کو کافراعظم کہنے والے بھی اسی کیٹیگری میں شامل ہیں یا انہیں استثناء حاصل ہے؟

  • 20-04-2016 at 12:00 am
    Permalink

    مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی مراد کس طرف ہے۔ قائداعظم کے بارے میں یہ شعر مشہور احراری لیڈر مولانا مظہر علی اظہر نے کہا تھا۔ زیادہ لوگ شائد اس بات سے واقف نہ ہوں کہ مولانا مظہر شیعہ تھے۔ یہ بات برسبیل تذکرہ عرض کی کہ ایک زمانہ تھا جب احرار میں اہل تشیع بھی شامل رہے تھے۔ دوسرے احراری لیڈروں نے اگرچہ مولانا مظہر کے اس فعل کو ناپسند کیا اور کبھی احرار کے کسی جلسے میں یہ شعر نہین سنایا گیا۔ خیر دلچسپ بات یہ ہے کہ تقسیم سے پہلے ہی کہا جاتا ہے کہ وہی مولانا مظہر مسلم لیگ کا حصہ بن گئے تھے۔ جی اب آپ اپنے سوال کو ری فرییز کرنا پسند فرمائیں گے؟؟؟؟
    ویسے یاد رہے کہ میں نے یہ بات واضح کر کے کہی تھی کہ قائد کے ہم عصروں میں سے کسی کا انہیں جناح صاحب کہہ دینا کچھ اتنا عجیب نہیں۔ جدید دور میں یعنی پچھلے پچیس تیس برسوں میں البتہ ایسا صرف وہی کہتا ہے جو ایک خاص نفسیاتی کیفیت کا شکار ہو۔
    ایسا میرا ماننا ہے، ممکن ہے کسی اور کا خیال مختلف ہو۔ انہیں اپنی رائے رکھنے کا پورا حق حاصل ہے۔

    • 24-04-2016 at 12:41 am
      Permalink

      I often Mr. Jinnah, not becuase I don’t respect him. But writing Mr. Jinnah allows to have a critical look at him. And this will only improves one’s understanding of Quid-e-Azam and Mr.Jinnah

  • 20-04-2016 at 1:13 am
    Permalink

    خاکوانی صاحب پاکستان کی مسلم اکثریت اگر کہتی ہے کہ یہاں اسلامی ریاست ہونی چاہئے تو پھر بی جی پی کا ہندو ریاست کا نعرہ بھی تو ٹھیک ہی ہو گا ( جو کہ آپ کی اسی اکثریتی نقطہ نظر سے اخز ہے اور جس کو رومیلا تھاپڑ اکثریتی فاشزم کہتی ہے) چناچہ ایک بات تو آج صاف ہو گئی ہم آپ سے دوسرے ممالک میں موجود مسلمانوں کا نوحہ نہیں سنیں کے اور نہ ہی آپ پان اسلامازم کے کوئی گیت گائیں گے ۔کیونکہ جس جگہ کی اکژریت جو بھی کہتی ہے ٹھیک ہے کہتی ہو گی۔
    ویسے آپ تمام لوگوں سے ایک سوال ہے کہ اکژریت تو گریب عوام کی ہوتی ہے اور وہ تو بقول فیض
    “عزت دا ٹکر تے جیون دی نکڑ” ہئ مانگتے ہیں رائٹسٹوں کا کوئی اس پہ بھی نقطہ نظر ہے یا پھر عوام کلیئے آخرت اور خواص کے واسطے دنیا ہی دائیں بازو کا نعرہ ہےَ

  • 20-04-2016 at 6:04 am
    Permalink

    عامر خاکوانی صاحب نے ایک بار تو سیکولر مذہب بیزاروں کے پانی خشک کر دئیے ہیں، ہم سب کی برداشت میں صرف ان کی تحریروں کے آخر دئیے گئے نیلے نوٹ میں دیکھتا ہوں، الفاظ جیسے بھی ہوں اس سے واضح ہوتا ہے کہ اوپر کی گئی بات برداشت سے باہر ہے- مبارکبار وصول کیجئے نفسیاتی برتری اس مکالمے میں عامر خاکوانی صاحب حاصل کر چکے ہیں

  • 20-04-2016 at 7:11 am
    Permalink

    عامر خاکوانی صاحب کی اس تحریر پر ایک وضاحتی نوٹ لکھنا چاہتاتھا مگر یہاں وجاہت مسعود صاحب اور خاکوانی صاحب کا براہ راست مکالمہ پڑھ کر اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ۔ وجاہت مسعود صاحب خود بھی حلیم الطبع اور بردبار شخصیت کے مالک ہیں ، اس پر ان کا طریقہ اور عمل گواہ ہے ۔ ہم سب میں لکھنا جب شروع نہیں کیا تھا تو ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہاں ہماری تحریروں کو مولی کے بہاو بھی نہیں پوچھا جائے گا مگر ان کی محبت ہے کہ ہر کالم اپنی پوری اہمیت پاتا ہے اور بروقت شائع ہوجاتا ہے ۔ لبرل ساتھیوں کے متعلق بہت سے شبہات اور غلط فہمیوں کا آہستہ آہستہ ازالہ ہورہا ہے ۔

  • 20-04-2016 at 7:43 am
    Permalink

    سیکولر اور اسلامسٹ نطقہ نظر کے حامل مسلمانوں کو ایک دوسرے کو مضبوط کرنا چاہیے. یہ کڑوا گھونٹ آج پی لیں. اس طرح ہم مٹھی بھر شدت پسند عناصر (جنہیں عالمی وعلاقائی قوتیں اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرتی ہیں) کو با آسانی single out کر سکتے ہیں

    ورنہ ان کی آپس کی خلیج ہی شدت پسندی کا جواز بن جاتی ہے.

  • 20-04-2016 at 3:11 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب کی یہ تحریر ایک مخصوص مائنڈ سیٹ اور جانبدار حلقہ کے واسطے تھی ، اور مقصد واہ وائی سمیٹنا تھا ، لیکن ایک غیر جانبدار نشت ( ھم سب ) میں آ کے اس تحریر کا پوسٹ مارٹم ہونا شروع ہوگیا ،
    مذید سوالات سے بچنے کے لئے جناب نے فوری طور پر اس تحریر کو اس پیج کے لئے غیر موزوں ( دبے الفاظ میں ) قرار دینا شروع کردیا ہے ، یعنی آپ اقرار کر رہے ہیں کہ آپ کی بات اور مشورے کسی مخصوص طبقہ فکر کے لئے تو تھے ہی ، ان پر بحث کا بھی صرف انہی کو حق ہے ، ( کون نہ مر جائے اس سادگی پہ )

  • 20-04-2016 at 5:05 pm
    Permalink

    بہت شاندار تحریر، اللہ آپ کو جزا دے
    ہمیں بھی بھرپور کوشش کرنی چاہئے کہ کسی بھی فرد سے مایوس نہ ہوں اور رسول اللہ ﷺ کے دعوتی انداز کے مطابق اپنی بات دوسرے لوگوں تک پہنچائیں اور ان سب کے دعاگو بھی ہوں

  • 20-04-2016 at 5:10 pm
    Permalink

    محترم، پہلی بات تو یہ کہ خاکوانی صاحب نے واضع طور پر لکھا ہے کہ یہ رایٹ کی لکھاریوں کو مشورہ ہےآپ کویا پورے پاکستان کو نہی، تو اسلام، سعودیہ اور ایران کہاں سے آ گیا. موصوف کی سادگی پر ہنسی نہی روکتی کے آپ ایران اور سعودیہ کو اسلامی ملک سمجھتے ہیں. اور پرائمری کلاس کا بچا بھی یہ بات جانتا ہے ہے ایران اور سعودیہ کا آپسی بیر اسلام نہی بلکے دیگر وجوہات کی وجہ سے ہے، اسلام کے صدقے تو انہیں نہ چاہتے ہوے بھی مل کر بیٹھنا پڑھتا ہے، او آئ سی کے اجلاسوں میں. اور اسلام صرف اسلام ہے ہمارے لئے تودیوبند اور بریلی دو مدراسسوں کے نام ہیں، آپ کا پتا نہی. (راشد الز ماں )

  • 21-04-2016 at 4:16 pm
    Permalink

    خاکوانی صاحب میرا سوال یہ تھا کہ قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والے یا پھر ان کے ہمنوا جو قائد کو ’’سلیس اردو‘‘ کو یاد فرماتے تھے وہ بھی اس کیٹیگری کا حصہ ہیں یا نہیں۔اس میں مودودی صاحب وہماشما بھی شامل ہیں؟
    ہم عصروں کا جناح صاحب کہنا تو سمجھ آتا ہے مگر دیگر مغلظات بارے کیا خیال ہے؟یا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ جس نے بھی قائد کو کبھی بھی برا بھلا کہا وہ اسی کیٹیگری میں شامل ہے؟

  • 21-04-2016 at 10:51 pm
    Permalink

    میں پاکستان میں رہتا ہوں، میرا ایشو پاکستان ہی ہے۔ ہندوستان یا دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے مشورے دینے کی ذمہ داری دانشوروں کی ہے، میری نہیں۔۔ وہی یہ ذمہ داری قبول فرمائیں” Munafiqat issi ka nam hai. Pehley hamein sari dunya-e-Islam ke muhafiz bana kar aur parai jangon me jhonk kar jaga jaga zaleel karwaya, aur ab kehtey hein ke ——-Mera issue Pakistan hai.

    • 22-04-2016 at 12:33 am
      Permalink

      بھائی میں نے تو آپ کو کسی پرائی جنگ میں نہیں جھونکا۔ آپ کو تومیں جانتا تک نہیں، خواہ مخواہ میرے اوپر الزام نہ دھریں، پہلے ہی میرے کل کے لکھے سارے کمنٹس ڈیلیٹ ہوگئے ہیں، مزید ظلم آپ نے یہ الزام میرے سر پر مار کر ڈھایا ہے۔ بھائی جس نے جنگ میں جھونکا تھا، اسے پکڑیں، مین تو خود کسی جنگ میں آج تک شریک نہیں ہوا، آپ کو کیسے بھیج دوں ۔

  • 22-04-2016 at 1:20 am
    Permalink

    کمنٹس ڈیلیٹ ہونا تکنیکی مجبوری تھی۔ سائٹ اپ ڈیٹ ہونے کے لیے 24 سے 48 گھنٹے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عرصے میں سائٹ کو صارفین تک بلا تعطل پہنچانے کے لیے تقریباً بارہ گھنٹے کے کمنٹس کی قربانی دینی پڑی ہے۔

    • 22-04-2016 at 5:00 pm
      Permalink

      کوئی بات نہیں، ہم سمجھتے ہیں۔ نئی تبدیلی یقیناً ہم سب کے لئے تکنیکی اعتبار سے بہتر ہوگی۔

  • 23-04-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    رائٹ کا سب سے بڑا اور مؤثر ہتھیار گالم گلوچ اور الزام تراشی سہوا رہ گیا

Comments are closed.