چھوٹو ڈکیت گینگ: عمل سے رد عمل تک


muhammad umairچیزوں کا سطحی مطالعہ، مسائل کا وقتی حل/ڈنگ ٹپاؤ سوچ ہمارا قومی وتیرہ بن گیا ہے۔ قومی سلامتی کے امور ہوں یا معاملہ گلی محلے کا ہوں، معاملے پر ایکشن لینے والے حکمران ہوں، ریاستی ادارے یا عوام، سب ایک ہی طریقے سے سوچتے اور عمل کرتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہم جہاں سے چلے تھے وہی کھڑے ہیں۔ دہشت گردی، ملکی معشیت، جرائم، تعلیم اور صحت کی ابتر صورتحال سمیت دیگر تمام معاملات میں ہمیں انہی مسائل کا سامنا ہے جن کا آج سے 20سال پہلے تھا۔ کسی بھی معاملے پر ہم ایکشن کی بجائے ری ایکشن دیتے ہیں اور ری ایکشن ہمیشہ ایکشن کا نتیجہ ہوتا ہے اس میں کوئی سوچ عمل فرما نہیں ہوتی۔

چھوٹو ڈکیت گینگ کو ہی دیکھ لیں، ڈکیت گینگ کے خلاف گزشتہ 3ہفتوں سے آپریشن جار ی ہے۔ آپریشن کا پہلا اور آخری مقصد غلام رسول عرف چھوٹو کی موت ہے۔ چھوٹو ایک فرد نہیں ایک سوچ کا نام ہے، یہ سوچ کبھی عزیر بلوچ کی شکل میں سامنے آتی ہے تو کبھی صولت مرزا کی شکل میں، یہ وہ کٹھ پتلیاں ہیں جو مخصوص وقت میں مخصوص کردار کے لئے سامنے آتی ہیں اور پھر ان کی جگہ نئی کٹھ پتلیاں لے لیتی ہیں اور ڈرامہ جاری رہتا ہے۔ ہم اور ہمارے ادارے ان کرداروں کا ختم کرکے سمجھتے ہیں کہ اب سٹیج کلئیر ہوگیا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا مگر ہم ہار بار دھوکہ کھاتے ہیں، کھا رہے ہیں اور کھاتے رہیں گے، کیونکہ ہم درخت کی شاخیں کاٹ کر سمجھ رہے ہیں کہ درخت کاٹا گیا ہے، ہم گھر کا کوڑا گلی میں پھینک کر سمجھ رہے ہیں کہ گھر صاف ہوگیا ہے، ہم دیواریں اونچی کرکے سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے دہشت گردی پر قابو پا لیا، حکمران دو چار افسر معطل کرکے سمجھتے ہیں کہ نظام ٹھیک ہو گیا، پولیس مقابلے میں ڈاکو مار کر پولیس سمجھتی ہے کہ جرائم ختم ہو گئے۔ ہماری یہ اپروچ کئی برس سے جاری ہے اور اس میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آیا۔ ہماری سوچ سمجھ اور ایکشن میں فرق نہیں آیا اسی وجہ سے ہمارے مسائل جوں کے توں موجود ہیں اور روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔

چھوٹو پیدائشی ڈاکو نہیں تھا، موجودہ نظام نے اس کو ڈاکو بنایا، آج سے 30سال قبل وہ ایک عام مزارعہ تھا، وڈیروں اور جاگیرداروں کی ظلم وستم سے تنگ آکر جرائم میں ملوث ہوا، پولیس کا ٹاوٹ رہا، اپنا گروہ بنایا اور اتنا مضبوط ہوگیا کہ ہمارے نظام کو اس کے سامنے متعدد بار جھکنا پڑا، پولیس جب بھی اس کے خلاف آپریشن کرتی، وہ اہلکاروں کو اغوا کر لیتا جن کو بعد میں تاوان دے کر یا مذاکرات کر کے رہا کروایا جاتا۔ اب پھر چھوٹو کے خلاف بڑا آپریشن جاری ہے جو کہ آئندہ چند روز میں انجام کو پہنچ جائے گا۔ مگر اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ چھوٹو کو زندہ پکڑا جائے اور چھوٹو کی پشت پناہی کرنے والے ان بڑوں کو پکڑا جائے جن کی وجہ سے ایک مزارعہ اتنا مضبوط ہوگیا کہ اس نے پولیس جیسے ادارے کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ ان وڈیروں، جاگیر داروں اور سیاست دانوں کی نشاندہی اولین ترجیج ہونی چاہیے جنہوں نے چھوٹوں کو اپنے جائز ناجائز کاموں کے لئے استعمال کیا۔ اگر ان سہولت کاروں کی نشاندہی نہ کی گئی ان کو نہ پکڑا گیا تو یقین مانیے چھوٹو کی موت ایک فرد کی موت ہوگی۔ کچھ عرصے بعد چھوٹو کسی اور روپ میں ہمارے سامنے ہوگا۔ جب تک کانٹوں کا درخت نہیں کاٹا جائے گا تب تک کانٹے توڑنے سے بات نہیں بنے گی ہم ایک کانٹا دور کریں گے تو چند دن بعد اسکی جگہ کوئی نیا کانٹا اگ آئے گا۔

مسائل کے حل کے لئے ہمیں کسی آپریشن کی بجائے حکمت عملی بدلنے کی ضرورت ہے، سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ چیزوں کے سطحی مطالعے کی جگہ ان پر غور کرنے کی ضرور ہے۔ مریض کی سرجری فوری نہیں کی جاتی، ڈاکٹرز کی ٹیم صلاح مشورے کرتی ہیں، مریض کی ہسٹری دیکھی جاتی ہے، ایک رائے کے بعد دوسری رائے لی جاتی ہی جس کے بعد سرجری کا مرحلہ آتا ہے، ہمارے ملک کی حالت بھی ایک مریض کی ہے، جس کو سرجری کی ضرورت ہے، مگر سرجری کے لئے ضروری ہے کہ ملک کے بڑے ایک دوسرے کی رائے لیں اور بہتر حل تجویز کیا جائے کیونکہ موجود سوچ سے تو یہ مرض ٹھیک ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ دہشت گردی سمیت کوئی مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کا حل ممکن نہیں۔ مگر اس کے لئے سوچ کی تبدیلی ضروری ہے۔ ری ایکشن کی بجائے ہمیں ایکشن والی اسٹیج پر آنا ہے، دہشت گردی کے واقعہ کے بعد واک تھرو گیٹ لگانے کی بجائے دہشت گردی سے قبل واک تھرو گیٹ لگانے ہیں، ڈکیتی کے بعد ناکہ لگانے کی بجائے ڈکیتی سے قبل ناکہ لگا کر اسے روکنا ہے، دیواریں اونچی کرنے کی بجائے ہمیں تعلیم کو عام کرنا ہے کہ دہشت گردی پنپ ہی نہ سکے، وگرنہ جو جنگلے پھلانگ کر آ سکتے ہیں ان کو 8 فٹ یا 10 فٹ کی دیوار بھی نہیں روک پائے گی، ایک افسر کو معطل کرکے اس کی جگہ معطل شدہ افسر لگانے کی بجائے افسران کو اعتماد دینا ہے اور احتساب کے اداروں کو ایسا مضبوط بنانا ہے کہ کسی بھی مسئلے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہ پڑے اور نہ دھرنوں کی۔ ہمیں بہرحال آگے بڑھنا ہے کیونکہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “چھوٹو ڈکیت گینگ: عمل سے رد عمل تک

  • 20-04-2016 at 1:07 am
    Permalink

    Correct and totally agree. It’s an article carrying deep wisdom based on experience…

Comments are closed.