چھوٹو گینگ اور شیر کا کلیجہ


zafar kakarوطن خشک سالی کی زد میں تھا۔ موت کا سا منظر آنکھوں میں سمٹ آیا تھا۔ بارانی علاقوں میں زندگی کی علامت بارش ہے اور بارش نے برسنا چھوڑ دیا تو آنکھیں برستی رہیں۔ ٹی ایس ایلیٹ نے لکھا تھا، ’ جو زندہ تھا سو مر گیا اور جو زندہ ہیں سو اب مر رہے ہیں‘۔ وطن کے میٹھے کاریز سوکھ گئے تو ماﺅں کی چھاتیاں بھی سوکھ گئیں ۔ بلبلاتے بچوں کے حلق میں میٹھے دودھ کی بجائے آنکھوں کے نمکین پانی کے قطرے برستے۔ سرخ و سفید رس بھرے سیب دینے والے درخت ٹنڈ منڈ ہو کر جنات کی بستیوں کا منظر پیش کرنے لگے۔ فطرت کی لذت بھری جوانی جن بیلوں پر دانوں کی صورت امڈ آتی تھی اب بیلوں پر انگوروں کی بجائے سڑے کشمش لٹک رہے تھے ۔ ساروی (بھیڑ بکریاں) ان لوگوں کی آنکھوں کے سامنے مر گئے جنہوں نے انہیں اولاد کی طرح پالا تھا۔ سریلی آوازوں والے چکور کوچ کر گئے۔ مہکتی مٹی سے بنے کچے مکانوں کے چولہوں سے دھواں اٹھنا بند ہو گیا تھا۔ ہزاروں رنگوں کے لاکھوں خود رو پھول دیکھنے والے سوال کرتے کہ کائنات میں کہاں سات رنگ ہیں؟ کائنات تو رنگوں کا طوفان ہے۔ خواجہ فرید نے جانے کہاں کے رشک گلزار کو کافیوں میں پرویا تھا۔ ’پیلوں ڈیلھیاں دیاں گلزاراں۔ کہیں گل ٹوریاں کہیں سر کھاریاں۔ کئی لا بیٹھیاں بار۔ بھر بھر پچھیاں نی وے‘۔ (پیلوں اور کریر کے پھلوں نے ریگزار کو رشکِ گلزار بنا دیا ہے۔ انہیں چننے کے لئے کسی نے ہلکی ٹوکری گلے میں لٹکائی ہے اور کسی نے سر پر ٹوکرا رکھا ہوا ہے۔ کئی ٹوکریاں بھر بھر کر اور انبار بنا بنا کر بیٹھی ہیں)۔ خواجہ کی کافی وطن کے ہر باغ کا منظر تھا ۔ وطن کا ہر منظر سفلوک کے رومانوی مصور جان کانسٹیبل کی ’ کارن فیلڈ ‘ تھا۔ پھر بادل زمین سے روٹھ گئے تو کارن فیلڈ کے سارے مناظر سڈنی نولین کے کوئینز لینڈ کے سوکھے کا منظر پیش کرنے لگے۔

zfarگل خان کا باپ ایک متوسط زمین دار تھا۔ تھوڑے پیسے آ گئے تو نیم ملک بھی بن گیا۔ خان لالہ کے بار ے میں مشہور تھا کہ خان لالہ نے بچپن میں ساروی چراتے ہوئے اکیلے ریچھ کا شکار کیا تھا۔ جانے کہانی کہاں تک سچ تھی مگر خان لالہ نے گاﺅں کے ہر بچے بوڑھے کو سو بار سنائی تھی۔ کہانی کے آخر میں لالہ ایک بار ضرور کہتا ، ’لالہ کے سینے میں شیر کا کلیجہ ہے بھائی‘۔ سوکھے نے خان لالہ کوبھی دو وقت کی روٹی کا محتاج بنا دیا۔ سوکھے سے تنگ آ کر گاﺅں کے کوئی ساٹھ جوانوں نے ایران جانے کا فیصلہ کیا تا کہ کوئی محنت مزدوری کر سکیں۔ ان ساٹھ جوانوں میں خان لالہ کا بیٹا گل خان بھی شامل تھا۔ جوانوں کی پورے سال کوئی اطلاع نہ ملی۔ پہلے تو خط و کتابت کے ذرائع گاﺅں میں نہیں تھے اور ذرائع ہوتے بھی تو ساٹھ جوانوں میں کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جسے لکھنا آتا ہو۔ سال بھر کی مزدوری کے بعد جوانوں نے طے کر لیا کہ واپس وطن پلٹنا چاہیے۔ کوئی ایک ماہ کا سفر مختلف پڑاﺅں میں ان ساٹھ جوانوں نے پیدل طے کیا۔ سفر کے پچیسویں روز ایک پہاڑی درے میں قافلے کو ڈاکووں نے روک لیا۔ تین ڈاکو تھے جن کے پاس ایک ریوالور اور دو چاقو تھے۔ پورے قافلے کی تلاشی لی مگر کچھ نہ ملا۔ آخر ٹٹولنے سے پتہ چلا کہ جوانوں نے پیسے قمیضوں اور واسکٹوں میں سی لئے تھے۔ ڈاکوﺅں نے کسی کی واسکٹ اتروا دی اور کسی کی قمیض۔ سارے پیسے لوٹ کر قافلے کو جانے دیا۔ پانچ دن بعد یہ ساٹھ جوان گاﺅں اس حالت میں پہنچے کہ کسی کی قمیض نہیں تھی۔ کسی کی واسکٹ غائب تھی اور کوئی ننگے پیر تھا۔ گاﺅں کے بوڑھوں کو حالات سمجھ تو آ گئے لیکن کارگزاری رات کے جرگے تک موخر کر دی۔

رات کو ملک صاحب کی بیٹھک میں جرگہ شروع ہوا۔ قافلے کے ساٹھ جوانوں میں سے ایک ہوشیار خان کارگزاری کے بیان پر لگا دیا۔ جوان نے مختصر کہانی بیان کی۔ یہاں سے ایران پہنچنے میں ایک ماہ لگا۔ وہاں پہنچ کر اٹھارہ دن بے روزگار رہے اور پھر ایک سیٹھ صاحب کے کارخانے میں مزدوری ملی۔ کباڑیوں سے پلاسٹک کی بوتلیں وغیرہ جمع کرتے اور پھر صاف کر کے اس پلاسٹک کو جلاتے اور اس کی گوٹیاں بناتے۔ کچھ لوگ پرانے ٹائر جمع کرتے اور ان کو جلار کر ان سے تار نکالتے۔ دس ماہ مزدوری کی ۔ کارخانہ دو ماہ کے لئے بند ہو رہا تھا تو ہم نے فیصلہ کیا کہ گاﺅں چلتے ہیں اور ایک ماہ گزار کر واپس آتے ہیں۔ پچیس دن کی مسافت کے بعد ایک درے میں ڈاکووں نے لوٹ لیا۔ اب یہاں سے ملک صاحب نے ہوشیار خان کے ساتھ جرح شروع کر دی۔

zafarملک صاحب! کتنے ڈاکو تھے؟

ہوشیار خان! تین ڈاکو تھے ملک صاحب۔

ملک صاحب! ارے بد بخت ساٹھ آدمیوں کو تین ڈاکوﺅں نے لوٹ لیا؟

ہوشیار خان! مگر ان کے پاس اسلحہ تھا اور ہم خالی ہاتھ تھے۔

ملک صاحب! کتنا اسلحہ تھا؟

ہوشیار خان! اس کا تو نہیں پتہ کہ کتنا تھا مگر ایک کے ہاتھ میں چرخی تمانچہ (ریوالور) تھا اور دو کے ہاتھوں میں بڑے بڑے خنجر۔

ملک صاحب! مگر پھر بھی تم لوگ ساٹھ بندے تھے اگر جھپٹ پڑتے تو وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

ہوشیار خان! ملک صاحب انہوں نے ہمیں تقسیم کر دیا تھا۔

ملک صاحب! کیسے تقسیم کیا۔

ہوشیار خان! جی انہوں نے ہم کو بیس بیس کی تین ٹولیوں میں الگ الگ کر دیا تھا۔

ملک صاحب! ( ایک موٹی گالی دے کر) اچھا تقسیم کع بعد بھی ایک بندے کے مقابلے میں بیس بندے تھے اور تم لوگوں نے کوئی مزاحمت نہیں کی؟

ہوشیار خان! اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔ ہم نے بھی خوب ان کو سنائیں۔

ملک صاحب! کس نے سنائیں؟

ہوشیار خان! گل خان نے سنائیں۔

ملک صاحب! گل خان نے کیا کہا ان کو؟

ہوشیار خان! جب وہ ہماری تلاشی لے رہے تھے تو انہوں نے گل خان سے کہا کہ واسکٹ اتار دو۔ گل خان واسکٹ اتار رہا تھا تو ایک بولا جلدی کرو۔ گل خان نے کہا، ’صبر کرو کیا آگ لگی ہو ئی ہے‘۔

اتنے میں گل خان کے والد خان لالہ جو ابھی تک ایک کونے میں دبکے خاموشی سے جرگے کی کارروائی سن رہے تھے۔ آہستہ آگے بڑھے۔ گلا کھنکار کر کہا۔ گل خان بیٹا کس کا ہے؟ لالے کا! اور لالہ کے سینے میں شیر کا کلیجہ ہے بھائی۔

اچھا چھوڑئیے اس کہانی کو۔ ڈاکوﺅں سے یاد آیا کہ اس چھوٹو گینگ کا کیا بنا؟


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 82 posts and counting.See all posts by zafarullah

3 thoughts on “چھوٹو گینگ اور شیر کا کلیجہ

  • 19-04-2016 at 1:50 pm
    Permalink

    ڈاکٹر ساجد علی صاحب آپ نے بڑے گھمبیر مسائل پر قلم اٹھایا ہے – انگریزی میں معاملہ صاف ہے گڑ بڑ ہمارے مترجمین حضرات نے کی ہے – اتفاق سے ‘راوی’ کے صد سالہ اقبال کے ضمن میں میری نذیر نیازی صاحب سے ملاقاتیں رہی ہیں – وہ محقق ضرور ہو سکتے ہیں لیکن ان کی انگریزی کی استعداد کے بارے میں میری راۓ محفوظ ہے – چراغ حسن حسرت بھی انگریزی زبان کے اتنے ماہر نہیں تھے جتنے ان کے اخبار کے مدیران کرام! ان لوگوں نے قوم کے دھارے کو ھی موڑ کر راہ سے کراہ پر ڈال دیا اور جن مقاصد کے لیے یہ ملک حاصل کیا گیا تھا نہایت شاطرانہ طریقے سے اسے اتھاہ گڑھے میں دھکیل دیا – پنبہ کجا کجا نہم! آپ نے بہت اچھا کیا کہ تطہیر کی راہ دکھائ ! شکریہ, اگلی قسط کا منتظر!

  • 19-04-2016 at 2:00 pm
    Permalink

    کیاکمال کا لکھتے ہیں…. ایک ایک لفظ کاٹ دار اور حقیقت سے جڑا… معاشرے کی عکاسی بڑے ہی خوبصورت انداز میں…

  • 19-04-2016 at 4:37 pm
    Permalink

    اچھی، بلکہ، بہت اچھی تحریر ہے۔

    اصل بات یہ ہے کہ ہمارے وی وی آئی پی حکمران کسی بھی “چھوٹو گینگ” سے زیادہ بڑے ڈکیت ہیں۔

    کتنے بدبخت ہیں یہ شرفا کہ متعدد بار مواقع ملنے کے باوجود بھی خود کو کیمنگی، اٹھائی گیری اور چوری چکاری کی سطح سے بزرگی، لیڈری اور معتبری کی سطح تک نہیں اُٹھا سکے۔

    این سعادت بہ زورِ بازو نیست

Comments are closed.