اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں (1)


sajid ali

ناصر کاظمی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے:

ہجوم نشہ فکر سخن میں
بدل جاتے ہیں لفظوں کے معانی

فکر سخن ہی میں نہیں بلکہ بعض اوقات گروہی، سیاسی مذہبی مفادات کے لیے بھی الفاظ کے معنی تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔ عظیم فلسفی کارل پوپر نے سائنس کے مورخین کے بارے میں گلہ کیا تھا کہ وہ بالعموم بہت خراب قاری ہوتے ہیں۔ مجھے اس بات سے صرف اتنا اختلاف ہے کہ بری خواندگی کو سائنس کے مورخین تک محدود کر دینا شاید درست نہ ہو کیونکہ یہ بیماری کافی ہمہ گیر ہے۔تاریخی متون کو درست پڑھنا شاید اس لیے ممکن نہیں رہتا کہ ہم نے پہلے سے بہت سے تصورات وضع کر رکھے ہوتے ہیں اور جب ان کی روشنی میں متن کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کا درست مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ کبھی اندھی عقیدت اور کبھی بے جا تعصب اور عداوت رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

افلاطون کے بہت سےمترجمین اور شارحین ہیں جو ایک طرف تو جمہوریت اور لبرل ازم کے حامی ہیں، اور ساتھ ہی افلاطون سے بھی عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں کارل پوپر اپنی شہرہ آفاق کتاب The Open Society and its Enemies میں شکوہ کناں ہے کہ وہ افلاطون کی ان عبارتوں کا جو ان کے جمہوری تصورات سے مطابقت نہیں رکھتیں ترجمے میں ان کا ڈنک نکال کر انہیں بے ضرر بنا دیتے ہیں۔ افلاطون کی عظمت اپنی جگہ مگر یہ حقیقت ہے کہ اس کا سیاسی اور سماجی فلسفہ بہت سے پہلوؤ ں سے ناقابل قبول ہے۔

مجھے ذاتی طور پر شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی عبارتوں کو پڑھتے ہوئے اسی قسم کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ کی فصوص الحکم میں متعدد عبارتیں ایسی ہیں کہ مقبول عام مذہبی تصورات کی رو سے ان کی تاویل کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ مگر عبد الوہاب شعرانی نے جو شیخ اکبر کے بہت مداح تھے مگر ساتھ ہی وحدت الوجود کو کفر گردانتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے شیخ اکبر کی عبارتوں کی ایسی دور از کار تاویلیں کیں جو انہیں وحدت الوجود کے بجائے وحدت الشہود سے سازگار کر دیتی تھیں۔ بعد میں شاہ ولی اللہ اور اشرف علی تھانوی صاحب نے شعرانی کو ہی بنیاد بنا کر شیخ اکبر کا دفاع کیا۔

فصوص الحکم میں ایک مقام ہے جہاں شیخ اکبر نے خاتم الانبیاء اور خاتم الاولیاء کا فرق واضح کیا ہے اور بین الفاظ میں بیان کیا ہے کہ خاتم الاولیاء کا مرتبہ خاتم الانبیاء سے بڑا ہے۔ انہوں نے قصر نبوت میں خاتم الانبیاء کو چاندی کی اینٹ اور خاتم الولیاء کو سونے کی اینٹ قرار دیا ہے ۔ اب عبد الرزاق کاشانی سمیت اکثر شارحین نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہاں خاتم الانبیاء اور خاتم الولیاء سے ایک ہی شخصیت مراد ہے۔ اگر آنکھوں سے عقیدت کی پٹی اتار کر اس عبارت کو پڑھا جائے تو اس تاویل کا کوئی قرینہ تلاش کرنا ممکن نہیں رہتا۔

خیر یہ تو تصوف اور مابعد الطبیعیات کی باتیں ہیں جن سے ہم عامیوں کو کوئی سروکار نہیں۔ میرا آج کا سروکار علامہ اقبال کی چند نثری تحریروں سے ہے۔علامہ اقبال کے ساتھ المیہ یہ ہوا کہ قیام پاکستان کے بعد ان کی تشریح و تفسیر کا کام ان لوگوں نے سنبھال لیا جو قیام پاکستان سے قبل کانگرس اور احرار سے وابستہ تھے۔ انہوں نے اقبال کے چند مخصوص اشعار کا انتخاب کرکے ان کی نثری تحریروں کو یک سر نظر انداز کر دیا یا ان کی من مانی تاویلیں شروع کر دیں۔ بہت چالاکی سے کام لیتے ہوئے اقبال کی نثر کو اس کے شعر کے تابع کردیا۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ شعر کو علمی اور منطقی دلیل کی جگہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ رشید احمد صدیقی صاحب نے ایک مرتبہ قوم کی بدمذاقی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دلیل کی جگہ شعر پڑھ کر ایسا سمجھتے ہیں کہ بڑا علمی کارنامہ سرانجام دے دیا ہے۔اگر علم اور خبر کی بات ہو گی تو نثر میں کہی ہوئی بات کو شعر پر ترجیح حاصل ہو گی۔

لفظوں کی معنوی تراش خراش کا ایک عبرت ناک مظہر اقبال کے خطبہ الہ آباد میں استعمال ہونے والی ایک ترکیب ہے۔ اقبال نے جہاں شمال مغربی ہندوستان کو ایک مربوط صوبہ بنانے کے لیے بہت سے سیاسی دلائل دیے ہیں اور کہا ہے کہ ہندوؤں کو اس سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے وہاں اس صوبے کے قیام کے حق میں ایک اور دلیل بھی دی ہے۔ فرماتے ہیں:

”میں صرف ہندوستان اور اسلام کے فلاح و بہبود کے خیال سے ایک منظم اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ اس سے ہندوستان کے اندر توازن قوت کی بدولت امن و امان قائم ہو جائے گا۔ اور اسلام کو اس امر کا موقع ملے گا کہ وہ ان اثرات سے آزاد ہو کر جو عربی شہنشاہیت کی وجہ سے اب تک اس پر قائم ہیں، اس جمود کو توڑ ڈالے جو اس کی تہذیب و تمدن، شریعت اور تعلیم پر صدیوں سے طاری ہے۔ اس سے نہ صرف ان کے صحیح معانی کی تجدید ہو سکے گی بلکہ وہ زمانہ حال کی روح سے بھی قریب تر ہو جائیں گے۔( خطبہ الہ آباد۔ اردو ترجمہ از سید نذیر نیازی)

اس میں سید نذیر نیازی صاحب نے ”عربی شہنشاہیت“ کی ترکیب اقبال کے الفاظ ”عرب امپیریل ازم“ کے ترجمے کے طور پر استعمال کی ہے۔ ڈاکٹر ندیم شفیق ملک صاحب نے بھی یہی ترکیب استعمال کی ہے مگر جب اقبال ”برٹش امپیریل ازم“ کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تو ندیم شفیق ملک صاحب اس کا ترجمہ برطانوی سامراج کرتے ہیں۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کے یہ دو متفاوت معنی کس طرح مراد لیے جا سکتے ہیں۔ اقبال نے جب ”عرب امپیریل ازم“ کے الفاظ استعمال کیے تو یقینا وہ ان کے مضمرات سے بھی واقف ہوں گے۔ اقبال نثر لکھ رہے تھے اس لیے شعر کی طرح وزن کی کوئی مجبوری حائل نہ ہو سکتی تھی۔ایسا بھی نہیں ہے کہ اقبال نے بے دھیانی میں یہ الفاظ استعمال کر لیے ہوں۔ اس خطبے سے کوئی ایک دہائی پیشتر وہ نکلسن کے نام اپنے خط میں مسلم تاریخ کے متعلق اپنے نقطہءنظر کو واشگاف انداز میں بیان کر چکے تھے:

”مجھے اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مسلمان بھی دوسری قوموں کی طرح جنگ کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے فتوحات بھی کی ہیں۔ مجھے اس امر کابھی اعتراف ہے کہ ان کے بعض قافلہ سالار ذاتی خواہشات کو دین و مذہب کے لباس میں جلوہ گر کرتے رہے ہیں لیکن مجھے پوری طرح یقین ہے کہ کشور کشائی اور ملک گیری ابتداً اسلام کے مقاصد میں داخل نہیں تھی۔

’اسلام کو جہاںستانی اور کشورکشائی میں جو کامیابی حاصل ہوئی ہے میرے نزدیک وہ اس کے مقاصد کے حق میں بے حد مضر تھی۔ اس طرح وہ اقتصادی اور جمہوری اصول نشو و نما نہ پا سکے جن کا ذکر قرآن کریم اور احادیث نبوی میں جا بجا آیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مسلمانوں نے عظیم الشان سلطنت قائم کر لی لیکن اس کے ساتھ ہی ان کے سیاسی نصب العین پر غیر اسلامی رنگ چڑھ گیا اور انہوں نے اس حقیقت کی طرف سے آنکھیں بند کر لیں کہ اسلامی اصولوں کی گیرائی کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔“ (اردو ترجمہ از چراغ حسن حسرت)

مندرجہ بالا اقتباس یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ اقبال نے وہ لفظ خوب سوچ سمجھ کر استعمال کیا تھا مگر ہماری حساسیت اس لفظ اور اس کے مضمرات کو قبول کرنے سے انکاری ہے اور ترجمے میں اس کا دف مار دیا جاتا ہے۔ خود حسرت صاحب نے جن الفاظ کا یہ ترجمہ ”ان کے سیاسی نصب العین پرغیر اسلامی رنگ چڑھ گیا“ کیا ہے اصل میں یہ ہیں: they largely repaganized their political ideals

گویا اقبال یہ کہہ رہے ہیں کہ ملوکیت دور جاہلیت کی طرف رجعت کا نام ہے۔ چنانچہ مسلمانوں میں خلافت کے نام پر جس ملوکیت نے رواج پایا تھا اقبال اس کے سخت خلاف تھے۔ خطبہ الہ آباد کے تقریبا سات برس بعد پنڈت نہرو کے جواب میں اقبال نے اتا ترک کے تنسیخ خلافت کے فیصلے کی ان الفاظ میں تائید کی تھی:

”کیا تنسیخ خلافت یا مذہب و سلطنت کی علیحدگی منافی اسلام ہے؟ اسلام اپنی اصلی روح کے لحاظ سے شہنشاہیت نہیں ہے۔ اس خلافت کی تنسیخ میں جو بنو امیہ کے زمانہ سے عملًا ایک سلطنت بن گئی تھی اسلام کی روح اتا ترک کے ذریعے کارفرما ہو رہی ہے۔ “ (ترجمہ میر حسن الدین)

خطبہ الہ آباد میں ایک اور لفظ کی تبدیلی بہت دوررس اثرات کی حامل ہے۔ اس خطبہ میں انہوں نے صرف دو جگہ اسلامک کا لفظ استعمال کیا ہے [[ Islamic principle of solidarity,Islamic solidarity

لیکن انہوں نے کسی جگہ سٹیٹ یا ریاست کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں کیا۔ مگر سید نذیر نیازی صاحب نے ترجمے میں جہاں بھی مسلم کا لفظ استعمال ہوا ہے اسے اسلامی سے ترجمہ کیا ہے۔ خطبہ میں ایک ذیلی عنوان ہے: [Muslim India within India ] نیازی صاحب نے اور ندیم ملک صاحب نے بھی اس کا ترجمہ کیا ہے ”ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندوستان“۔ جہاں جہاں اقبال نے مسلم سٹیٹ یا سٹیٹس کا لفظ استعمال کیا ہے اسے نیازی صاحب نے اسلامی ریاست یا ریاستوں سے ہی ادا کیا ہے۔ یہی وہ مغالطہ آفرینی ہے جس نے تحریک پاکستان میں راہ پائی اور مسلمانوں کے سیاسی اور دستوری مطالبات کو اسلامی مطالبات بنا دیا۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں مذہبی مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کا یہی موقف تھا کہ مسلم لیگ کے مطالبات قومی مطالبات ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر پاکستان کے وجود میں آنے بعد یہی لوگ تھے جنہوں نے یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا ہے اس لیے اسے اسلامی ریاست بنایا جائے۔ اب سوچنے کی بات ہے کہ مسلم ریاست سے اسلامی ریاست کی طرف سفر خبط معنی کا نتیجہ ہے یا اس میں کچھ نیتوں کے فتور کو بھی دخل ہے؟

اقبال نے اگر چہ کہا تھا:

الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

تاہم کبھی الفاظ بھی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ مفہوم و مطلب ادا کرنے کا ہمارے پاس یہی وسیلہ ہے۔ الفاظ کے درست مفہوم کا تعین نہ کرنے کا نتیجہ یہ مقبول عام تصور ہے کہ علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں پاکستان کا تصور پیش کیا تھا۔ اس کو ہم اس مضمون کی آئندہ قسط پر اٹھا رکھتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

12 thoughts on “اقبال کی فکر اور غلطی ہائے مضامیں (1)

  • 19-04-2016 at 4:32 am
    Permalink

    بہت اہم تحریر۔ نکتہ سنج و خیال آفریں

  • 19-04-2016 at 6:04 am
    Permalink

    بہت اعلیٰ

  • 19-04-2016 at 8:41 am
    Permalink

    کیا بصیرت افروز مضمون ہے ڈاکٹر صاحب۔ اگلی قسط کا شدت سے انتظار ہے۔

    • 19-04-2016 at 1:25 pm
      Permalink

      ڈاکٹر صاحب بہت ہی نازک مسئلوں کو چھیڑ دیا ہے- اس سارے گھن چکر میں ہمارے مترجم حضرات نے اپنی سہل انگیزی میں دریاؤں کے رخ ہی موڑ کر رکھ دیے ہیں – ملا ازم نے اسطرح ‘ جپھا’ ڈال لیا ہے کہ انہیں اب خود کو چھڑانا بھی مشکل ہو گیا ہے – بے حد عمدہ مضمون لکھا ہے دلی مبارکباد! دوسری قسط کا بےچینی سے منتظر!

  • 19-04-2016 at 1:00 pm
    Permalink

    اوہ۔تو سارا فساد صرف یہی ہے کہ ایک مترجم نے لفظ مسلم کا ترجمہ اسلامی کردیا۔کہاں کہاں تک گئے ہیں اس کے معانی۔قرارد داد مقاصد سے لیکر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عنوان تک کی ساری غلطیاں اسی ایک غلطی کا نتیجہ ہیں

  • 19-04-2016 at 1:08 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت تحریر سر جی –

  • 19-04-2016 at 2:51 pm
    Permalink

    تمام احباب کی پسندیدگی پر شکر گزار ہوں۔

  • 19-04-2016 at 3:10 pm
    Permalink

    سنجیدہ اور فکرانگیز تحریر ہے۔ مضمون مکمل ہو کر ہی اس کے خدوخال سامنے آسکیں گے۔ البتہ اقبال کے جناح کے نام خطوط اور دیگر نثری تحریروں سے ان کا موقف بہت سے امور میں واضح ہے جسے عام طور پر صحیح پیش کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔

  • 19-04-2016 at 9:41 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت تحریر سر جی

  • 20-04-2016 at 5:13 am
    Permalink

    محترم ڈاکٹر ساجد علی صاحب، اس بیحد اہم موضوع پر آپ کی یہ تحریر لاجواب ہے اور مجھے دوسری قسط کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ہی کوئی حتمی رائے دی جا سکے گی ۔ جہاں تک اقبال کے خطبہ آلہ آباد کے ترجمے کا تعلق ہے تو میں نے وہ دونوں تراجم پڑھے ہوئے ہیں جن کا آپ نے ذکر کیا ہےاور ان کے علاوہ کئی ایک دوسروں نے بھی اس متذکرہ خطبے کے جو متراجم کیے ہیں وہ بھی میری نظروں سے گزرے ہوئے ہیں ۔ میں ان مترجمین کے متعلق شائد قدرے مختلف رائے رکھتا ہوں تاہم کچھ ’’ تحفظات‘‘ کے ساتھ ۔ اسی سلسلے میں اپنے ایک مضمون کا لنک آپ اور دلچسپی رکھنے والے احباب کے لیے حاضر ہے۔ باقی آپ کے مضمون کی دوسری قسط پرھنے کے بعد ہی کچھ عرض کر سکوں گا۔ اولسلام
    http://urduhamasr.dk/sufi/story.php?page=muslmananihind&code=20140409105700&photoimage=Iqbal2photo.jpg

  • 20-04-2016 at 5:18 pm
    Permalink

    میرے ایک دوست کی تحریر، اگر جگہ مل سکے تو بھیج رہا ہوں۔
    علامہ اقبال کی علمی و سیاسی لغزشیں
    شیخ عبدالماجد، لاہور
    سراقبال ، مذہب اسلام میں الحاق و آمیزش کے بارے میں فرماتے ہیں:

    ۱۔۔۔ موبدانہ تخیل (قبل از اسلام زرتشتی ، یہودی، نصرانی اور صابی تخیل) مسلمانوں کی دینیات ، فلسفہ اور تصوف کے رگ و پے میں سرایت کئے ہوئے ہے ‘‘۔(اقبال کا مضمون ۔ قادیانی اور جمہور مسلمان۔ ۱۴؍مئی ۱۹۳۵؁ء)

    ۲۔۔۔ ’’اسلام، مذہبی اور ذہنی واردات کے حوالے سے نئی راہ پیدا کرناچاہتاتھا لیکن ہماری مغانہ وراثت نے اسلام کی زندگی کو کچل ڈالا اور اسلام کی روح و مقاصد کو ابھرنے کا کبھی موقع نہ دیا‘‘۔
    ۳۔۔۔اسلام کی ظاہری و باطنی تاریخ میں ایرانی عنصر کو بہت زیادہ دخل حاصل ہے‘‘۔(دین شا۔ پارسی کے جواب میں)
    ۴۔۔۔پھر فرماتے ہیں:
    ’’مذہب اسلام پر قرون اولیٰ سے ہی مجوسیت اور یہودیت غالب آ گئی۔ میری رائے ناقص میں اسلام آج تک بے نقاب نہیں ہوا‘‘۔(خط بنام راغب احسن’’جہان دیگر‘‘ صفحہ ۸۹۔ خط ۱۱؍دسمبر ۱۹۳۴؁ء)

    راقم عرض کرتاہے کہ زمانے کی گمراہیوں ، مفاسد کے وسیع تر پھیلاؤ اورمذہب اسلام میں زبردست الحاق و آمیزش کے پیش نظر اقبال، اصلاح احوال کی طرف سے مایوس تھے۔ اس مایوسی کا انداز ہ ان کے درج ذیل تاثر سے بھی لگایا جا سکتاہے۔ لکھتے ہیں:
    ’’مجھے یقین ہے کہ اگرنبی کریم ؐ بھی دوبارہ زندہ ہوکراس ملک میں اسلام کی تعلیم دیں توغالباً اس ملک کے لوگ اپنی موجودہ کیفیت اوراثرات کے ہوتے ہوئے ’’حقائق اسلامیہ‘‘ نہ سمجھ سکیں‘‘۔(مکاتیب اقبال بنام خان نیازالدین صفحہ ۷۳۔ شائع کردہ اقبال اکادمی)

    علامہ نے اپنے علی گڑھ لیکچر ’’ملت بیضا پر عمرانی نظر‘‘ میں ہندوستان میں اسلامی و قومی سیرت کی نشوونما کے مختلف اسلوب کی تاریخ بیان کی ہے ۔ اس ضمن میں آپ نے وسیع بنیادوں پرایسی ’’اسلامی جماعت‘‘ معرض وجود میں لانے کی تمنا ظاہر کی ہے جو ان تمام عناصر کی آمیزش سے اپنے وجود کوکمال احتیاط کے ساتھ پاک کردے جو اس کی روایات مسلمہ اور قوانین منضبطہ کے منافی ہوں۔
    character which at all costs holds fast to its own, ……it carefully excluded from its life all that is hostile to its cherished traditions & institions.

    علامہ کی نظروں میں پنجاب میں ایک ایسی ’’اسلامی جماعت‘‘ موجود تھی جسے تقلید کیلئے مسلمانان ہند کے سامنے بطور نمونہ پیش کیا جا سکتاہے۔ یعنی جس نے کمال احتیاط کے ساتھ ہر نوع کی غیراسلامی روایات و عناصر سے اپنے وجود کو پاک کر رکھا تھا۔

    علامہ سمجھتے تھے کہ ان کا علی گڑھ لیکچر تشنہ رہے گااگراس ’’اسلامی جماعت‘‘ کی نشاندہی نہ کردی جائے ۔ چنانچہ اگلی سطور میں علامہ اس کایوں اظہار کرتے ہیں:
    ’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ ا س جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
    ( لیکچرملت بیضا پر عمرانی نظر ۔ ۱۹۱۰؁ء)

    A carefull observation of the Muslim community in India reveals the point on which the various lines of moral experience of the community are now tending to converge. In the Punjab the essentially Muslim type of character has found a powerful expression in the so-called Qadiyani sect.

    حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی وفات ۱۹۰۸؁ء میں ہوئی تھی۔ یہ لیکچر اس کے دو سال بعد کاہے۔

    علامہ اقبال کی علمی لغزش
    اگر علامہ کامطلب یہ ہے کہ لوگوں کو حقائق اسلامیہ سمجھانے اور اسلامی سیرت کے ٹھیٹھ نمونہ کی حامل جماعت پیدا کرنے کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ، حضرت مرزا صاحب سے کسی طرح کم تر مرتبہ رکھتے ہیں تویہ علامہ کی ایک بڑی لغزش ہے اور اس معاملہ میں جماعت احمدیہ ان کی ہمنوائی نہیں کر سکتی۔
    حضرت بانی سلسلہ احمدیہؑ کی نظرمیں آنحضرت ﷺ کا مقام و مرتبہ کیاہے ؟ آپ کی قوت قدسیہ کے طفیل اصلاح عالم کا جو عظیم الشان کام ہوا، وہ کس درجہ بلند ہے؟ مناسب ہوگا یہاں دو ایک حوالے آپ کے ارشادات میں سے درج کر دئے جائیں ۔

    حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام فرماتے ہیں:
    ’’ اگر ا س جگہ یہ استفسار ہو کہ اگریہ درجہ اس عاجز اور مسیح کے لئے مسلم ہے تو پھر جناب سید ناو مولانا سیدالکل و افضل الرسل خاتم النبیین محمد مصطفی ﷺ کے لئے کون سادرجہ باقی ہے؟ سو واضح ہو کہ وہ ایک اعلیٰ مقام ا ور برتر مرتبہ ہے جو اسی ذات کامل الصفات پرختم ہو گیا ہے جس کی کیفیت کو پہنچنا بھی کسی دوسرے کاکا م نہیں چہ جائیکہ وہ کسی اورکو حاصل ہو سکے ۔۔۔‘‘۔ (توضیح مرام روحانی خزائن جلد نمبر۳ مطبوعہ لندن صفحہ۶۲)
    پھر فرماتے ہیں:
    ’’ میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللّٰہ ﷺ کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گزر چکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور وہ اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ ﷺ نے کی، ہرگز نہ کر سکتے ‘‘۔(ملفوظات جلد دوئم مطبوعہ لندن صفحہ ۱۷۴)
    علامہ اقبال کی دوسری علمی لغز
    ہمیں حیرت ہے کہ چالیس سال تک احمدیوں سے رشتۂ موانست قائم رکھنے کے بعد جب عمر کے آخری تین سالوں میں علامہ اقبال نے اپنے تئیں تعصب کی قباؤں میں لپیٹ کر احمدیوں کے خلاف محاذآرائی شروع کی تو آپ پرایکا ایکی درج ذیل قسم کے انکشافات ہونے لگے

    *۔۔۔آپ کو تحریک احمدیہ میں سامی اور آریائی تصوف کی عجیب و غریب آمیزش دکھائی دینے لگی۔
    (A strange mixture of Sometic and Aryan mysticism).
    *۔۔۔آپ کو تحریک احمدیہ ، اسلام کے رخساروں پر زردی کی صورت میں نظرآنے لگی۔

    (Pallor of Ahmadism on the cheeks of Indian Islam)

    *۔۔۔آپ نے انکشاف کیا کہ جو لوگ تحریک احمدیہ کا شکار ہوئے ہیں ان کی روحانیت فنا ہو چکی ہے ۔

    (Destroyed the sipritual virility.)
    *۔۔۔ آپ نے پنڈت نہرو کو یہ بھی لکھ دیا کہ تحریک احمدیہ کے ڈرامے میں حصہ لینے والے ایکٹر انحطاط کے ہاتھوں محض کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں۔

    (Innocent instruments in the hands ofdecadents).

    (پنڈت نہرو کے سوالات کے جواب میں ۔ مضمون جنوری ۱۹۳۶؁ء)

    نیز پنڈت جی کو ایک علیحدہ خط کے ذریعہ لکھاکہ احمدی ، اسلام کے غدار(Traitors) ہیں۔

    اس تعصب کو ذاتی و سیاسی وجوہ نے جنم دیا تھا ۔ تعصب ایک ایسی بلا ہے جو غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط کہنے پر اکساتی ہے۔ تحریک احمدیہ میں کیڑے نکالنے کے سلسلے میں اقبال کے ہاں یہی تصویر ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ دین کے معاملہ میں ہر ایک کو تعصب سے محفوظ رکھے ۔ سراقبال ہی کا کہناہے ؂
    لاکھ اقوام کو دنیا میں اجاڑا اس نے
    یہ تعصب کو مگر گھر کا دیا کہتے ہیں

    (علامہ اقبال کی طرف سے متعصب علماء کی دربار نبویؐ میں شکایت ۔ نظم ابرگوہر بار)
    ( بعض اخبارا ت، سراقبال کے احمدیوں کے ساتھ چالیس سالہ رشتہ ٔ موانست کا ذکر کئے بغیر صرف تین سال کی ’’مخالفت احمدیت‘‘ کو اچھال کر وطن عزیز میں اشتعال کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔مثلاً دیکھئے روزنامہ ’’لشکر‘‘ ۷؍جون ۱۹۹۸؁ء اور ’’اوصاف‘‘ راولپنڈی ۷؍جون ۱۹۹۸؁ء ۔ مگر وہ اس حقیقت کو پردہ ٔ اخفاء میں رکھتے ہیں کہ مخالفت کا یہ دور کب شروع ہوا۔ کتنے عرصہ تک جاری رہا۔ اس کی وجوہات کیا تھیں۔ اگلی سطور میں ہم مخالفت کی ایک وجہ کی نشاندہی کررہے ہیں)۔

    سر اقبال کی سیاسی لغزش

    ۱۹۳۵؁ء میں احمدیت کے خلاف سر اقبال کے بیانات میں جو شدت اور تلخی در آئی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت برطانیہ نے وائسرائے کونسل ہند کے ممبر سر فضل حسین کی میعاد رکنیت ختم ہونے پر ان کی جگہ سر اقبا ل کو متعین کرنے کی بجائے سر ظفراللہ خان کاتقرر کر دیا۔ یہ تقرر خالصتاً سر ظفراللہ خان کی محنت ، دیانت، خلوص ، حسن تدبر اور آپ کی سابقہ عمدہ کارکردگی کی وجہ سے ہوا تھا اس میں جماعت احمدیہ کا کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ تقرر ’’زمیندار‘‘ ، کانگرس، احرار وغیرہ کے لئے سوہان روح بناہوا تھا ۔ کیونکہ چوہدری صاحب مسلم حقوق کے لئے شمشیر برہنہ تھے مگر افسوس یہ تقرر سر اقبال کی طرف سے احمدیوں کی مخالفت کا ایک اہم اور فوری سبب بن گیا جسے بیان کرنے میں بہت بخل سے کام لیا جاتاہے۔ چوہدری صاحب نے مئی ۱۹۳۵؁ء میں اپنے عہدے کا چارج لے لیا۔ ادھر مئی ۱۹۳۵؁ء میں ہی سراقبال کااحمدیوں کے خلاف پہلا مضمون شائع ہوا جس کے ضمیمہ میں عیسائی حکومت کو یہ مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ استحکام اسلام کے لئے احمدیوں کو اقلیت قرار دے دے۔ اس مطالبہ کے بانی مبانی دراصل احرار تھے اور احرار کے متعلق فرزند اقبال جناب ڈاکٹر جسٹس (ر) جاوید اقبال کی تحقیق یہ ہے :
    ’’مجلس احرار خلافت کمیٹی کی کوکھ سے نکلی تھی اوریہ جماعت کانگرس کی ہمنوا تھی‘‘۔(زندہ رود صفحہ ۵۸۹)
    فرزند اقبال نے احرار کے ساتھ سر اقبال کے رابطے پر بھی روشنی ڈالی ہے اور دبے الفاظ میں تسلیم کیاہے کہ علامہ کامیلان اور تعلق احرار ٹولے کی طرف ہو چکا تھا۔ فرماتے ہیں :
    ’’جب اقبال کشمیر کمیٹی میں احمدیوں سے مایوس ہوئے تو عین ممکن ہے احراریوں نے اقبال سے مفاہمت کرنے کی کوشش کی ہو‘‘۔(زندہ رود صفحہ ۵۸۹)
    پھر لکھتے ہیں:

    ’’کشمیر کمیٹی کے دوران ممکن ہے اقبال نے احراری رہنماؤں سے مفاہمت کرنے کے بعد ان کی حوصلہ افزائی بھی کی ہو‘‘۔(ایضاً)
    واضح رہے جب تک سراقبال نے احمدیوں کے ساتھ بھائی چارے اور مؤانست کارشتہ قائم رکھا ، آپ کی سیاست مسلم اتحاد و یگانگت کے جذبہ سے عبارت رہی ۔بدقسمتی سے جب یہ صورت برقرار نہ رہی تو سیاست اقبال کی یہ خوبی دھندلی نظر آنے لگی ۔چنانچہ سر فضل حسین ایک خط میں لکھتے ہیں:
    ’’اقبال اور بعض دیگر مسلم لیڈر اپنے سیاسی اغراض کے حصول کی خاطر مسلمانوں میں مذہبی فرقہ پرستی کو ہوا دے رہے ہیں‘‘۔( سرفضل حسین کے انگریزی خطوط مرتبہ وحید احمد صفحہ ۶۹۵)
    ( نوٹ: سر فضل حسین اپنی مخلصانہ کاوشوں کے سبب مسلمانوں کے ’’اورنگ زیب‘‘ مشہور تھے۔)
    ایک اور مکتوب میں سر فضل حسین انکشاف فرماتے ہیں:

    ’’اقبال مسلمانوں کے اتحاد اور یک جہتی کو اندر سے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔ ( سرفضل حسین کے انگریزی خطوط مرتبہ وحید احمد )
    پنجاب کی ۱۷۵نشستوں میں سے مسلم نشستیں ۸۹ تھیں ۔اقلیتوں کے لئے خصوصی مراعات کے پیش نظر احمدیوں کو الگ اقلیت قرار دے دیا جاتا تو انہیں ایک نشست تو ملنی تھی۔ اگر صرف ایک کا اور اضافہ ہو جاتا تو مسلم نشستیں ۸۷ رہ جاتیں اور غیر مسلم سیٹیں ۸۸ ہو جاتیں۔ مسلم اکثریت ، اقلیت میں بدل جاتی ۔ یہی کانگریس اور احرار کی تمنا تھی ۔ سراقبال کی یہ بھی ایک بڑی لغزش تھی کہ انہوں نے اپنا وزن احرارکے پلڑے میں ڈال دیا۔ یہ تو اللہ تعالی ٰ کا فضل ہوا کہ علامہ کا مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا اور اس وقت پنجاب کی مسلم سیاست تباہ ہونے سے بچ گئی۔

    (مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل۲۳؍اپریل۱۹۹۹ء تا۲۹؍اپریل ۱۹۹۹ء)

  • 20-04-2016 at 5:21 pm
    Permalink

    نوٹ، میرا مندرجات تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
    بھائی ڈرتا ہوں، یہاں گلی گلی میں قادری ابل رہے ہیں۔

Comments are closed.