سب کچھ کھو کر بھی کھوکھر نہ ہوئے۔۔۔۔


quratul ain fatimaہم جس علاقہ میں رہتے ہیں وہاں کھوکھروں کا کافی نام ہے، جو کھوکھر ہونے کے علاوہ سیاست دان بھی ہیں۔ اس علاقہ میں کھوکھروں کی بہت چلتی ہے۔ یہاں تک کہ چوک بھی کھوکھر ہیں، کیبل والے بھی کھوکھر ہیں۔ ادھر ایک دن کیبل والے کو کہو کہ بھئی کیبل صاف نہیں آ رہی تو آپ کی کیبل کا کنکشن کاٹتے ہوئے تار سمیٹے گا اور کہے گا ایسی ہی آتی ہے۔ دیکھنی ہے تو دیکھیں۔ اُوپر سے غضب یہ ہے کہ دور دور تک کوئی ماچھی، تیلی، آرائیں، چوہدری کیبل والا نہیں ملے گا۔ ویسے کھوکھر اچھے ہوتے ہیں خدا جانے مخلوقِ خدا ان سے کیوں خائف ہے۔ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ایک محلے کی خاتون مجھے دروازے پر یا کہیں مارکیٹ میں ملتیں تو روک لیتں۔ انھیں میں اتنی اچھی لگی کہ ایک دن گھر آ گئیں۔ ہم نے بھی مہمان نوازی کے لیے چائے اور اس کے ساتھ شائے کے لوازمات بھی رکھے۔ وہ امی سے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے ہوئے خاندان کے بارے میں معلومات لینے لگیں۔ مجھے محبت سے پاس بٹھا لیا۔ جانے ان کے دل میں کون سی خواہش انگڑائیاں لے رہی تھی کہ ان کی آنکھوں سے محبت بہے جا رہی تھی۔ چائے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے انھوں نے امی سے کاسٹ پوچھی۔ ابھی امی کے منہ سے اتنا نکلا تھا کھوکھر کہ ایک جھٹکے سے وہ پیچھے ہٹیں اور محبت کی جگہ ان کی آنکھوں میں وحشت دوڑنے لگی۔ ایک دم کھڑی ہو گئیں اور کہنے لگیں کھوکھر تو اچھے نہیں ہوتے یہ تو بد معاش ہوتے ہیں اور سب کچھ وہیں چھوڑ کے تیزی سے ایسے نکلیں جیسے چائے کی جگہ بم رکھ دیا ہو۔ اس کے بعد الحمداللہ گلی محلے دروازے مارکیٹ کہیں بھی ملیں کنی کترا کر نکل گئیں۔ اس واقعہ کے بعد مجھے خوامخواہ بدمعاش اور غنڈے والی فیلنگز آنے لگیں۔ حالانکہ ہم تو مکمل طور پر کھوکھر تھے بھی نہیں۔

01

پاکستان میں ہر شے میں ملاوٹ ہے، ہمارے بزرگوں نے بھی ملاوٹ کی اور ملاوٹ کی انتہا کر دی۔ بڑے دادا کو جانے کیا سوجھی سعودی عرب کی مقدس سر زمین چھوڑ کر پاکستان چلے آئے اور یہاں آ کر پھر انہیں سوجھی تو کیا سوجھی ایک کھوکھر خاتون سے شادی کر لی۔ اور یہیں اپنا خانہ ٓاباد کر لیا۔ ایک پھٹا پرانا لمبا چوڑا شجرہ نسب جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے، جس کے کسی کونے کھدرے میں میرا بھی نام شامل ہے، سے معلوم ہوا کہ ہم تو کھوکھر ہیں ہی نہیں۔ دادا جی تو خالص عربی تھے۔ مجھے یہ ملاوٹ بالکل پسند نہیں آئی لیکن چارو ناچار تسلیم کرنی پڑی۔ علمی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہمارا خاندان ہمیشہ کوشش کرتا رہا کہ کسی نہ کسی طرح اس راہ میں حصہ ڈالا جائے۔ خاندان کی بڑی بوڑھیاں جنہیں میں نے اپنے ہوش میں دیکھا عربی اور فارسی کی ماہر تھیں۔ عربی اور فارسی اشعار کہتیں بھی اور زبانی بھی یاد تھے۔ یعنی ادب سے گہرا شغف تھا۔ قرآن، حدیث، تفسیر اور فقہ پر بھی عبور تھا یہ گھر میں رہنے والی خواتین کا حال تھا۔ لیکن انہی خواتین کو پڑھنے کے لیے اسکول اور کالج جانے کی اجازت نہیں تھی۔ خواتین چھپ چھپ کر جدید تعلیم حاصل کرتیں۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کوئی اپنے خاندان کی فرسودہ روایات سے بغاوت کر لیتا ہے اور دوسروں کے لیےآسانی اور ترقی کے راستے 02ہموار کر دیتا ہے، لیکن ایسا دم خم میرے ابا کے علاوہ کسی میں نہ تھا۔ میری بڑی بہن نے یونیورسٹی داخلہ لے لیا تو ابا کے چچا کہتے اس نے بیٹی کو گھر سے نکالا اب یہ مردوں کے ساتھ پڑھے گی اسے غیرت والا فعل نہیں سمجھتے تھے ۔ لیکن اسی ایک مثبت قدم کی وجہ سے پھر سب خاندان والوں نے اپنی بیٹیوں کو پڑھایا۔ یوں آپا خاندان کی واحد پی ایچ ڈی خاتون بنیں تو انھیں  خاندان کی ساری بچیوں نے رول ماڈل بنا لیا۔ ایک اور مسئلہ بھی تھا۔ خاندان والوں کو اپنے خاندان پر اتنا مان تھا کہ خاندان سے باہر رشتہ کرنا گناہ کبیرہ سمجھتے تھے۔ بیٹی بوڑھی ہو جائے لیکن کسی دوسری ذات کے بندے کے ساتھ بیاہیں گے نہیں۔ یہ روایات وقت کے ساتھ ساتھ دم توڑتی گئی۔ لیکن دوسری ذاتوں کو کم تر سمجھنے والی خاصیت ابھی تک قائم ہے۔ جس کا بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خاندانی نہیں قومی مسئلہ ہے۔

ہمارے پاس آبا و اجداد کےسو سال پہلے تک کے اور کچھ اس سے بھی پرانے مخطوطات محفوظ ہیں۔ جنھیں عربی، اردو، فارسی، انگریزی اور پنجابی زبان میں لکھا گیا ہے۔ یہ علمی خزانہ تفسیرالقرآن،علم الحدیث، فقہ، تصوف، میڈیسن، شاعری، سفر نامے اور خود نوشتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں اٹھارویں صدی کے آخر سے لے کر 1945 تک کے لکھے گئے چند خطوط بھی شامل ہیں۔ بہت سے قیمتی مخطوطات چرا لیے گئے جو بعد میں لاکھوں میں فروخت کیے گئے اور آج ان کے مالکان کوئی اور ہیں۔ ان میں سے دس سے زائد مخطوطے مختلف یونیورسٹیز کے طالب علم اپنے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مقالہ جات کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

03طب کے حوالے سے ہمارے بزرگوں نے اپنی زندگیاں تجربات میں ختم کر دیں۔ نانا جان ایک ایسی دوا تیار کر رہے تھے جو بیک وقت کئی بیماریوں کا علاج تھی۔ نانا جان اپنی حویلی میں موجود ڈیرا نما لیبارٹری میں سارا سارا دن تجربات کرتے، مختلف کیمیکلز کو ملاتے اور مرکبات کو دم پخت کرتے پائے جاتے۔ جن کی بُو حویلی میں ہر طرف پھیلی ہوتی تھی۔ بہت سے خاندانی نسخے ایسے ہیں جن کا استعمال بچپن سے دیکھتی آ رہی ہوں اور جن کے حیرت انگیز نتائج کی ذاتی طور پر معترف ہوں۔ ان کی ایسی ایسی تحقیقات ہیں جن سے ادویات کی دنیا میں انقلاب آ سکتا ہے۔ کھوکھروں والا ایک بھی گُن اس خاندان میں نہیں۔ کیونکہ اس خاندان نے بندوق کی بجائے قلم اور علم سے دوستی کی ہے۔ اس خاندان کے چشم و چراغ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ زیادہ تر یہ “چراغِ دیدہ” یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پائے جاتے ہیں۔ مجھے اکثر خالص کھوکھر نہ ہونے پر بے حد افسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر میں خالص کھوکھر ہوتی تو آج صوبائی یا قومی سیاست کا حصہ ہوتی یا کم از کم بے روزگار رہ کر اپنی صلاحیتوں کا خون ہوتا نہ دیکھ رہی ہوتی!

بیٹا قرۃ العین فاطمہ، عام حالات میں “ہم سب” نے یہ تحریر شائع نہ کی ہوتی کیونکہ اس میں ذات پات کے غیر سائنسی، غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر منصفانہ اور غیر انسانی تصورات کی توثیق کا شائبہ تھا۔ دنیا میں ہر انسان دو افراد کی باہم موانست کا نتیجہ ہے، ایک ماں اور ایک باپ۔ تیسرے فرد کو اس حیاتیاتی فعل میں کوئی دخل ہے اور نہ اس سے کوئی تعلق۔ ذات، قبیلہ اور نسل کے رشتے ناقابل تصدیق مفروضات ہیں جن کی بنیاد پر تاریخ میں بہت ناانصافی کی گئی ہے۔  قانون کی بنیادی اکائی  فرد انسانی ہے۔ وراثت کو تسلیم کرنے والے افراد کی نظر میں بھی جائیداد کی وراثت دو حیاتیاتی والدین کے تعلق سے ثابت ہوتی ہے۔ تصور انصاف اجتماعی ذمہ داری کے اصول کو مسترد کرتا ہے۔ جمہوریت شہریت کی مساوات کی بنیاد پر ایک فرد ایک ووٹ کے اصول کو تسلیم کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں پیشہ کی بنیاد پر پیدائشی ذات کے اصول، قدیم قبائلی عصیبت اور نسل کے مفروضے کو رسوخ، امتیاز اور برتری کا جواز بنا لیا گیا ہے۔ ذات پات محض مردانہ بالادستی، قبائلی تعصب اور استحصالی معیشت کا نا قابل قبول واہمہ ہے۔ قابل قبول اصول وہی ہے جسے آپ کے بزرگوں نے اپنایا اور آپ نے بہت اچھی طرح سے بیان کر دیا ہے، “اس خاندان نے بندوق کی بجائے قلم اور علم سے دوستی کی ہے”۔ ہمارے ہر گھرانے کو بندوق کی بجائے قلم اور علم سے دوستی کرنی چاہیے اور انسانی مساوات کا نصب العین اپنانا چاہیے۔ یہی انسانیت کی میراث ہے اور یہی انصاف کا تقاضا۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “سب کچھ کھو کر بھی کھوکھر نہ ہوئے۔۔۔۔

  • 19-04-2016 at 8:49 am
    Permalink

    شکر ہے کہ یہ عام حالات نہیں ہیں اور آپ نے یہ تحریر ہم سب میں شائع کر دی (خاص حالات کی آپ نے تشریح تو نہیں کی لیکن غالباؒ ضرب عضب وغیرہ کی طرف اشارہ ہو گا یا چھوٹو گینگ کے ساتھ ہونے والے معرکۂ حق و باطل کی جانب)۔

    ذات برادری ایک ایسا تصور ہے جس پر ہمارے ہاں بیشتر لوگ مذہب سے بھی بڑھ کر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ سمجھ لینا کہ ایک فرد ایک ووٹ کے لفظ قانون میں لکھ دینے کے بعد اس تصور کا خاتمہ ہو گیاَ، اسی طرح غیرحقیقت پسندانہ طرزِ فکر ہے جیسے یہ سوچ کر مطمئن ہو جانا کہ اسلام نے سب کو برابر کی حیثیت عطا کر دی ہے۔ اس موضوع پر تفصیل سے بات کیوں نہیں ہونی چاہیے؟

  • 19-04-2016 at 10:11 am
    Permalink

    آپ کی تحریر نے مارکیز کے تنہائی کے سو سال کی یاد تازہ کر دی. جہاں لامتناہی بے گانگی کا سلسلہ کرداروں کی منزل کا تعین کرتی ہے، وہ کردار جنھیں دیوانگی ورثے میں ملتی ہے. مگر یہ مخزن فکر و کمال وقت کے حافظے سے محو نہ ہو جاۓ. جہاں غم روزگار بھی بڑے دلفریب ہیں.

  • 19-04-2016 at 12:09 pm
    Permalink

    (اب میں سمجھا تیرے”دل میں” اس “داغ” کا مقصد)۔ آپ کی موجودہ “ذاتی قسم کے” مضمون سے وہ بات بالکل اظہر من الشمس ہوگئی جو آپ نے اپنے سابقہ مضمون بعنوان” اگلے جنم مجھے بیٹی نہ کیجئیو” میں کہنا چاہی تھی۔ آپ پر یہ چیز واضح ہونی چاہئے کہ ہم برِ صغیر پاک و ھند کے تقریباً سبھی لوگ ھندو ویں سے مسلمان ہوۓ ہیں ماسواۓ چند لوگوں کے جو دیگر عجم وارن سے آۓ اور ھندوانہ ذات پات ہماری گھٹی میں پڑی ہے۔ اتنی زیادہ راسخ اور گہری کہ مذہب بھی ہمارا کچھ”بگاڑ”نہیں سکا۔اگر میں کہوں کہ ہم اس معاملہ میں اس قدر ڈھیٹ اور ہٹ دھرم ہیں کہ،( نعوذ باللہ من ذالک) کہ ہم خدا کے انکاری اور باغی ہو جاتے ہیں مگر اس لعنت چھٹکارا نہیں پانے کی کوشش کرتے خصوصاً دیہات میں مگر شہروں بھی کوئی مثالی صورتِ حالات نہیں، اسی طرح جس طرح ھندوانہ رسم “جہیز” سے۔ہمنے وہی وہی ھندوانہ ذات پات، برہمن، ویش، کھتری وغیرہ کو “islamize” کرلیا ہے ورنہ حقیقت نہیں وہی سب کچھ ہے۔ ہم نے پیشوں کو ذاتوں اور قوموں کا نام دے ر کھا ہے۔جہاں تک میری تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ، مہاجر ین میں نہیں بلکہ یہاں کے جتنے قدیم لوگ آباد ہیں ان میں موجود جتنے بھی کامے یا بعنوان دیگر “کمیں ” ہیں اگر انکی ذات یا قوم پوچھیں تو وہی بتاتے ہیاں جو وہاں کے امیروں یا زمینداروں کی ہوتی ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ جو شروع شروع میں زیادہ عقلمند اور دانا تھے انہوں نے قدرے آسان مگر عقل ود انچ کا پیشہ اختیار کرلیا اور انکی اولاد نے بھی وہی اختیار کئے رکھا مگر انہوں نے مزید تحقیق و جستجو نہ کی اوربانجھپن کا شکار ہو کر گھٹیا لوگ بن گئے اور “کمی” “کمیں”یا گھٹیا کہلانے پر مجبور ہوۓ ورنہ تھے اس نسل اور ذات برادری کے۔ واللہُ ٗاعلم بال ثواب۔

  • 19-04-2016 at 3:50 pm
    Permalink

    اب پتہ چلا کہ آپ علم و ادب دوست کیوں ہیں
    ذات پات کا تو ہمارے ہاں ڈھونک ہے بہت بڑا ڈھونک
    اندر سے ہمارے معاشرے میں سب کا کچا چھٹا ایک جیسا ہے

  • 19-04-2016 at 4:36 pm
    Permalink

    تحریر کی دلچسپی کھوکھر سے شروع ہوئی کیونکہ ہم بھی کھوکھر ہیں اور سائنس پر آ کر ختم ہوئی تحریر نے مجھے بے ساختہ میری مرحوم دادی اماں کی یاد دلا دی جنہیں ہم سب یعنی ان کے نواسے ، پوتے ، بیٹے بیٹیاں اور خاندان کے دیگر ان سے اگلی نسل کے لوگ اماں ہی کہتے تھے وہ بھی ایسی ہی سائنس و علم، اسلامی تعلیم میں مکمل و ہر فن مولا تھیں ، یوں تو کسی یونیورسٹی سے پڑھی لکھی نہیں تھیں مگر ہزاروں کی تعداد میں عورتوں کے کام آئیں ہمارے گائوں اور آس پاس کے گائوں کے لوگ انہیں دائی اماں کے نام سے جانتے تھے اور آج بھی یاد کرتے ہیں۔

  • 19-04-2016 at 5:07 pm
    Permalink

    ایسے ادارتی نوٹ ان کالموں کے نیچے ہونے چاہیں جن میں فحش جملے شامل کیے گئے یا جن کے عنوانات انتہائی ناقص یا کالم بوگس ہیں ۔ اس کالم کے نیچے ایسی تنقید کی سمجھ نہیں آ رہی

  • 19-04-2016 at 10:48 pm
    Permalink

    Bazurgon Ka shandar mazzi .but it’s good to see you are also writer .good keep.it up.it’s a nice piece of writing

  • 20-04-2016 at 8:22 am
    Permalink

    حسب نسب خطوں، علاقوں اور پیشوں سے نہیں، انسانی افعال و اعمال سے بنتا ہے۔ علم و ادب، فلسفہ، سائنس، طب، تحقیق کا شجرہ نسب انسان سے ملتا ہے، وہ انسان جس کی فضیلت اور برتری اس کا علم و ہنر ہے۔ آپ کے بزرگوں نے جس علمی کیمیا گری میں زندگی صرف کی وہ کھوکھروں، چوہدریوں، مَلکوں اور دیگر پیشوں اور طبقوں کی بنیاد پر بنے نام نہاد انساب و موروث اور ذات پات سے بالا و برتر ہے۔ یہ وہ سونا ہے جسے چوری کیا جا سکتا ہے نہ چھینا جا سکتا ہے۔

  • 23-04-2016 at 6:41 pm
    Permalink

    I just got shocked to read such a writing.Is it a proper place to defend somone’s own personality or family.Writer just explained her own position in the society.Dear writer, to us whether you are khokhar aur gakhar we have no issue with you.but at least produce some quality article

  • 24-04-2016 at 11:41 am
    Permalink

    کھوکھر اور راجپوت کھوکھر میں کیا مناسبت ہے؟

Comments are closed.