پیپلز پارٹی پنجاب میں


جناب آصف زرداری نے لاہور میں جلسوں کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔

قومی سیاسی جماعتیں ہی ملکی وحدت کی ضمانت ہوتی ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب، تحریکِ انصاف سندھ، ن لیگ پختون خوا اور یہ سب جماعتیں بلوچستان میں متحرک ہوں گی تو فاصلے سمٹیں گے۔ آمریتوں نے اپنے مفادات کے لیے جس طرح قومی جماعتوں کو کمزور کیا اور ان کے متبادل کے طور پر علاقائی اور لسانی گروہوں کو ابھارا، وہ ہماری تاریخ کا المناک باب ہے۔ شاید ہی کسی ریاستی اقدام نے ملک کو اتنا نقصان پہنچایا ہو جتنا اس حکمت عملی نے پہنچایا۔ جسدِ وطن پر یہ زخم آج بھی موجود ہیں۔ گاہے اِن سے لہو رستا ہے تو درد سارے بدن میں پھیل جاتا ہے۔

اس ثابت قدمی کی مگر داد دیجیے کہ بچشمِ سر نتائج دیکھنے کے باوجود، اس روش میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ چند ماہ پہلے بلوچستان میں ن لیگ کو ایک نئی لیگ سے بدلا گیا۔ کراچی کا تجربہ بہ اندازِ دیگر دہرایا گیا، یہ دیکھتے ہوئے بھی کہ کراچی کے زخم ابھی بھرے نہیں۔ اس سے وقتی فوائد تو مل سکتے ہیں، قومی سلامتی کی ضمانت نہیں۔ اب سوتے کو تو جگایا جا سکتا ہے مگر جاگے ہوئے کو کون جگائے؟

بے بسی کے عالم میں دعا ہی واحد سہارا ہے، سو کر رہے ہیں۔

اس سوچ کی موجودگی میں، اگر پیپلز پارٹی پنجاب میں متحرک ہوتی ہے تو یہ نیک شگون ہے۔ تاہم یہ تحرک، مجھے خیال ہوتا ہے کہ سوچا سمجھا لائحہ عمل نہیں، ایک وقتی تدبیر ہے۔ آصف زرداری صاحب کا فلسفۂ حیات یہ ہے کہ سیاست شطرنج کا کھیل ہے۔ یہاں جو اپنی چال مہارت سے چل گیا، وہی فاتح ہے۔ اس لیے ان کی تمام توجہ چال چلنے پر رہتی ہے۔ ان کی نظر بچھی ہوئی بساط سے اِدھر اُدھر نہیں ہوتی۔ سیاست مگر شطرنج کا کھیل نہیں۔ یہ ایک تاریخی اور سماجی عمل ہے۔ اگر واقعات کو سماجی ارتقا اور تاریخی تسلسل میں نہ دیکھا جائے تو مات بھی ہو سکتی ہے۔ ایسی مات جو ممکن ہے کہ آپ کو سیاسی عمل ہی سے غیر متعلق کر دے۔ جناب زرداری کو 2013ء میں اس کا تجربہ ہو چکا۔

سیاسیات کے کسی طالب علم کے لیے، یہ ایک اہم سوال ہے کہ نا مساعد حالات اور تاریخی پسپائی کے باوجود، پیپلز پارٹی کو لوحِ سیاست سے کیوں مٹایا نہیں جا سکا؟ میرے نزدیک اس کی بنیادی وجہ بھٹو صاحب کا فہمِ تاریخ اور سماجیات کا مطالعہ ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تو وہ جانتے تھے کہ تاریخ کا تسلسل پاکستان کو کہاں لے آیا ہے اور ہمیں اپنی سیاست کو کس نہج پر استوار کرنا ہے۔ اپنے قیام کے بعد پیپلز پارٹی نے ‘بنیادی دستاویزات‘ کے عنوان سے بعض کتابچے مرتب کیے۔ یہ دراصل اس تاریخی شعور کا اظہار تھے بھٹو صاحب اور ان کے اولیں رفقا، جس سے بہرہ مند تھے۔

بھٹو صاحب کے اس شعور کا اظہار ان کی اپنی تحریروں اور خطبات سے بھی ہوتا ہے۔ 1970ء کی دہائی میں ‘عوامی سیاست‘ (Politics of the People) کے عنوان سے ان کو چند جلدوں کی صورت میں مرتب کر دیا گیا تھا۔ دنیا کا شعوری سفر جس پڑاؤ تک پہنچ چکا تھا، بھٹو صاحب نے اس کا ادراک کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا راستہ دکھایا اور ساتھ ہی ایک منزل کی نشان دہی کی۔ ان کے شخصی کرشمے نے اسے ایک قومی مباحثے (Discourse) میں بدل دیا اور عوامی سطح پر اس کا موثر ابلاغ بھی ہو گیا۔

یہ ڈسکورس عوامی نفسیات میں رچ بس گیا۔ اس نے عوامی ذہن میں اس طرح جڑیں پکڑیں کہ سخت آمریت بھی اسے کھرچ نہ سکی۔ آمریت نے حسبِ عادت وقتی فائدے کے لیے اقدامات کیے جنہوں نے پیپلز پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچایا لیکن یہ اقدامات اسے سیاسی عمل سے غیر متعلق نہ کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جیسے ہی منظر بدلا، پیپلز پارٹی کا احیا ہو گیا۔

زرداری صاحب کی سیاست میں اس تاریخی شعور کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ وہ سیاست کو ایک کھلاڑی کی نفسیات سے دیکھتے اور چال چلتے ہیں۔ اس میں ایک حد تک انہیں کامیابی بھی ہوتی ہے جیسے سینیٹ کے انتخابات میں ہوا؛ تاہم یہ کامیابی وقتی ہوتی ہے، کسی تاریخی تسلسل کا حصہ نہیں بنتی۔ اسی لیے وہ مستقبل کے سیاسی عمل سے بھی منقطع رہتی ہے۔

زرداری صاحب اگر سیاست کو کسی تاریخی شعور کے ساتھ دیکھتے تو انہیں اندازہ ہوتا کہ ان کی اصل حریف ن لیگ نہیں، تحریکِ انصاف ہے۔ تحریکِ انصاف پنجاب میں دراصل پیپلز پارٹی کی نئی تجسیم ہے۔ پیپلز پارٹی کی کھوئی بھیڑیں تحریکِ انصاف کے پاس ہیں، ن لیگ کے باڑے میں نہیں۔ ان کی کامیابی نواز شریف کی کمزوری سے نہیں، تحریکِ انصاف کے اکھاڑ پچھاڑ سے مشروط ہے۔

تاریخی تسلسل یہ ہے کہ 1970ء کی دہائی میں، ملک کی سیاست فطری طور پر دو حصوں میں منقسم ہو گئی۔ یہ ہماری معاشرتی تقسیم کا عکس تھا۔ روایتی اور مذہبی طبقات ایک طرف ہو گئے اور غیر روایتی اور بائیں بازو کی سیاست کرنے والے ایک طرف۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد ‘نئے پاکستان‘ میں پیپلز پارٹی بائیں بازو اور لبرل سیاست کا واحد سیاسی فورم بن گئی۔ دوسری طرف مذہبی طبقات اور روایتی سیاست کے علم بردار اکثریت میں ہوتے ہوئے بھی منقسم رہے۔ اس کا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچتا رہا جو سب سے بڑی سیاسی جماعت بن گئی۔

روایتی سیاست کے علم برداروں نے اتحاد بنا کر مقابلے کی کوشش کی مگر یہ کوشش زیادہ نتیجہ خیز نہ ہو سکی۔ انہیں کوئی ایسا لیڈر نہ مل سکا جو پیپلز پارٹی مخالف یا روایتی سیاسی عصبیت کو مجتمع کر سکتا۔ نواز شریف نے یہ کام کر دکھایا۔ نواز شریف وہ لیڈر بن کر ابھرے جو بھٹو مخالف اور دائیں بازو کی قوتوں کے واحد نمائندہ تھے۔ یہ قوتیں چونکہ اکثریت میں تھیں اس لیے جیسے ہی انہیں ایک لیڈر ملا، اس نے اپنے نتائج دکھا دیے۔

بعد میں مذہبی جماعتوں نے کوشش کی کہ ان کی عصبیت انہیں واپس مل جائے مگر یہ ممکن نہ ہو سکا۔ نواز شریف صاحب سے ان کی ناراضی کی اصل وجہ یہی ہے۔ پیپلز پارٹی کا یہ غصہ قابلِ فہم ہے کہ نواز شریف سے پہلے، پیپلز پارٹی کے لیے آسان تھا کہ وہ ان منتشر قوتوں کا بہتر مقابلہ کر سکتی تھی۔ نواز شریف نے انہیں متحد کر کے، اسے مشکل بنا دیا۔ یہ غصہ ابھی تک باقی ہے۔

آج ماضی کی نظریاتی تقسیم باقی نہیں۔ مسلم لیگ اپنے دورِ اوّل کی طرح، ایک سنٹرل جماعت بن چکی جسے مذہبی نہیں کہا جا سکتا۔ تاہم عام روایتی پاکستانی جو کچھ مذہبی ہے اور کچھ سیکولر، بدستور اسے اپنا نمائندہ سمجھتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی جگہ تحریکِ انصاف نے لے لی جو اصلاً لبرل طرزِ زندگی رکھنے والوں کی جماعت ہے، یہ الگ بات ہے کہ عمران خان ذاتی طور پر کسی نظریاتی شعور سے بے بہرہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اگر تاریخی عمل اور سیاسی حرکیات کو سمجھتی تو اسے اندازہ ہوتا کہ سیاست میں اصل تبدیلی یہ آئی ہے کہ تحریکِ انصاف نے،کم از کم پنجاب میں اس کی جگہ لے لی۔

اس کی جگہ ن لیگ کے کمزور ہونے سے نہیں بنے گی، تحریکِ انصاف کے کمزور ہونے سے بنے گی۔

دنیا میں سیاست بالعموم دو جماعتی ہی ہوتی ہے۔ جب کوئی تیسری قوت اُبھرتی ہے تو وہ دو موجود جماعتوں میں سے کسی ایک کی جگہ لیتی ہے۔ ن لیگ کمزور ہوتی ہے تو اس کی جگہ پیپلز پارٹی نہیں لے سکتی۔ مسلم لیگ طرز کی کوئی سنٹرل جماعت لے گی۔ آج تبدیلی یہ نہیں ہے کہ تیسری قوت ابھر رہی ہے۔ تبدیلی یہ ہے کہ موجود سیاسی قوتوں میں سے ایک، پیپلز پارٹی، کی جگہ تحریکِ انصاف نے لے لی ہے۔ اس لیے پیپلز پارٹی کے لوگ اگر بڑی تعداد میں تحریکِ انصاف کا رخ کر رہے ہیں تو سیاست کے فطری بہاؤ کا تقاضا یہی ہے۔

اگر یہ تجزیہ درست ہے تو پنجاب میں پیپلز پارٹی کی جگہ اسی وقت بنے گی جب تحریکِ انصاف کمزور ہو گی۔ لہٰذا اس کا اصل ہدف تحریکِ انصاف ہونی چاہیے نہ کہ ن لیگ۔ یہ بات سمجھنے کے لیے، سیاست کو شطرنج کے کھیل کے بجائے، ایک تاریخی عمل کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ کائرہ صاحب اور چوہدری منظور صاحب کو اس کا پورا ادراک ہے جو پیپلز پارٹی کے ان چند افراد میں سے ہیں جو سیاسی حرکیات کو سمجھتے ہیں۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں