قانون کھو گیا ہے، کہانی نامکمل ہے!


editہر تھوڑی مدت کے بعد کوئی ایسا واقعہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے کہ ملک میں تحقیقات کرنے اور حقائق جاننے کے لئے خصوصی کمیشن بنانے، عدالت سے رجوع کرنے یا خاص طور سے کمیٹی متعین کرنے کی بات کی جاتی ہے، تا کہ اس وقوعہ یا جرم کے اصل محرکات کا پتہ لگایا جا سکے۔ اس حوالے سے بعض اوقات حکومت خود ہی ایسا اقدام کرنا ضروری سمجھتی ہے جبکہ بعض صورتوں میں اپوزیشن مظاہروں اور دھرنوں کی دھمکیاں دے کر خصوصی انتظامات کروانے کا اہتمام کرتی ہے۔ اس قسم کے تحقیقاتی کمیشن یا کمیٹیاں اس لحاظ سے ناکارہ ثابت ہوئی ہیں کہ ان کی رپورٹوں سے سامنے آنے والی معلومات کی بنا پر نہ تو کسی کا بھلا ہوا ہے اور نہ ہی کسی مجرم کو سزا دی جا سکی ہے۔ حتیٰ کہ کبھی حقائق بھی منظر عام پر نہیں آ سکے۔ اس بارے میں صرف سقوط ڈھاکہ کے بعد حمود الرحمن کمیشن اور 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی کارروائی اور اسامہ بن لادن کے واقعہ کی سچائی تلاش کرنے والے ایبٹ آباد کمیشن کا حوالہ ہی کافی ہے۔

نہ حکومت نے ان رپورٹوں کو جاری کیا اور نہ ملک توڑنے کے ذمہ داروں اور ملک پر ایک بیرونی طاقت کے ”حملہ“ کا سبب بننے والوں کے بارے میں کوئی معلومات سامنے آ سکیں۔ پاکستان کے عوام آج بھی افواہوں اور قیاس آرائیوں پر گزارا کرتے ہیں اور اپنی سیاسی وابستگی کے حوالے سے مجرموں کا تعین کر کے اور انہیں کوسنے دے کر اپنے دل کا غبار نکال لیتے ہیں۔ یہ دونوں سانحات اس ملک کی تاریخ میں زندگی اور موت کے سوال کی طرح اہم تھے۔ 1970 کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعہ پر تب کے مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے لوگوں نے احتجاج شروع کیا تو ملک کے فوجی حکمران نے فوجی قوت کے ذریعے انہیں دبانے کی کوشش کی۔ تاہم بھارت کی مداخلت کے بعد 90 ہزار پاکستانی فوجیوں نے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امیر عبداللہ نیازی کی سرکردگی میں بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ ملک دولخت ہو گیا اور جو خواب اگست 1947 کو شرمندہ تعبیر ہوا تھا، صرف چوبیس برس کے بعد اس کا شیرازہ بکھر گیا۔ لیکن حکومتوں پر حکومتیں بدلتی رہیں۔ ایک کے بعد دوسرا حکمران یا برسر اقتدار گروہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہے لیکن کسی کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس مقصد سے تیار کروائی جانے والی عدالتی کمیشن کی رپورٹ کو جاری کر دے۔ اس رپورٹ کے جو حصے مختلف ذرائع سے سامنے آئے ہیں، ان میں بھی ان افراد کا تعین نہیں ہو سکا جو اس قومی بحران، ہزیمت اور شکست کے ذمہ دار تھے۔ فوجی کارروائی کا حکم دینے والا کمانڈر انچیف و صدر اور ہتھیار ڈالنے والا جنرل ”وقار اور عزت“ کی زندگی گزار کر راہی عدم ہوئے۔

اسی طرح 2 مئی 2011 کو پاکستان کے حلیف اور دوست ملک امریکہ نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر پاکستان کی حکومت یا فوج پر بھروسہ کرنے کی بجائے خود اپنے گوریلے دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے روانہ کئے۔ انہوں نے ایبٹ آباد کے ایک گھر میں داخل ہو کر اسامہ بن لادن سمیت چند لوگوں کو ہلاک کیا۔ اس کی لاش اٹھائی اور خیریت سے واپس روانہ ہو گئے۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ آئی اور کاغذات کے پلندوں میں اضافہ ہو گیا۔ قوم کو کوئی سچ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے۔ نہ آرمی چیف نے محسوس کیا کہ جس ملک کی حفاظت کی ذمہ داری اس پر عائد تھی، وہ اس میں ناکام ہوئے ہیں اور اس کی ذمہ داری قبول کر لیں۔ نہ یہ پتہ چل سکا کہ کون لوگ اس مشن میں ملوث تھے۔ دنیا کے خطرناک ترین دہشت گرد کو چھپانے اور حفاظت سے رکھنے میں کون لوگ ملوث تھے۔ حکومت کمیشن بٹھا کر اور رپورٹ وصول کر کے اپنے فرض سے عہدہ برآ ہو چکی ہے۔ یہ صرف دو اہم ترین معاملات کا حوالہ تھا۔ پاکستان کے 68 برس کی زندگی میں ایسے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جن کی سچائی کے بارے میں نہ تو حقائق کا تعین ہو سکا ہے اور نہ ہی غفلت، کوتاہی، غداری یا کسی جرم کے ارتکاب کے حوالے سے کسی ذمہ دار کو سزا ہو سکی ہے۔ اس لئے جب آج کی صورتحال میں ہر اختلافی مسئلہ پر کمیشن قائم کرنے، ججوں کو ملوث کرنے اور تحقیقات کروانے کی بات کی جاتی ہے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہوتا کہ اس قسم کی کسی کاوش کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔ یعنی اگر کمیشن بن گیا تو اس کی رپورٹ نتیجہ خیز نہیں ہو گی یا اسے کبھی سامنے نہیں لایا جا سکے گا تا کہ لوگ اور ماہرین جان سکیں کہ جن لوگوں پر ایک اہم قومی مسئلہ پر اعتماد کیا گیا تھا، وہ کس حد تک اس بھروسہ پر پورے اترے ہیں۔

اب پھر ایک نیا عدالتی کمیشن بنانے کا غلغلہ ہے۔ الزام ہے کہ ملک کا وزیراعظم بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری میں ملوث ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ کون ان سے ملتے جلتے جرائم میں ملوث نہیں ہے۔ لیکن یہ قوم اور اس کے لیڈر غیر ضروری سوالات پر وقت ضائع نہیں کرتے۔ کیوں کہ چھوٹے اور غیر اہم سوال کرنے سے سماج کی عمومی اصلاح کا بیڑا اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ بیڑا اٹھا لیا جائے تو آغاز خود اپنی اصلاح سے کرنا پڑتا ہے۔ پھر دوسرے کی آنکھ کا شہتیر تلاش کرنے کی بجائے، اپنے جسم میں پیوست کانٹے سینتنا پڑتے ہیں۔ بطور قوم یا بطور قوم نما لوگوں کے ایک ہجوم کے ہم یہ کام کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔قاصر اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ کوئی فرد ہو، گروہ ہو یا قوم …. جب اس بات کا تہیہ کر لیں کہ صورتحال تبدیل کرنا ہو گا تو وہ تبدیلی رونما ہو جاتی ہے۔

پاکستانی قوم نے تبدیلی کا نعرہ بلند کرکے تبدیلی کے عمل کو قفس میں قید کر دیا ہے۔ اور اس قفل کی چابی کسی ایسے جن کے پاس ہے جو بوتل میں بند نہیں ہے بلکہ آزاد منش ہے۔ وہ ہمیں نعرے، الزام اور دھرنے سے جان چھڑانے کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ملک کا منصف اعلیٰ ہمیں اصلاح احوال کا درس دیتا ہے اور انصاف کرنے کا منصب پورا نہیں کرتا۔ اسی لئے فوج کا سربراہ معاملات کی نگرانی کرتا ہے اور تازہ ترین خبروں کے مطابق قوم کو یہ بتاتا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کئے بغیر ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔ جنرل راحیل شریف پورے معاشرے کی اصلاح چاہتے ہیں اور اس کا بیڑا بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس ملک میں جمہوریت نام کے ایک بدنام زمانہ کھیل کا ڈھونگ رچایا گیا ہے۔ اس کھیل میں فیصلہ کرنے والے مہروں نے ”بادشاہ“ کے منصب پر سیاسی قیادت کو فائز کیا ہے۔ وہی فیصلے کرنے کا مجاز ٹھہرتا ہے۔ ہماری جمہوریت کے بادشاہ کا المیہ یہ ہے کہ اس پر اپوزیشن وہی الزام عائد کر رہی ہے، جس داغ کو دھونے کی بات جنرل راحیل شریف کر رہے ہیں۔ سوچنا پڑے گا کہ کیا کہانی کہیں پٹری سے اتر رہی ہے یا دو کہانیاں ایک ہی پلاٹ میں گڈمڈ ہو رہی ہیں۔

اصلاح اور کرپشن کے خاتمے کی ایک صورت یہ ہے کہ فوج کے دستے پولیس کے پروردہ جرائم پیشہ عناصر کے ایک گروہ سے نمٹنے کے لئے ایستادہ ہیں۔ ایسے میں ایک ستم ظریف یہ پوچھتا ہے کہ پہلے ہم دشمن سے لڑتے تھے، پھر ہم اپنے لوگوں کے خلاف برسر جنگ ہوئے، اب ہماری فوج ڈاکوﺅں کا خاتمہ کرنے کا عہد کر چکی ہے۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ فوجی دستوں نے روجھان میں چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کی کمان سنبھال لی ہے۔ گرمجوش اینکر لمحہ بہ لمحہ بتا رہے ہیں کہ کتنے ٹینک، گن شپ ہیلی کاپٹر اور توپخانہ سماج کے اس داغ کو دھونے کے لئے متعین کیا جا چکا ہے۔ یہ اعلان بھی کیا جا رہا ہے کہ ملتان کے کور کمانڈر نے روجھان میں فوجی پوزیشنوں کا معائنہ کیا اور چھوٹو گینگ کے خلاف آپریشن کا جائزہ لیا۔ بعض خبریں چھپائی جاتی ہیں۔ کچھ ایکشن خفیہ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ کیا ہم یہ پہچان کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں کہ کون سی بات فخر کا سبب ہے اور کس سے شہرت داغدار ہو سکتی ہے۔ کہانی ضرور گڈمڈ ہو رہی ہے۔ اصل بات کا سرا گم ہو رہا ہے۔

لیکن یہ واضح کرنا بھی تو ضروری ہے کہ دس بارہ کروڑ آبادی کے صوبے کی کثیر التعداد پولیس، طاقتور وزیراعلیٰ اور عوام کے ڈھیروں ڈھیر ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کیسے اپنا فرض ادا کرنے میں ناکام ہے۔ یعنی جو کام پولیس اور سول انتظامیہ نہیں کر سکی، وہ فوج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بات دشمن یا گینگ کے فرق کی نہیں ہے۔ بات نیت اور صلاحیت کی ہے۔ فوج اور سول حکومت میں اسی نیت کا فرق ہے۔ یہ فرق بہت باریک ہے۔ بس ہر دس بارہ برس بعد کسی جرنیل کو اچانک یہ دکھائی دیتا ہے تو وہ کسی محسن قوم بیورو کریٹ کا لکھا ہوا مسودہ آرکائیو سے نکلواتا ہے اور فرماتا ہے۔ میرے عزیز ہموطنو …………

ضرور کہانی میں کہیں گڑبڑ ہو رہی ہے۔ بات تو ڈاکو کو ختم کرنے اور کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ہو رہی ہے۔ گڈ گورننس کے اس عمل میں یہ فرسودہ تقریر کا مسودہ کیوں گھسا چلا آتا ہے۔ وزیراعظم نے لندن سے طیارے پر سوار ہو کر بتا دیا ہے کہ جمہوریت اور اس کا کوالیفائیڈ نمائندہ ملک سے بھاگا نہیں ہے، وہ واپس آ رہا ہے۔ اس نے واضح کیا ہے کہ یہ کرپشن کا شور مچانے والا ایک ناسمجھ لیڈر نہیں جانتا کہ اس ہنگامے سے قوم کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔ اسے پاناما پیپرز کا پھر سے مطالعہ کرنا چاہئے۔ ان میں کہیں پر وزیراعظم پر کوئی الزام نہیں ہے۔ اس نادان کو چاہئے کہ قومی مفاد کو پیش نظر رکھے اور ملکی ترقی کا راستہ نہ روکے۔ ملک کے سب سے بڑے شہر کے ایک اونچے کھمبے پر ایک ملٹی کلر بینر آویزاں ہے۔ یہ پکار رہا ہے: “ جانے کی باتیں نہ کرو “۔ جانے کی چتاونی دینے والا جرنیل ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اس نے بتا دیا ہے کہ دہشت گردی اسی طرح ختم ہو سکتی ہے۔ یہ کہانی مکمل نہیں ہو پاتی۔ اس کے سرے بکھرے ہوئے ہیں۔ انہیں ملانے کا کام گھاس کے ڈھیر سے سوئی نکالنے کے مترادف ہے۔

کہانی کے ایک سرے پر پاک سرزمین پارٹی ہے جو دھڑا دھڑ ایم کیو ایم کے ناراض لوگوں کو اپنی صفوں میں شامل کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر اس میں سازش کی بو سونگھ رہے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم عوامی لوگ ہیں۔ یہ سازشی لوگ ہمارا ووٹ بینک لوٹنا چاہتے ہیں۔ خفیہ نمبروں سے دھمکیوں والے فون پارٹی کے کارکنوں اور رہنماﺅں کو وصول ہو رہے ہیں۔ عوام کی بھرپور تائید سے منتخب ہونے والے نمائندوں کا یہ ترجمان پاک فوج کے سربراہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے وفد کو ملاقات کا وقت دیں تا کہ انہیں اس سازش کی ساری تفصیلات سے آگاہ کیا جا سکے۔ جنرل راحیل شریف جی ایچ کیو میں ملاقات کرتے ہیں۔ لیکن اس ملک کے جمہوری نظام میں فیصلے قومی اسمبلی میں ہوتے ہیں۔ یہ اسمبلی اسلام آباد میں ہے۔ اس اسمبلی میں سرکار اور اپوزیشن کے نمائندے پاناما پیپرز جیسی سازش پر قابل قبول لائحہ عمل تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کراچی کے بھاری مینڈیٹ والی پارٹی کے وفد کو شاید جی ایچ کیو ہی جانا چاہئے۔ کیا کہانی واضح ہو رہی ہے۔

شاید یہ کہانی کبھی واضح نہیں ہو گی کیونکہ اس ملک میں قانون کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس کے رکھوالے اور پالن ہار بھی اسے تلاش کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ ہر معاملہ میں نیا قاعدہ، نیا ضابطہ اور نیا طریقہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے فیصلے اسمبلیوں یا عدالتوں کی بجائے راہداریوں اور نیم تاریک ڈرائنگ رومز میں ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان فیصلوں پر اختلاف بھی ہوتا ہے اور یہ مسترد بھی ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے وقت کے انتظار میں بے چین رہتے ہیں۔ کیا کوئی قانون کی گمشدگی پر بھی پریشان ہے۔ شاید نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو سارے مل کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کرتے اور خود کو اس کے حوالے کر کے کہانی مکمل کر دیتے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali