انتہا پسندی، ردعمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (6)


akhtar-ali-syedانفرادی سطح پر نرگسیت کے شکار افراد کن خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں اس کا ایک اجمالی جائزہ اب تک پیش کیا جا چکا ہے۔ نرگسیت کا لفظ سنتے ہی فرد کی اپنی ذات سے ایسی غیر مشروط محبّت ذہن میں آتی ہے جس میں کسی دوسرے انسان کا گذر یا دخل اندازی ممکن نہ ہو۔ یہ ایرک فرام Erich Fromm جیسے نابغہ کا تخلیقی ذہن تھا جس نے نرگسیت کے اجتماعی، گروہی اور سماجی پہلووں کو دنیا کے سامنے رکھا۔

اس سے پہلے کہ یہ طالب علم گروہی نرگسیت کے ذیل میں کچھ عرض کرے ذرا انفرادی نرگسیت کی ایسی چند خصوصیات کو دیکھ لیں جن کا بیان بین السطور تک محدود رہا۔ نرگسیت کے بارے میں یہ بیان ہو چکا کہ یہ اپنے بارے میں ایک غیر حقیقی اور مبالغے کی حد کو چھوتا ہوا انتہائی مثبت نقطہ نظراور بہت اونچی راے ہے۔ دوسرے لفظوں میں نرگسیت اصل میں ایک مجروح اور کمزور تصور ذات کو خود عظمتی کے ایک غیر حقیقی تصور سے سہارا دینے کی کوشش ہے۔ ناکامی ایسی کوشش کا مقدّر ہوتی ہے اس لئے کہ عملی کامیابی کا انحصار حقیقت اور حقائق کے ادراک اور ان کے عملی تقاضوں سے عھدہ برا ہونے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔ ہوائی قلعوں میں بیٹھ کر خیالی پلاؤ تناول فرمانے والے افراد اور گروہ عملی کامیابیوں کے صرف خواب دیکھتے ہیں۔ یہاں جس بات کی جانب اشارہ کرنا مقصد ہے وہ نرگسیت زدہ ذہن کی وہ مسلسل کوشش ہے جس کے ذریئے وہ خود کو دوسروں سے مختلف، منفرد اور برتر ثابت کرتا اور اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے۔ ایسے ذہن کے لئے دوسروں جیسا ہونا، ان سے اتفاق کرنا، اپنے اور دوسروں کے مابین مشترکہ قدریں ڈھونڈنا اور دوسروں سے کسی بھی تعلق کو محسوس کرنا از حد مشکل ہوتا ہے۔ دوبارہ یاد کرا دوں کہ یہ تمام فتاویٰ اس طالب علم نے جاری نہیں کیے یہ نفسیاتی عوارض کی علامات بیان کرنے والی کتابوں سے ماخوذ وہ معلومات ہیں جو نفسیاتی علاج سے وابستہ ہر معالج کے روزمرہ مشاہدے اور تجربے کا حصہ ہیں۔

narcissusاگر نرگسیت زدہ ذہن کو کبھی مقابلے یا موازنے کی صورت پیش آجاے تو یوں سمجھیے کہ گویا مسائل اپنی گمبھرتا کی آخری حدوں کو چھو گئے ہیں۔ ذرا مجھے اس “آخری حد” کی وضاحت کرنے دیں۔ آپ نے انگریزی کا وہ محاورہ تو سنا ہوگا جو اصل میں لاطینی ہے۔ The end justifies the means ۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اعلیٰ مقاصد کے لئے جو بھی راستہ اختیار کیا جائے وہ ٹھیک ٹھہرتا ہے۔ نرگسیت زدہ ذہن مقابلے اور موازنے کی صورت میں اس آخری حد تک جاتا ہے جہاں اعلیٰ مقصد (اپنے کو اعلیٰ، ارفع اور برتر ثابت کرنا ) کے حصول کے لئے ہر حربہ صرف روا ہی نہیں بلکہ جائز اور واجب بھی خیال کیا جاتا ہے۔ ان تمام حربوں میں تشدد اور قتل و غارت گری بھی شامل ہوسکتے ہیں۔

یہاں ایک مسلہ آن پڑا ہے اور وہ یہ کہ جس ذہن کی نرگسیت پر گفتگو ہے اس کی بنیادی اٹھان مذہبی ہے۔ مذھب نے اپنی بنیادی تعلیم میں تشدد اور خون ریزی کی اجازت نہیں دی۔ قتل و غارت گری احساس گناہ کے بغیر ممکن نہیں ہوتی چاہے فرد مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ صرف اپنی بقا کو لاحق خطرات دوسروں کی جان لینے کا ایک ممکنہ جواز فراہم کرتے ہیں۔ نرگسیت کا شکار مذہبی ذہن جب بھی آمادہ قتل ہوتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ اس کی تہ میں موجود اس احساس گناہ کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے جو ایک طرف اسے مقاصد کے حصول کے لئے قتل کرنے اور حکمت عملی کو مضبوط کرنے کے لئے قتل (خود کش حملوں کی صورت میں) ہوجانے پر بھی آمادہ کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ آج کے تمام متشدد گروہ بیک وقت قتل بھی کرتے ہیں اور ایسا کرتے ہوے خود جان سے بھی گذر جاتے ہیں۔

اس قدرے طویل تمہید کے بعد غالباً اب ہم اجتماعی نرگسیت پر اپنی گزارشات پیش کر سکتے ہیں۔ احساس گناہ مذہبی ذہن کی ایک ایسی خصوصیت ہے جس سے وہ جان نہیں چھڑا سکتا۔ اس ذیل میں چند بنیادی باتیں عرض کی جا چکی ہیں۔ اس احساس گناہ سے بچنے کا ایک طریقہ کسی اتھارٹی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ اس ذمہ داری سے فرار ہے جو ہر گناہ گار پر عائد ہوتی ہے۔ ہر فرد اپنے گناہوں پر جواب دہ ہے لیکن اگر میں یہ کہ سکوں کہ فلاں غلطی یا گناہ کسی امیر، پیر یا امام کے کہنے پر کی تھی تو اب فرد احساس گناہ سے مبرّا اور گناہ کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو جائے گا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ احساس گناہ سے فرار کے لئے کس طرح ایک امیر (اتھارٹی ) کی اطاعت اور گروہی نظم کی پاسداری ضروری قرار پاتی ہے۔

kids_of_dada_grandeگزشتہ گزارشات کے بعد مجھ سے مثالیں مانگی گئی تھیں۔ اس سے پیشتر کہ وہی مطالبہ دوہرایا جائے آپ دہشت گرد گروہوں اور ان کی تائید کرنے والی جماعتوں پر نظر ڈالیں۔۔۔۔ امیر کی اطاعت اور جماعتی نظم کی پاسداری آپ کو ہر جگہ ایک کڑی شرط کی صورت میں موجود ملے گی۔ ان دو شرائط سے روگردانی کرنے والے عام صورتوں میں جماعت سے خارج اور خاص صورتوں میں قتل کر دیے جاتے ہیں۔ یہ سزائیں آج ہم سب کی معلومات کا حصہ اور روزمرہ کا مشاہدہ ہیں۔

نرگسیت زدہ ذہن احساس گناہ سے بچنے کے لئے اب ایک مضبوط اور منظم گروہ کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ نرگسیت کی اجتماعی شکل ہے۔ میں اصرار سے ملتمس ہوں ان ارباب علم سے جنہوں نے اس خاکسار کو ہوائی تجزیے کرنے کا ملزم قرار دیا تھا کہ وہ ذرا دہشت گرد گروہوں کی موجودہ ساخت کا جائزہ لیں اور نشان دہی فرمائیں کہ کس طرح یہ تجزیہ ان گروہوں کی ذہنی حالت کی وضاحت سے قاصر اور ناکام ہے۔

گناہ کی ذمہ داری سے بچنے کے لئے گروہ کا انتخاب ایک اہم مرحلہ ہے۔ فرد کس گروہ کا حصہ بنے گا اس سوال کا سیدھا اور غیر مبہم جواب ہے کہ جو گروہ دو حوالوں فرد کے قریب ہوگا۔ نمبر ایک، جو گروہ فرد کی صحیح اور غلط کی تعریف کے قریب آکر اس کی فکر میں موجود خالی جگہیں پر کر کے اس کی ترجمانی کر سکے۔ اور نمبر دو، صحیح اور غلط کی اس تعریف کے نتیجے میں غلط ٹھہراے جانے والے افراد اور عقائد کے بارے فیصلہ کن حکمت عملی وضع کرنے میں فرد کی مدد کر سکے۔ مثَلاً کونسا گروہ مجھے کفر اور کافر کی تعریف کرنے میں مدد کرتا ہے اور پھر کافروں کے ساتھ کیا سلوک کرنا اس کے بارے میں واضح  لائحہ عمل اور اس لائحہ عمل کا جواز فراہم کرتا ہے۔ یہ ذہن میں رکھیے کہ ہم ان افراد کے بارے گفتگو نہیں کر رہے جو کسی ذاتی حادثے کے نتیجے میں جارحیت کی جانب مائل ہوتے اور دہشت گرد گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

shutterstock_1372496451-1280x960احساس گناہ سے بچتے ھوے ایک گروہ کا حصہ بننے کے بعد اب سوال ہے اپنے سے مختلف افراد کے ساتھ سلوک اور برتاؤ کا۔۔۔۔ احساس گناہ کی شدت یہ فیصلہ کرے گی کہ فرد نے اپنے سے مختلف افراد کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے۔ شدید احساس گناہ شدت پسندی اور تشدد پیدا کرتا ہے۔ اب ذرا فرائیڈ کی بیان کردہ دو اص طلا حوں کو یاد کیجئے Masochism اور Sadism ۔۔۔۔ معاف کیجئے میرے پاس ان اصطلاحات کے اردو متبادل نہیں ہیں۔ تاہم وضاحت ممکن ہے۔ ایک Masochist دکھ، درد اور تکلیف اٹھا کر تسکین محسوس کرتا ہے جبکہ Sadist دکھ۔ درد اور تکلیف پہنچا کر۔ ۔۔۔۔۔ فرائیڈ کے بیان کردہ ان تصورات کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔۔۔۔۔ نرگسیت زدہ فرد کے لئے امیر کی غیر مشروط اور بہ کمال و تمام اطاعت Masochism کی تعریف میں آتا ہے جبکہ اپنے سے مختلف افراد کے ساتھ اس کا سلوک Sadism کے معیار پر پورا اترتا ہے۔ امید کرتا ہوں کہ اب مجھے اس ذہنی حالت پر تبصرہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو قتل ہونے اور کرنے پر آسانی سے آمادہ ہو جانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

ایک اہم سوال جو گزشتہ گزارشات کے ذیل میں اٹھایا گیا وہ یہ تھا کہ کیا مذھب نرگسیت پیدا کرتا ہے؟ اس طالب علم کا جواب نفی میں ہے۔۔۔۔۔ ” ہمسائے کے ساتھ وہ سلوک کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو” ۔۔۔۔ یوگیوں کا اپنے چیلوں سے بھیک منگوانا، نماز کا سجدہ، کافر ہمسائے، کافر مہمان، اور کافر والدین کی دلجوئی پر جنّت کا وعدہ، الله کی محبت میں مسکین و یتیم اور اسیر کو کھانا کھلانے والوں کی تعریف، میں کو دل سے نکالنے کی تعلیم اور تربیت اور ریا کاری کی مذمت ۔۔۔۔۔ سب نرگسیت کی نفی ہے۔

(جاری  ہے)


Comments

FB Login Required - comments

5 thoughts on “انتہا پسندی، ردعمل کی نفسیات اور ذہنی پیچیدگیاں (6)

  • 20-04-2016 at 1:36 pm
    Permalink

    بہت اعلی اختر صاحب۔ نہایت بصیرت افروز۔

  • 20-04-2016 at 1:42 pm
    Permalink

    What a beautiful analysis. You are explaining everything what we do, think and feel in Pakistan. Nobody ever did such an analysis in Pakistan. Congratulations

  • 21-04-2016 at 4:00 pm
    Permalink

    Kamal ka taj zia hay Kia hay app nay

  • 22-04-2016 at 2:39 am
    Permalink

    Akhtar sb wonderful article and great contribution being a psychologist. How beautifully you explained the psychology of killers and suicude bombers and all those suffering in this mental disease.I want u to write more to educate psychology students and public as well in general. The only request is to keep Urdu bit simple for comprehension. Smiling.

  • 22-04-2016 at 6:47 pm
    Permalink

    شکر ہے آپ لائن پے آے

Comments are closed.