رات زندگی سے قدیم ہے


naseer nasirیہ سچ کی وہی فصل ہے
جو مٹی کی نمو سے اٹھی
اور آسمان تک پھیل گئی
تب ہم بہت دُور تک چلے تھے
اور بہت دیر تک جاگتے رہے تھے
اور باتوں کے بے انت سلسلے
ہمارے درمیان بچھی مسافت سے طویل تھے
اور جب ہم نے پاؤں اٹھانا سیکھ لیا
تو ہمیں دھکیل دیا گیا
ابدیت کے بے آغاز راستوں کی طرف
اور تم نہیں جانتے تھے
کہ رات زندگی سے قدیم ہے
اور تمھاری ہری بھری شاداب فصلیں
میری روح کو غذا
اور بدن کو روشنی فراہم نہیں کر سکتیں
تم نے بارہا مجھے پکارا
اور میں خاموش رہا
کہ خاموشی میں عافیت تھی
rat1سروں اور ہاتھوں کی فصلیں کاٹنے والے
قلم کی تراش
اور موقلم کی خراش سے نابلد ہوتے ہیں
مٹی راستہ بننے سے پہلے
رنگوں کا بلیدان مانگتی ہے
لکڑیوں کا گٹھا اٹھائے
ریوڑ ہانکتے ہوئے
دانش اپنے آپ میں تنہا ہوتی ہے
تنہا اور بے امان ۔۔۔۔
مَیں ان کھیتوں میں بارہا بویا اور کاٹا گیا ہوں
مَیں دھرتی کا بیج ہوں
یا کائنات کا دل،
تمھاری آواز
مجھے نمو کے سفر پر اکساتی رہے گی
اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
nighthawksجہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات
جس کے آخری سرے پر
(اور رات کا آخری سرا ہوتا ہی کب ہے)
ایک کچی دیوار پر پوتا ہوا وقت ہے
اور کوسوں دُور
کئی راستوں کو رگیدتی ہوئی
ایک سڑک ہے
طویل اور بے نشان ۔۔۔۔
کیا ہم اپنے قدموں سے بنائے ہوئے راستوں
اور اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے
درختوں کو بھول سکتے ہیں!!


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “رات زندگی سے قدیم ہے

  • 20-04-2016 at 10:05 am
    Permalink

    کہ خاموشی میں عافیت تھی
    نہایت عمدہ.

  • 20-04-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    واہ ،، واہ

  • 27-04-2016 at 12:34 am
    Permalink

    دانش اپنے آپ میں تنہا ہوتی ہے
    تنہا اور بے امان۔۔۔۔۔

Comments are closed.