کیا  محض تعلیم کی بنیاد پر ترقی ممکن ہے ؟


zeeshan hashimہمارے ہاں جو ترقی پسند بیانیه پایا جاتا ہے اس میں تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ، کہا یہ جاتا ہے کہ جب ملک کی شرح خواندگی سو فیصد ہو گی اس وقت ہی ہم ترقی کر سکیں گے …. تعلیم کی یقینا ایک ملک کی ترقی میں بہت اہمیت ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا محض تعلیم میں محض شرح خواندگی میں اضافہ کی بنیاد پر ہم ترقی یافتہ ملک کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں ؟ جواب نہیں میں ہے …کیسے ؟ آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں …. ذیل میں ایک چارٹ دیا گیا ہے جس میں ہم بخوبی یہ دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں کہ تعلیم و معاشی خوشحالی کا آپس میں کچھ بھی براہ راست تعلق نہیں ہے …. اور اس بحث کی بھی ضرورت نہیں کہ سماجی و سیاسی ترقی میں معاشی ترقی کلیدی کردار ادا کرتی ہے –

111

اس سلسلہ میں ہم افریقہ کی مثال کو خاص طور پر دیکھتے ہیں ، افریقہ میں ، نو آبادیاتی عہد کے خاتمہ تک تعلیم صرف امراء اور نو آبادیاتی خدمت گاروں تک محدود تھی ، اس عہد کے خاتمہ سے اب تک   افریقہ نے تعلیمی شعبہ میں بہت ترقی کی ہے ، اس وقت پورے افریقہ کی شرح خواندگی ستر فیصد کے لگ بگ ہے …..مگر معاشی شعبہ میں دیکھیں تو حد درجہ مایوسی ہوتی ہے … اس کی آبادی ١.١٥ بلین ہے جو پوری دنیا کی آبادی (7.13 بلین ) کا تقریبا سولہ فیصد بنتی ہے مگر دنیا کی معیشت میں اس کا حصہ محض 2.4 فیصد ہے … ذیل میں چارٹ دیا گیا ہے ، ملاحظہ فرمائیں

222

یہ سوالات ہم پاکستانیوں کے لئے بھی  بہت اہم ہیں کہ یہاں بھی شرح خواندگی 56 فیصد بتائی جاتی ہے، جس میں قیام پاکستان سے اب تک مسلسل اضافہ ملتا ہے ، تو کیا شرح میں اس مسلسل اضافہ  کا ہماری سیاست، سماجی اقدار ، اور معاشی ترقی پر کوئی اثر پڑا ہے تو جواب نفی میں ملتا ہے ، آخر اس کی وجوہات کیا ہیں ؟ ، ان وجوہات کو سمجھنے سے پہلے ہمارے لئے تعلیم کے مقاصد سمجھنا نہایت اہم ہے ، جو کہ درج ذیل ہیں –

( الف) اپنی ذات کا ادراک حاصل کرنا اور اس جستجو میں مدد حاصل کرنا کہ ہمارے اردگرد کی دنیا کیا ھے اور ہمارا  اس میں کیا مقام کیا ھے … فرد کی قابلیتوں و صلاحیتوں کو نشوونما دینا اور ان میں مرحلہ وار ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا تعلیم کا اول و اہم مقصد ہے ….

( ب) سیاسی سماجی و معاشی عمل میں فرد کی شرکت کو یقینی بنانا کہ ایک ایسا آزادی و انصاف پسند  بندوبست قائم کیا جائے جس میں تمام انسان اپنی ضروریات و خواہشات کی تسکین و تکمیل کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں جس میں ان کی محنت، صلاحیت و قابلیت اور ایجاد و دریافت کو بہتر انعام (ریوارڈ) کیا جائے –

( ج) علم کی پیداوار میں اپنا حصہ ڈالنا تاکہ نوع انسانی کے امکانات میں وسعت پیدا ہو اور ارتقاء کا عمل کامیابی سے آگے بڑھے ..

اب سوال یہ ھے کہ کیا ہم ان مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوئے ہیں… تو جواب نفی میں ھے …. ہمارے شرح خواندگی میں اضافے کا ہمارے سماج کے مجموعی اخلاق پر کوئی اثر نظر نہیں آتا اور نہ ہی ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے افراد کی صلاحیتوں و قابلیتوں میں کوئی اضافہ ہوا ھے بلکہ اس میں ہمیں مسلسل گراوٹ اور انحطاط نظر آتا ھے

222

دوسری طرف  یہی معاملہ سیاسی, سماجی و معاشی سرگرمیوں  میں بھی  ھے … ہم نے قیام پاکستان سے بھی پہلے 1940 میں قرار داد پاکستان میں یہ طے کیا تھا کہ پاکستان کا سیاسی انتظام جمہوری ہو گا، یہ پاکستان ایک جمہوری عمل سے وجود میں آیا جس میں مسلم لیگ نے انتخابات میں مسلم نمائندگی کی زیادہ نشستیں جیت کر خود کو برصغیر کے مسلمانوں کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت کا اعزاز حاصل کیا تھا، وہ پاکستان ابھی تک جمہوری و غیر جمہوری قوتوں کے درمیان تصادم کا سامنا کر رہا ھے اور ہمیں پاکستان میں جمہوریت کی جدوجہد میں اپنے تعلیم یافتہ حضرات کے اضافے سے کوئی مدد نہیں ملی …جبکہ یہی صورتحال عمرانیات سے بھی متعلق ھے کہ ہمارا سماج عدم مساوات و عدم توازن کی داستان سنا رہا ھے … معاشی سرگرمیوں  میں بھی  یہی معاملہ ھے کہ “معاشی بندوبست اور مارکیٹ کی سائنس” ہمارے سنجیدہ دانشور مکالمہ کا موضوع ہی نہیں رہا…… رہ گئی بات علم کی تخلیق و تعمیر  کی ، تو ہم پس ماندہ تھے اور ہیں ، ….سوائے شعر و ادب کے، ان ٦٨ سالوں کی تاریخ میں ہمیں محض گنتی کے چند نام ملتے ہیں جنہوں نے  انسانیت کے مشترکہ سرمایہ علم میں کوئی قابل قدر اضافہ کیا ہے  ….

 اب سوال یہ ہے کہ تعلیم میں اضافہ کا اگر کوئی فائدہ ہے تو وہ فائدہ کدھر جا رہا ہے ؟ اس سلسلے میں تین معروضات قابل غور ہیں –

(الف) علم پیوستہ مفادات کو چلینج کرتا ہے ، اور نئے امکانات کو تلاش کرتا اور انہیں تسخیر کرتا ہے ، اس لئے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ ترقی پزیر ممالک میں علم کے نام پر جو نصاب پڑھایا جاتا ہے ، کیا اس کی بنیاد آزاد جستجو اور آزاد مکالمہ ہے ، کیا یہ نصاب نئے امکانات کو کھوج  کر انہیں تسخیر کرنے میں معاو ن ہے ، اور کیا یہ پیوستہ مفادات کی اسیر ایک سیاسی و عسکری قیادت کو چلینج کر رہا ہے ؟ ہمیں اس کا جواب نفی میں ملتا ہے … افریقہ سمیت تمام ترقی پزیر دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام اور پیوستہ مفادات کی قوتوں کا سیاست ، معیشت ، اور سماجی اقدار پر جبر و قبضہ ہے ، اور پیوستہ مفادات کا تحفظ ہی اسی روایت میں ہے کہ علم کو سنسر کر کے ، اور اس پر تسلط  قائم کر کے ، اس کی بنیادی روح سے محروم کر دیا جائے ، جس میں علم کی تحصیل کا مطلب امکانات کی جستجو نہیں بلکہ مخصوص شعبہ جات میں نقالی اور منشی گیری کا کردار ادا کرنا ہو  …

(ب) علم کی پرورش ایسے ماحول میں ہوتی ہے جس کا بنیادی جوہر علم پر ناقدانہ تبصرہ اور بے لاگ مکالمہ ہو  ، صاحب علم افراد کے لئے مکالمہ آکسیجن کی مانند ہے جو ان کے دل و دماغ کو معطر اور ہر دم علم کی جستجو پر آمادہ رکھتا ہے …..دوسری طرف صاحب علم کو معاشرہ کی جانب سے اس کی کامیابیوں اور خوبیوں کا اعتراف چاہئے ہوتا ہے ، یہ قدر دانی نوبل انعام کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے ، اور دولت کے حصول کے شکل میں بھی …… علم اسی جانب حرکت کرے گا جس جانب اس کی قدر دانی اخلاقی اور معاشی بنیادوں پر ہو گی ، اسے برین ڈرینیج (صاحب علم و ہنر افراد کی ترقی پزیر دنیا سے ترقی یافتہ دنیا کی طرف ہجرت )  کہتے ہیں ، اور پاکستان سمیت تمام ترقی پزیر دنیا میں یہ عمل جاری ہے ….ہم صاحب علم افراد کی نرسری کا کردار ادا کر رہے ہیں ….. ہمیں سوچنا چاہئے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں کہ ہماری شرح خواندگی میں اضافہ سے وجود میں  آنے والے  اہل علم و ہنر افراد کی کثرت آخر ہمارے اپنے سماج میں رہنا کیوں نہیں پسند کرتی ؟

(ج) تیسری اور اہم بات علم و ہنر کے جاننے و سمجھنے سے متعلق ہے …. علم کی تحصیل ایک مسلسل عمل ہے جس کا کوئی اختتام نہیں ….اہل علم و ہنر افراد کے لئے سب سے اہم سوال محض یہ نہیں ہوتا کہ کونسی چیز کیا ہے؟ ، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک مخصوص سرگرمی کیسے سرانجام دینی ہے ، اور مطلوبہ نتائج کیسے حاصل کرنے ہیں؟ …. ایک تحقیق کے مطابق علم کا عملی پہلو (یا دوسرے لفظوں میں مکمل علم) ہم محض 15 سے 20 فیصد درس گاہوں میں حاصل کرتے ہیں جبکہ علم کے بقیہ حصہ سے ہم عملی میدان میں فیض یاب ہوتے  ہیں ؛ ایک انجینئر علم کا اسی سے پچاسی فیصد فیکٹری و مل اور سڑک و بلڈنگ وغیرہ کی تعمیر میں بطور اسسٹنٹ یا جونیئر لیول میں حاصل کرتا ہے جبکہ سائنس دان لیبارٹری میں ، اور معیشت دان پالیسی ساز ادارے میں ….. ہمیں سوچنا یہ چاہیے کہ کیا عملی میدان میں علم کے حصول کی ثقافت ہمارے ملک میں پائی جاتی ہے جو اب بھی زرعی عہد میں زندہ ہے جبکہ یہاں پڑھائے صنعتی علوم جاتے ہیں ، اور بے روزگار و قابلیت سے کم تر درجہ کی نوکری (انڈر ایمپلائیڈ) کرنے والے افراد  کی ایک بڑی تعداد کیا واقعی علم کی ثقافت میں جی رہی ہے ؟

اب اہم اور نتیجہ خیز سوال یہ ھے کہ ہم آخر تعلیم کی ثقافت کیسے پیدا کر سکتے ہیں ، ایسی ثقافت جس سے ہم علم کے سیاسی سماجی اور معاشی فوائد بھی حاصل کر سکیں اور تعلیم یافتہ حضرات میں شخصی خوبیاں اور علم کی اقدار بھی  پیدا ہو سکیں، اس سلسلے میں بہت سے اقدامات کی ضرورت ہے ، جن میں چند (جو میری دانست میں اہم ہیں ) درج ذیل ہیں –

(الف ) دیکھئے ، لوگ اپنے بچوں کو درس گاہوں میں محض دانشوروں کی نصیحتوں اور سیاستدانوں کی تقریروں کے سبب نہیں بھیجتے ، بلکہ اہم سبب تمام  والدین کا یہ سوچنا ہے کہ آخر تعلیم سے اس کے بچوں کو کیا فائدہ ہے ؟ والدین کے لئے ان کے بچوں کی تعلیم ایک انویسٹمنٹ کی طرح ہے ، باوجود تعلیم کے اگر کوئی نوجوان بے روزگار ہے تو اردگرد کے لوگوں میں تعلیم کے حوالے سے منفی تاثر ابھرتا ہے …. دوسری طرف ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں میں علمی و عملی میدان میں  تخلیق و تعمیر کے جذبہ میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ سوچتے ہیں کہ اس کا آخر فائدہ کیا ہے ؟ اس لئے پاکستان میں اشد ضروری ہے کہ انٹلیکچول پراپرٹی رائٹس کا تحفظ ضروری بنایا جائے ، دوسری طرف ہم اگر ترقی یافتہ دنیا میں علم کی  تخلیق و دریافت کے عمل کو غور سے دیکھیں تو ہمیں وہاں تعلیمی اداروں اور انڈسٹری میں ایک براہ راست تعلق ملتا ہے … انڈسٹری تعلیمی اداروں میں مختلف تحقیقات کو سپانسر کرتی ہے ، اور تعلیمی اداروں کی دریافت و ایجادات کو انڈسٹری باقاعدہ سے خرید کر اسے عملی میدان میں کام میں لاتی ہے …جب تک تعلیمی اداروں کا انڈسٹری سے باقاعدہ تعلق وجود میں نہیں آئے گا تعلیم کا معاشی میدان میں فائدہ صفر ہی رہے گا –

 پاکستانی ملازمت پیشہ حضرات میں اپنا کاروبار شروع کرنے کا رجحان کم ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہمارا کمزور  فنانشل سیکٹر  ہے ، جو  محض علم و ذہانت کی بنیاد پر کاروبار  کرنے والے انٹرپرینیور (نئے کاروبار کرنے والے متحرک ذہن ) کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا   ، یوں صلاحیتیں خام شکل میں ہی بے کار پڑی رہتی ہیں اور معاشی فوائد کے حصول میں ناکام رہتی ہیں – ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشی ماڈل کو زیادہ سے زیادہ جدت پسند اور ناکارہ  رکاوٹوں سے آزاد بنائیں -….اگر ہم ترقی یافتہ دنیا جیسے امریکہ کے ارب پتی کاروباری حضرات کو دیکھیں تو ہمیں ان کے کاروبار کی بنیاد میں سرمایہ نہیں ، بہترین آئیڈیا ملتا ہے …مثال کے طور پر بل گیٹس سرمایہ کی بنیاد پر دنیا کا امیر ترین آدمی نہیں بلکہ ایک ذہین و دنیا کے لئے کارآمد آئیڈیا کی بنیاد پر ایک کامیاب شخص ہے جسے سرمایہ نے محض مدد فراہم کی ..

( ب ) تعلیمی اداروں کو آزاد بنانا ہو گا اور وہاں تعلیمی ثقافت کے فروغ میں تمام متعلقہ افراد و اداروں کو مثبت کردار ادا کرنا ہو گا …یاد رہے علم کو قید کر کے علم کے فوائد حاصل کرنے کی نفسیات باطل ہے – علم کی پرواز آزاد فضا میں ہی ممکن ہے –

( ج) اہم نقطہ یہ ہے  کہ دور جدید کے تمام علوم اپنی اساس میں صنعتی تمدن کی پیداوار ہیں ….ان علوم کی تحصیل اور ان میں فروغ محض صنعتی اقدار میں ہی  ممکن ھے جبکہ زرعی عہد میں رہ کر ان سے فائدہ اٹھانا ناممکنات میں سے ھے

( د) علم کی افزائش مقابلہ کے میدان میں  ہی ممکن ھے … ضرورت اس بات کی ھے کہ تعلیمی اداروں اور عملی میدانوں میں مقابلہ کی ثقافت کو فروغ دیا جائے … اور یہ صرف مارکیٹ کی معیشت میں ہی ممکن ھے. .

( ر) علم کی اپنی اقدار و اخلاقیات ہیں ، اسے مذہبی اخلاقیات اور روایتی ثقافتی اقدار کے نام پر اسیر کرنا دراصل علم کا گلا گھوٹنے کے مترادف ھے

( ر) سیاسی و انتظامی امور میں علم صرف اس وقت مدد کر سکتا ھے جب پالیسی سازی میں اسے مرکزی اہمیت حاصل ہو ، ضرورت اس بات کی ھے کہ یونیورسٹیز کو  تھنک ٹینک کا درجہ حاصل ہو اور تعلیمی اداروں کی تحقیقات پر قانون ساز ادارے توجہ فرمائیں …. سماجی امور میں تعلیم اس وقت مدد دے سکتی ھے جب سماج اسے قبول کرنے پر تیار ہو اور سماج کی تشکیل مکالمہ برداشت اور رواداری پر ہو ، وہ معاشرہ جس میں علم کے حضور قوت اعتراف نہیں ہوتی، تطہیر و تعمیر کی خوبی سے محروم ہوتا ھے …..معاشی میدان میں تعلیم صرف اس وقت مددگار ہے جب معیشت کی بنیاد جبر قبضہ اجارہ داری اور استحصال کے بجائے محنت صلاحیت قابلیت ذہانت انوویشن اور پروڈکٹوٹی پر ہو-


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “کیا  محض تعلیم کی بنیاد پر ترقی ممکن ہے ؟

  • 20-04-2016 at 5:09 am
    Permalink

    Really impressive article

  • 20-04-2016 at 12:28 pm
    Permalink

    بڑی اچھی تحقیق، مسائل کی نشاندہی اور ان کے ممکنہ حل پہ مشتمل کالم۔

Comments are closed.