خانیوال میں بھائیوں نے حق مانگنے پر بہن کی ٹانگیں توڑ دیں

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، خانیوال


اختری بیگم

BBC
اختری بیگم کو زخمی کرنے والے ان کے بھائی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں

اختری بیگم سات اپریل کی صبح اپنے والد کی زمین پر اس حصے کا قبضہ لینے پہنچیں جو عدالتی حکم کے مطابق ان کے حصے میں آیا تھا، تو واپس اپنے پاؤں پر چل کر نہ آ سکیں۔

ان کا الزام ہے کہ ان کے بھائیوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کی دونوں ٹانگیں توڑ دیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہیں دکھ ہے کہ ان کے ‘اپنے خونی رشتے چند کنال زمین کے لیے ان کی جان لینا چاہتے ہیں۔’ وہ اب زیرِعلاج ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی جیل اور دوسرے ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

خانیوال کے علاقے مخدوم پور کے پولیس سٹیشن میں درج اس مقدمے کے تحقیقاتی افسر حاجی محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بھائیوں نے جرم تسلیم کیا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے گالم گلوچ کرنے پر بہن کو مارا۔

بہن، بیٹی، بیوی یا کسی بھی رشتہ دار خاتون کو حقِ وراثت طلب کرنے پر بدترین تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورت کو وراثتی حقوق یا جائیداد کی ملکیت دینے کی شرح کم ترین ہے۔ جائیداد میں حصے اور ملکیت کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم آئی پی آر آئی نے جائیداد کی ملکیت کے حقوق دینے والے 127 ممالک کی رینکنگ میں پاکستان کو 121ویں نمبر پر رکھا ہے۔ خواتین کو وراثتی حقوق کے حوالے سے بلوچستان سب سے پیچھے ہے جہاں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی کے مطابق حقِ وراثت دینے کی شرح صفر ہے۔

خواتین کے جائیداد میں حصے سے متعلق واضح قوانین تو موجود ہیں لیکن فرسودہ رسوم و رواج کی تقلید کرتے ہوئے اُنہیں اس حق سے جبراً محروم رکھا جاتا ہے یا وہ خود معاشرتی دباؤ کی وجہ سے اپنا حق چھوڑ دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ خواتین کو قتل، کاروکاری، ونی تک کرنے کی ایک وجہ وراثت میں ملی جائیداد کی تقسیم بنتی ہے۔

مذہب اور ریاستی قوانین کے مطابق عورت کا اپنے بھائی، بہن، ماں باپ، شوہر اور دیگر رشتے داروں کی جائیداد میں حصہ مقرر ہے۔

انسانی حقوق سے متعلق مقدمات پر کام کرنے والے ایڈووکیٹ اللہ داد خان کہتے ہیں کہ خواتین کی اس حق تلفی کی اہم اور بنیادی وجہ وراثت کے قوانین سے بے خبری ہے جبکہ ‘عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے تو مختلف حربوں سے اس پر الزام لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قرآن سے شادی کی جاتی ہے، ونی کیا جاتا ہے، جھوٹے الزامات لگا کر بدچلن ثابت کیا جاتا ہے اور پھر غیرت کے نام پر قتل تک کر دیا جاتا ہے۔’

ان کے مطابق ایسے مقدمات کی تحقیقات کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ‘اصل مقصد تو وراثت سے محروم کرنا تھا۔’

لیکن واضح قوانین اور سزاؤں کا تعین ہونے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کے بنیادی حقوق کا استحصال اور اس پر خواتین کی خاموشی عام سی بات ہے، کئی ایسی خواتین بھی ہیں جو اپنے حق کے لیے قانونی جنگ لڑتی ہیں۔

آسیہ

BBC
آسیہ کہتی ہیں کہ کہ مذہب اور ریاست نے عورت کو حق دیا ہے مگر معاشرہ یہ حق چھینتا ہے

ملتان ہی میں ہماری ملاقات آسیہ جاوید سے ہوئی، جن کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور وہ گھروں میں کام کر کے اپنے اخراجات پورے کرتی ہیں۔ شوہر کی موت کے بعد وہ اور ان کی بیٹی چار سال سے اپنے حق کے لیے عدالتوں کی چکر لگا رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ مذہب اور ریاست نے عورت کو حق دیا ہے مگر معاشرہ یہ حق چھینتا ہے۔

‘وہ لوگ جو بے شعور ہیں وہ ہمارا حق نہیں دیتے تو ہمیں عدالت میں آنا پڑتا ہے، تب کہیں یہ حق ملتا ہے۔’

لیکن بھائیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی اختری بیگم اس سے اتفاق نہیں کرتیں، وہ سمجھتی ہیں کہ قوانین پر عمل درآمد ہو تو یہ مسائل جنم ہی نہ لیں، ‘عورتیں (اپنے حق کے لیے) باہر نکلتی ہیں، دھکے کھا کر واپس چلی جاتی ہیں، لیکن انصاف کوئی نہیں دیتا’۔

حقِ وراثت نہ دینے کی سزا کیا ہے؟

وراثت میں ملنے والی جائیداد میں خواتین کو ان کا حق نہ دینے سے متعلق پارلیمان میں ایک ایکٹ کے ذریعے قانون سازی کی گئی۔ ‘پریِوینشن آف اینٹی ویمن پریکٹسِس ایکٹ 2011’ کے تحت خاتون کو حق وراثت سے محروم کیے جانے پر دس سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا متعین کی گئی تھی۔

آسیہ

BBC
قانون کے مطابق اگر بیوہ شوپر کے مرنے کے بعد دوسری شادی کرے تب بھی وہ اپنے پہلے شوہر کی جائیداد میں اپنے حصے کی حقدار ہے

خواتین کا حقِ وراثت کیا ہے؟

بیوی کا حصہ

  • اگر مرنے والے کی کوئی اولاد نہیں تو بیوہ کو کل جائیداد کا چوتھائی حصہ ملے گا۔
  • اگر اولاد ہے تو بیوہ کو کل جائیداد کا آٹھواں حصہ ملے گا۔
  • اگر بیوہ شوپر کے مرنے کے بعد دوسری شادی کرے تب بھی وہ اپنے پہلے شوہر کی جائیداد میں اپنے حصے کی حقدار ہے۔

اولاد کا حصہ

  • بیٹی کا ماں اور باپ دونوں کی جائیداد میں حصہ ہوتا ہے۔
  • اگر مرنے والے کا کوئی بیٹا نہیں اور صرف ایک بیٹی ہے تو اسے جائیداد کا آدھا حصہ ملے گا۔ ایک سے زائد بیٹیاں ہیں تو کل جائیداد کا 2/3 حصہ برابر تقسیم ہو گا۔
  • اگر مرنے والے کا بیٹا ہے تو ہر بیٹی کو بیٹے کے ملنے والے حصے کا کم از کم آدھا حصہ ملے گا۔
  • اس کے علاوہ بہن کا اپنے بھائی اور بہن کی جائیداد میں، ماں کا اپنی اولاد کی جائیداد میں حتیٰ کہ سوتیلی بہن کا بھی حصہ مقرر کیا گیا ہے۔
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 6399 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp