ہمارا ہر گاؤں یادگار میوزیم


پراگ کے اس گاؤں کے مقتولین کے لہو پر اب جہاں تک آنکھ جاتی ہے سبزہ ہی سبزہ اگا ہے۔ پھانسی کے تختے پر گھاس اگے نہ اگے پر آج معلوم ہوا کہ بے گناہ قتل کیے جانے والوں کی مٹی جل تھل باغ وبہار کس طرح ہوتی ہے۔ مگر پھر بھی دکھ اور اداسی ہوائیں پہنے ہوئے ہر سو شائیں شائیں کر رہی ہوتی ہے۔ مجھے ایران کا بہشت زہرہ یاد آیا جہاں کئی جوان شاہ ایران کی فوجوں کی گولیوں کا نشانہ بنے تھے کئی کو خمینی نے جنگ میں ایندھن بنایا تھا۔ مجھے پراگ میں چیک انقلابی ادیب جولیس فیوچک یاد آیا جسے نازیوں نے ہٹلر کے خلاف مزاحمت پر پھانسی دی تھی۔ جولس فیوچک کی کال کوٹھڑی میں لکھی ہوئی ڈائری کا اردو میں ترجمہ پاکستان میں ہوا تھا، ’’پھانسی کے سائے میں‘‘ ۔

عجیب بات کہ مقامی ہوتے ہوئے بھی ظلم و جبر کے خلاف نفرت اور مظلوم سے ہمدردی عالمگیر ہو جاتی ہے۔ میں نے دیکھا یہودی لڑکی این فرینک کی ڈائری آج بھی جرمنی کے کتاب گھروں سے لیکر لاہور تک بک رہی ہے۔ این فرینک پر شیخ ا یاز نے بھی شاعری کی ہے۔

شاید برصغیر کا یہ اب تک پہلا اور آخری شاعر ہے جس نے این فرینک کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ ’’اینی میری بہنا او یہودی دھی‘‘ مجھے ایسے لگا کہ شیخ ایاز کی آواز ٓآج بھی جرمنی میں نازی مظالم کے عجائب گھروں کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہو۔۔ اس طرح کی ڈائری مجھے ملالہ یوسف زئی کی ’’گل مکئی کی ڈائری‘‘ لگی تھی۔ اسی لیے میں ملالہ کو پاکستان کی این فرینک کہتا ہوں۔ ملالہ سے لے کر آج کے ہیروز تک اک آواز ایک انسانی ہاتھوں کی زنجیر میں تبدیل ہو رہی ہے۔

’’ہم اس چوک کو خوشحال خان خٹک چوک کہتے ہیں۔‘‘ مجھے صحافی دوست عبدالحئی کاکڑ اس چوک پر ایک مجسمے کے بارے میں بتارہا تھا جو ایک ہاتھ میں تلوار لہراتے ہوئے ایک گھوڑے ہر سوار چیک ہیرو کا مجسمہ ہے، اسی جگہ ہی چیکو سلواکیہ کی کمیونسٹ حکومت کے خلاف انسانی سروں کا اژدھام نہیں سمندر پلٹ کر آ یا تھا جس نے کمیونسٹ نظام کا خاتمہ کردیا۔

ایسے میں روپوش ڈرامہ نگار اور کمیونسٹ نظام کی مزاحمت کا بانی ہیول نکل کر آیا اور جس نے اس تحریک اور پرامن مزاحمت کی قیادت کی تھی جسے ’’مخملی انقلاب‘‘ یا ’’ویلویٹ ریوولیوشن‘‘ کہا جاتا ہے۔ عدم تشدد کے ہتھیار میں اپنی طاقت ہوتی ہے جو کئی تختوں کو بغیر گولی چلائے تختہ کر دیتاہے۔ کل کی زیکو سلواکیہ آج چیک ریپبلک کہلاتی ہے۔ میں اسکے اور مہذب انسان کے شہر پراگ میں تھا پر میلان کنڈیرا پیرس میں۔ لیکن اس نے کہا تھا یادداشت کی لڑائی فراموشی کے ساتھ ہی ہوتی ۔ یہ لڑائی آج کی کل کے ساتھ ہے۔

تو پراگ میں پہلی صبح میری منزل یہ چھوٹا چیک گائوں لیڈئیثے تھا جہاں کوئی نہیں رہتا پر وہاں ان رہنے والوں کی یادگار رہتی ہے۔ اب اس جگہ اُن انسانی جرائم کا میوزیم ہے جو ہٹلر اور اسکی نازی فوجوں نے انیس سو بیالیس میں تب صوبہ بوہیمیا میں شامل اس زیک گائوں کےکئی عورتوں ، بچوں اورمردوں پرکئے۔ پورے کا پورا گائوں نازی فوجوں نے آگ لگا کر ملیا میٹ کردیا ۔

ہٹلر کا حکم تھا کہ گائوں کے پندرہ سال کی عمر سے زائد تمام مرد قتل کردئیے جائیں۔ بچوں کو ’’جرمن بنانے ‘‘ کو جرمن کنبوں کو دیا جائے، جو بچے بچ جائیں انہیں گیس چیمبر کرنے کو دیگر عورتوں اور بچوں کے ساتھ نازی جرمنی کنسٹریشن کیمپ میں بھیجا جائے۔ نہ نازی رہے نہ ہٹلر۔ نہ ان کا کوئی نام لیوا۔ لیکن ان تمام بچوں کے مجسمے ایک بڑے مجسمے کی صورت چیک مجسمہ سازوں نے بنا کر اس یادگار گائوں میں لا کر کھڑا کیا ہے جن کو ’’جرمنائیز ‘‘ کرنے کے نام پر نازیوں نے زبردستی جا کر کنسنٹریشن کیمپوں میں ڈالا تھا۔

میں سوچ رہا ہوں اگر نازی جرمنی میں ہٹلر کے کنسنٹریشن کیمپ تھے تو ہمارے ہاں ایسے عقوبت خانوں کو ’’ایکسٹرنمینٹ کیمپس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس چیک گائوں میں جو بچوں کے مجسمے ایک بڑے مجسمے کی شکل میں اس خون سبزہ رنگ چمن میں ایستادہ تھا اس میں بچوں کے خوف اور دہشت زدہ چہروں اور انکی آنکھوں کے ہر اک تاثر کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ گویا ان بچوں کو ابھی ابھی کنسنٹریشن کیمپوں میں ٖڈالنے کو لایا جا رہا ہو۔

اس مجسمے کے پاس میں نے دیکھا کہ اپنی سائیکل سوار ماں کے ساتھ آنیوالی بچی دوزانو بڑی دیر سے بیٹھی ان بچوں کی شکلوں کو گھورے جا رہی تھی۔ لوگ اس مجسمے پر پھول اور بچے کھلونے لاکر رکھ دیتے ہیں۔ یادگار میں تبدیل کیے ہوئے اس گائوں کے ایک میوزیم میں بچوں کی وہ کاپیاں بھی محفوظ ہیں جو اسکول پر حملےکے وقت ملی تھیں۔ مجھے نہ جانے کیوں ان کو دیکھ کر پشاور کے بچے یاد آئے۔

مجھے نازی فوجوں کے ہاتھوں تباہ کیے ہوئے اس گائوں کو دیکھ کر سندھ کے گائوں پنہل خان چانڈیو، لاکھاٹ، طیب تھہیم، احمد خان ہرہمانی، شہر مورو، نوشہرو فیروز، میہڑ ، خیرپورناتھن شاہ یاد آئے جن کے ساتھ آمر جنرل ضیاءالحق کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت کے دوران فضائی اور زمینی چڑھائیاں کی گئی تھیں۔ چیک حکومت کے محکمہ کلچر نے اس گائوں کو یادگار میوزیم میں تبدیل کیا ہے۔

لیکن بینظیر بھٹو نے حکومت میں آکر جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت دیا۔ ان عجائب گھروں میں بڑوں کی تصویریں، پاسپورٹ، تعلیمی اسناد، اور جنم کے سرٹیفکیٹ اور کپڑے تک محفوظ کر دئیے گئے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی سندھ ہو کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ ایسے کئی گائوں ہوں گے۔ ’’ اسی طرح تو ہمارے ملک کا ہر گائوں لڈیسئے ہے ۔ ہر گائوں اور شہر یادگار میوزیم ہے‘‘۔ میں سوچ رہا تھا یہ ظلم اور ستم کی تمام اداسی اب ہارون باچا کے گیتوں میں تو محفوظ نہیں ہو گئی؟

بشکریہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں