واعظ کا تکبر کہ الہی توبہ


asif Mehmood

جماعت اسلامی کیا کسی کنواری کا پیٹ ہے جسے زیر بحث نہیں لایا جا سکتا؟۔ ۔ ۔ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو ’ نثر کے ابو‘ کو چاہیے اسے کہیں چھپا کر رکھیں کہ ہم جیسے ’نا صالح‘ افراد کی نظر اس پر نہ پڑے لیکن اگر یہ ایک سیاسی جماعت ہے تو پھر یہ اپنے جملہ حوالوں سے زیر بحث آئے گی۔ اگر صالح قلم دنیا بھر کے معاملات پر محمود غزنوی کے گھوڑے کی طرح دوڑ اور ہنہنا سکتے ہیں تو ’ نا صالح‘ قلم بھی آزاد ہیں کہ صالحین کی جماعت پر نقد کر سکیں۔ جو تقوی کے گھونسلے میں بیٹھ کر دنیا داروں کی تنقید کی غلاظت سے بچنا چاہیں انہیں اپنے گھونسلے سے باہر آنا ہی نہیں چاہیے اور سیاست میں تو بالکل ہی نہیں آنا چاہیے ۔

خبطِ عظمت کے عارضے کے لیے ابھی تک کوئی شوکت خانم ہسپتال نہیں بنا اس لیے اس عارضے میں مبتلا احباب کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ایک سیاسی جماعت کی پالیسی پر کامل نیک نیتی سے اپنا موقف پیش کیا جائے تو آگے سے طعنہ ملتا ہے’ اچھا اب یہ ہمیں بتائیں گے جماعت اسلامی کو کیا کرنا چاہیے‘۔ بندہ پوچھے آپ اردو میں کالم لکھ کر اوبامہ کو بتا سکتے ہو کہ اسے کیا کرنا چاہیے تو آپ کو کیوں نہیں بتایا جا سکتا؟کیا آپ کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا فون آیا تھا کہ اوبامہ نے حکم دیا ہوا ہے جب تک پاکستان کے اردو اخبارات میں چھپنے والے تمام صالح کالم وہ پڑھ نہ لیں وہ ناشتہ نہیں کریں گے؟۔ جماعت اسلامی تو معلوم نہیں ’ سادہ لوح بڑھیا‘ ہے کہ نہیں لیکن بعض ’ پردہ نشیں بزرگ‘ واقعی بہت سادہ لوح ہیں۔ دعوت و تبلیغ میں عمر بتانے کے باوجود یہ راز نہیں پا سکے کہ کارِ سیاست میں تنقید سے بالاتر کوئی نہیں ہوتا۔

جماعت اسلامی ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت ہے۔ الیکشن میں بالعموم ضمانتیں ضبط کروا لینے کے باوجود اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر کا انتخاب ہوتا ہے اور یہ انتخاب خاصا حیران کن ہوتا ہے۔ چنانچہ فطری طور پر جماعت کی قیادت کی یہ تبدیلی زیر بحث آتی ہے۔ لوگ اس پر لکھتے ہیں۔ لیکن ’ پردہ نشیں بزرگ‘ اس پر برہم ہو جاتے ہیں اور مضمون باندھتے ہیں:’’اس ملک میں جتنے لوگ جماعت اسلامی میں دل چسپی لینے والے پائے جاتے ہیں اتنے لوگ خود جماعت میں نہیں پائے جاتے‘‘۔ یہی نہیں ،آگے فرماتے ہیں:’’ دل چسپ بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی جب وجود میں آئی تو فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک۔ ۔ ۔ اور کوچہ و بازار سے لے کر ایوان اقتدار تک۔ ۔ ۔ زندگی کے ہر گوشے میں اصلاح کرنے کے عزم کے ساتھ وجود میں آئی مگر۔ ۔ ہوا یہ کہ ہر شعبہِ حیات کے لوگ رل مل کر الٹے جماعت اسلامی ہی کی اصلاح کے درپے ہو گئے۔ ‘‘نرگسیت سے آلودہ یہ فقرہ پڑھا تو اقبال یاد آ گئے:’’ واعظ کا تکبر کہ الہی توبہ‘‘۔ یعنی آپ کو تو یہ حق ہے کہ آپ لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں بھی گھس جائیں اور اجتماعی زندگی میں بھی اصلاح کے نام پر اپنی فکر مسلط کرنا چاہیں لیکن جواب میں ایک آدھ گزارش کوئی آپ سے کر بیٹھے تو آپ منہ میں انگلی داب کر کہیں:’’ کم بختو ہم تو تمہاری اصلاح کرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں تم الٹا ہماری اصلاح کے درپے ہو گئے ہو‘‘۔ آپ اس فقرے میں پنہاں خبطِ عظمت دیکھیے:’’مگر ہوا یہ کہ ہر شعبہ حیات کے لوگ رل مل کر الٹے جماعت اسلامی ہی کی اصلاح کے درپے ہو گئے‘‘۔ یعنی آپ ہماری ’ اصلاح ‘ کے درپے ہو سکتے ہیں، کوئی دوسرا آپ کی اصلاح کے درپے نہیں ہو سکتا۔ آپ کو کس نے غلط فہمی ڈال دی کہ آپ معیار حق ہیں اس لیے یہ زندہ اور پائندہ قوم آپ سے صرف اصلاح کرواتی رہے آگے سے ’چوں ‘ بھی نہ کرے۔ ’ سادہ لوح بڑھیا‘ جب تک ایسی ’ صالح‘ سوچ کو طلاق بائن کبری نہیں دیتی شمع محفل نہیں بن سکتی۔

اب ذرا جماعت اسلامی کی پالیسیاں دیکھیے اور ان کے تضادات دیکھیے۔ کہا گیا یہ تاثر ٹھیک نہیں ہے کہ جماعت اسلامی میں قیادت کی تبدیلی سے کوئی انقلاب آ گیا ہے اس لیے لیاقت بلوچ ہی کو سیکرٹری جنرل کے عہدے پر برقرار رکھنے کا شوری نے فیصلہ کیا ہے۔ واہ کیا دلیل ہے۔ پورے ملک میں تو آپ چاہتے ہیں کہ انقلاب آ جائے لیکن آپ کی اپنی جماعت میں انقلاب آنے کا تاثر پیدا ہو تو آپ رد عمل کی نفسیات کے اسیر ہو جاتے ہیں۔ انقلاب اگر آپ کی جماعت کے لیے اچھا نہیں تو ملک کے لیے کیسے اچھا ہو سکتا ہے۔ اپنی جماعت کے لیے تو آپ انقلاب کی بجائے ارتقاء کا راستہ پسند کریں اور ملک میں آپ انقلاب کے نام کاروبارِ سیاست کریں۔

پروفیسر ابراہیم ، جن کا مجھے بے حد احترام ہے کہ بہت شفیق انسان ہیں، فرماتے تھے:’’ مشرف کو جانے دیا گیا تو نوا ز شریف کا گریبان پکڑیں گے‘‘۔ جسٹس منیر کا نظریہ ضرورت تو ہم نے سن رکھا ہے، اب یہ کیا صالحین کا نظریہ ضرورت قرار دیا جائے؟جب نواز شریف کو گرفتار کیا گیا، کیا اس وقت آپ آئین کی خاطر سڑک پر نکلے؟جب اسے اٹک قلعے میں ڈالا گیا کیا جماعت اسلامی نے ان کے بنیادی انسانی حقوق کی بات کی؟جب مشرف نے صالحین کو اپنے دیگر ہم خیالوں کے ساتھ دعوت دی کیا آپ نے دستور کی حرمت کی خاطر اس کا بائیکاٹ کیا؟قاضی حسین احمد مرحوم نے آئین کے کس آرٹیکل کے تحت مشرف کے ساتھ وہ گروپ فوٹو بنوایا جو آج بھی آئین و قانون کا مذاق اڑاتا دکھائی دیتا ہے؟ایم ایم اے کو تو لوگ آج بھی ’ مک مکا الائنس ‘ کہتے ہیں۔ آئین تو ضیاء الحق نے بھی پامال کیا، اسے تو آپ مردِ مومن کہتے رہے۔ ملا قادر کی طرح بھٹو کو بھی ناحق پھانسی دی گئی اس کو تو آپ نے کبھی اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا۔ آئی جے آئی کا حصہ آپ بنے۔ باقی کہانی ہے جودہرانے کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن گریبان پھر بھی آپ پکڑیں گے؟کیونکہ جماعت اسلامی تو وجود میں آئی ہی اس لیے کہ فرد کی ذاتی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک۔ ۔ ۔ اور کوچہ و بازار سے لے کر ایوان اقتدار تک۔ ۔ ۔ زندگی کے ہر گوشے میں اصلاح کرے ۔ وہ اس بات کی اجازت کیسے دے سکتی ہے کہ ہر شعبہِ حیات کے لوگ رل مل کر الٹے جماعت اسلامی ہی کی اصلاح کے درپے ہو جائیں۔ یعنی آپ سب کچھ کر کے بھی پاک صاف اور باقی کے لوگ قربانیاں دے دے کر بھی جمہوریت دوستی ثابت نہیں کر سکتے ۔

ایک سیاسی جماعت تنقید سے ماورا نہیں ہو سکتی۔ اس پر، اس کی قیادت پر اور اس کی پالیسیوں پر بہر حال نقد و جرح ہوتی رہے گی۔ ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ جماعت اسلامی کیا کسی کنواری کا پیٹ ہے جسے زیر بحث نہیں لایا جا سکتا؟۔ ۔ ۔ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو ’ نثر کے ابو‘ کو چاہیے اسے کہیں چھپا کر رکھیں کہ ہم جیسے ’ نا صالح‘ افراد کی نظر اس پر نہ پڑے لیکن اگر یہ ایک سیاسی جماعت ہے تو پھر یہ اپنے جملہ حوالوں سے زیر بحث آئے گی۔ اگر صالح قلم دنیا بھر کے معاملات پر محمود غزنوی کے گھوڑے کی طرح دوڑ اور ہنہنا سکتے ہیں تو ’ نا صالح‘ قلم بھی آزاد ہیں کہ صالحین کی جماعت پر نقد کر سکیں۔ جو تقوی کے گھونسلے میں بیٹھ کر دنیا داروں کی تنقید کی غلاظت سے بچنا چاہیں انہیں اپنے گھونسلے سے باہر آنا ہی نہیں چاہیے اور سیاست میں تو بالکل ہی نہیں آنا چاہیے ۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “واعظ کا تکبر کہ الہی توبہ

  • 20-04-2016 at 2:22 pm
    Permalink

    عزیزم آصف محمود، نثر کے ابو کا نثر پارہ کہاں چھپا ہے کہ جس کے جواب میں آپ نے صالحین کے خبطِ عظمت کے عارضے کو ٹیکہ لگایا ہے۔ مطلع کی جیئے ممنون ہوں گا

  • 20-04-2016 at 3:12 pm
    Permalink

    ’’جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار! یہی ہیں جو فسادی ہیں۔‘‘

Comments are closed.