یہ کس کا بچہ ہے؟


عدنان کاکڑ کا کالم ” لڑکیاں ہی کیوں حرامی ہوتی ہیں ‘‘ ان کے اپنے مخصوس انداز میں لکھا گیا تھا۔ جس کا محرک ایدھی کے جھولے میں ملنے والے وہ بچے ہیں جن میں زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ انسانوں کی جانب سے نسوانی جسم کچھ بچیوں کے لیے ناجائز کر دیا جا تا ہے، اور سزا کے طور پر انہیں ایدھی کے جھولے میں ڈال دیا جا تاہے۔ اورکبھی کبھی الٹرا ساؤ نڈ سے لڑکی کا علم ہو تے ہی اسے پیٹ میں ہی ضائع کروا دیا جا تاہے۔

نامساعد حالات، معاشی کسمپرسی یا میاں بیوی کی چپقلش میں بعض اوقات ارمانوں سے پیدا کیے گئے بچے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ناجائز ہو جا تے ہیں۔ کوئی خاتون، شوہر کی موت یا علیحدگی کے بعد اگر اپنے بچوں کی کفالت کے لیے نوکری کرنا چا ہے تو کم سن بچوں کی گھر میں دیکھ بھال مسئلہ بن جا تی ہے۔ وہ اپنے بچوں کو زندہ اور صحیح سلامت بھی دیکھنا چا ہتی ہے۔ ایک طرف اس کی خودار فطرت دوسری طرف ایسوں کے ہمدرد بھی اپنی زندگی ڈھونے کی مشقِ بے مشقت میں نڈھال، کس سے مدد طلب کرے ایسے میں چھپ کر رات کے اندھیرے میں اپنی جائز بچی کو اپنی مجبوری کے ہاتھوں رات کے اندھیرے میں ایدھی کے جھولے میں ڈال آتی ہے۔ غریب عورت کا غربت سے واسطہ ہوتا ہے، عزت سے اس کا کیا لینا دینا۔ چھوٹے موٹے القابات، پیٹھ پیچھے سیٹیاں اور آوازیں۔ یہ تو غریب عورت کی کانوں کی بالیوں کی طرح اس کے ساتھ لٹکے ہوتے ہیں۔ اسے کیا معلوم کہ اسے ہراساں کرنا بولتے ہیں۔ غریب عورت کی زبان سے تو یہ لفظ ہراسانی بھی صحیح طرح ادا نہیں ہوتا۔ پھر اس کی اوقات؟ کہ اس پر آہ بکا بھی کرے۔ ایدھی میں بچی کی عزت اور نفس دونوں محفوظ رہیں گے۔

بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ مستقل بے روزگاری میں مرد خود اپنی بیوی کو اپنے بچے ایدھی کے دروازے پر چھوڑ آنے کے لیے آمادہ کر لیتا ہے کہ وہ تو روکھی سوکھی کھا لیں گے اورکم سن بچے بھی ناقص اور ناکافی غذا کھا لیں گے، لیکن موت کو کون سمجھائے۔ جان کو آنے سے پہلے بیماری کا مزا چکھا تی ہے۔ اسپتال کے چکر لگواتی ہے۔ پل پل جسم سے خیرات لیتی ہے۔ ماں باپ کے صبر اور حوصلے کا امتحان لینے کے بعد انہیں اپنے استقبال کے لیے تیار کرتی ہے۔ اور ماں باپ خود پھر اسے دہائی دیتے ہیں کہ منحوس اب تو ہمارے بچے کی مشکل آسان کرنے آجا۔ اور جب ایک بچے کی مشکل آسان ہو گئی تو دوسرے بچوں کی طرف موت کو گھورتے پایا۔

یہ گھٹن میں سانس کھینچنے والے، عیاش والدین خود تو بھوک کھاتے اور پیاس پیتے ہیں۔ لیکن اپنے بچے کے لیے دو وقت کی غذا اور کھلی فضا میں ان کی سانسوں کی آسائش چاہتے ہیں۔ اپنے بچوں کو نازوں میں پالنے کی خواہش میں جکڑے والدین اب بچوں پر موت کی میلی نظر برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ بچوں کے لیے ایک آرام دہ زندگی کے بارے میں سو چتے ہیں، جو انہیں ایدھی کے اپنا گھر میں مل سکتی ہے۔

موجودہ دور میں جبکہ لیڈی ہیلتھ ورکرز گھر جا کر ضبطِ تولید کے طریقے بتا تی ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں اگر مرد و عورت کے ناجائز مراسم بھی ہوں، تو ضبطِ تو لید کے سو طریقے ہیں۔ پھر اگر کوئی عورت حاملہ ہو بھی جائے تو ابارشن بھی ایک حل ہے۔ کوئی خاتون بچے کی پیدائش کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈالے گی نہ ہی بد نامی مول لے گی۔ شہروں میں رہنے والی شادی شدہ خواتین اور مرد منصوبہ بندی کے طریقے اختیار کرتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ دور میں پڑھے لکھے گھرانوں میں زیادہ سے زیادہ تین اور کم پڑھے لکھوں میں زیادہ سے زیادہ پانچ یا چھ بچے ہوتے ہیں۔

مگر یہ آئے روز کوڑے میں مردہ حالت میں پڑے ہو ئے شیر خوار بچے کس کے ہوتے ہیں۔ وکیلوں کی لائبریری سے آپ کو وہ تمام حقیقی وواقعات مل جائیں گے جن میں میڈیکل رپورٹ اس مکروہ حقیقت کو آشکار کرتی نظر آتی ہے کہ لڑکی کے ساتھ جنسی روابط رکھنے والا اس کا سگا باپ، چچا، ماموں، دادا، نانا یا بھائی وغیرہ میں سے کوئی تھا۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ کوڑے میں پائے جانے والے یہ بچے بھی کسی جائز، بھروسے اور اعتماد سے پکارے جانے والے خونی اور محرم رشتے سے ناجائز لذت محسوس کرنے والے ہوس کارکی ڈھٹائی کا پھل ہوں۔ کسی ایسی معصوم کلی کے بطن سے نکلے ہوئے وہ حرامی پھول ہوں، جسے ضبطَ تولید کے طریقوں سے بھی واقفیت نہ تھی۔

کسی بھی ملک کا بڑا شہر لو گوں اور ان کی بد اعمالیوں کی غلاظت کو اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے پتہ نہیں لگتا، کہاں سے کس کی پھینکی ہوئی آلائش تعفن کا سبب بن رہی ہے۔ بھاگتی دوڑتی زندگی، کسی زخمی کو دیکھ کر رکتی ہے نہ جنازہ دیکھ کر۔ مگرگاؤں یا چھوٹے شہر میں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خاندان سے واقفیت ہے۔ مزاج، عادات، رہن سہن سے شناسائی ہوتی ہے۔ یہاں کچھ نہیں چھپ سکتا۔ تجربے کار دائی، ہیلتھ ورکر یا نرس سب، سب کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ اگر بچی نے کچھ الٹا سیدھا بول دیا تو زمانے میں منہ دکھا نے لائق نہیں رہیں گے اس لیے بچے کو ماں کے پیٹ میں سانس لینے کا موقع تودو مگر دنیا میں سانس لینے سے پہلے اسے جلا دو، مار دو، دریا میں ڈال دو، زمین میں دفن کر دو۔ کیوں کہ اس بچے کے نفس میں بڑا ابہام ہے جینے کا موقع ملا، تو ابہام کی دوری کے ساتھ شان وشوکت کے بل پر قائم عزت بھی چلی جائے گی۔ جائز رشتوں سے ناجائز تعلق کا کسی بھی اعتبار سے اچھا نتیجہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے میڈیکل سائنس نے خونی رشتوں کے درمیان جنسی ملاپ سے ہونے والے بچوں کی نشونما میں کچھ نقائص کی بابت بہت پہلے سے ہی خبر دار کر دیا ہے۔ تمام مذاہب میں ایسے ملاپ کو گنا ہ قرار دیا ہے۔

ہو سکتا ہے یہ کوڑے میں پھینکے جانے والا بچے کا باپ اس کی ماں کا بھی باپ ہو، یا اس کی ماں کا چچا، یا اس کی ماں کا بھائی، یا اس کی ماں کا ماموں یا اس کی ماں کا دادا یا اس کی ماں کا نانا ایسے محترم، پاکیزہ رشتوں کے بیچ جب شیطان جاگے تو کلی، چٹکنے سے پہلے مرجھا جاتی ہے۔ اور پھول کھلنے سے پہلے مسل کر کوڑے میں کتوں کی غذا بننے کے لیے چھوڑ دیا جا تا ہے۔ یا پھرفلاح کے راستے پر آنے والے کسی رحم دل، بے اولاد نمازی کی گود بھر جانے کے خیال سے مسجد کی چوکھٹ پر چھوڑ دیا جا تاہے۔ مگر اس بچے کو دیکھ کر ہو سکتا ہے اسی بچے کے کسی تایا، چچا، خالو، بہنوئی، نانا، دادا، یا ماموں کو حیا آئی ہو اور اسے ناجائز قرار دے کر اسے پتھر مار کر ہلاک کرنے کا جائز کام اس لیے کیا ہو کہ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےیہ لڑکیاں ہی کیوں حرامی ہوتی ہیں؟سالانہ ہزاروں ’ناجائز بچوں‘ کا خفیہ قتل
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں