مہاراج اور مہیلا شادی کا ثبوت کیسے دیں؟


میں کیسے مان لوں کہ آپ دونوں کی شادی ہو چکی؟ کوئی دستاویزی ثبوت؟ نکاح نامہ ؟ نہیں ؟ چلیے زوجہ محترمہ کا شناختی کارڈ ہی دکھا دیجیے جس پر بطور شوہر آپ کا نام درج ہو؟ نہیں ؟ سوری سر آپ اس ہوٹل میں بغیر دستاویزی شناخت کے ایک ہی کمرے میں نہیں رہ سکتے۔

او جی پکڑے جائیں تو سب یہی کہتے ہیں کہ جی ہم میاں بیوی ہیں۔ میاں بیوی ہو تو رات 11 بجے ساحل پر کیا کر رہے ہو۔۔۔ہیں جی ؟

ٹھیک ہیں مان لیتے ہیں کہ آپ ان کی بیوی ہیں مگر ہم آپ کو پنشن نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے قانونی ثبوت دینا ہوگا کہ وہ آپ کے شوہر تھے ؟

نہیں نہیں صرف شادی کارڈ اور شادی کی تصویریں دکھانے سے کام نہیں چلے گا۔ یہ جائیداد کی منتقلی کا معاملہ ہے آپ کو مجسٹریٹ کے روبرو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ ہی ان کی بیوی تھیں۔

نان نفقہ تو بی بی تب ملے گا جب تم قائل کرسکو کہ یہ آدمی جو تمہارے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہے یہی تمہارا شوہر ہے۔ وہ تو تمھیں پہچاننے سے بھی انکاری ہے۔ ہاں ہاں دو بچے بھی تمہارے ساتھ کھڑے ہیں مگر کیا ثبوت ہے کہ یہ بچے اسی آدمی کے ہیں۔

اوکے ہم آپ کو سکالر شپ کی بنیاد پر ویزا جاری کردیتے ہیں مگر آپ کے شوہر کو تب ہی ویزا دے سکتے ہیں جب آپ شناختی کارڈ یا میرج سرٹیفکیٹ کی کاپی بھی مہیا کریں۔ نہیں جی یہ شناختی کارڈ نہیں چل سکتا اس پر تو آپ کے والد کا نام لکھا ہے۔ اب آپ کھڑکی سے ہٹ جائیے۔ نیکسٹ پلیز۔۔۔

آپ مشترکہ اکاؤنٹ کھلوا سکتے ہیں مگر میں رشتے کے خانے میں کیا لکھوں؟

طلاق ؟ کس بنیاد پر طلاق ؟ طلاق ہوا میں تو نہیں ہوتی ؟ آپ میاں بیوی ہیں ہی نہیں تو طلاق کاہے کی۔ جائیے ہمارا وقت ضائع نہ کریں۔

کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کے پاس اپنا نکاح ثابت کرنے کے لیے کوئی کاغذ نہ ہو تو زندگی کیسا عذاب ہوسکتی ہے۔ معاملے کی سنگینی شاید آپ کو اب بھی اچھے سے سمجھ میں نہ آئے۔

ایک اور مثال دیتا ہوں۔

خدانخواستہ آپ کی بیوی اغوا ہو جاتی ہے اور اغواکار اس سے جبراً تبدیلیِ مذہب کے بعد جبراً شادی کر لیتا ہے۔ عورت کو ڈرا دھمکا کر عدالت کے روبرو بھی نکاح نامے سمیت پیش کردیتا ہے۔ اغوا کار کے ساتھی کمرہِ عدالت میں بھی ہیں اور کمرے سے باہر بھی۔

کچھ مونچھوں کو تاؤ دے رہے ہیں۔ کچھ آپ کی مبینہ بیوی اور آپ کو گھور رہے ہیں۔ جج پوچھتا ہے کیا ثبوت ہے کہ یہ عورت شادی شدہ ہے اور آپ ہی اس کے شوہر ہیں۔ اگر آپ کے پاس ایک بھی کاغذ نہیں تو کیسے ثابت کریں گے۔ کیسے بتائیں گے کہ ایک شوہر کی موجودگی میں دوسرے سے شادی بدکاری ہے ؟ رونے پیٹنے اور دہائی دینے سے تو جج صاحب کا دل نرم ہونے سے رہا۔

خوش قسمتی سے آپ کو یہ مسائل درپیش نہیں کیونکہ ایک تو آپ اکثریت میں ہیں اور یہ کہ آپ کو مسلم عائلی ایکٹ مجریہ 1962 کا تحفظ حاصل ہے جس کے تحت نکاح نامے کی ایک، ایک کاپی شوہر اور بیوی کو ملتی ہے۔ ایک کاپی بلدیاتی اندراجی ریکارڈ میں جاتی ہے اور ایک کاپی نکاح خواں کے پاس رہتی ہے۔

اگر آپ کرسچن ہیں تب بھی آپ کو بہت زیادہ مسئلہ نہیں ہوگا۔ کرسچن میرج ایکٹ مجریہ 1872 کے تحت آپ کی شادی چرچ کے ریکارڈ میں یا سرکار کے مقرر کردہ میرج کونسلر کے پاس رجسٹر ہوسکتی ہے۔ بس یہ ہے کہ طلاق میں مشکل پیش آئے گی۔ کیونکہ کرسچن میرج ایکٹ کے تحت صرف ایک صورت میں ہی طلاق ہوسکتی ہے۔

اگر ثابت ہوجائے کہ شوہر یا بیوی میں سے کوئی ایک بدکاری کا مرتکب ہوا ہے۔ چنانچہ دو ہی راستے ہیں، یا تو آپ اپنی بیوی یا شوہر پر بدکاری کا جھوٹا الزام لگائیں یا پھر مذہب بدل لیں تاکہ جان چھوٹ جائے۔

مگر پاکستان کی سب سے بڑی اقلیت یعنی ہندو کیا کرے جو آبادی کا پونے دو فیصد ہونے کے باوجود اپنی شادی کاغذ پر ثابت نہیں کرسکتے۔ اس ملک میں کوئی ہندو میرج ایکٹ نہیں۔ سنہ 1976 سے یہ ایکٹ بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ کبھی ریاست آڑے آجاتی ہے تو کبھی خود ہندو کمیونٹی کے مذہبی ٹھیکیدار۔

سپریم کورٹ چار بار مختلف حکومتوں کو یہ انسانی مسئلہ حل کرنے کے لیے الٹی میٹم دے چکی۔ نادرا کو ضمنی دستاویزی ثبوتوں کی بنا پر دو بار میرج سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی تنبیہہ کر چکی۔ مگر نادرا کا سیدھا سوال ہے کہ عدالت کا حکم سرآنکھوں پر مگر ہم کس قانون کے تحت میرج سرٹیفکیٹ جاری کریں ؟

مختلف قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ہندو میرج ایکٹ کے کئی نجی و سرکاری بل پیش ہو کے گل سڑ گئے۔ 18ویں ترمیم کے بعد یہی طے نہیں ہو رہا کہ ہندو میرج ایکٹ وفاقی ہونا چاہیے کہ ہر صوبے کا الگ الگ۔

کوئی دو برس قبل قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی نے خدا خدا کرکے ایک بل کا مسودہ منظور کیا ہے مگر اس میں بھی بعض تکنیکی نقائص ہیں۔ ابھی اسے دونوں ایوانوں کی عددی منظوری درکار ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد چاروں صوبوں کی تحریری رضامندی کے بغیر یہ ایکٹ پورے پاکستان پر لاگو نہیں ہوسکتا۔ ایسی صورت میں اگر پارلیمنٹ نے منظور کر بھی لیا تو اس کا نفاذ صرف اسلام آباد کے وفاقی علاقے پر ہی ہو پائے گا۔

تب تک پاکستان کے 33 لاکھ ہندو کیا کریں ؟ اپنی شادیاں کیسے کیسے کس سے بچائیں۔ آئین کی اس شق سے کیسے لطف اندوز ہوں کہ قانون کی نگاہ میں تمام شہری برابر ہیں؟

ایک پڑوسی ملک ( بھارت ) کا ہندو میرج ایکٹ مجریہ 1955 ہی پڑھ لیں۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ مفید باتیں بھی ہوں شادی کے قانونی تحفظ اور طلاق کے حق سمیت۔

ایک اور طریقہ بھی ہے اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنے کا۔ دس منٹ کے لئے آنکھیں بند کیجیے اور خود کو ہندو برادری کی جگہ رکھ کے سوچیے۔ لگ پتہ جائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں