غربت کا ڈنک


پچھلے ہفتے پھر اپنے لیہ گائوں میں تھا۔میری بہن گاؤں سے تین چار کلومیٹر دور بچوں کے سکول میں پڑھاتی ہے۔ کئی برس ہوئے اس نے کہا تھا :میرا بھی گاؤں کے سکول میں ٹرانسفر کرادو۔ میں نے کہا :نہیں ادھر ہی پڑھائو،آخر کسی نے اس سکول میں بھی تو پڑھانا ہے، اسی بہانے روزانہ چند کلومیٹر پیدل چل لیتی ہو۔ اس کے بعد اس نے کبھی اصرار نہیں کیا ۔

گاؤں کے لوگ اب کام نہیں کرتے جس وجہ سے گائوں میں موٹاپے، بلڈ پریشر اور شوگر جیسی بیماریاں بہت عام ہورہی ہیں اور نوجوان اب ہارٹ اٹیک سے فوت ہورہے ہیں۔ کبھی دور تھا جب سب پیدل چلتے تھے۔ بابا کی وفات کے بعد خود اماں روزانہ صبح سویرے اٹھتیں ۔ رشین کتوں کی سفید رنگ کی خوبصورت جوڑی ان کے ساتھ ہوتی اور اپنے کھیتوں پر جا کر کام کرآتیں ،شام کو واپس لوٹتیں۔

سلیم بھائی وہ جوڑی تحصیل کروڑ سے کسی دوست سے لائے تھے۔ وہ ہم سے زیادہ اماں کے ساتھ الفت پال بیٹھے تھے۔ روزانہ اماں کے ساتھ کھیتوں پر جاتے۔ ایک طرح سے وہ اماں کو کمپنی دیتے۔ جب اماں اچانک بیمار ہوئیں اور انہیں نشتر ہسپتال لے گئے تو ایک ان کے پیچھے اداسی سے مرگیا ۔ گھر میں اچانک سب کو اماں کی فکر پڑ گئی ۔ ان کا وہ خیال نہ رکھا جا سکا جیسے اماں رکھتی تھیں ۔ باہر لے جانے والا کوئی نہ تھا ۔ دوسرا دو دن بعد مرگیا ،جس دن ہم آٹھ ماہ بعد اماں کی میّت گھر لائے تھے۔ ماں کے ساتھ ساتھ ہم اماں کے رشین کتوں کی جوڑی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اس دور میں لوگ کھیتوں پر کام کرتے تھے۔ گائوں کی خواتین اور کچھ کرتی تھیں یا نہیں لیکن دو تین کام ان کے ذمے ہوتے تھے۔ کپاس کی چنائی ایک بہت بڑا ایونٹ ہوتا تھا۔ گائوں کی سب خواتین بڑی تعداد میں کھیت میں جا کر کپاس چنتیں اور شام کو سب کو کپاس میں سے ہی چوتھا یا پانچواں حصہ ملتا۔ کیش مزدوری کا ابھی رواج نہیں آیا تھا۔ گندم کاٹنا ہے تو بھی گندم ملتی تھی۔ کھیتوں میں جا کر روٹی دے کر آنا یا پھر وہاں بھینس یا گائے یا بکریوں کا دودھ دوہنے کا کام بھی خواتین کرتی تھیں۔ مردوں کے برابر کام کرتیں۔

دھیرے دھیرے سب نے اپنے بچوں کو پڑھانا شروع کردیا اور یوں گاؤں میں نوکریاں آنی شروع ہوئیں۔ مجھے یاد ہے انیس سو اسی کی دہائی میں اُس وقت گائوں میں صرف ہماری بہن کی سکول کی نوکری تھی۔ آج ہر گھر میں دو تین لڑکیاں سکول میں پڑھاتی ہیں۔ یوں خوشحالی آتی گئی لیکن جسمانی کام ختم ہوتا گیاہے ۔

اب کوئی گاؤں میں سے آپ کو کھیتوں میں کپاس چنتا نظر نہیں آتا ،نہ ہی گندم کٹائی میں۔نہ ہی دیگر کام ۔ اب کپاس چننا یا گندم کی کٹائی میں مردوں کا ساتھ دینا ان کی شان اور گھریلو عزت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ خوشحالی نے گاؤں کے ساتھ دو تین کام کیے۔ سب نے موٹر سائیکل خرید لیے یا پھر کسی نے کار لے لی ۔ جو کبھی قریبی اڈے پر پیدل جاتے تھے اب انہوں نے بھی موٹر سائیکل کوکک ماری اور پانچ منٹ بعد اڈے پر پہنچ گیا ۔ یوں پیدل چلنے کا رواج خواتین اور مردوں میں ختم ہوکر رہ گیا۔

 خوراک وہی ہے جو کبھی بزرگ کھاتے تھے ۔یوں اب گاؤں میں سب میری طرح آپ کو موٹے ہٹے کٹے ملتے ہیں۔ وہ کام جو یہ سب کرتے تھے اب گاؤں کے غریبوں کے ذمے لگ گئے ہیں۔ ساتھ ہی ان دیہات میں بغیر سوچے سمجھے جس کا جہاں جی چاہ اس نے دیوار کھڑی کر لی۔ شاید آپ لوگ حیران ہوں یہ سن کر کہ انیس سو ترانوے چورانے تک ہمارے گائوں میں کوئی دیوار نہیں تھی ۔ آپ اپنے گھر سے نکلتے اور پورا گائوں پھر آتے۔ ایک گھر سے دوسرے گھر۔ اب زمانہ بدلنے کے ساتھ مجھے خود گائوں کا راستہ نہیں ملتا ۔ بے ہنگ گھروں کی تعمیر نے گاؤں کی خوبصورتی بگاڑ دی ہے۔

میری بہن کو پتہ ہے کہ جہاں گاؤں میں مجھے اور چیزیں کھینچ کر لے جاتی ہیں وہیں اس کے بچپن سے دال کا ذائقہ بھی مجھے ہر دفعہ گاؤں جانے پر مجبور کردیتا ہے۔ اسلام آباد سے چلتے ہوئے پہلی کال اس کو کرتا ہوں کہ میرے لیے دال تیار رکھنا ۔ ایک دفعہ رات کو دو بجے گائوں پہنچا تو وہ تازہ دال تیار کر کے بیٹھی تھی۔

سوئی نہیں تھی کہ بھائی کو تازہ روٹی بنا کر دوں گی۔ اس رات مجھے احساس ہوا کہ بہن کا رشتہ کتنا خوبصورت ہوتا ہے۔ گاؤں میں دو دن تک اور کچھ نہیں کھاتا ،اس کی پکائی ہوئی دال ہی دو دو ٹائم کھاتا ہوں۔ اس دفعہ ہنس کر کہنے لگی کہ میں نے بیگن کا بھرتہ بنایا ہے وہ کھانا ۔ تم نے تو مجھے بدنام کردیا ہے کہ شاید مجھے صرف دال ہی پکانا آتی ہے۔

میں نے دال کی تعریف کی تو وہ ہنس کر وہ بولی :اس دال کی مزدوری کے طور پر تم نے میرے سکول کے بچوں کے لیے نئی وردیاں، جوتے اور سکول بیگ لے کر دینے ہیں ، بہت غریب ہیں اس علاقے کے لوگ ۔ اسے پتا ہے کہ اپنے بھانجے منصور کے ساتھ مل کر ہم نے دو مرحوم بھائیوں نعیم ، یوسف اور منصور کی مرحومہ ماں کے نام پر چیرٹی کا کام شروع کیا ہوا ہے۔

اس کا مقصد غریب بچوں کو سکول لانا، بیوہ عورتوں کی مدد ، کسانوں کو سود فری قرضے، یتیموں کی مدد اور انہیں غربت سے باہر نکلنے میں مدد دینا ہے۔میں نے کہا :ضرور مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ، بالکل تمہارے سکول کے بچوں کو سب چیزیں لے کر دیں گے۔

کہنے لگی :تمہیں پتا ہے کہ اب کی دفعہ میں بچوں کو گندم کے کھیتوں سے پکڑ کر سکول لائی ہوں ، ماں باپ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی بجائے کٹائی پر ساتھ لے جاتے ہیں تاکہ وہ کچھ پیسے کما سکیں ۔ اسی طرح کپاس چنائی کے موقع پر بھی بچوں کو سکول نہیں بھیجتے کہ وہاں سے انہیں کیش مل جاتا ہے۔ وہ بتانے لگی کہ والدین نے بچے سکول بھیجنے سے انکار کر دیا ۔

اس پر اس نے اپنی جیب سے انہیں مزدوری کے پیسے دیئے اور بچے سکول لے آئی ۔ بتانے لگی کہ پہلی سے پانچویں تک تو بچوں کے والدین کو کچھ پیسے ملتے ہیں لیکن اوپر کی کلاس کے بچوں کو نہیں ملتے لہٰذا والدین انہیں کھیتوں پر مزدوری پر لے جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ایک اور کام کیا ہے کہ تمام خواتین استادوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے اپنے سکولوں میں بچوں کو گھروں سے لائیں۔ بہن پوچھ رہی تھی کہ یہ کام تو ان علاقوں کے کونسلرز کو کرنے چاہئیں۔ اب جب استاد ایک ایک گھر جاتے ہیں تو کئی جگہ انہیں باتیں سننا پڑتی ہیں اور یوں استادوں کی عزتِ نفس مجروح ہوتی ہے اور بچے بھی استادوں سے کھچے کھچے رہتے ہیں کہ اس استاد نے انہیں کھیل سے نکال کر پڑھنے پر لگا دیا ہے۔

اب سکول کے بعد استادوں کو پورا علاقہ پھرنا پڑتا ہے۔ یہ ذمہ داری استاد کیسے اٹھائیں۔ اسی طرح اس کا خیال تھا کہ نان فارمل سکولز کے بچوں کو بھی عام سکولوں میں ضم کیا جائے اور نان فارمل سکولوں کی استانیوں کو بھی ان سکولوں میں ضم کر دیا جائے کیونکہ بچوں کی تعداد بڑھنے سے اب ٹیچرز کی بھی ضرورت ہے۔ سکول میں بچوں کی تعداد بڑھ جائے تو ٹیچرز پورے نہیں ہوتے۔

بہن کے ہاتھوں کی دال کھاتے ہوئے اس سے میں ان علاقے کے غریبوں کے بچوں اور ان کے والدین کی کہانیاں سنتا رہا ۔

غربت کی کہانیاں سن کر مجھے بجٹ دستاویزات یاد آئیں کہ اس سال اسلام آباد میں وفاقی وزراء نے چوبیس کروڑ روپے کی نئی گاڑیاں خریدی ہیں، جب کہ سو ارب روپے کی کل نئی گاڑیاں خریدی گئی ہیں ۔ اور یہاں استاد اپنی جیب سے بچوں کے والدین کو پیسے دے کر مزدوری سے ہٹا کر سکول لا رہے تھے۔

وہ مجھے بتاتی رہیں کہ فلاں گھر جب وہ ان کو سمجھانے گئی کہ وہ بچوں کو سکول بھیجیں تو انہوں نے اپنے ننگ دھڑنگ بچوں کی طرف اشارہ کر کے کہا :جن کے پاس پہننے کے کپڑے نہیں ،جوتے نہیں ،وہ کہاں سے وردی لائیں ، کپڑے لائیں یا جوتے خریدیں ۔ ہر گھر کی یہی کہانی ہے۔ کہنے لگی :جو میں اپنی تنخواہ سے انہیں چیزیں خرید کر دے سکتی ہوں، دیتی رہتی ہوں۔ اب میں اپنی کلاس کے سب ستر بچوں کو تو وردیاں بیگ ، جوتے اور دیگر چیزیں خرید کر نہیں دے سکتی۔ میں نے کہا :کوئی بات نہیں مجھے بتایا کرو ، میں خرید کر دیا کروں گا ۔

گاؤں سے دور رہنے والے ان غریبوں اور ان کی غربت کی کہانیاں سنتے ہوئے مجھے پہلی دفعہ لگا آج اس کی پکائی ہوئی دال مجھے وہ ذائقہ نہیں دے رہی جس کے لیے میں اسلام آباد سے لیہ کا طویل سفر کرتا ہوں۔علاقے کے غریبوں کی غربت کی بہن سے دردناک کہانیاں سن کر مجھے اپنی خوش حالی کاٹ رہی تھی ۔ مجھے خود اپنا آپ مجرم لگا ۔

میں نے دال کی پلیٹ ایک طرف رکھ دی !

بشکریہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں