لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کو پونے بارہ مشورے


adnan-khan-kakar-mukalima-3

اب جبکہ رائٹ ونگ کے کچے پکے سے نوجوان لکھاریوں کے لیے ہدایت نامے شائع ہونے لگے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کی راہنمائی بھی کی جائے۔ گو کہ ہم چاہتے تھے کہ لیفٹ ونگ کا کوئی گرگ باراں دیدہ اس طرح کا ہدایت نامہ ترتیب دے، مگر اب دو دن تک انتظار کرنے کے بعد ہمیں احساس ہوا ہے کہ گرگ (بھیڑیا) اور لگڑ بھگا وغیرہ ٹائپ کے شکاری لکھاری فی زمانہ صرف رائٹ ونگ میں پائے جاتے ہیں، سو ناچار ہم نے خود ہی لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کے لیے پونے بارہ پوائنٹ کا یہ ہدایت نامہ ترتیب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ہمیں اس بھاری ذمہ داری کا پورا احساس ہے جو ہم نے رضاکارانہ طور پر قبول کی ہے۔ لیفٹ ونگ سے تعلق رکھنے والے اچھے لکھاری زمانے کے سرد و گرم چشیدہ اور خوب پڑھے لکھے ہوتے ہیں، جو کہ جذبات، اوہمات اور خواہشات کی بجائے منطقی انداز میں معاملات کو دیکھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ان کی راہنمائی کرنا آسان معاملہ نہیں ہے، لیکن بہرحال، جو بھی بری بھلی سی کوشش کی ہے وہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔

۔ایک۔ رائٹ ونگ کا کوئی مجاہد ایک بے سر و پا دعوی کر دے تو آپ قہقہہ مار کر مت ہنسا کریں۔ اس سے وہ شرمندہ ہو کر اپنے موقف پر مزید سختی سے جم جاتا ہے۔ اس کی بجائے آپ یہ سوچ کر گفتگو کیا کریں کہ آپ ایک ڈھائی سالہ ننھے سے بچے کو دنیا داری کے معاملات سمجھا رہے ہیں اور اسی ذہنی لیول پر اتر کر گفتگو کیا کریں۔ یاد رکھیں کہ جب ہم بھی نوجوان تھے اور ہمارا علم اور ہمارے جذبات درسی کتابوں کے زیر اثر تھے تو ہم بھی ایسے ہی جذباتی اور ناسمجھ ہوا کرتے تھے۔ پھر وقت نے علم دیا۔ اگر وہ کوشش کریں گے تو ان کو بھی وقت علم سے محروم نہیں رکھے گا۔ جب جذبات کے چڑھتے دریا اتریں گے تو وہ بھی تہہ کو پا لیں گے۔

moon-963926_960_720

۔دو۔ رائٹ ونگ کے مجاہدین کو یہ گمان ہوتا ہے کہ وہ اپنی غلیل سے چاند پر بھی پتھر پھینک سکتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر وہ آپ کو چاند کی سطح پر موجود گڑھے بھی دکھا سکتے ہیں جو کہ ان کی چاند ماری کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے زمین اور چاند کے درمیان اڑنے والے ان مسلح اور غیر مسلح مصنوعی سیاروں کو تباہ کرنا بھی ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے جو کہ سپر پاورز نے دنیا کے گرد بکھیر رکھے ہیں۔ اسی طرح وہ بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا کر دشمن کی نیوکلئیر آبدوزیں تباہ کرنے کو بھِی عین ممکن مانتے ہیں۔ ان کو چاند کا فاصلہ اور غلیل کی طاقت سمجھانے کا فائدہ نہیں ہے۔ ہاں ان کو یہ ضرور سمجھانا چاہیے کہ تانگے والا گھوڑا خشکی کا جانور ہے جو فی زمانہ بحر ظلمات کی بجائے صرف ریس میں دوڑایا جاتا ہے۔ اس لیے نیوکلئیر آبدوزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اور کچھ نہیں تو کم از کم دریائی گھوڑے ہی کو سدھانے کی کوشش کر لیں تو مناسب ہے۔

predator-firing-missile4

۔تین۔ اگر وہ یہ دعوی کریں کہ وہ اپنے وظیفوں اور پیر صاحب کی دعا کی بدولت دشمن کے ہوائی جہاز گرا سکتے ہیں، تو ان کو فزکس وغیرہ پڑھانے کی کوشش ہرگز مت کریں۔ فزکس نامی یہ مضمون تو نصاب میں بھی گیارہویں جماعت کے سولہ سالہ بچے کو پڑھایا جاتا ہے جو کہ آپ پلے گروپ کے بچے کو پڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو بس یہ بتا کر خاموش ہو جائیں کہ یہ تعویذ اسی صورت میں موثر ہو گا اگر طیارہ شکن سٹنگر میزائیل پر چسپاں کر کے ہوائی جہاز کی خدمت میں پیش کیا جائے۔

۔چار۔ اگر وہ آپ کو یہ بتائیں کہ آپ نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، تو ان سے نظریہ پاکستان کا متن مانگ لیں اور پوچھ لیں کہ یہ کس شخص نے کب اور کہاں پیش کیا تھا۔ اگر وہ آدھے پونے گھنٹے کی گوگل سرچوں میں ناکام ہو کر آپ کو یہ بتائیں کہ نظریہ پاکستان ہر اس شخص کو نظر آ سکتا ہے جس نے تحریک پاکستان کا مطالعہ کیا ہے، تو یہ پوچھ لیں کہ ’جو سیکولر تحریک پاکستان کا مطالعہ کر کے قائد اور اقبال کے پاکستان کو سیکولر سمجھتے ہیں، ان کی فہم کو آپ کی فہم سے کمتر کیوں سمجھا جائے؟‘۔ یہ تو پھر ہر شخص کا ذاتی نظریہ ہوا جو کہ اس کے دماغ اور علم و فہم کے مطابق ہو گا۔

۔پانچ۔ اگر وہ یہ بتائیں کہ جناح صاحب کہنا غلط ہے اور یہ نظریہ پاکستان وغیرہ کی خلاف ورزی ہے، تو ان سے یہ پوچھ لیا جائے کہ کیا جناح صاحب نے خود کو ہمیشہ ’مسٹر جناح‘ کہلانا پسند نہیں کیا ہے؟ کیا اس اصول کے تحت قائد خود بھی اس مبینہ نظریہ پاکستان کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائیں گے جو کہ رائٹ کے نوجوان لکھاریوں نے اخذ کر رکھا ہے، یا پھر یہ تہمت صرف رائٹ ونگ کے مخالفین پر ہی دھری جائے گی۔

۔چھے۔ اگر وہ آپ کو کہیں کہ اقبال اور قائد کے بتائے گئے اصولوں کے مطابق پاکستان کا نظام بننا چاہیے، تو ان کو مشورہ دے دیں کہ اقبال کے شعروں سے من چاہا نظام اخذ کرنے کی بجائے اقبال کا چھٹا خطبہ بغور پڑھ لیں جس میں وہ اتاترک کی پارلیمنٹ جیسا نظام تمام مسلمان ملکوں میں رائج کرنے پر زور دیتے ہیں اور اس سیکولر پارلیمان کو ہی خلافت کی جدید شکل قرار دیتے ہیں۔ مزید برآں ان کو قائد کے اتاترک کے بارے میں خیالات سے بھی مطلع کر دیں۔

۔سات۔ اگر وہ کہیں کہ قائد نے گیارہ اگست کو مجلس آئین ساز کے سربراہ کی حیثیت سے جو تقریر کرتے ہوئے مجلس کو آئین سازی کے معاملے پر جو راہنما ہدایات دی تھیں، اس پر عوامی سیاسی تقاریر کو فوقیت دی جانی چاہیے، تو ان سے سوال کیا جانا چاہیے کہ کیا عمران خان اور شہباز شریف کی الیکشن مہم کے دوران کی گئی تقاریر اہم گردانی جائیں گی یا ان کی پارلیمانی تقاریر ان کی سنجیدہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں؟ کیا الیکشن جیتنے کے بعد ن لیگ نے واقعی آصف علی زرداری صاحب کو عوامی تقاریر کے مطابق سڑکوں پر گھسیٹنا شروع کر دیا تھا یا وہ معاملہ بس عوام کو جوش دلانے کی خاطر تھا؟

۔آٹھ۔ اگر وہ یہ بتائیں کہ ’چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا‘، تو ان سے کہیں کہ ذرا اپنے چین و عرب کے کسی ائیرپورٹ پر ویزے کے بغیر کیا، باقاعدہ ویزے کے ساتھ اتر کر بھی اپنے ساتھ اپنے اس وطن میں ہوتے سلوک کو بیان کریں۔ اور اگر اپنے عرب شریف میں کچھ عرصہ گزارنے کا اتفاق ہو گیا تو پھر امید ہے کہ اس احساس ملکیت میں مزید اصلاح ہو جائے گی۔

modi2

۔نو۔ اگر وہ آپ کو بتائیں کہ فلاں فلاں ملک ہمارا برادر اور جان سے بھی زیادہ عزیز ہے تو ان کو سعودی عرب اور امارات کے مودی کے دورے کے بارے میں آگاہ کریں۔ جب وہ ریاض کی سڑکوں پر لہراتے ہوئے ترنگے دیکھیں گے اور مودی کو سعودیہ کا سب سے بڑا اعزاز پاتے دیکھ کر ایک لحظے کے لیے اپنے برادرانہ جذبے میں کچھ کچھ وقتی سا سکون محسوس کریں گے تو ان کو بتائیں کہ ملکوں کے باہمی مفادات ہوتے ہیں، مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے ہیں۔ روس کبھی پاکستان کا دشمن تھا، آج دوست ہے۔ ان ’برادر اسلامی ملکوں‘ کو جو آپ کو وہاں پچاس سال کے قیام کے باوجود اپنی شہریت دینے کو تیار نہیں ہیں، کو اپنا ڈھائی سالہ نرسری اور پلے گروپ کا دوست مت سمجھیں جو کہ آپ کے riyadh-indian-flagsساتھ اپنا لنچ شیئر کرنے پر بغیر کسی مفاد کے تیار ہو جاتا ہے۔

۔دس۔ اگر وہ آپ سے اس غم و غصے کا اشتہار کریں کہ پاکستان کے ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود اسرائیل مستقل فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے اور ’بے غیرت پاکستانی حکمران‘ چپ چاپ بیٹھے ہیں، تو ان کو وضاحت کر دیں کہ اول بات تو یہ ہے کہ اسرائیل بھی ایک ایٹمی طاقت ہے اور ایٹم بم کا جواب ایٹم بم سے دے سکتا ہے، اور دوسرے یہ کہ اگر پاکستان نے اپنا ایٹمی میزائیل چلانے کا ارادہ بھی کر لیا تو راستے میں موجود برادر اسلامی ممالک ان ایٹمی میزائیلوں کو اپنی فضاؤں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اور تیسری بات یہ کہ فلسطینی آج بھِی ’ہمارے ازلی دشمن بھارت‘ کو پاکستان سے عزیز جانتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ اس وقت کے بریگیڈئیر مرد مومن مرد حق کی جانب سے اردن میں کیا جانے والا فلسطینیوں کا قتل عام بھی ہو۔

۔گیارہ۔ اگر وہ بھارت کے لال قلعے پر پرچم لہرانے کی بات کریں تو ان کو یہ بتا دیں کہ بھارت بھی ایٹمی طاقت ہے۔ ہم اگر ایٹم بم مار کر اس پر فتح حاصل کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ بھِی ایٹم بم مار کر ہمیں صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لال قلعے پر سوچے سمجھے بغیر پرچم لہرانے کے شوق میں کہیں ہم لاہور کے قلعے پر لہراتا پرچم بھی خاکستر نہ کروا بیٹھیں۔ بفرض محال اگر ہم نے بھارت کو جوابی حملے کی مہلت دیے بغیر بھی اسے تباہ کر دیا، تو وہاں سے آنے والی تابکاری ہمیں بھی زندہ نہیں چھوڑے گی۔ اس لیے ایٹم بم کو ’ہر مشکل کا حل امرت دھارا‘ قسم کا مشکل کشا سمجھنا چھوڑ دیں جو کہ سر درد ختم کرنے سے لے کر تسخیر جنات تک میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

۔پونے بارہ۔ گو کہ یہ مشکل ہے، مگر ان کو یہ بتانے کی کوشش کر لیں کہ ’زندگی جیو اور جینے دو‘ کے فارمولے کے تحت ہی بسر کی جا سکتی ہے۔ خواہ یہ افراد کی زندگی ہو، گروہوں کی یا قوموں کی۔ کسی ایک طبقے یا ملک کی دھونس اسی وقت چل سکتی ہے جبکہ وہ سپر پاور ہو۔ اور جاہل عوام والے ممالک کبھی بھی سپر پاور نہیں بن سکتے ہیں۔ پہلے تعلیم روٹی کپڑا تو اپنے عوام کو دے دو، معیشت چلاؤ، اس کے بعد سوچو کہ دنیا میں کتنا اثر و رسوخ ہے۔ اگر دس سب سے بڑی اسلامی معیشتوں کی مجموعی پیداوار یورپ کے دو بڑے ملکوں کی معیشت کا تین چوتھائی بھِی نہ بن پائے، تو کچھ غم کر لیں۔ اگر پاکستان کی مجموعی پیداوار، امریکہ کی مجوعی پیداوار کا صرف ڈیڑھ فیصد ہو جبکہ پاکستان کی آبادی، امریکہ کی آبادی کے تقریباً ساٹھ فیصد کے برابر ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ ایک پاکستانی شہری ایک امریکی شہری کے مقابلے میں صرف ڈھائی فیصد پیداوار دیتا ہے۔ پہلے اپنے ملک کو ترقی تو دیں، اس کے بعد دنیا بھر پر اپنی برتری کے دعوے کریں۔ گویا نام شکر پارہ روٹی کھائی دس بارہ، پانی پیا مٹکا سارا لیکن کام کرنے کو ننھا بیچارہ۔ ایسے میں اپنی برتری کے دعوے پر آپ شرمسار ہی ہوں تو مناسب ہے۔ ایسی باتیں افیمیوں کو تو زیب دیتی ہیں مگر کسی باشعور انسان کو نہیں۔

مگر یہ باشعور انسان ہونے والی شرط کڑی ہے۔ میرا خیال ہے کہ لیفٹ کے جہاندیدہ لکھاریوں کو یہ شرط رائٹ کے نوجوان لکھاریوں پر نہیں لگانی چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

30 thoughts on “لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کو پونے بارہ مشورے

  • 20-04-2016 at 2:17 pm
    Permalink

    ٹھیک ہے، لیکن اگر ہم رائٹ ونگ والوں کی مدد کی خاطر دو چار تحریریں انکی طرف سے لکھ دیں تو اس میں دو فائدے ہیں ایک یہ کہ ہماری خوشبو کی طرح پذیرائی ہو گی دوسرا یہ کہ رائٹ ونگ والوں کو کچھ اچھی تحریریں مل جائیں گی۔

  • 20-04-2016 at 2:41 pm
    Permalink

    عدنان کاکڑصاحب‘ یہ تو آپ نے کمال ہی کردیا۔

    • 20-04-2016 at 2:47 pm
      Permalink

      لیفٹ ونگ کے جہاندیدہ لکھاریوں کی راہنمائی تو لازم ہے۔ ورنہ کہیں وہ رائٹ ونگ کے ننھے منے نوجوان لکھاریوں کو شرم دلا دلا کر خودکشی پر ہی مجبور نہ کر دیں۔

  • 20-04-2016 at 2:46 pm
    Permalink

    yeh left wing kia hai

  • 20-04-2016 at 3:09 pm
    Permalink

    This whole attempt is quite childish and illogical, the writer looks very desperate to ridicule Aamir Khakwani . sorry for English but I can’t find how to type in urdu alphabets on this forum, if anyone can guide I’ll be very grateful

  • 20-04-2016 at 3:30 pm
    Permalink

    گویا آپ نے تو مشکل ہی آساں فرمادی ، بائیں بازو کی راہنُمائی اور دائیں بازو کو آئینہ دکھا دیا ، لیکن یاد رکھیں آئینہ جسے بھی دکھایا جائے وہ بُرا مان جاتا ہے ، لہذا گھبرائیے گا نہیں

  • 20-04-2016 at 3:33 pm
    Permalink

    عمدہ مشورے ہیں ۔ لیفٹ والوں کو ان پر ضرور عمل کرنا چاھئے ۔

  • 20-04-2016 at 3:42 pm
    Permalink

    بہت خوب تحریر!! زبردست حس مزح پایا ہے آپ نے، بس ایک تکنیکی تصحیح کرنے کی جسارت کرں گا کہ پاکستان اسرائیل پر صرف بیلیسٹک مزائل سے ہی حملہ آور ہوسکتا ہے جو اپنا سارا سفر خلا میں طے کرتا ہے اس لیئے کسی ملک کی فضاء استعمال ہونا محال ہے

  • 20-04-2016 at 4:31 pm
    Permalink

    مکالمے میں تضحیک سے مکالمے کی فضا کیسے پیدا ہوگی ذرا اس نقطے کی وضاحت فرما دیں

    • 22-04-2016 at 11:46 am
      Permalink

      رحمان گل صاحب‘ براہ مہربانی اسے تضحیک نہیں مزاح سمجھیں۔

  • 20-04-2016 at 4:47 pm
    Permalink

    بہت خوب، ایسے ہی جواب کی توقع تھی
    اپ سے

  • 20-04-2016 at 5:23 pm
    Permalink

    صرف ایک حیرت ہے جہاں دیدہ ہیں سقراط، بقراط سب کو جانتے ہیں نہیں جانتے تو محمد صل اللہ علیہ وسلم کو ۔ اسی لئے کبھی انکا حوالہ بھی زبان پر نہیں آنے دیا۔
    خوش رہیں

    • 21-04-2016 at 11:12 am
      Permalink

      حضرت آپ دگلے والی پلٹن کے شاہسوار ہیں۔ جو جی چاہے کہہ دیں۔ پچھلے مضمون پر آپ کی صف سے ایک صدا بلند ہوئی تھی کہ آپ نے رسول پاکؐ کا حوالہ کیوں دیا ہے؟ اور اب آپ کی صف سے یہ صدا بلند ہوئی ہے کہ حوالہ کیوں نہیں دیا ہے۔ سبحان اللہ۔

  • 21-04-2016 at 5:02 am
    Permalink

    ہم تو گلی کے بیچ میں کھڑی ہوئی وہ جھگڑالو ماسی ہیں جو دونوں طرف بالکونییوں میں کف اڑاتی ہاتھ نچاتی لڑتی پڑوسنوں کے بیچ امن کا وقفہ آنے پر بائیں والی کو یاد دلاتی ہے.
    صغراں وہ تیرے مائی کے گاؤں کو چماروں کا دیس بھلا کس نے کہا تھا.
    اتنا کہنے کے بعد پھر سے کف اڑتی ہے. پھر سے ہاتھ نچتے ہیں. 😀

    • 21-04-2016 at 8:39 am
      Permalink

      مثال اچھی ہے ، پر جناب ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جو بائیں بازو کے لوگ ہوتے ہیں نا کیا انکا دایاں بازو نہیں ہوتا ؟ یہی سوال دایئیں بازو کے حامیوں سے بھی ہے ۔ والسلام ،

  • 21-04-2016 at 5:03 am
    Permalink

    ہم تو گلی کے بیچ میں کھڑی ہوئی وہ جھگڑالو ماسی ہیں جو دونوں طرف بالکونیوں میں کف اڑاتی ہاتھ نچاتی لڑتی پڑوسنوں کے بیچ امن کا وقفہ آنے پر بائیں والی کو یاد دلاتی ہے.
    صغراں وہ تیرے مائی کے گاؤں کو چماروں کا دیس بھلا کس نے کہا تھا.
    اتنا کہنے کے بعد پھر سے کف اڑتی ہے. پھر سے ہاتھ نچتے ہیں. 😀

  • 21-04-2016 at 8:36 am
    Permalink

    جناب ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ جو بائیں بازو کے لوگ ہوتے ہیں نا کیا انکا دایاں بازو نہیں ہوتا ؟ یہی سوال دایئیں بازو کے حامیوں سے بھی ہے ۔ والسلام ،

  • 21-04-2016 at 9:10 am
    Permalink

    واہ بھئی واہ کیا جہاندیدیگی پائی ہے لفظ لفظ سے احساس کمتری ٹپک رہی ہے لفظ لفظ سے مقابلے کی بو آرہی ہے یہ تحریر اپنی دفاع میں لکھی گئی ہے جسکا صاف مطلب ہے کہ آپ مغلوب ہورہے ہو ?

    • 21-04-2016 at 11:19 am
      Permalink

      الحمدللہ ہمیں فاتح ہونے کا شوق بھی نہیں ہے۔ جنگ و جدل آپ کی دگلے والی پلٹن کو ہی مبارک ہو۔

  • 21-04-2016 at 9:45 am
    Permalink

    واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خاکوانی صاحب کا کالم شائستگی اور متانت سے عبارت ہے جبکہ آپ کا کالم پھکڑ پن اور شدید سحطی رد عملیت کا شکار ہے۔ اول الذکر میں کہیں کسی کی کوئ تضحیک یا کسی پر طعنہ زنی نہیں۔ لیکن موخرالذکر کے کوسنے بند کانوں بھی سنے جا سکتے ہیں۔ عنوان ہی دیکھ لیجیے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتاہے جس سنجیدہ اور مہذب مکالمے کی امید تھی، اُس کا گلہ آپ نے کمال مہارت سے گھونٹ دیا۔ خیر یہ کوئی نئی بات نہیں۔

    • 21-04-2016 at 11:11 am
      Permalink

      حضرت مفکرین کے سردار ایک آپ ہیں اور ایک خاکوانی صاحب ہیں، باقی شائستگی متانت وغیرہ وغیرہ سے صرف آپ کے مقلدین ہی لکھ سکتے ہیں۔

      خاکسار تو سنجیدہ بحث کرنے کا اہل نہیں ہے۔ ویسے بھی لیفٹ کے پاس کون سی کوئی اپنی بالکل ذاتی خود ساختہ دلیل ہے جسے وہ حتمی الہامی دلیل سمجھتے ہوں، یہ تو آپ کے ہی نصیب میں ہے۔ ہم تو بس یہ مانتے ہیں کہ دوسرے انسان بھی مذہب کی اتنی یا اس سے زیادہ سمجھ رکھتے ہیں جتنی کے ہم خود دعویدار ہیں۔

      جہاں تک تضحیک اور طعنہ زنی وغیرہ کے معاملات ہیں، آپ رائٹ کے جہادی قلم برداروں اور مقلدین کا یہی مسئلہ ہے کہ آپ طنز اور مزاح سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسی وجہ سے آپ اپنے دلائل میں موجود وہ لاجواب مزاح دیکھنے سے قاصر ہیں جو کہ خاکسار نے لیفٹ کو ہدایات میں نمایاں کیا ہے۔

      بدقسمتی سے آپ لوگ واقعی دگلے والی پلٹن میں سے ہیں۔ وہ بھی دیکھ لیتے ہیں جو کہ موجود ہی نہیں ہے۔ آپ کو یہ گمان کیسے اور کیوں کر ہوا کہ اس مضمون میں خاکوانی صاحب سے مکالمہ کیا گیا ہے، یا پھر خاکوانی صاحب نے اپنے مضمون میں لیفٹ سے مکالمہ کیا ہے؟

      میری رائے تو یہی ہے کہ دونوں مضامین کوئی پانچ دس مرتبہ پڑھ کر دیکھ لیں۔ ممکن ہے کہ ان دونوں میں دوسرے فریق سے مکالمے کے دعوے سے آپ تائب ہو جائیں اور یہ دیکھنے لگیں کہ دونوں مصنفین نے اپنی اپنی صف سے ہی خطاب کیا ہے۔

  • 21-04-2016 at 5:06 pm
    Permalink

    محترم کے تعارف میں درج ہے کہ آپ کے جملے سادہ مگر پرکاری سے بھرپور ہوتے ہیں اور اور شطرنج کے شوقین ہیں سو ان کی تحریر پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے کہ کہیں ان کے الفاظ کوئی طنزیہ گہری چال تو نہیں چل گئے۔
    موصوف کی تحریر کو پڑھا، پھر پڑھا کوئی پرکاری، کوئی طنز میں گہری چال؟ شطرنج کی سی گہری چال تو نہ ملی لڈو کے سانپ کی کاٹ ضرور ملی۔
    مقدور ہوتا تو نوحہ گر کو زحمت ضرورت دیتے۔

  • 21-04-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    I agree to the Point No. 8 & 9 of Mr. Adnan Khan about Brother Islamic Country. I am living in the Brother Islamic Country for last few years. so I am eyewitness of the disrespect these people have for us. There is no sign of brotherhood I could find in the society.

  • 21-04-2016 at 10:34 pm
    Permalink

    The forum such as Hum Sab must be used for healthy discussion .it should advocate the importance of discourse .for this purpose Hum Sab should have strict editorial policies . The aforesaid piece was written in total disrespect. It was a serious attempt to contempt the ideas of other side . How can such mindset promote environment of respect and courtesy.if the writer had focused on giving response to the ammir sahib article It would have been far better

  • 21-04-2016 at 10:36 pm
    Permalink

    اس تحریر سے اندازہ ہورہا کہ لفٹ ونگ والوں کا جو ظاہری رکھ رکھاؤ اور زیرو ٹالرینس کا دعوٰی تھا، اب وہ بھی ہوا ہورہا..اور وہ احساسِ کمتری جسے انا اور تکبر کے پردوں میں چھپائے ہوئے تھے، اب بےلباس ہونے لگی ہے..
    لگے رہو بھائیو…

  • 21-04-2016 at 11:00 pm
    Permalink

    آپ نے بہت اچھا پیپر لکھا اور اس کے لئیے شکریہ۔ کسی بھی انسان کی معلومات کا دائرہ اس کے جغرافئیے، مطالعے اور زندگی کے تجربے تک محدود ہوتا ہے۔ جن لوگوں‌ نے صرف اردو اور اسلامیات میں‌ پڑھا ہوا ہے اور پاکستانیوں‌سے باہر کسی سے ملنا جلنا نہیں‌رکھا تو ظاہر ہے کہ ان کی سوچ بھی وہیں‌ تک محدود ہے جیسا کہ ہماری اپنی بھی تھی بچپن میں۔ ایسا زہن صرف وہ ہی سوچنے کی ہمت کرسکتا ہے جس سے کھجور کی ڈنڈی سے لگی چوٹ یاد نہ آئے بلکہ قبولیت کا احساس ابھرے۔ رائٹ ونگ کا زہن شائد ان لوگوں کا ہے جو چونکہ اپنی زندگی میں‌خوش اور کامیاب نہیں‌ہوتے تو وہ باقی دنیا کے انسانوں‌کی زندگی بھی اجیرن کرنا چاہتے ہیں۔
    لیکن دنیا میں‌ ہم اس طرح آگے نہیں‌ بڑھ سکتے۔ مشکل سوال کرنے ہوں‌گے، تاریخی افراد کو اور ان کے کاموں‌ اور فیصلوں‌کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی جراءت اپنے اندر پیدا کرنی ہوگی۔ لوگوں‌کو اپنے شک و شبہے اور مرضی کے ساتھ جینے دینا ہوگا۔
    ملک کے ہر شہری کا اپنے ملک میں‌ اپنی مرضی سے سر اٹھا کر جینے کا حق ہے۔ وہ قانون کی پاسداری کریں، ٹیکس دیں‌ اور اپنی جاب کریں۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر میں‌کس کے ساتھ رہیں‌، کیسے رہیں، کیا کھائیں‌کیا پئیں، کسی خدا کو مانیں‌یانہ مانیں‌، آپ کو کیوں‌ تکلیف ہورہی ہے؟

  • 21-04-2016 at 11:01 pm
    Permalink

    Adnan Khan you don’t need to answer every **ll ***t. That article did not deserve that much attention. It was a piece of ****.

  • 22-04-2016 at 3:48 am
    Permalink

    ۔
    جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب مشورہ نمبر5میں فرماتے ہیں کہ ” ایسے بھی بہت ہیں جو داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی متشددانہ پالیسیوں، لوگوں کو زبح کرنے اور سروں سے فٹ بال کھیلنے جیسی ویڈیوز دیکھ کر مذہب کا نام لینے والے ہر ایک گروہ سے متنفر ہوگئے۔” ۔۔۔تو عرض ہے کہ داعش ، طالبان اور القاعدہ جیسی متشدد گروہوں کو دیکھ کر “مذہب کا نام لینے والوں “سے عوام اس لیے متنفر ہوجاتے ہیں کہ “مذہب کانام لینے والے “اعلانیہ طورپر ان متشدد تنظیموں سے الگ نہیں ہوتے ،ان کی کاروائیوں او رسوچ سے بریت کا اظہار نہیں کرتے ۔بلکہ آج بھی ان “مذہب والوں “نے انہی متشدد تنظیموں کی حمایت و ہمدردی کا اٹوٹ رشتہ استوار کر رکھا ہے
    جماعت اسلامی کی مسلم لیگ مخالفت کو قصہ پارینہ بنانے کی استدعا کرتے ہوئے عامر ہاشم خاکوانی صاحب مشورہ نمبر9میں رقمطراز ہیں کہ ” جماعت اسلامی والوں کو الجھانے کے لئے تقسیم کے وقت مولانا مودودی کی آرا کا مسئلہ چھیڑا جائے گا، کبھی جماعت کی مسلم لیگی مخالفت پر سوال ہوگا، کبھی کسی اورایشو کو چھیڑ دیا جائے گا۔ اس کا صاف جواب دینا چاہیے کہ یہ سب ماضی کے ایشوز ہیں” ۔۔۔لہذا اب آگے بڑھ کر روشن پاکستان کی تعمیر کرنی ہے ۔تو عرض ہے کہ جو قومیں آگے بڑھنے کا عزم کرلیتی ہیں تو ماضی کی غلطیوں پر پہلے نادم ہوتی ہیں ،اعلانیہ ان پر معافی کی خواستگار ہوتی ہیں ۔تاکہ عوام میں بھی ان کی غلطیوں کا احساس پیدا ہواور مسقتبل میں بچنے کی ترغیب ہو۔تو کیا پھر رائیٹسٹ تقسیم ہند کے دوران بانئ پاکستان ،قائد اعظم محمد علی جناح کی تضحیک کرنے پر معافی کا اعلان کریں گے ؟کیا وہ اپنے اُس رویے پر نادم ہوکرمعافی مانگنے پر تیار ہیں؟۔۔۔جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ مودودی ازم کے مطابق یہ امر ناممکن ہے کہ ” پہلے اقتدار کی عنان مذہب پسندوں کے ہاتھوں میں دے دی جائے پھر بعدازاں عظام ومشائخ اور علمائے کرام سماج کو اسلامی ڈھانچے میں خود ڈھال لیں گے ۔”۔یہ فلسفہ اور نظریہ ہی ناقابل عمل ہے ۔
    قائد اعظم ؒ کوجناح صاحب لکھنے والوں پر تنقید کے تازیانے برسائے ہوئے مشورہ نمبر 9میں لکھا گیا ہے کہ
    ” یہ دراصل لٹمس ٹیسٹ ہے، جدید دور کا کوئی بھی لکھاری جو اپنی کسی تحریر میں قائداعظم کے بجائے جناح صاحب لکھے، سمجھ لیجئے کہ اس کے اندر کا تعصب اور قائداعظم کے لئے نفرت اور بیزاری ابل ابل کر باہر آ رہی ہے۔”۔۔۔۔۔اب ذرا قائد اعظم کو گالیاں دینے والوں کی گردنوں پر کس نرمی سے قلم رکھتے ہیں ملاحظہ فرمائیے ۔
    ” علما کے حلقے میں سے ایک گروپ جو زہنی طور پر جمعیت علما ہند کے قائدین سے زیادہ قریب ہے، ان کے لئے بھی قائداعظم کی شخصیت کو تسلیم اور قبول کرنا آسان نہیں، مگر پاکستان مین اسلامی جدوجہد کے لئے قائداعظم کی شخصیت کو ساتھ لے کر ہی چلا جا سکتا ہے۔ اس کے بغیر ممکن نہیں” ۔۔۔۔وہ جنہوں نے کافرِاعظم ، پلیدستان ، پاکی استھان جیسے گھٹیا ،نفرت انگیز اور بازاری الفاظ استعمال کیے ۔ان کے صدقے واری جایا جارہا ہے ۔
    سوال یہ ہے کہ ہم اسلامی نظام کا نفاذ کیوں چاہتے ہیں ؟جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کا مقصد جو بیان کیا ہے وہ حقوق اللہ او رحقوق العباد کے اندر ہی پنہاں ہے ۔دنیا میں امن اور سلامتی ہی اللہ تعالیٰ کی اصل منشاء اور خواہش ہے ۔انسانوں کے درمیان مساوات کا توازن ہی اصل مدعا ہے ۔اسلام کے معنی بھی امن اور سلامتی کے ہیں۔اسلام ہر صورت دنیا میں امن ، سکون اور سلامتی چاہتا ہے ۔دلوں کو فتح کرکے لوگوں میں ایک دوسرے کے ساتھ پیار ، محبت ، اخوت اور یک جہتی پیدا کرنا ہی دین ِ اسلام کی غرض ہے ۔تاکہ عبودیت کا حق ادا ہوسکے ۔ہاتھ کاٹنا ، سنگسار کرنا ،افلاس زدہ ہوکر رہبانیت اختیار کرنا اسلامی نظام حکومت کے بنیادی ڈھانچےکی ایک کڑی ہر گز نہیں ہے ۔یہ صرف منزل کی جانب جانے والوں کےلیے راستے میں آنے والی چند علامتیں یا نشانیاں ہیں ۔جن کو چند قوانین سے دور کر کےگذر جانے کی ہدایت ہے ۔منزل تو امن اور سلامتی کاشعور اور قیام ہے ۔
    ایک سماج میں رہ کر ہی اسلامی روح کو زندہ رکھا جاسکتا ہے ۔ایک پر امن معاشرے کو چھوڑ کر ایک الگ سے دنیا بسالینا حماقت اور بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اگر کوئی شخص یورپ کے کسی پر امن ملک میں رہتاہےاور اپنے اردگرد ایک ٹھیٹھ اسلامی ماحول چاہتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ وہاں پر رہ کر ہی اخلاق فاضلہ میں بدرجہ کمال حاصل کرنے کی جدوجہد کرے ۔رواداری ، تحمل برداشت اپنا کر غیر مسلموں کے دلوں کو تسخیر کرنے میں لگا رہے ۔دعاؤں میں گڑگڑا کر ہدایت اور نیکی مانگتا چلا جائے ۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص خودبھی نیک ، پرہیزگار اور متقی ہو،صالح اور عاجز ہونے میں سرگرداں ہو۔دوسروں کےلیے عجز و اخلاص کا نمونہ ہو۔
    مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام سے پہلے ایک مدت تک لوگ تربیت کے مراحل سے گذرتے رہے ،شراب کی ممانعت کے متعلق آیات دعویٰ نبوت کے فوراً بعد نازل نہیں ہوئیں ۔لوگوں کی اصلاح کے لیے مدت تک کوششیں ہوئیں۔ پھر کہیں جاکر عوام کا کردار انتہائی اعلی ٰ اور قابل تقلید ہونے کے بعد ایک اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھ دی گئی۔چنانچہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جوں جوں وقت گذرتا گیا عام عوام کی تربیت و اصلاح کائنات ِفلکی کے درخشندہ ستاروں سے بھی زیادہ روشن ہوتی گئی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مسلمانوں نے دنیاپرانتہائی شان وشوکت سے حکمرانی کی۔
    جبکہ اب صورتحال یہ ہے کہ آج اُمت مسلمہ قرآنی صداقتوں کو اس زمانے میں آشکار کرنے کے لیے غیر مسلموں کی سائنس وٹیکنالوجی ، تحقیق و جستجو کی محتاج نظرآتی ہے ۔مثال کے طورپر فرعون کی لاش 1898ء میں انہی کہنہ مشق محقق اور جستجو پسند سماج کے ذہن رسانوں نے دریائے نیل کے ایک قریبی مقام سے دریافت کی ۔جبکہ اپنے سعودی اسلامی نظام میں سائنس و ٹیکنالوجی کے استعمال کی بجائے مقدس ہستیوں کے گھروں ، مزاروں کو منہدم کرکے خانہ خدا کے اردگرد منافع بخش بلندوبالا عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں۔تقریباً نصف صدی سے قبل صحرائے حجاز میں ریت اُڑتی تھی ۔پھر سیاہ سونے (تیل)کی دریافت کی بعدگویا دنیا ہی بدل گئی ۔اسی دریافت کااثرہواکہ شاہی خاندانوں کی تجوریوں میں ایک طرف دولت کی ریل پیل ہوئی تودوسری طرف اختلاف ِ رائے کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
    اصل مسلہ یہ ہے کہ صدیوں سے اسلام کے ساتھ فرقہ واریت ، مسلکی و گروہی تضادات کی الائشیں چمٹ گئی ہیں ۔لہذا جب انہی الائشوں کے ساتھ دنیا کے سامنے اسلام کو پیش کیا جاتا ہے توفرقہ واریت اور مذہبی جنونیت کی غلیظ، ناگوار بدبو نیک اور سعید فطرت لوگوں کو بھی اسلام سے بیزار کر دیتی ہے ۔نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ داعش ، القاعدہ ، طالبان جیسے جتھہ بندوں اور گروہوں کی خون آشام وارداتوں کو دنیا اسلامی ہونے کا طعنہ دے رہی ہے ۔اسلامی نظام کے نفاذ میں ایک اور پہلو بحث طلب ہے کہ اب فرض کریں پاکستان میں ایک مثالی اسلامی نظام قائم ہے ۔تو پھر یورپ ، افریقہ ، امریکہ میں رہنے والا ایک شخص ایک محدود جگہ قائم ایک اسلامی ماحول سے کس طرح مستفید ہوگا؟ کیا دنیا بھر کےاربوں مسلمان سلطنت اسلامیہ پاکستان میں رہائش پذیر ہوسکتے ہیں؟ کیا ایسا ممکن ہے ؟دور حاضر میں نگاہ دوڑائیے سعودی عرب میں اسلامی نظام رائج ہے ۔کیا ایک پاکستانی وہاں اپنی زندگی آزادانہ جاکر گذار سکتا ہے ؟کیا دنیا بھر کے تمام شیعہ حضرات ایران جاکر ہی اپنی زندگیاں اسلامی بنا سکتے ہیں ؟ لہذا دنیا بھر میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اوردنیا میں امن وسلامتی ، مساوات ، محبت وخلوص کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ جو مسلمان جس بھی جگہ رہتا ہے وہ وہاں رہ کر ہی دین اسلام کا پرچار کرے ۔اسوہ محمدی ؐ کا پرتو اپنی طرزِ زندگی میں ظاہر کرنے کی جدوجہد کرے ۔اور اسلام کے ایک آفاقی مذہب ہونے کا ایک جیتا جاگتا ثبوت پیش کرنے میں اپنا کردار ادا کرتا چلاجائے ۔اپنے اردگرد شرک او رظلمتوں کے پردوں کو اپنے حُسنِ اخلاق،اعلیٰ کردار اور نرم گفتار سے چاک کرتاچلاجائے۔
    مغربی ممالک اور یورپ میں مسلمان اپنی عبادتوں میں آزاد ہیں ۔مساجد میں آئمہ کرام موجود ہیں ۔منبر ومحراب میں مقررین و علماء کرام درس و تدریس میں مشغول ہیں ۔قرآن پاک کی نشرواشاعت کی کھلی آزادی ہے ۔دعوت وتبلیغ کے امور بھی جاری ہیں ۔بنیادی انسانی حقوق بھی محفوظ ہیں ۔حتی ٰ کہ ان سیکولر ممالک کی زیریں و اعلیٰ عدالتوں کے جج حضرات بھی غیر مسلم ہیں ۔بعض دہریے بھی ہوں گے ۔لیکن ان ممالک میں عرصہ دراز سے رہنے والے مسلمانوں نے کبھی بھی مطالبہ نہیں کیا کہ ہمارے روزگار، کاروبار، رہائش ، ٹرانسپورٹ ، صحت ، تعلیم کے مسائل کا حل صرف قرآن وسنت ہے ۔بلکہ تیسری نسل ہے جو ان ممالک میں پروان چڑھ رہی ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں مذہبی آزاد ی حاصل ہے ۔ان کو اپنی مساجد ،مندر، گوردوارے ، چرچ جانے کی کھلی اجازت ہے ۔اپنی رسومات و عبادات بجالانے کی آزادی ہے ۔
    جناب خاکوانی صاحب ! حج اگر اونٹ کی بجائے ہوائی جہازپر سفر کرکے کیا جارہاہے ۔خطبہ حج کی اگر مواصلاتی سیارے کے ذریعے اقوام ِعالم میں منادی جاری ہے تو غرض اسلام کی اصل امن پسند تعلیم سے آگاہی اور پھیلاؤ ہے ۔یعنی اصل روح پھل کا مغز ہے نہ کہ چھلکااور پھرایک اورسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فی زمانہ علماء کرام کا کیا کردار ایسا ہے کہ عوام روحانی خزائن کے انمول موتی اپنی جھولیوں میں سمیٹ رہے ہیں ؟کیامساجد میں حکمت ودانائی ، تحقیق ، علم دوستی سے قرآنی علوم او رسائنسی اسرارپر خطبات پڑھے جاتے ہیں ؟کیا فلکی عجائبات پر ایک عام طالب علم کی نظر مستعد ہے ؟
    جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب ! بہت معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ہم دنیا سے کٹ کر نہیں رہ سکتے ۔اب دیکھئے حرم پاک میں غیر مسلموںکا داخلہ منع ہے ۔لیکن خانہ کعبہ کے اردگرد سینکڑوں بلندوبالا اور عالی شان عمارتیں اور پرتعیش ہوٹل زیادہ ترانہی غیر مسلموں کے ہاتھو ں سے تعمیر ہوئے ہیں ۔حتی ٰ کہ چینیوں کے ہاتھوں سے بنی ہوئی اشیاء مثلاً جائے نمازیں ، تسبیحیں ، طغرے وغیرہ تک مدینہ ومکہ میں فروخت ہوتی ہیں ۔ ان کو چوُما جاتا ہے اور ان کو متبرک سمجھ کر ایک دوسرے کے گھروں میں تحفے دیئے جاتے ہیں ۔یعنی ایک اسلامی نظام حکومت میں اجتہادی طور پر بہت سی تاریخی اور مقدس صورتوں کو زمانے کے لحاظ سے بدلا جاسکتا ہے ۔
    جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب ! ارض ِ حجاز میں اسلامی نظام نافذ ہے ۔اگر آپ جیسے رائیٹسٹ سوچتے ہیں کہ اس نظام میں کچھ کمی کوتاہی ہے تو براہ کرم مرحلہ وار بتائیے کہ کہاں کہاں انتظامی و اخلاقی انتظامات شرعی احکام کی روشنی میں بہتر کیے جاسکتے ہیں ۔تاکہ ایک قاری کو واضح ہوسکے کہ ایک اسلامی نظام کا خاکہ او راس کی جزئیات کی جو تصویر آپ کے ذہن میں ہے وہ ایک مجسم صورت میں عوام کے سامنے ظاہر ہوجائے ۔کیونکہ سیکولر نظام تو اپنی تمام تر خوبیوں و خامیوں کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں رائج ہے ۔کم از کم اس کا وجود تخیلاتی یا خیالی تو نہیں ہے ۔جیسا بھی ہے سماج میں مستعل ضرور ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ اسی سیکولر نظام کے متوازی چلنے والےسعودی عرب میں رائج اسلامی نظام کو بہترین بنانے کے لیے اپنی تجاویز اور آراء سے آگاہ کریں ۔مجھ سمیت عوام بے حد مشکور ہوگی۔

  • 22-04-2016 at 5:19 am
    Permalink

    عدنان صاحب نے مشورے تو بائیں والوں کو دیے مگر ہاہو کار دائیں والوں میں مچ گئی ، حیرت ہے ـ
    پورا لاؤ لشکر ہی سیخ پا ہے ـ سنگینیں تَن چُکیں، جہاد کیلئے عَلم بلند ہو چکا ـ ابھی کل ہی تو خاکوانی صاحب تحمل اور برداشت کا سبق پڑھا رہے تھے ـ

Comments are closed.