اہل مغرب خوش ہم پریشان کیوں؟


ہفتے میں ایک دن ایسا آتا ہے، جب آفس سے چھٹی ہوتی ہے، سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمین اس دن کو ویکلی آف کا نام بھی دیتے ہیں، جی ہاں میرا بھی ویکلی آف تھا، گھر میں جوش و خروش کی سی کیفیت تھی، ابو، امی اور بھائی خوش دیکھائی دے رہے تھے، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آج سب گھر والے خوش کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ اسی دوران امی نے آواز دی، بیٹا تیار ہو جاؤ تمہاری نانی جان آنے والی ہیں، نانی کبھی کبھار میری چھٹی کے دن گھر آجاتی ہیں، وہ دن ہم سب گھر والوں کے لئے عید کا دن ہوتا ہے۔ کچھ دیر میں دروازہ پر دستک ہوئی، میں نے جلدی سے دروازہ کھولا، تو سامنے نانی مسکرا رہی تھی، نانی کو مسکراتا دیکھ کر میرا دل باغ باغ ہو گیا۔ کھانا تیار ہوچکا تھا، نانی کے ساتھ ملکر ہم سب نے کھانا کھایا اور پھر ادھر ادھر کی باتیں شروع ہو گئی۔

پیاری نانی نے دوران گفتگو کہا کہ بیٹا کیا زمانہ آگیا ہے، جسے دیکھو وہ پریشان دیکھائی دیتا ہے، پرانے وقتوں میں شعور و آگہی شاید کم تھی، لیکن لوگ پریشان دیکھائی نہیں دیتے تھے۔ سادگی تھی، لیکن انسان خوش و خرم رہتے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کی عزت کرتے تھے، بڑے چھوٹے سب کے چہروں پر معصوم مسکراہٹیں اور قہقہے ہوتے تھے، آج کے زمانے میں جسے دیکھو دکھ کی کیفیت میں ہے، کسی کو بےروزگاری کی پریشانی ہے تو کسی یہ فکر کھائی جارہی ہے کہ معلوم نہیں وہ نئی گاڑی خرید بھی پائے گا یا نہیں۔ نانی نے سادگی میں یہ بات کہہ دی، لیکن میں اس سوچ میں پڑ گئی کہ ان کی بات تو انتہائی اہم اور گہری ہے۔ نانی کی یہ بات تو درست ہے کہ اس معاشرے میں خوش رہنا اور زندگی کو انجوائے کرنا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے۔

اب آتے ہیں اپنے اصل ایشو کی طرف، ہم میں سے ہر ایک پڑھا لکھا انسان جانتا ہے کہ ہر سال دنیا کے خوش ترین ممالک کی ایک فہرست جاری ہوتی ہے، اس لسٹ میں ترتیب کے ساتھ خوش ترین ممالک کے نام لکھے جاتے ہیں، ہر سال چند ممالک ایسے ہوتے ہیں، جن کا نام ہمیشہ خوش ترین ممالک میں ٹاپ پر ہوتا ہے۔ گزشتہ سال 20 مارچ کو دی ہیپیسٹ کنٹریز ان دی ورلڈ کے عنوان سے رپورٹ جاری ہوئی، خوش ترین ممالک کی فہرست میں ناروے نمبر ون پوزیشن پر تھا۔ اس سے ایک برس پہلے ڈنمارک دنیا کے خوش ترین ممالک کی فہرست میں ٹاپ پر تھا۔

ہمیشہ سکینڈینیوین ممالک ہی خوش ترین ممالک میں نمبر ایک، دو، تین یاچار کی پوزیشن پر ہوتے ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ کی لسٹ میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال تھی، ناروے پہلے، آئس لینڈ تیسرے، سوٹزرلینڈ چوتھے اور فن لینڈ پانچویں نمبر پر تھا۔ کیا وجہ ہے کہ وہ لوگ جو خوش رہتے ہیں، ہنستے مسکراتے رہتے ہیں، زندگی کو تخلیقی انداز میں گزارتے ہیں اور ہر لمحہ انجوائے کرتے ہیں، وہ سکینڈینیوین خطے کے ہی شہری ہوتے ہیںَ۔ ڈینمارک، سوزلینڈ اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاست اپنے شہریوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھتی ہے۔ شہریوں کی تربیت بھی اس انداز میں کی گئی ہے کہ وہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتے ہیں، کسی قسم کی دو نمبری نہیں کرتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان کی ریاست فلاحی اصولوں پر استوار کی گئی ہے، اس لئے کبھی وہ انہیں تکلیف نہیں دے گی۔ ان ممالک میں ریاست واقعی ہی ماں جیسی ہوتی ہے۔ اور ماں کبھی بھی اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کی ایک رپورٹ کے مطابق سکینڈینیوین ممالک میں جی ڈی پی کی شرح 49.600، 61.400 اور 44.000 پر کیپٹا ہے۔ یہاں پر صحت کا انشورڈ نظام ہے جس کی وجہ سے ایک شخص کم از کم سال میں سات مرتبہ اپنا ریگیولر چیک اَپ کروا سکتا ہے۔

کیونکہ زندگی کی ہر سہولت ان شہریوں کو میسر ہے، اس لئے یہاں شہریوں کی اوسطا عمر اسی سال ہوتی ہے۔ ملازمت کی اجرت 20 ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ شہری اپنی زبان، تہذیب و کلچر اور تاریخ کو اہمیت دیتے ہیں۔ لبرل اور انسانی بنیادوں پر ریاستی ڈھانچے کو استوار کیا گیا ہے جس کی وجہ سے تمام شہریوں کو برابری کا درجہ حاصل ہے، ملازمت کے ساتھ ساتھ شہریوں کو تخلیق اور تفریح کے بھی بھرپور مواقع حاصل ہیں، اس لئے یہ خوبصورت انسان ہر وقت کچھ نیا کرتے اور سوچتے رہتے ہیں۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں خاتون کو دس ہفتے تک کی میٹرنٹی لیو دی جاتی ہے، لیکن سکینڈینیوین ملکوں میں خاتون کو اپنے نومولود بچے کی دیکھ بھال کے لیے اٹھارہ ہفتوں کی چھٹی ملتی ہے، تنخواہ کے ساتھ ساتھ اچھے خاصے ریاستی الاونسز بھی ملتے ہیں، نومولود بچے کے باپ کو بھی دو ہفتوں کی چھٹی اور پورے مہینے تنخواہ دی جاتی ہے۔ کبھی کبھار کبھی والدین کو 52 ہفتوں تک کی چھٹی دی جاتی ہے، تاکہ ماں باپ معصوم ننھے منے بچے کے ساتھ وقت گزار سکیں اور خوشیوں کو انجوائے کرسکیں ایسی خواتین جب ملازمت پر وآپس آتی ہیں تو شاندار انداز میں انہیں خوش آمدید کہا جاتا ہے۔

اس کے مقابلے اگر امریکہ کو دیکھیں تو وہاں 52 فیصد خواتین واپس اپنے کام پر بخوشی لوٹ آتیں ہیں ہے۔ امریکہ، یورپ اور سکینڈینیوین ممالک میں خواتین گھر چلانے میں شوہر کی مدد کرتی ہیں، اپنی ملازمت کی چونتیس سے اٹھتیس فیصد آمدنی گھر اور بچوں پر خرچ کرتی ہیں۔ یہ سب کچھ وہ اپنی خوشی سے کرتی ہیں، ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہوتا۔ ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سکینڈینیون ممالک میں عورت مرد شانہ بشانہ کام کرتے ہیں، دونوں ملکر گھر اور باہر کا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دیتے ہیں، یہ نہیں ہوتا کہ عورت گھر سنبھالے اور مرد باہر ملازمت کرے۔ اس طرح کی مثال دنیا میں کہیں اور نہیں ملتی۔ ماضی کی بات کی جائے تو یورپ میں سب سے پہلے ڈنمارک، فن لینڈ جیسے ممالک نے عورتوں کو ووٹ کا حق سب سے پہلے دیا۔ سکینڈینوین ممالک کا شمار دنیا میں کم آلودہ ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں پر مواصلات کا انفراسٹکچر اس طرح بنایا گیا ہے کہ کم سے ٹریفک حادثات ہوتے ہیں، بجلی ہے کہ جانے کا نام نہیں لیتی، لوڈ شیڈنگ کا نام و نشان نہیں، وہ لوگ لفظ لوڈ شیڈنگ سے بھی ناواقف ہیں، لبرل اور جدید نظام تعلیم ہے جو سب کے لئے ہے، طبی سہولتیں ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ عدالتی نظام اس قدر سوئفٹ ہے کہ بروقت انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔ نہ حکمران کرپشن کرتے ہیں اور نہ ہی شہری، اگر کوئی چھوٹی موٹی کرپشن میں ملوث پایا جائے تو اسے ساری زندگی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض اوقات تو کچھ افراد شرمندگی کے مارے خود کشی تک کر لیتے ہیں۔

یہاں پر دنیا میں سب سے زیادہ کم کرپٹ افراد پائے جاتے ہیں ہوتے ہیں، ان کا شمار دنیا کے صاف ستھرے ممالک میں ہوتا ہے، جہاں صفائی کا سب سے زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ قدرتی ماحول کی آبیاری کے لئے جدید طریقہ کار استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر سال جنگلات کی صفائی اور انہیں خوبصورت بنانے کے لئے تنظیم سازی کی جاتی ہے۔ لیگاٹم پروسپیریٹی انڈیکس کے مطابق یہاں کے لوگوں میں دنیا کے مقابلے سب سے زیادہ برداشتکی قوت پائی جاتی ہے۔ شہریوں کو یہاں پر قسم کی اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے۔ سیاست کو مذہب اور مذہب کو سیاست سے الگ رکھا جاتا ہے۔ مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے، اس لئے کسی کے مذہبی عقائد پر سوالات نہیں اٹھائے جاتے۔

ایک رپورٹ کے مطابق یہاں پر جینڈرایکولیٹی باقی دنیا کے مقابلے سب سے معیاری ہے۔ یہ تو تھی ان ممالک کی تصویر اور یہی وہ وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہر سال سکینڈینیویائی ممالک کے لاکھوں انسان سب سے زیادہ خوش رہتے ہیں۔ اب آتے ہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف، پاکستان گزشتہ رپورٹ میں خوش رہنے والی فہرست میں 80 ویں نمبر پر تھا۔ ۔ پاکستان میں 60 ملین سے زائد انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی دنیا میں آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتے ہیں، سول و ملٹری کرپٹ حکمرانوں کا ایک مافیا ہے جو ریاست کو ترقی دینے کی بجائے پچھلے ستر سال سے ایک دوسرے سے لڑ جھگڑ رہا ہے۔ غربت، بے روزگاری، طبی سہولتوں کا فقدان، ٹریفک کا بے ہنگم نظام، لوڈشیڈنگ، بم دھماکے، فرقہ واریت، قتل و غارت گری کا نام پاکستان ہے۔ یہ تمام برائیاں ہمارے ملک کے لوگوں کو خوشی سے دور کرنے کا سبب ہیں باعث۔

ایک رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بیماریوں سے ہونے والی 30 سے 40 فیصد اموات، آلودہ پانی کے باعث پھیلنے والی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ حقیقی داستان جب میں نے اپنی پیاری نانی جان کو سنائی تو وہ ایک دم پریشان ہوگئی اور کہنے لگی کہ بیٹا اس کا مطلب ہے وہاں پر مسلمان نہیں ہیں، لیکن حقیقی اسلام پر تو اصل میں وہی عمل پیرا ہیں۔ اس کے بعد نانی نے کچھ اچھی باتیں شئیر کی وہ بھی قارئین کی نظر کردیتی ہوں۔ کہنے لگیں کہ یہاں کہ انسانوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کریں اور مذہب کے نام پر قتل عام مت کریں۔ نانوں کے یہ آخری دو جملے یہاں کے انسانوں کے لئے فکر انگیز ہیں۔ ذرا سوچیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں