پاکستانی ہسپتال اورعطار کا لونڈا


mustafa malikپاناما لیکس کی وجہ سے پاکستانی سیاستدانوں کی بد حواسی، بیماری اور بیرون ملک روانگی دیکھ کر آج مجھے عطار کا وہ لونڈا بڑی شدت سے یاد آ رہا ہے جس سے میر تقی میر اس کی قابلیت کی بجائے اس کی نسبت کی وجہ سے دوا لیا کرتے تھے۔

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

پاکستان کا حکمران خاندان ان دنوں مختلف حوالوں سے خبروں اور تنازعات کی زد میں ہے جن میں سرفہرست پاناما پیپرز ہیں۔ پاناما پیپرز کے مطابق وزیر اعظم پاکستان کے صاحبزادے بھی کچھ آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں۔ اعتراض آف شور کمپنیوں پر نہیں ہے بلکہ ان کمپنیوں پر لگنے والے سرمائے پر ہے کہ وہ کہاں سے آیا؟ سوال انتہائی سادہ ہیں اور اگر ان سوالوں کا جواب وہی دیں جن سے کئے جا رہے ہیں تو یہ گُتھی احسن طریقے سے سلجھ سکتی ہے مگر بدقسمتی سے سوالوں کے جواب وہ وزراء اور مشیر دے رہے ہیں جنہوں نے اس پیپر کی تیاری ہی نہیں کی۔ ان کو تو بس ہلکا سا ‘گیس پیپر’ ملا ہے جس پر وہ اپنے مطلب کی تاویلیں پیش کر تے ہوئے ورق کے ورق سیاہ کر رہے ہیں۔ بچپن میں جب ہمیں پیپر نہیں آتا تھا یا ٹیسٹ کی تیاری نہیں ہوتی تھی تو اچانک ہمارے پیٹ میں درد شروع ہو جاتا تھا جو سکول میں چھٹی ہونے تک جاری رہتا یہ اور بات کہ ہم گھر والوں سے چھپ کر خوب پیٹ پوجا کر لیتے تھے۔ لگتا ہے کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب نے بھی پیپرز کی تیاری نہیں کی تھی اس لئے ان کی طبعیت اچانک خراب ہو گئی اور علاج کے لئے لندن جا پہنچے جہاں سے ہسپتال کے علاوہ شاپنگ مالز کی تصویریں بھی سامنے آئیں۔ شاید ڈاکٹر نے افاقے کے لئے رولیکس گھڑی بھی تجویز کی ہے۔

لندن سے شریف فیملی کی محبت بہت پرانی ہے۔ جلاوطنی کے دور میں بھی میاں نواز شریف صاحب نے سعودی عرب کی متبرک زمین سے لندن کی جانب ہجرت کی۔ شاید لندن کی آب و ہوا میاں صاحب کی طبعیت کے لئے موافق ہے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد بھی میاں صاحب نے ہر غیر ملکی دورے پر جاتے ہوئے لندن یاترا ضرور کی۔ اب کیا کیا جائے کہ پاناما پیپر میں جس جائیداد کا ذکر ہے وہ بھی موئی لندن میں ہی ہے۔ یعنی جس نے دنیا بھر میں رسوا کیا اسی سے داد رسی کی تمنا ہے۔ کوئی کچھ بھی کہے میاں صاحب نے لندن سے اپنی سچی محبت کی لاج رکھی ہے۔ محبوب کی وجہ سے کبھی دکھ بھی ملتے ہیں مگر سکون بھی تو محبوب کے کوچے میں ہی آتا ہے۔ میر کو بھی تو عطار کے لونڈے کی دوا سے ہی آرام آتا تھا۔اب وزیر اعظم کی طبعیت خراب ہو تو وہ میو ہسپتال تھوڑے ہی جائیں گے وہ تو عوام کا ہسپتال ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ وزیراعظم بھی تو عوام کے ہے۔ ہاں بھئی ہیں، مان لیا کہ عوام کے وزیر اعظم ہیں، کیا وہ عوام جنہوں نے انہیں وزیر اعظم کی مسند پر بٹھایا ہے وہ یہ نہیں پوچھ سکتی کہ قبلہ اگر آپ کو وزیر اعظم ہو کر بھی ملک کے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں پر اعتماد نہیں ہے تو ہمیں کیوں ان قاتلوں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا؟

جناب والا! مانا کہ آپ ملک کے وزیر اعظم ہیں آپ کی زندگی بہت قیمتی ہے مگر آپ کیوں بھول گئے ہیں کہ آپ کی رعایا کی ایک تہائی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر نے پر مجبور ہے۔ آپ لندن کیا امریکہ جا کر علاج کروائیں مگر ہمارے ہسپتالوں کو بھی اس قابل کر دیں کہ جب اورنج ٹرین کے لئے زمین کھودتے کھودتے اور دھول پھانکتے ہمارے پھیپھڑے جواب دے جائیں تو ان ہسپتالوں میں ہمیں بستر میسر آ جائے۔ بچوں کی تعلیم، روزگار اور حفاظت کے اندیشوں سے اگر دل اوپر نیچے ہو تو دل کے ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر مل جائے۔ آپ کی بنائی عظیم شاہراہوں پر لگے پروٹوکول میں کوئی اپنی جان کی بازی نہ ہار دے۔ کسی سرکاری ہسپتال کا بڑا ڈاکٹر کسی چھوٹے مریض کو پرائیویٹ کلینک کا رستہ نہ دکھائے۔

میاں صاحب جس طرح آپ اپنے علاج کے لئے چشم زدن میں پاکستان سے اڑان بھر کر لندن پہنچ جاتے ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ پاکستان میں بھی کوئی عورت بچے کو جنم دینے سے پہلے راستے میں دم نہ توڑ دے۔ اس کے لئے بھی گھر سے ہسپتال تک کا راستہ آسان ہو جائے۔ 1122کی ایمبولینس کے پاس اتنا فنڈ ہو کہ جائے حادثہ پر پہنچنے کے لئے انہیں چندہ نہ مانگنا پڑے۔ سرکاری ہسپتال میں ہر مریض کو الگ بستر نصیب ہو جائے۔ میاں صاحب آپ نے تو لندن کے ہسپتالوں کا معیار دیکھا ہے اور وہاں کے ڈاکٹروں کا مریضوں سے سلوک بھی دیکھا ہو گا۔ آپ سے التجا ہے کہ یہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں اس کا دس فیصد بھی کر دیں تو بے چارے عوام خوار ہونے سے بچ جائیں۔ امید ہے آپ نے وہاں ایک عام مریض کے طور پر علاج نہ کروایا ہوگا بلکہ انیس کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم کے طور پر یہ بھی مشاہدہ کیا ہو گا کہ لندن اور پاکستان کے ہسپتالوں میں کتنا فرق ہے اور یہ فرق کیسے کم کیا جا سکتا ہے۔ جناب والا یہاں کی عوام کا محبوب ایک ہی ہے اور وہ ہے پاکستان جس کو وہ دعا دیتے ہیں اور اس سے دوا بھی لیتے ہیں اور کوئی عطار کا لونڈا اس عوام کا واقف نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments