متحدہ مجلس عمل نے مسلم لیگ ن کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا اشارہ دے دیا


متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) میں شامل دینی جماعتوں میں جمعیت علماء اسلام (ف) اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پہلے ہی مسلم لیگ (ن) کے حکومتی اتحادی ہیں جب کہ جماعت اسلامی نے بھی خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر لی ہے، جمعیت علماء پاکستان اوراسلامی تحریک کے پاس کوئی رکن اسمبلی نہیں ہے۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ سینیٹرساجد میر کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر الیکشن شفاف ہوئے تو مسلم لیگ (ن) دوبارہ اقتدار میں آسکتی ہے اس لئے ممکن ہے انتخابات میں (ن) لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جا سکے۔

دوسری جانب ایم ایم اے کے مقابل جمعیت علما اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نیا اتحاد بنانے کے لئے سرگرم ہیں جس میں جمعیت علما پاکستان نورانی، نظام مصطفی متحدہ محاذ، اہل سنت والجماعت اور ملی مسلم لیگ کو شامل کیا جائے گا جب کہ اس اتحاد کا جھکاؤ آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کی جانب ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اتحاد میں عوامی تحریک، تحریک لبیک پاکستان اور سنی تحریک کو بھی شامل کئے جانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں