کسی گواہ نے نواز شریف کو ایون فیلڈ پراپرٹیز کا مالک قرار نہیں دیا: تفتیشی افسر


ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل نے نیب کے تفتیشی افسر پر جرح مکمل کر لی ہے۔ تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے احتساب عدالت کو بتایا کہ عام طور پر شکایت کی جانچ پڑتال کے بعد انکوائری اور پھر تحقیقات شروع کی جاتی ہے ، پھر شواہد کی روشنی میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جاتا ہے ، اس کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر براہ راست تحقیقات سونپی گئیں، عبوری ریفرنس فائل کرتے وقت کسی میوچل لیگل اسسٹینس کا جواب موصول نہیں ہوا تھا، ریفرنس کے کسی گواہ نے نہیں کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی بے نامی جائیداد کے اصل مالک نواز شریف ہیں، تفتیش کے دوران ایسی کوئی دستاویز یا رسید نہیں ملی جس سے ظاہر ہو کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کے خریدار نواز شریف ہیں ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور ریٹائرد کیپٹن صفدر کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے جرح کے دوران نیب کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے کہا کہ نیب قانون کے تحت عام طور پر ملزم کے خلاف کارروائی کا آغاز شکایت موصول ہونے پر کیا جاتا ہے جس کے بعد اسکروٹنی، انکوائری اور تحقیقات کے بعد ریفرنس داخل کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔

اس کیس میں ایف آئی اے یا نیب سے الگ سے کوئی مٹیریل اکٹھا نہیں کیا، جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کیے گئے مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کیا، ایف آئی اے اور نیب کی طرف سے جو دستاویزات جے آئی ٹی کو دی گئیں وہ جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ ہیں، تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے دوران جرح کہا کہ نواز شریف کے اثاثوں کا چارٹ میں نے تیار نہیں کیا، نہ ہی کبھی جے آئی ٹی کی کارروائی کے ساتھ منسلک رہا، واجد ضیا سے نہیں پوچھا کہ نواز شریف کے اثاثوں کا چارٹ کس نے بنایا؟

خواجہ حارث نے پوچھا کیا تفتیش کے دوران آپ کے علم میں آیا کہ جے آئی ٹی نے کوئی سیکریٹیریل اسٹاف بھی حاصل کیا تھا؟ تفتیشی افسر نے کہا یہ بات میرےعلم میں آئی تھی کہ جے آئی ٹی نے مختلف شعبوں کے ماہرین کی خدمات حاصل کیں تاہم ان کی تعداد کا علم نہیں، یہ بھی نہیں جانتا کہ ان کا تعلق کن محکموں سے تھا، اپنی تفتیش میں بھی یہ معلوم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ جے آئی ٹی نے کن لوگوں کی خدمات حاصل کیں، یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش نہیں کہ چارٹ ان میں سے کسی نے بنایا یا نہیں۔

تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے کسی گواہ نے نہیں کہا کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کی بے نامی جائیداد کے اصل مالک نواز شریف ہیں یا حسین نواز ایون فیلڈ پراپرٹیز کو نواز شریف کی بے نامی جائیداد کے طور پر رکھتے ہیں، تفتیش کے دوران ایسی کوئی دستاویز یا رسید نہیں ملی جس سے ظاہر ہو کہ ایون فیلڈ پراپرٹیز کے خریدار نواز شریف ہیں، نیب کے تفتیشی افسر پر 7 مئی سے مریم نواز اور ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز جرح کریں گے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں