کیا یہی دہشت گردی کا خاتمہ ہے؟ بلاول بھٹو کی کوئٹہ میں تقریر


بلاول بھٹو کوئٹہ میں

Getty Images

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں تقریر کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا یہی دہشت گردی کا خاتمہ ہے کہ ہزارہ قبیلے کے لوگ مارے جا رہے ہیں اور خضدار اور مستونگ سے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں؟

انھوں نے کہا کہ ہمیں طعنہ دیا جاتا ہے کہ ہم شہیدوں کی سیاست کرتے ہیں لیکن ہم انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری سیاست کی بنیاد شہدا کے خون سے وفا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے کوئٹہ میں ایک بڑے جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پارٹی کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کوئٹہ شہر میں ان کا کسی سیاسی جلسے سے پہلا خطاب تھا۔

کوئٹہ پہنچنے کے فوراً بعد وہ علمدار روڈ گئے جہاں انہوں نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

جب وہ شام کو جلسہ گاہ پہنچے تووہاں موجود لوگوں نے پرجوش انداز سے ان کا استقبال کیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’جن لوگوں کا کوئی گیا نہیں تو انھیں اس بات کا کیا پتہ کہ اپنے پیاروں کو کھونے کا درد کیا ہوتا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اگر عمل درآمد نہ ہوتو نام نہاد سیاست دانوں کو کیا فکر کیونکہ ان کا کوئی پیارا اس طرح ان سے جدا نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکش پلان ہمارا مسئلہ ہے کیونکہ کراچی سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے گلگت بلتستان تک ہم نے لاشیں اٹھائی ہیں۔ جب تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہوتا تو ہم آواز بلند کرتے رہیں گے۔

بلوچستان کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، ان کے لوگوں کو مارا گیا اور سینکڑوں لوگ لاپتہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا۔ انھوں نے استفسار کیا کہ کیا یہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے کہ ہزارہ قبیلے کے لوگ مارے جا رہے ہیں اور خضدار اور مستونگ سے لوگوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں؟

پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ جب تک بہادر بیٹیاں بھوک ہڑتال نہیں کرتیں اس وقت تک ان کے مسائل کی جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

بلاول بھٹو کوئٹہ میں

Getty Images
بلاول کی تقریر سننے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے

انھوں نے کہا کہ نواز شریف کا مسئلہ عمران خان اور عمران خان کا مسئلہ نواز شریف ہے، اور ان دونوں کا مسئلہ صرف اقتدار ہے۔ اگر کسی کے نزدیک کوئی مسئلہ نہیں ہے تو لوگوں کی سڑکوں پر تڑپتی ہوئی لاشوں کا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کون بات کرے گا لاپتہ ہونے والوں کی اور کون بات کرے گا مسخ شدہ لاشوں کی؟‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے نام نہاد سیاستدانوں کو کسی کی پروا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ، بلوچستان، اور خیبر پشتونخوا کو دیوار سے لگا کر سیاست کا میدان صرف وسطی پنجاب کو بنانے کی کوشش ہورہی ہے لیکن پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی۔

بلاول بھٹونے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر چھوٹے صوبوں کو کالونی سمجھنے والے سن لیں کہ اگر وسطی پنجاب کو سیاست کا محور بنایا جائے گا تو یہ وسطی پنجاب کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی کیونکہ اس سے مزید محرومیاں جنم لیں گی۔

انہوں کہا کہ ’ن لیگ والوں کو دیکھیں جو ہمارے وسائل پر قبضہ کرکے پھر سندھ، پشتونخوا اور بلوچستان جا کر ہماری غربت اور محرومیوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ہمیں محروم رکھ محرومی کا طعنہ دیتے ہیں۔‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4878 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp