جناح پر کتنا منقسم ہے ہندوستان؟

سہیل حلیم - بی بی سی اردو، دہلی


جناح

AFP

بانی پاکستان محمد علی جناح کی تصویر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے یونین ہال میں آویزاں رہنی چاہیے یا نہیں، اس پر رائے منقسم ہے۔

یہ تصویر وہاں 1938 میں لگائی گئی تھی جب یونیورسٹی کے طلبہ نے جناح کو اپنی یونین کی تاحیات رکنیت دی تھی۔ اب بی جے پی اور اس کی اتحادی سخت گیر تنظیموں سے وابستہ کچھ لوگ اس تصویر کو وہاں سے ہٹوانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق جناح نے ہندوستان کو تقسیم کرایا تھا۔

کس نے کیا کہا؟

جاوید اختر، شاعر

جاوید اختر نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل جاوید اختر جادو پر لکھا ہے کہ یہ شرم کی بات ہے کہ جناح کی تصویر ابھی تک وہاں لگی ہوئی ہے کیونکہ جناح نہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور نہ استاد۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور طلبہ کو خود یہ تصویر اتار دینی چاہیے، اور تصویر کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو (گاندھی جی کے قاتل) ناتھو رام گوڈسے کے اعزاز میں بنائے گئے مندروں کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں

علی گڑھ یونیورسٹی میں اب بھی جناح کی تصویر کیوں؟

کرن تھاپر، سینئر صحافی

کرن تھاپر نے انگریزی کے اخبار ٹربیون میں لکھا ہے کہ جب جاوید اخبر اس طرح کی بات کرتے ہیں، تو ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے بھی سچائی سے آنکھیں پھیرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ہندو یوا واہنی جیسی تنظیمیں یہ کہہ سکتی ہیں کہ انھیں تاریخ کا علم نہیں، یا وہ جان بوجھ کر تاریخ کو نظرانداز کر رہی ہیں، لیکن جاوید اختر ایسا نہیں کر سکتے۔

تو کرن تھاپر کے مطابق سچائی کیا ہے؟

ان کا کہنا ہے کہ انسان اپنی ہوشیاری سے بہت کچھ بدل سکتا ہے لیکن تاریخ نہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ 1916 میں سروجنی نائڈو نے جناح کو ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ قرار دیا تھا، گاندھی جی کی خلافت تحریک کے دوران جناح مذہب اور سیاست کو ملانے کے خلاف تھے اور وہیں سے کانگریس سے ان کے اختلافات شروع ہوئے تھے۔ جناح ایک بڑے وکیل تھے اور انھوں نے بال گنگا دھر تلک کے خلاف بغاوت کے مقدمات میں دو مرتبہ تلک کا دفاع کیا تھا اور دو قومی نظریہ پہلی مرتبہ جناح نے نہیں ہندو مہاسبھا کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے 1937 میں (ہندوتوا کے نظریے کے بانی) ویر ساورکر نے پیش کیا تھا۔

سوامی پرساد موریا، بی جے پی کے وزیر

سوامی پرساد موریہ اتر پردیش میں بی جے پی کے سینئر وزیر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی تعمیر میں جن عظیم شخصیات کا یوگدان ہے، ان پر کوئی انگلی اٹھائے یہ بہت غلط بات ہے۔ یہ اعتراض فضول ہے چاہے اعتراض کرنے والے کوئی بھی ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعد میں جناح کے نظریات بدل گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تقسیم سے پہلے ان کے کردار کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ، اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ

آدتیہ ناتھ اتر دیش کے وزیراعلی ہیں اور ایک سادھو یا یوگی (ہندو مذہبی رہنما) بھی۔ ان کا موقف بالکل واضح ہے۔ سوامی پرساد موریا کے بیان کے بعد انھوں نے کہا کہ ‘جناح نے ملک کو تقسیم کرایا تھا، انہیں ہندوستان کی سرزمین پر کوئی اعزاز نہیں دیا جا سکتا۔ ہم ان کی کامیابیوں کا جشن کیسے منا سکتے ہیں؟’

طلبہ یونین

یونیورسٹی کی طلبہ یونین کا کہنا ہے کہ تصویر نہیں اتاری جائے گی کیونکہ یہ یونین ہال میں 80 سال سے آویزاں ہوئی ہے اور روایت کے مطابق (دوسرے بڑے رہنماؤں کی طرح) جناح کو تاحیات رکنیت دینے کے بعد لگائی گئی تھی۔

ششی تھرور، کانگریس کے رہنما

ششی تھرور نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ جناح کی تصویر یونین ہال میں کیوں لگی ہوئی ہے، یہ بات بہت اچھے انداز میں کرن تھاپر نے سمجھا دی ہے۔ بی جے پی کے اراکین یارلیمان کے پاس کوئی تعمیری کام نہیں ہے اس لیے مذہب کے نام پر ہنگامہ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کوئی وجہ نہیں کہ باقی لوگ بھی اس میں شامل ہو جائیں۔

رعنا صفوی، مورخ

مورخ رعنا صفوی اے ایم یو کی سابق طالب علم بھی ہیں۔ انھوں نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ یہ جناح کی تصویر پر نہیں سیکولرزم اور مسلمان پر حملہ ہے۔

سنجیو بھٹ، سابق آئی پی ایس افسر

سنجیو بھٹ سابق پولیس افسر ہیں۔ انھوں نے جناح اور گاندھی کے مجسموں کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے جو ان کے مطابق اسلام آباد کے ایک میوزیم میں لی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جناح کی خدمات پورے آر ایس ایس سے زیادہ تھیں۔ ہمیں نفرتیں بھلانے کی ضرورت ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں کو جناح پر فخر کرنا چاہیے۔

ابھیجیت مجومدار، صحافی

ابھیجیت مجومدار کا کہنا ہےکہ اگست 1946 میں جناح نے پاکستان کے قیام کے لیے ڈائریکٹ ایکشن کی کال دی تھی، پانچ سے 20 ہزار کے درمیان لوگ مارے گئے۔ ‘یہ وہ جناح ہیں جن کی تصویر مبینہ طور پر ہندوستانی یونیورسٹی اے ایم یو نے لگا رکھی ہے۔’

سیتارام یچوری، کمیونسٹ رہنما

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر سیتارام یچوری نے ٹوئٹرپر لکھا ہے کہ بنگال سندھ اور صوبہ سرحد میں ہندو مہاسبھا نے مسلم لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔

ساتھ ہی انھوں نے ایک کارٹون بھی ٹویٹ کیا ہے جس میں ہندو مذہبی لباس میں ملبوس ایک شخص نے جناح کی تصویر اٹھا رکھی ہے اور وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ ‘تم ہو تو میں ہوں!’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5673 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp