ہاتھی جنگل کا بادشاہ کیوں نہیں بنتا؟


ہاتھی جنگل کے جانوروں میں سب سے لمبا چوڑا ہوتا ہے۔ ہمارے والے ہاتھی کو بھی اپنی جسامت پہ بڑا ناز تھا۔ وہ سارا دن افریقہ کے سفاری پارک میں ادھر سے ادھر کودتا پھاندتا گھومتا رہتا۔ جہاں دل کرتا رک کے کسی بھی درخت کی نازک سی شاخ سونڈ میں دبا کے موڑتا، ذائقہ اچھا لگتا تو وہیں ٹھونس لیتا ورنہ پھینک پھانک کے آگے بڑھ جاتا۔ باقی سارے جانور اس سے پرے رہتے تھے۔ ان میں ایک بندر بھی تھا۔ بندر ہمیشہ ہاتھی کی حرکتیں نوٹ کرتا رہتا تھا۔ وہ دل و جان سے اس بات کو مانتا تھا کہ ہاتھی اپنی طاقت ایویں غلط جگہ پہ ضائع کر رہا ہے۔ ایک دن جب کھانا کھانے کے بعد ہاتھی آرام کر رہا تھا تو بندر اس کے پاس پہنچ گیا۔ ایک محفوظ فاصلے پہ رہتے ہوئے بندر نے ہاتھی کو آواز دی۔ ہاتھی نے سستی سے آدھی آنکھیں کھولیں اور پوچھا کہ بتاؤ کیا مصیبت ہے؟ بندر نے اسے سمجھایا کہ یار دیکھو تم اتنے ایکٹو ہو، طاقتور ہو، لمبے چوڑے ہو، سمجھدار بھی ہو، تم میں کوئی ایسی کمی نہیں جو تمہیں جنگل کا بادشاہ بننے سے روک سکے، پھر کیا وجہ ہے کہ تم درگزر سے کام لیتے ہو اور آج تک کبھی شیر کے مقابلے کا دعویٰ بھی نہیں کیا؟ ہاتھی سست سے انداز میں ہنسا اور کہنے لگا کہ وہ اور ہاتھی ہوتے ہوں گے میاں جو تمہارے بہکانے میں آ جائیں، مجھے میرے دادا نے پوری تفصیل سے بتایا تھا کہ شیر بادشاہ کیسے بنا، بس اس دن سے میں نے ایسا کچھ سوچنے سے بھی توبہ کر لی۔ بندر نے بہت سر کھایا تو ہاتھی نے یوں کہانی سنانا شروع کی۔

دادا مرحوم بتاتے تھے کہ ان کے زمانے میں سفاری پارک والوں نے ایک شیر کو شاہی تاج پہنانے کا سوچا۔ شیر بہت خوش تھا کہ بیٹھے بٹھائے موج ہو گئی۔ وہ ابھی لنچ ہی کر رہا تھا کہ سفاری والے اسے لینے آ گئے۔ شیر ہنسی خوشی پنجرے والی گاڑی میں سوار ہوا اور ان کے ساتھ چلا گیا۔ دو گھنٹے بعد شیر کو ایک بڑے سے پنجرے میں رکھ دیا گیا۔ اب شیر چونکہ آدھا لنچ چھوڑ کے اٹھا تھا تو بھوک کے مارے اس کا برا حال تھا۔ کوئی کھانا دینے نہ آیا۔ رات ہونے تک شیر زور زور سے دھاڑنے لگا۔ کسی نے خبر نہ لی۔ بھوک اور دھاڑنے کے بعد کمزوری سے شیر کو غش آ گیا اور وہیں سو رہا۔ صبح اس کی آنکھ کھلی تو پنجرے کے باہر سفاری والوں کا ٹرینر (جانوروں کو تربیت دینے والا) کھڑا تھا۔ اس نے شیر کو تازہ گوشت دکھایا۔ شیر غراتا ہوا اس کی طرف بڑھا لیکن آگے سلاخیں تھیں۔ ٹرینر نے شیر کو سمجھایا کہ پنجرے میں دوڑ کے چھ فٹ کی چھلانگ لگاؤ گے تو گوشت ملے گا۔ شیر ناراض ہو گیا۔ وہ سوچتا تھا کہ یار میں بادشاہ ہوں اور یہ گھٹیا آدمی بادشاہوں سے کس قسم کی حرکتیں کروا رہا ہے۔ بھوکا بیٹھا رہا۔ ٹرینر بھی شام کو تھک ہار کے چلا گیا۔ دوسرے دن صبح ٹرینر پھر موجود تھا۔ اس مرتبہ گوشت بھی ایسا تازہ تھا کہ خون کے قطرے تک ٹپک رہے تھے۔ اب شیر کے منہ میں پانی آ گیا۔ سوچنے لگا کہ یار بادشاہ بھی تو چھلانگ لگاتے ہی ہوں گے۔ کوئی بات نہیں، یہ بیچارہ ایک چھلانگ کے بدلے میں اتنا کچھ آفر کر رہا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ شیر پوری طاقت جمع کرکے پنجرے میں دوڑا اور چھ فٹ کی ایک چھلانگ لگا دی۔ ٹرینر نے گوشت اس کے آگے پھینکا اور چلا گیا۔ شیر نے خاموشی سے پیٹ بھر کے کھانا کھایا اور چین کی نیند لی۔

اگلے دن ٹرینر پھر تازہ گوشت کے ساتھ موجود تھا۔ شیر نے اسے دیکھتے ہی مارے جوش کے ایک کی بجائے دو چھلانگیں لگا دیں، دونوں آٹھ آٹھ فٹ لمبی چھلانگیں تھیں۔ سفاری پارک کا ٹرینر پاس بھی نہ آیا۔ شیر نے پوچھا کہ بھائی آج کھانا کیوں نہیں دیتے؟ کہنے لگا: ناچ کے دکھاؤ گے تو کھانا ملے گا۔ شیر باقاعدہ مائینڈ کر گیا، بھلا بادشاہ بھی کہیں ڈانس کرتے ہیں؟ تین دن تک یہی تماشا ہوتا رہا۔ چوتھے دن جب ٹرینر صبح آیا تو شیر نے سوچا کہ یار جنگل والی بات تو ہے نہیں، یہاں میں اکیلا ہوں، کیا ہوا جو تھوڑا ناچ لوں گا؟ شیر نے اگلے دونوں پنجے اٹھائے اور پچھلی دو ٹانگوں پہ اچھلنا شروع کر دیا۔ ٹرینر بڑا خوش ہوا۔ شیر کے آگے ڈبل لنچ سرو کیا، اسے شاباش دی اور چلا گیا۔ شیر نے پیٹ بھر کے کھایا، تھوڑی چہل قدمی کی اور سکون سے بیٹھ گیا۔ شام کو ٹرینر خالی ہاتھ آیا اور شیر کے آگے ایک چھوٹا سا صندوق رکھ کے حکم دیا کہ اس پہ کھڑے ہو جاؤ۔ شیر کا پیٹ بھرا ہوا تھا۔ وہ غصے میں آ گیا۔ کہنے لگا: بھاڑ میں گئی ایسی بادشاہت، تم دفع ہو جاؤ یہاں سے اور آئندہ اپنی منحوس شکل مجھے نہ دکھانا‘ بھلا جنگل کے بادشاہ بھی کبھی صندوقوں پہ کھڑے ہوئے ہیں؟ اور وہ صندوق جس پہ دو پاؤں رکھنے کی جگہ مشکل سے ہے؟ ٹرینر چپ چاپ چلا گیا۔

اگلے دو دن ٹرینر آیا نہ کسی اور بندے نے شیر کی خبر لی۔ شیر کب تک ناراض رہتا، بھوک سے الگ سر میں درد ہو رہا تھا۔ تیسرے دن شیر نے تنگ آ کے دھاڑنا شروع کر دیا۔ دوسرے منٹ ٹرینر وہاں موجود تھا۔ اس نے کوئی بات کیے بغیر باہر سے وہی صندوق پنجرے کے اندر سرکا دیا۔ شیر کو غصہ آیا ہوا تھا۔ وہ صندوق کی طرف جھپٹا اور ایک چھلانگ لگا کے چاروں پاؤں اس پہ جما دئیے۔ شیر خود حیران تھا کہ یہ کیسا شاندار سین ہو گیا ہے، کہاں دو پاؤں کی جگہ نظر نہیں آتی تھی کہاں جمپ مار کے چاروں پاؤں جما لیے۔ شیر اب خود بھی اپنی ٹریننگ سے مطمئن ہونے لگا تھا۔ اسے یہ محسوس ہو رہا تھا کہ ایک اچھے بادشاہ کا باقی جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے ان سب کاموں کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ وہ پورے ایک منٹ صندوق پہ کھڑا رہا۔ نیچے اترا تو اس نے دیکھا کہ بغیر مانگے تازہ ترین شکار کیا ہوا ہرن اس کے لیے موجود تھا۔

دادا مرحوم بتاتے تھے کہ اگلے دس دن تک شیر کو کھانا برابر ملتا رہا۔ شیر بھی کھا کھا کے دنبہ بن گیا۔ ٹرینر کوئی فرمائش بھی نہیں کرتا تھا۔ شیر کو حیرت ہوتی لیکن وہ کھا پی کے آرام سے سو جاتا۔ گیارہویں دن کھانے کی جگہ اس کے سامنے جنگلی گھاس پڑی تھی۔ شیر نے کہا: بھائی آپ بھول گئے ہیں، میں شیر ہوں۔ ٹرینر نے سرد لہجے میں بتایا کہ اب سے تمہاری خوراک یہی ہو گی۔ شیر غصے میں چیخ اٹھا، ابے پاگل ہو گئے ہو، یہ کیسا بادشاہ بنا رہے ہو مجھے، گھاس کون شیر کھاتا ہے، لعنت ہو تم سب پر… ٹرینر جا چکا تھا۔ ہاتھی کہانی سناتے سناتے چپ ہو گیا۔

بندر نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ بندر نے کہا کہ اے جنگل کے سب سے لحیم شحیم جانور، بخدا تو روتے ہوئے شدید چغد دکھتا ہے‘ پھر بھی مجھے بتا کہ پیچھے اس امر کے وہ کون سی رمز ہے کہ جو پوشیدہ ہے؟ ہاتھی نے داہنے کان کو چھوتے ہوئے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے جواب دیا؛ ”بس پھر وہ شیر بادشاہ بن گیا لیکن اس کو گھاس کی ایسی لت لگی کہ آخری دنوں میں دادا مرحوم کئی کئی دن فاقے سے رہتے تھے۔ وہ سفاری کی تمام تازہ گھاس چر لیتا تھا اور دادا مرحوم بس بادشاہ کو دیکھتے رہ جاتے تھے۔‘‘

یہ کہتے ہوئے پھر سے ہاتھی کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ جب ہاتھی دل بھر کے رو چکا تو اس نے بندر کو بتلایا کہ ایک شاعر دنیا میں ایسا گزرا ہے جو پرندوں کو سمجھایا کرتا تھا کہ اے پرندو جس رزق سے پرواز میں کوتاہی آنے لگے وہ رزق کھانے سے مرنا بہتر ہے۔ پرندے اس کی بات سمجھ گئے۔ جنگلی جانور بھی سمجھ گئے۔ ہم ہاتھیوں کو تو دادا مرحوم کی حکمت ہی کافی تھی۔ مسئلہ یہ ہوا کہ جب شیروں نے اس بات کو سمجھا تب تک دیر ہو چکی تھی۔ بادشاہ تو ہم سب سے زیادہ مجبور ہوتا ہے۔ شیر چونکہ بادشاہ ہے تو اسے وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جو ہمارے سفاری پارک کے ٹرینر کہتے ہیں۔ نہیں کرے گا تو نہ رزق رہے گا، نہ پرواز رہے گی، جب یہ دونوں ہی جانے کا چانس ہو تو کسی ایک کم تر آپشن پہ گزارا کرنا ہی پڑتا ہے، سو وہی شیر کرتا ہے۔ تو بیٹا جب شاہی تاج پہننا ہو اور کرنا وہی ہو جو شیر کرتا ہے تو ایسی بادشاہی پہ حقے کا پانی۔ یہ کہہ کر ہاتھی نے ایک انگڑائی لی اور سونے کی تیاریاں کرنے لگا۔ بندر چپ چاپ اپنے درخت کی جانب چلا گیا۔

(زکریا تامر کی ایک عربی کہانی سے ماخوذ)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 465 posts and counting.See all posts by husnain