برلن میں ایم جے اکبر سے ٹاکرا اور ندا فاضلی


جرمنی کی سرکاری ادبی تنظیم لٹریٹر ورک سٹاٹ کی خصوصی دعوت پر جب میں کینیڈا سے پرواز کرتا برلن پہنچا اور اپنی سکھ ہمشیرہ کے عطا کردہ لائٹر سے اپنا پہلا سگریٹ سلگایا، آس پاس نگاہ کی تو تقریباً ہر شخص کوٹ میں ملبوس، ہیٹ پہنے نہایت سنجیدہ شکلیں بنائے پھرتا ہے۔ یقینا ان کے خاندان میں کوئی فوتیدگی ہو گئی ہے اور سب ماتمی لباس میں اسے دفنانے کے لیے جا رہے ہیں۔ دراصل کینیڈا اور خصوصی طور پر جب آپ امریکہ سے یورپ آتے ہیں تو ایک دھچکا سا لگتا ہے۔ وہاں لوگ نیکروں، جینوں اور ٹی شرٹوں میں گھوم رہے ہیں اور یہاں ہر کوئی سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ہے گویا جنازے پر جا رہے ہیں۔ میں آخری مرتبہ 1969ء میں امریکی مائیک ملر اور چار آسٹریلین ’’بطخوں‘‘ کے ہمراہ مشرقی جرمنی میں سفر کرنے کے بعد برلن میں وارد ہوا تھا جہاں ہلٹن ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں چوری چھپے سب کے سب سما گئے تھے۔ میرے حصے میں کمرے کا باتھ روم آیا تھا اور اس کے ٹب میں سویا تھا۔ سویا کہاں تھا۔ ہر پانچ دس منٹ کے بعد کوئی حاجت مند دستک دیتا کہ پلیز۔

لٹریٹر ورک سٹاٹ کے اس سیمینار میں اگرچہ میں مہمان اعزاز تھا لیکن میرے علاوہ انڈیا سے ایم جے اکبر آئے تھے جو ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے اور پاکستان دشمنی میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے شاید کوئی ناول بھی لکھے تھے۔ نیویارک میں مقیم پاکستانی نژاد ناول نگار ثریا خان کے علاوہ ہندوستان کے معروف شاعر ندا فاضلی اور پاکستان سے بھی مشہور شاعر افتخار عارف مدعو تھے۔ ندا فاضلی کا پچھلے دنوں انتقال ہو گیا اور وہ کیا ہی شاندار اور مہربان خصلت کے شخص تھے۔ شاعر نہیں لگتے تھے، وہ شام کے بعد میرے کمرے میں آتے اور ہم دیر تک باتیں کرتے رہتے۔ ندا کی اہلیہ ایک ہندو خاتون تھیں اور ان کی ایک بیٹی تھی۔ میں نے پوچھا کہ بیٹی کون سے مذہب کی جانب مائل ہے تو ندا کہنے لگے ’’کبھی مندر میں جا کر پوجا پاٹ کرلیتی ہے اور کبھی مسجد میں جا کر نماز پڑھ آتی ہے۔

ندا فاضلی

ایک شب جب میں گہری نیند میں تھا تو مجھے باتھ روم جانے کی حاجت ہوئی۔ بستر سے اٹھا تو اندھیرے میں کہیں ٹھوکر لگی اور میں منہ کے بل جا گرا۔ ناک سے خون کی آبشاریں بہہ نکلیں جو تھمتی نہ تھیں۔ پورا قالین، بستر اور باتھ روم میرے خون سے لتھڑ گیا۔ میں نے ندا فاضلی کو فون کیا تو وہ بھاگا چلا آیا۔ پوری رات میرے سرہانے بیٹھا رہا۔ میری تیمارداری کی۔ اگلے روز ہی پاکستانی سفیر نے سفارتخانے کا ڈاکٹر روانہ کیا جس نے مجھے ایک دو ٹیکے لگا کر بحال کردیا۔ لیکن میں ندا فاضلی کی تیمار داری اور فکر مندی نہیں بھول سکتا اور ہاں ایک دوپہر جرمنی میں تعینات پاکستانی سفیر نے مجھے اور افتخار کو سفارتخانے میں چائے کی دعوت دی۔ کہنے لگے ’’تارڑ صاحب‘‘ برلن کے اخباروں میں آپ کی آمد کا بہت تذکرہ ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ پچھلے برس جرمنی کے سب سے بڑے ناول نگار گنتھر گراس لٹریٹر ورک سٹاٹ کے مہمان اعزاز تھے تو برلن والے تجسس رکھتے ہیں کہ گنتھر گراس کے بعد جس پاکستانی ناول نگار کو مدعو کیا گیا ہے وہ پتہ نہیں کیا شے ہے۔ برلن کے مختلف مقامات پر آپ کی تصویریں بھی آویزاں ہیں اور یقین کیجئے ہم پاکستانیوں کو بہت فخر ہوا۔ میں نے اپنے دوست غیر ملکی سفارت کاروں کو بتایا کہ دیکھئے ہمارے ہاں بھی گنتھر گراس کے ہم پلہ ادیب ہیں۔‘‘

M J Akbar

وہ تقریر کرتے رک گئے اور پھر کہنے لگے ’’آپ سے گزارش ہے، جرمن اخباروں میں اس ادبی سیمینار کے حوالے سے پارٹیشن کے بارے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ ایک غلطی تھی۔ ہندوستان تقسیم نہیں ہونا چاہیے تھا۔ دونوں جانب سے اتنا کشت و خون ہوا جس سے گریز ہوسکتا تھا اگر پاکستان کے قیام کا مطالبہ نہ ہوتا۔ اور ہندوستان سے ایم جے اکبر بھی آ رہے ہیں۔ ہمیشہ اقتدار میں رہتے ہیں اور پاکستان کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں تو تارڑ صاحب آپ سے گزارش ہے کہ اس سلسلے میں پاکستان کے حق میں کچھ نہ کچھ کہئے گا۔‘‘ مجھے یاد تو نہیں کہ میں نے جواب کن لفظوں میں دیا لیکن اس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ محترم سفیر صاحب… اپنے وطن میں تو ہم پاکستان کے بارے میں تنقید کرتے رہتے ہیں لیکن یہاں… پاکستان میری ماں ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی اس کے بارے میں کچھ بھی نازیبا کہے تو کیا میں چپ رہوں گا۔ اور اگلے روز ہی یہ ’’سانحہ‘‘ ہو گیا۔

ایم جے اکبر، ہندوستانی سفارت کاروں کے جلو میں سیمینار ہال میں داخل ہوئے۔ سٹیج پر جلوہ افزوز ہو گئے۔ ویسے میں جرمن میزبانوں کے ہمراہ پہلے سے ہی سٹیج پر جلوہ افروز وغیرہ ہو چکا تھا۔ ایم جے اکبر نے مائک سنبھال کر اپنی کتھا بیان کی کہ شاید میری والدہ لاہور کی کشمیرن تھیں اور پھر بہت دھیرے دھیرے تقسیم کے ’’سانحے‘‘ کے بارے میں آنسو بہانے لگے۔ پاکستان کے بارے میں شکوک کا اظہار کرنے لگے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ آخری اختتامی تقریر میری ہے اور اس جوابی تقریر میں جو کچھ میں نے کہا وہ مجھے تو نہیں، ایم جے اکبر کو یاد ہو گا۔ بعد میں مجھ سے بغل گیر ہو کر کہنے لگے، آپ بہت جذباتی شخص ہیں تو میں نے کہا اور یہ مجھے یاد ہے کہ ہر شخص اپنی ماں کے بارے میں جذباتی ہوتا ہے۔ انہوں نے فرمائش کر کے مجھ سے ’’راکھ‘‘ حاصل کیا۔

برلن میں ہی وہ ایک یادگار وقوعہ ظہور پذیر ہوا تھا جس کا تذکرہ میں اکثر کرتا ہوں۔ میں اور افتخار عارف سرشام ہوٹل سے نکلے۔ ایک ترک کے کھوکھے پر رکے اور شوارما حاصل کرکے ڈنر کرنے لگے۔ اس دوران ایک پاکستانی صاحب آئے۔ ترک سے کہنے لگے، آپ کا گوشت حلال ہے۔ حالانکہ کھوکھے کے ماتھے پر ’’یااللہ‘‘ اور ’’یامحمد‘‘ درج تھا۔ ترک نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’برادر بالکل حلال ہے۔‘‘ پاکستانی بھائی نے شوارما خریدا اور کہنے لگے، یہ شیلف پر سجا بیئر کا ایک ٹن بھی دے دو تو وہ بہت کائیاں اور کھچرا ترک تھا، کہنے لگا۔ برادر یہ حلال نہیں ہے۔ تب اس پاکستانی نے ایسا جواب دیا جو صرف ایک پاکستانی ہی دے سکتا تھا، کہنے لگا برادر میں نے تم سے پوچھا ہے کہ یہ حلال ہے۔ اگر نہیں پوچھا تو تم کون ہوتے ہو مجھے بتانے والے کہ یہ حلال نہیں ہے۔ ترک نے ’’سوری‘‘ کہہ کر بیئر کا ٹن آگے کردیا۔

Dr. Christina Oesterheld

چلئے برلن کہانی کو مختصر کرتے ہیں۔ وہ شام جو میرے نام کی گئی تھی اس کی میزبانی کرنے کے لیے کرسٹینا اوسن ٹن ہیلٹ سٹیج پر آ گئیں اور میرے لیے یہ ایک نہایت خوشگوار حیرت تھی۔ کرسٹینا آج سے کوئی تیس چالیس برس پیشتر قرۃ العین حیدر کے ناولوں پر پی ایچ ڈی کرنے کی خاطر تحقیق کے لیے لاہور آئی تھی اور یقین جانئے کہ تب وہ سنہرے بالوں والی دلکش جرمن لڑکی لاہور کے ہر ادیب کے دل پر براجمان ہو گئی تھی۔ اس نے میرا انٹرویو بھی کیا اور پھر وہ غائب ہو گئی اور وہ یوں نمودار ہو گئی کہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے کرسٹینا سے رابطہ کیا گیا کہ آپ ہائڈل برگ یونیورسٹی میں جنوب مشرقی ایشیا کے شعبے کی سربراہ ہیں تو آپ کسی ایسے اردو ناول پر مقالہ لکھ کر ہمارے ہاں پیش کریں جو آپ کے تجزیے کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کا نمائندہ ترین ناول ہے۔ مجھے اطلاع ملی کہ کرسٹینا نے میرے ناول ’’راکھ‘‘ کا انتخاب کیا ہے اور میں نے اس سے پوچھا بلکہ سرزنش کی کہ کرسٹینا، تم نے جرمن زبان میں پی ایچ ڈی تو قرۃ العین حیدر کے ناولوں پر کی ہے تو تم نے عینی کے کسی ناول کا انتخاب کیوں نہ کیا تو وہ کہنے لگی، وہ بڑے ناول ہیں لیکن جنوب مشرقی ایشیا کے نمائندہ ناول نہیں، ’’راکھ‘‘ ہے۔ اگر کرسٹینا کا دماغ الٹ گیا تھا تو میں کون ہوتا ہوں اسے سیدھا کرنے والا۔ میں نے اسے الٹا ہی رہنے دیا۔

اب جگر تھام کے بیٹھیں کہ میری باری آئی۔ میری باری آئی تو سب سے پہلے کرسٹینا نے میری شان میں ایک قصیدہ پڑھا اور وہ بھی جرمن زبان میں اور پھر سٹیج پر ایک نہایت وحشی حسن والی سنہرے بالوں والی جرمن ادیب آئیں اور انہوں نے ’’راکھ‘‘ کے کچھ حصوں کا جرمن زبان میں ترجمہ ڈرامائی انداز میں پیش کیا۔ اچھا یہ ایک عجیب تجربہ تھا کہ آپ کی تحریر کا کسی اور زبان میں ترجمہ ڈرامائی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے اور کبھی کبھی ہال میں براجمان لوگ تالیاں بجانے لگتے ہیں اور آپ ایک احمق مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے بیٹھے رہتے ہیں اور آپ کو کچھ خبر نہیں کہ آپ کے تحریر کردہ کس فقرے یا منظر کے بیان کی داد دی جا رہی ہے اور جب تقریب کے اختتام پر کرسٹینا مجھے جسے کہتے ہیں دعوت کلام دیتی ہے اور میں مائک سنبھال کر اپنی جوابی تقریر کا آغاز کرتا ہوں تو یہیں سے ایک ٹریجڈی جنم لیتی ہے۔

دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے جو کچھ میں نے کہا وہ یادداشت میں دھندلاتا ہے لیکن اس کے معانی آج بھی واضح طور پر اس یادداشت میں ثبت ہیں۔ ’’خواتین و حضرات، برلن میرے لیے نیا نہیں اور نہ ہی میں برلن کے لیے اجنبی ہوں۔ جب میں ماسکو سے لوٹ کر مشرقی جرمنی کی کمیونسٹ حکومت کا مہمان تھا تو برلن میں کوئی دیوار نہ تھی۔ پھر دیوار ہو گئی۔ اب آیا ہوں تو وہ دیوار بھی نہیں لیکن دنیا کے ایک اور خطے میں دیوار برلن سے کہیں بلند اور کہیں طویل ایک دیوار ہے۔ ایک شہر کے گرد ایک دیوار ہے تو آئیے ہم اس دیوار کی بات کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

بشکریہ روز نامہ 92 نیوز

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مستنصر حسین تارڑ

بشکریہ: روزنامہ 92 نیوز

mustansar-hussain-tarar has 84 posts and counting.See all posts by mustansar-hussain-tarar