کرک کو سوئی نہ بنائیں


دو ہفتے ہو گئے کرک کے عوام گیس کی عدم دستیابی پر احتجاج کر رہے ہیں ۔ مگر کسی پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ شائد اس لیے کہ ان کا احتجاج پر امن ہے ۔ ان کا سادہ سا مطالبہ ہے کہ گیس کا پریشر بڑھایا جائے ۔ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے ۔ ان دونوں مسئلوں کا انہیں کئی سال سے سامنا ہے ۔

گیس ضلع کرک کی اپنی پیدوار ہے۔ گیس کی اس پیداوار سے حکومت کے خزانے میں اربوں روپئے جا چکے ہیں مقامی لوگ اسی گیس سے محروم ہیں ۔ اپنے حق کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں ۔  حکام معاملے کو سیریس نہیں لے رہے ۔ یہ احتجاج ایک بڑے فساد میں بھی ڈھل سکتا ہے ۔ کرک کی تینوں تحصیلوں کے لوگ کئی دن سے سڑکوں پر ہیں ۔

کرک صوبائی دارلحکومت پشاور سے 123کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔  کرک کو 1982میں ضلع کا درجہ ملا ۔ یہ ضلع کوہاٹ کی ایک تحصیل تھی ۔ 1958تک ضلع کرک نواب آف ٹیری کے زیر حکمرانی رہا ۔ اور ٹیری کو ہی کرک سمیت کوہاٹ کی مرکزی حیثیت حاصل رہی ۔ جغرافیائی طور پر ضلع کرک ، ضلع کوہاٹ کے جنوب ضلع بنوں اور لکی مروت کے شمال میں آتا ہےرقبے کے لحاظ سے ضلع کرک صوبہ خیبر پختونخوا کے چند بڑے اضلا ع میں شمار ہوتا ہے ۔

یہاں کا کل رقبہ تین ہزارتین سو دو مربع کلومیٹر یعنی ایک ہزار تین سو دو مربع میل ہے ۔ کرک رقبے میں پشاور سے تین گنا بڑا ہے ۔ ضلع کرک کی کل آبادی 2011 مردم شماری کے مطابق سات لاکھ تین سو چونتیس ہزار تین سو پینسٹھ ہے۔ جس میں تین لاکھ کے قریب آبادی تحصیل تخت نصرتی اور باقی تحصیل کرک اور بانڈہ داﺅدشاہ پر مشتمل ہے ۔

یہاں کی آبادی کا 80 فی صد خٹک قبیلے پر مشتمل ہے ۔ اس ضلع کے وسیع تر علاقے میں پہاڑ واقع ہیں جس میں اکثریت سخت اور خشک ہیں ۔ تحصیل بانڈہ داﺅدشاہ میں 70 فی صدپہاڑ، تحصیل کرک میں 50 فی صد جبکہ تحصیل تخت نصرتی کا زیادہ تر حصہ ریت پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے اس علاقہ کو علاقہ تھل کہا جاتا ہے ۔

کرک معدنیات سے مالامال علاقہ ہے ۔  یہاں  اعلی ترین دھات ، تیل ، گیس، یورینیم، جپسم،نمک اور کوئلے سمیت دیگر معدنیات کی نشاندہی ہو چکی ہے ۔  کے پی حکومت کو محصولات کی مد میں سب سے بڑی آمدن کرک کی تیل اور گیس سے ہوتی ہے ۔  ضلع کرک کی آئل اور گیس فارمیشن کو پٹرولیم زبان میں لوکاٹ فارمیشن کہتے ہیں۔ یہ ٹرم ان علاقوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جہاں ذخیرہ وافر ہو ۔ امریکن پٹریلویم انسٹی ٹیوٹ دنیا میں تیل و گیس کا معیاری ترین ادارہ مانا جاتا ہے ۔ کرک سے ملنے والا تیل اسی ادارے کے معیار پر سو فیصد پورا اترا ہے ۔

کرک کے آئل اینڈ گیس فارمیشن کا پریشر بھی دنیا کے بہترین پریشر میں شمار ہوتا ہے ۔ آج کل اوجی ڈی سی ایل پاکستان کا سب سے بہترین فیلڈ نشپہ آئل فیلڈکرک ہے جس کی پروڈکشن 20ہزار 5 سو75بی پی ایل یومیہ ہے اور یہاں سے گیس پروڈکشن 65، 75ملین کیوبک فیٹ یومیہ ہے ۔ نشپہ کے گیس کے چار کنوﺅںمیں سے ہر ایک کا پریشر 390پی ایس آئی ہے جو دنیا بھر میں بہترین معیار کے مطابق ہے ۔

نشپہ آئل اینڈ گیس کے چار کنوﺅں کے علاوہ مول کی زیر نگرانی مکوڑی، منزلی بلاک، ٹل بلاک وغیر ہ سمیت سام پوائینٹ کا پریشر بھی بہترین تصور کیا جار ہا ہے ۔ ان فیلڈ زسے 16 ہزار بیرل یومیہ اور تین سو ملین کیوبک گیس پیدا ہوتی ہے ۔ نشپہ، منزلی،مکوڑی، کے علاوہ یہاں پر ایسے سینکڑوں پوائنٹس ہیں جہاں تیل وگیس کی نشاندہی ہوچکی ہے ۔ ایک سروے کے مطابق صرف تحصیل تخت نصرتی میں 65پوائنٹس ایسے ہیں جہاں تیل و گیس کے وسیع ذخائر ہیں اور تحصیل بانڈہ داﺅدشاہ میں بھی بہت سے مقامات پر کروڈ آئل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں ۔

ان سب پوائنٹس کو بعد میں زیر استعمال لایا جائے گا ۔ ان پوائنٹس کی لیزنگ ہوچکی ہے ۔ کچھ کمپنیوں نے جن میں چائینہ کی کمپنیاں شامل ہیں نے کام بھی شروع کر دیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بعض علاقوں میں تیل اور گیس پانی سے بھی اوپر ہے اور بعض اوقات تیل کی سطح اتنی اونچی آجاتی ہے کہ زمین گیلی ہوجاتی ہے ۔ جبکہ بعض علاقوں میں پانی کے لئے لگائے جانے والے پریشر پمپس میں بھی تیل مکس ہوجاتا ہے۔

جہاں تک یہاں کے تیل وگیس کی پیداور سے آمدن کی بات ہے تو اعدادوشمار کے مطابق صرف نشپہ آئل اینڈ گیس فیلڈ سے روزانہ 30کروڑ کی خالص آمدن ہورہی ہے ۔ جبکہ مول کمپنی کے تحت آئل فیلڈ ز سے یومیہ 60کروڑ کی آمدنی جاری ہے ۔ اس آمدنی سے 50فی صد رائلٹی صوبے کو مل رہی ہے اور پھر صوبہ اس رائلٹی سے دس فی صد ضلع کرک کو دے رہا ہے ۔ مگر وہ رقم ضلع کرک پر درست انداز میں نہیں لگائی جا رہی ۔

جب سے علاقے میں گیس اور تیل کی دریافت ہوئی ہے ۔ یہاں کی سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں الرجی ، خارش ، اور کینسر کی بیماریاں عام ہوگئی ہیں جس کے لئے کوئی اقدامات نہیں ہیں ۔ ہر تین سے چھ مہینے کے بعد گیس پریشر میں کمی کردی جاتی ہے ۔ جس کے لئے پھرمذاکرات کئے جاتے ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ گیس کے میٹر لگالیں جس میں ادارہ خود تردد سے کام لیتا ہے اور کمرشل استعمال کرنے والے افراد سے پیسے وصول کرکے بات ختم کردیتے ہیں ۔

 صورتحال بہت حد تک گھمبیر ہوچکی ہے ۔ اب فرنٹئیر کور گیس کے مقامات پر تعینات ہے جس نے گیس کو بند کردیا ہے ۔ جس پر علاقے کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور یہی ایک مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر یومیہ کروڑوں روپے حکومت کے خزانے میں جارہے ہیں ۔ تو ان کا بھی حق ہے کہ وہ اپنے لیے سہولتوں کا مطالبہ کریں ۔ گزشتہ بیس سالوں سے حکومت کے خزانے میں اربوں روپے گئے ہیں حتی کہ صوبے کا ہر سال بجٹ ضلع کرک کے پیسوں سے بنتا ہے ۔

گزشتہ چھ سالوں سے خوشحال خان خٹک یونیورسٹی بھی اسی رائلٹی کے پیسوں سے چل رہی ہے ۔ اگرحکومت نے اس کا کوئی حل نہیں نکالا تو رمضان سے پہلے کوئی بڑا سانحہ پیش آسکتا ہے۔  کیونکہ رمضان میں لوگ ویسے ہی بے تاب رہتے ہیں ۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے صوبائی جنرل سیکرٹری رحمت سلام خٹک کا ضلع کرک کے گیس کے مسئلے کے حوالے سے کہنا تھا کہ  گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا سے  انکی ملاقات ہوئی ہے ۔ کرک کے گیس کے مسائل کے حوالے سے بات ہوئی ـ جس پر گورنر کا کہنا تھا کہ گیس کے خلاف اپریشن کی بندش کے حوالے سے وفاق سے بات ہورہی ہے جس کا کچھ دنوں میں حل نکل آئے گا ۔

جبکہ کرک کے علاقے گڈی خیل میں ایف آئی ار کے خاتمے کے حوالے سے صوبائی حکومت سے بات ہورہی ہے ـ کیونکہ یہ صوبائی حکومت کا مسئلہ ہے ـ اُن کا کہنا تھا کہ گورنر نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ رمضان سے قبل گیس پریشر کا مسئلہ حل ہوجائے گا ـ بجلی کے کم لوڈشیڈنگ کی بات بھی زیر غور رہی ـ رحمت سلام خٹک کا کہنا تھا کہ مول کمپنی سڑکوں کی مرمت کے لئے مختص رقم ریلیز کر ے کیونکہ انکی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ـ ان کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کے آنے تک اس ایشو کو دبانےاور اپریشن کی بندش سے علاقہ محفوظ ہوجائے گا۔

گیس کے کم پریشر کے حوالے سے اہلیان علاقہ کا کہنا ہے کہ گیس اس علاقے کی پیداوار ہے گرگری سے جٹہ اسماعیل خیل تک علاقہ پیداواری علاقہ ہے جس میں گیس مفت ہوگی ـ اگر اس مسئلے کا حل نہیں نکالا گیا تو حالات کی ساری ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی ـ ٹیری کے عوام اپنا حق لے سکتے ہیں اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین روز سے وہ احتجاج کر رہے ہیں مگر مول اور سی این جی پی ایل کی جانب سے کوئی نمائندہ نہیں آیا جس سے لگتا ہے کہ وہ عوامی طاقت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں اگر یہی بات ہے تو مول کی کمپنی بھی یہاں نہیں رہے گی۔

مول کے کمیونٹی ریلیشن آفیسرز کے ہیڈ افضل وزیر سے گیس کے پریشر کے حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس پر کوئی بات نہیں کرسکتے یہ ہمارے اسلام اباد کے دفتر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس حوالے سے کمپنی کی پالیسی پر اور موجودہ مسئلے پر بات کرے ـ جب اسلام آباد کے نمبر پر کوشش کی گئی تو فون وائس میسیج پر چلا گیا جہاں کئی پیغامات چھوڑے گئے مگر مول کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں