سیاسی جماعتوں کی غیرت کا جنازہ


ہمیں نہ سوچ سمجھ کر بولنے کی عادت ہے نہ لکھنے کی۔ بولتے بھی بے تکان ہیں اور لکھتے بھی نان اسٹاپ ہیں۔ نہ کبھی کوئی خاکہ بنایا نہ پلاٹ۔ جو دل میں آیا بولتے گئے لکھتے گئے۔ اسی لئے ہمیں بار بار لکھ کر کاغذ کے گولے بنا کر کمرے کے کونے میں بھی نہیں پھینکنے پڑتے۔ بغیر نتائج کی پروا کیے لکھتے جاتے ہیں۔ آج کا دن ذرا مختلف ہے۔ بار بار لکھ کر مٹانا پڑ رہا ہے۔ کچھ جذبات سے لبریز ہیں اور کچھ سمجھ بھی نہیں آ رہی کہ بات کہاں سے شروع کی جائے۔ مدعا ہی کچھ ایسا ہے۔

انتخابات سر پر ہیں لہذا ہر طرف چہل پہل ہے۔ انتخابی سرگرمیوں کا بازار گرم ہے۔ سب پارٹیوں کی بھرپور کوشش ہے کہ کوئی بھی طریقہ استعمال کر کے مد مخالف کو پچھاڑا جائے۔ جگہ جگہ انتخابی جلسے اور مہمیں جاری ہیں۔ حتی الامکان کوشش ہے کہ کوئی بھی ہتھکنڈا استعمال کر کے یہ ثابت کر دیا جائے کہ ہم ہی عظمت کی اوج ہیں۔ اس ملک میں جن فرشتوں کی کمی ہے وہ ہم ہی ہیں۔ کبھی دائیں بازو کا دل جیتنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بائیں بازو کو بانہوں میں بھرا جاتا ہے۔ بوڑھوں اور جوانوں سے الگ الگ طرح سے لبھایا جاتا ہے۔ مخالف پر کیچڑ اچھالنے کے لئے کسی حد سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔

اتوار کو لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ ہوا۔ افرادی اور انتخابی قوت کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ ہم کبھی بھی عمران خان اور ان کے حواریوں کے مداح نہیں رہے۔ ان میں تنقید برداشت کرنے کا تو مادہ تو ہے نہیں لہذا سوشل میڈیا پر ان کی ہرزہ سرائیوں کا نشانہ ہم اکثر اوقات بنتے آئے ہیں۔ لیکن کل ہماری ہمدردی کا رخ تحریک انصاف کی جانب ہو گیا جب ہم نے رانا ثنا اللہ صاحب کی زبان سے مغلظات کا وہ طوفان سنا جو انہی کا کمال ہے۔ جلسے پر جو خواتین ناچیں ان کو بازاری کہا گیا۔ یعنی ایک تو ناچنا غلط اور دوسرا بازار سے تعلق ہونا اس سے بھی غلط۔ عابد شیر علی بھی کیوں پیچھے رہتے۔ ایک جلسے میں شیریں مزاری کے بارے میں بڑے دھڑلے سے نازیبا کلمات استعمال کرے نظر آئے۔ کل کچھ ناسازی طبیعت کی وجہ سے دماغ گھوما ہوا تھا دوسرا ان صاحبان کی گفتگو نے ہمیں ایک بار پھر یہ باور کرایا کہ بدلا کچھ نہیں۔ جو زبان بی بی کے لئے نوے کی دہائی میں استعمال کی جاتی تھی آج بھی برقرار ہے۔

تحریک انصاف بھی کیوں پیچھے رہتی۔ سوشل میڈیا ونگ کے روح رواں فرحان ورک نے ایک رقص کرتی خاتون کی ویڈیو لگا دی اور ان کو گل بخاری قرار دے دیا۔ سر چکراتا نہ تو کیا کرتا۔ عجیب سچوایشن تھی۔ خواتین کا رقص کرنا قتل سے بھی قبیح فعل دکھائی دے رہا تھا۔

کفر شاہی نظام کا سب سے بڑا تحفہ عورت کو ملکیت تصور کرنا ہے۔ جیسا کہ انسان صرف مرد کو ہی گردانا جاتا ہے اور عورت محض اس کی ملک ہے اس لئے آدمی کو ذلیل بھی عورت کا نام لے کر کیا جائے گا۔ زیادہ تر گالیاں بھی عورت سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔ سیاست میں بھی ایک دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے مخالفین کی عورتوں پر کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ اس لڑائی میں جو فریق دوسرے کو ’بے غیرت ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے وہی سکندر ہے۔

فی الوقت دونوں سیاسی جماعتوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ نہ صرف اپنے ان ممبران کی رکنیت منسوخ کریں بلکہ ان خواتین سے معافی بھی مانگیں جنہیں اس گھٹیا زبان بازی میں گھسیٹا گیا ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ان حضرات نے یہ حرکت پہلی بار نہیں کی ہے۔ یہاں تک کی نوبت ہی کیوں آئی اور ان کو پہلے کیوں نہ پکڑا گیا؟ کیا آپ کی جماعتوں کی اعلی قیادت اس بات سے واقف ہے؟ اگر واقف ہے تو ذرا غیرت کے مروجہ اصولوں کو آگ لگا دیجئے اور چلو بھر پانی میں ڈوب مریے۔

ہم سے ووٹ مانگ کر شرمندہ ہونے کی زحمت نہ کیجئے گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں