خلائی مخلوق، لاڈلے اور ووٹ کی کٹی پھٹی پرچی


ملک میں ایک طرف انتخابات کی تیاری کے لئے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں روزبروز تیز ہو رہی ہیں تو اس کے ساتھ ہی ایک دوسرے پر الزام تراشی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف چونکہ عدالتوں کے فیصلوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہیں اس لئے وہ اس صورت حال سےعدالتوں پر براہ راست اور فوج پر بالواسطہ تنقید کے ذریعے نمٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس رویہ کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے بعض لیڈروں میں بھی بے چینی موجود ہے ۔ کیونکہ مسلم لیگ (ن) کو ’کنگز پارٹی‘ کی حیثیت حاصل رہی ہے یعنی ملک کی طاقتور اسٹبلشمنٹ نے اس پارٹی کی سرپرستی کی ہے۔ اگرچہ 1999 میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی قیادت میں فوج نے نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ بھی الٹا تھا لیکن اس کے باوجود یہ تاثر مستحکم رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے فوج کے ساتھ گہرے مراسم ہیں اور اسے ملک کی دوسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی کے مقابلے میں ترجیح دی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے اگرچہ مختلف ادوار میں حکومت کے دوران فوج کی ضروریات پوری کرنے اور جرنیلوں کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی کبھی بھی اسٹبلشمنٹ کے قریب نہیں رہی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب پیپلز پارٹی کے معاون چئیرمین آصف زرداری اسٹبلشمنٹ کے ساتھ اپنی پارٹی کے دیرینہ تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ نواز شریف عمران خان کو فوج کا لاڈلا قرار دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی سیاسی پارٹی ان کی مقبولیت کا سامنا کرنے کی تاب نہیں رکھتی لیکن انہیں ملک کے طاقتور حلقوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔

اسی مؤقف کو زیادہ واضح طریقے سے سامنے لانے کے لئے ایک تازہ بیان میں نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو سال رواں کے دوران منعقد ہونے والے انتخابات میں سیاسی مخالفین کا نہیں ’خلائی مخلوق‘ کا سامنا ہو گا۔ یہ لب و لہجہ اختیار کرتے ہوئے نواز شریف دراصل ملک کے سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کے خلاف پائی جانے والی رائے کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے خلاف بیان بازی اور اشارتاً فوج کو اپنے سیاسی اور قانونی مصائب کا ذمہ دار قرار دے کر نواز شریف ’ سیاسی مظلوم یا شہید ‘ کا کرداربھی ادا کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کی سیاسی مقبولیت نہ صرف قائم رہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو۔ متعدد تجزیہ نگاروں کی رائے میں نواز شریف اس حکمت عملی میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کے نعرے ’مجھے کیوں نکالا‘ یا سلوگن ’ووٹ کو عزت دو‘ کو طنز و مزاح اور تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیاہے لیکن ملک کے سیاسی ماحول پر نظر رکھنے والے یہ بات تسلیم بھی کرتے ہیں کہ عام ووٹروں میں ان کے یہ نعرے اثر اندااز ہوئے ہیں اور پنجاب کی حد تک ہر حلقے میں اس نعروں کی بنیاد پر ووٹروں کی قابل ذکر تعداد نواز شریف کی تائید کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی قوت حاصل ہوئی ہے اور لاہور میں 29 اپریل کو منعقد ہونے والی ریلی سے پہلے اور بعد میں عمران خان نے ببانگ دہل اعلان کیا تھا کہ اس سیاسی قوت کے ذریعے وہ متعدد الیکٹ ایبلز کو مسلم لیگ (ن) چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

2011 تک نیا پاکستان بنانے کے نعرے کی بنیاد پر نظریاتی ساتھیوں کے ساتھ سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں عمران خان نے گزشتہ چھ سات برس میں بتدریج اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔ اب وہ مختلف انتخابی حلقوں کے تجربہ کار اور اپنی طاقت کی بنیاد پر منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والے امیدواروں کو تحریک انصاف میں شامل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اس مقصد میں انہیں کسی حد تک تو کامیابی ہوئی ہے لیکن ابھی تک مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کے اہم سیاسی خانوادوں کی حمایت سے محروم نہیں کیا جاسکا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تاثر ہی ہے کہ مشکلات کے باوجود نواز شریف کی مقبولیت برقرار ہے ۔ اس لئے مستقبل میں سیاسی پوزیشن حاصل کرنے کے خواہاں سیاسی طور سے طاقتور لوگ نواز شریف کو بیچ منجدھار چھوڑنے سے گھبرا رہے ہیں۔ اس طرح وہ انتخاب میں ہارنے کا خطرہ بھی مول لیں گے اور اگر مسلم لیگ (ن) دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تو انہیں نواز شریف کے انتقام کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔

باقی تجزیہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 931 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali