کیپٹن صفدر کی فزکس کو مسلمان کرنے کی ناکام کوشش


کیپٹن صفدر نے قائدِ اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کا نام مسلمان سائنسدان ابوالفتح عبدالرحمان منصور الخازنی سے منسوب کرنے کی تجویز قومی اسمبلی میں پیش کر کے فزکس کو مسلمان کرنے کی ایک ناکام کوشش کی ہے۔

کیپٹن صفدر کا شمار ایسے صالحین میں ہوتا ہے جو ہمہ وقت اسلام اور عالمِ اسلام کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ماضی میں بھی کیپٹن صاحب اپنی مذہبی عقیدت اور جمہوریت کی بالادستی پر دیے جانے والے بیانات کی وجہ سے خبروں، کالموں اور عوامی حسن سلوک کا نشانہ بن چکے ہیں۔ امید ہے مستقبل میں بھی وہ ان حرکتوں اور بیانات سے باز نہیں آئیں گے، اس لیے عوام سے درخواست ہے کہ مولانا رضوی کی زبان میں صبح شام کیپٹن صفدر کو یاد کیا کریں۔

پہلے پہل کچھ میڈیا رپورٹس کی بدولت یہ غلط فہمی پھیلی کہ کیپٹن صفدر نے جس عمارت کا نام تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے، اس عمارت کا نام ڈاکٹر عبدالسلام سے منسوب ہے لیکن بعد میں میڈیا رپورٹس سے ہی پتہ لگا کہ یہ ایک الگ ڈیپارٹمنٹ ہے۔

نیشنل سینٹر فار فزکس کا نام ڈاکٹر عبداسلام کے نام پر رکھنے کا نوٹیفکیشن سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے دسمبر 2016 میں جاری کیا تھا مگر تاحال اس پر عمل نہ ہو سکا۔ گو ادارے کو اٹلی میں موجود عبداسلام انٹرنیشنل سینٹر فار تھیوریٹیکل فزکس کی طرز پر ہی چلایا جا رہا ہے لیکن اس ادارے کو ان کے نام سے منسوب کرنے کی راہ میں ڈاکٹر صاحب کا عقیدہ حائل ہے۔

ان کے عقیدے سے نفرت کا آج یہ عالم ہے کہ ہر دوسری دکان کے باہر آپ کو ایک پوسٹر لگا نظر آئے گا جس پر لکھا ہوگا ”قادیانی پہلے اسلام میں داخل ہوں، پھر دکان میں داخل ہوں۔ “ دکان میں داخل ہونے کے بعد دکاندار کے لیے خالص مسلمان، نیم خالص مسلمان، ملاوٹ زدہ مسلمان اور غیر مسلمان سب گاہک بن جاتے ہیں۔

کیپٹن صفدر نے اس قراردار کے ذریعے پھر سے احمدیوں پر زندگی تنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ معصوم مسلمانوں پر ظلم کیا جاتا ہے، اب یہی معصوم مسلمان اقلیتوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں۔ کہیں ٹارگٹ کلنگ کے نام پر شعیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے تو کہیں دکانوں پر احمدی مخالف نوٹ لگا کر ان کے دل توڑے جا رہے ہیں۔ عیسائیوں کی بستیوں کی بستیاں نذرِ آتش کردی جاتی ہیں اور ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرکے ان سے نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد برما کی اقلیت روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر ٹسوے بہائے جاتے ہیں۔ منافقت کا یہ عالم آپ کو خاص ہمارے ہاں ہی ملے گا۔

اس قرار داد پر عمل بھی ہوتا ہے یا نہیں، یہ اتنی اہم بات نہیں ہے، اہم بات یہ ہے کہ شدت ہسندی اور نفرت کا جو بیج بویا جا رہا ہے اس کی فصل کاٹنے کے لیے کتنا خون بہانا پڑے گا۔ ایک عظیم سائنسدان کو اپنی خدمات منوانے کے لیے کسی عمارت یا سڑک کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا کام اس کی پہچان ہے۔ جب سالوں بعد ہمارے دور کی تاریخ پڑھی جا رہی ہو گی، شاید ہی کسی کو کیپٹن صفدر کا ذکر ملے مگر ڈاکٹر عبداسلام کی خدمات تب بھی سراہی جائیں گی۔

اگلے روز مولوی خادم حسین رضوی صاحب کی ایک تقریر کا کلپ سننے کا اتفاق ہوا۔ مولانا فرما رہے تھے کہ کفار کے ساتھ اتنا رابطہ رکھو جتنا لیٹرین کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیٹرین جانا مجبوری ہے۔ انسان وہاں جا کر لیٹرین کے فضائل تو بیان نہیں کرتا۔ مولانا کا بیان بہت پر اثر تھا۔ مزید پر اثر ہو سکتا تھا اگر مولانا یہ خطاب ایک کافر کی ایجاد کردہ وہیل چئیر پر بیٹھ کر نہ دے رہے ہوتے۔

اسی طرح کیپٹن صفدر کی ایک پکے سچے مسلمان بننے کی بھونڈی کوشش تب ہی ہمیں متاثر کر سکتی ہے جب وہ اللہ پر مکمل یقین رکھتے ہوئے ہماری طرح تن تنہا اور نہتے سفر کیا کریں۔ درجن بھر گارڈز کے ہمراہ نکلنا اور ایسی قراردیں پیش کر کے ایک اقلیت کے قتل کا پروانہ شدت پسندوں کے ہاتھ میں تھما دینا، یقیناً منافقت ہی کہلاتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں