اسلامیہ کالج لاہور سے جڑی یادیں


کالج میں بیتے دنوں کی یادیں امر بیل کی طرح انسان کے ساتھ لپٹی رہتی ہیں۔ عمر بھر کانوں میں سرگوشیاں کرتی رہتی ہیں یا پھر روبرو بیٹھے زیر لب مسکراتی رہتی ہیں۔ بارہ برس قبل ایم اے انگریزی ادب کے طالب علم کی حثیت سے اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں گزرے دن عشق پیچاں کی صورت میرے ساتھ چمٹے ہیں۔ مجھے یہ ساتھ بے حد عزیز ہے۔

داخلہ ملنے پہ میں خوش تھا کہ بی کام پاس دیہاتی کو لاہور کے کالج میں پڑھنے کا موقع مل گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اسلامیہ کالج کا شمار برصغیر کی تاریخی اور شاندار درس گاہوں میں ہوتا ہے۔ انجمن حمایت اسلام نے برصغیر کے مسلمانوں کو جدید علم کی روشنی بانٹنے کے لیے 1892ء میں اسلامیہ کالج کی شمع روشن کی۔ کالج کی ابتدا حویلی منشی ہرسنگھ رائے شیرانوالہ گیٹ لاہور کی دوسری منزل کے دو کمروں میں ہوئی۔ سال اول کی پہلی کلاس میں سات طالب علم داخل ہوئے تھے۔ تعداد بڑھی تو جگہ کم پڑ گئی اور 1906ء میں ریلوے روڈ پہ پچاس کنال اراضی پچاس ہزار کی خریدی گئی۔ کالج کی موجودہ عمارت کا سنگ بنیاد افغانستان کے امیر سر حبیب اللہ خاں نے فروری 1907ء میں رکھا۔ کالج کا حبیبیہ ہال انھی کی یاد دلاتا ہے۔ کالج سے فارغ التحصیل طلبہ Habibians کہلاتے ہیں۔

کالج کے گیٹ کیپر سے ہم سخت نالاں تھے۔ کم بخت ایسی عقابی نظریں رکھتا تھا، کہ یونیفارم میں کسی دوسرے رنگ کی آمیزش کو بیسیوں طلبا کے جتھے میں سے تاڑ لیتا تھا اور کالج داخل نہ ہونے دیتا۔ ہم سب اسے ہلاکو خاں کہتے تھے۔ ہلاکو خاں کی ’دُور اندیش‘ نظروں سے ہم اتنے خائف تھے کہ بنیان و زیر جامہ وغیرہ بھی رنگ دار نہ پہنتے تھے۔ ہم نے ہلاکو خاں کے خلاف نعرے بازی کی، سخت رویے پہ احتجاجی تحریک چلائی مگر کامیابی نصیب نہ ہوسکی۔

کالج کے حبیبیہ ہال میں ہماری تقاریب منعقد ہوتی تھیں۔ جس اسٹیج پہ کھڑے ہم نے مزاحیہ خبریں، نظمیں یا الوداعی کلمات پڑھے تھے، اسی سٹیج پہ قائد اعظم اسلامیہ کالج کے سپوتوں سے کئی بار مخاطب ہوئے تھے۔ اسی ہال میں تحریک پاکستان کے دیگر رہنماوؤں (چودھری رحمت علی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی جوہر، الطاف حسین حالی، لیاقت علی خاں، نواب وقار الملک و دیگر) کی شعلہ بیاں تقاریر گونجتی تھیں اور ہال ’بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان‘ کے نعروں سے لرزتا تھا۔ 1940ء سے 1946ء کے درمیان قائد اعظم گیارہ مرتبہ اسلامیہ کالج تشریف لائے اور اپنی تقاریر سے نوجوانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔

مجھے یاد ہے کالج میں ایک ’ایم ایس ایف‘ نامی تنظیم بھی سرگرم تھی۔ اس کا صدر پختہ عمر کا شخص تھا جو مونچھوں کو تاؤ دیے، قمیض کے بٹن کھلے چھوڑے اپنے کن ٹٹے گروہ کے ساتھ دندناتا پھرتا تھا۔ ویگنوں کے ڈرائیور کنڈکٹرز کی پھینٹی لگانا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ کالج کی ہر تقریب میں بن بلائے مہمان و میزبان بن جانا اس کی عادت تھی۔ ایک بار ایم اے او کالج کے لڑکے منصوبہ بندی کے ساتھ اسلامیہ کالج آ گھسے، تو ایم ایس ایف کے جانبازوں نے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے ’دشمن‘ کا مقابلہ کیا اور ان کو بھگا دیا۔ اس دن وہ کالج میں پسٹل لہراتے اور نعرے لگاتے فتح کا جشن مناتے رہے تھے۔

ایک وقت تھا کہ پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد اسی کالج میں رکھی گئی تھی۔ وہ طلبا ویگنوں کے کنڈکٹروں سے جھگڑنے کی بجائے تحریک پاکستان کے جاں نثار سپاہی اور قائد اعظم کا دست و بازو بنے۔ 1946ء کے الیکشن میں اسلامیہ کالج کے طلبا نے مسلم لیگ کی حمایت میں شب و روز محنت کی۔ مسم لیگ 492 میں سے 428 سیٹیں جیتی تو نوائے وقت نے 28 فروری 1946ء کے شمارے میں لکھا ’اسلامیہ کالج کے طلبہ کا یہ کارنامہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا‘۔ منٹو پارک لاہور میں 1940ء کے تاریخ ساز جلسے کے انتظامات کرنے کا اعزاز بھی اسلامیہ کالج کے طلبا کو حاصل ہے۔

کالج کی عمارت شاندار ہے۔ دھوپ میں یوں چمک اٹھتی ہے گویا ابھی دودھ سے نہلائی گئی ہو۔ دو منزلہ عمارت کے مینار اور محرابی دروازے برصغیر میں مسلمانوں کی الگ پہچان اور تشخص کی خاطر کی گئی جدوجہد کی علامت ہے۔ یہ مسلمانوں کی امنگوں اور آرزووں کی امین ہے۔ عمارت کا سحر اگر چہ باقی ہے مگر نہ جانے کیوں کچھ اداس اور تھکی تھکی سی دکھائی دیتی ہے۔ لڑکے جا بجا در و دیوار پہ اوٹ پٹانگ شعر کندہ کردیتے یا پھر زخمی دل میں تیر پیوست کر دیتے۔ بے ڈھنگ تصویروں کا کینوس بھی دیواریں ہی ٹھہرتیں اور جگہ جگہ نام لکھ کر پلستر کا ستیا ناس مارا جاتا۔ عمارت بول سکتی تو اداسی کی وجہ ضرور پوچھتے۔

کالج کے گراؤنڈ میں ہمیں ایک بجے سے پہلے گھسنے نہیں دیا جاتا تھا۔ البتہ چند ہم مزاج کتے ضرور گراؤنڈ میں آنکھ مچولی کھیلتے رہتے تھے، یا پھر قصابوں کی دکانوں سے کھائے چھیچھڑے ہضم کرنے کے لیے لوٹتے پوٹتے رہتے تھے۔ کئی بار اجازت لے کر کرکٹ کھیلنے کا اتفاق ہوا تھا۔ اسی گراؤنڈ میں پاکستان کرکٹ کے پہلے کپتان فضل محمود بھی طالب علم کی حثیت سے کرکٹ کھیلتے رہے۔ اسکوائش کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی جہانگیر خان بھی اسلامیہ کالج میں پڑھتے رہے۔ اسی گراؤنڈ میں قائد اعظم جلسے میں تقاریر کے ذریعے نوجوانوں کے دلوں کو گرماتے تھے۔ جس گراؤنڈ میں ہم چھکے چوکے پہ شور مچاتے تھے، اسی گراؤنڈ میں بیٹھ کے پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے طلبا کی ٹیمیں تشکیل دیں اور الیکشن 1946ء کی مہم کے لیے قریہ قریہ پھیل گئے۔

اسلامیہ کالج کے انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ یہاں کے اساتذہ علم دوست اور محنتی تھے۔ کیوں نہ ہوتے وہ اس درس گاہ کے مدرس تھے، جس میں علامہ اقبال ایسے دانشور اعزازی طور پر فلسفہ پڑھاتے رہے۔

انگریزی ادب کے اساتذہ ہمیں سلویا پلاتھ کی شاعری، بیکٹ کا ڈراما، ’ویٹنگ فار گوڈو‘ یا چنوا ایچی بی کا ناول ’تھنگز فال اپارٹ‘ یوں پڑھاتے کہ ہم کالج کی دیواریں پھلانگ کر اور دُنیائیں گھوم آتے۔ گزرے لمحوں کی راکھ کریدتا ہوں تو آج بھی سر طارق احمد مجھے اسٹوڈنٹس کے گروہ میں خوبصورت گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔ سر عبد الحنان آج بھی بغل میں دو چار کتابیں دبائے سائکل سے اتر کر کلاس میں جاتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ کتابوں سے دوستی کر رکھی تھی انھوں نے۔ انارکلی کے فٹ پاتھوں پہ پرانی کتابوں کے ڈھیر سے کتابیں چھانٹتے نظر آتے تھے۔ سر اظہر کھلے ڈھلے انداز سے پڑھانے والے شفیق استاد تھے۔ سر اقبال جب پنجابی زبان میں ایڈیپس ریکس سمجھاتے تھے تو دل خوش ہو جاتا تھا۔ آج سب کچھ بدل گیا۔ طارق احمد گوروں کے دیس جا بسے۔ عبدالحنان اس دیس چلے گئے جہاں سے نہ کوئی خط آتا ہے نہ پتر۔ خدا کرے کہ جنت میں انھیں کتابیں ضرور میسر آئیں۔ باقی اساتذہ زیادہ تر رِٹائر ہوچکے۔ انگریزی ڈیپارٹمنٹ میں طلبا اور اساتذہ، کوئی بھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ کلاس روم کے روشن دانوں میں چڑیوں کے گھونسلے ہوتے تھے۔ چڑیوں کے بچے دانہ کھانے واسطے شور مچاتے تھے اور پھر اڈار ہونے پر گھونسلا چھوڑ لمبی اڈاری اُڑ جاتے تھے۔

اسلامیہ کالج کا ریواز ہاسٹل ایک کھنڈر بن چکا ہے۔ بوسیدہ در و دیوار آسیب زدہ دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہاں کوئی طالب علم مقیم نہیں۔ ہاسٹل کا افتتاح دسمبر 1908ء میں پنجاب کے گورنر لوئس ویلیم ڈین نے کیا تھا۔ کبھی اس ہاسٹل میں انجمن حمایت اسلام کے اجلاس منعقد ہوتے تھے۔ یہ عمارت علامہ اقبال کی ترنم ریزیوں کی شاہد بھی ہے۔ آپ نے انجمن حمایت اسلام کے 1911ء میں منعقدہ اجلاس میں شرکت کی اور اپنی شہرہ آفاق نظم ’شکوہ‘ پہلی بار پڑھی تھی۔ اس اجلاس کا انتظام ہاسٹل کے دالان میں کیا گیا تھا۔ آج اس ویرانے میں تحریک پاکستان کو تقویت بخشنے والے سپاہیوں کی روحیں ضرور گھومنے آتی ہوں گی، جنھوں نے ان دیواروں کے سائے میں بیٹھ کر آزادی کے خواب دیکھے تھے اور اسی خواب ہی کو مقصد حیات بنا لیا تھا۔

انگریزی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ ہی شعبہ اردو تھا جس میں پاکستان کے نامور ادیب اور ناقد مرزا حامد بیگ پڑھاتے تھے۔ ان کی بدولت ادبی محافل سجتی تھیں جنہوں نے ہمارے گرد آلود ذہنوں کو جھاڑ دیا۔ کالج کے ماحول نے ہماری سوچوں کو نئی راہیں بخشیں اور دلوں میں اچھوتے خیالات کی چنگاری سی سلگا دی۔ دلوں میں چنگاری سلگانا اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی بہت پرانی روایت ہے۔

کالج کی لائبریری میں کتابوں کا اچھا خاصہ ذخیرہ موجود تھا۔ کالج لائبریری کو علامہ اقبال نے اپنی ذاتی ذخیرہ کتب سے عطیہ دیا تھا۔ اسلامیہ کالج میں علم کا دریا بہتا تھا، اگر چہ ہم تنگ دامن زیادہ سمیٹ نہ سکے۔ یہ اسلامیہ کالج کے گنج علم ہی کا احسان ہے کہ مجھے اپنے سیشن میں ٹاپ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

کالج سے فارغ ہو کر ہم کچھ دوست سر طارق احمد کے گھر کرشن نگر پڑھنے جایا کرتے تھے۔ اکثر ہم پیدل ہی یہ طویل سفر کرتے تھے۔ ریلوے روڈ پہ خوش گپیاں لگاتے گوال منڈی جاتے جہاں پکوانوں کی اشتہا انگیز خوشبو کی تاب نہ لاتے ہوئے کبھی نان چنے، حلیم، نہاری، لسی وغیرہ سے شکم سیر ہوتے۔ وہاں سے میو اسپتال (جہاں اداس چہرے، بیمار جسم و جاں دکھائی پڑتے)، جی پی او، پرانی انارکلی (نابھا روڈ پہ لنڈے کی ریڑھیوں پہ سویٹر، جرسی، کوٹ خریدنے والوں کا میلہ سا لگا ہوتا تھا)، ایم او کالج، ساندہ روڈ سے کرشن نگر جا نکلتے تھے۔ سر طارق احمد کے گھر پہ گزرا وقت ہماری زندگی کا اثاثہ ہے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ان سے پڑھنے کا موقع میسر آیا۔

کوئی کتاب خریدنا ہوتی تو کالج سے پیدل ہی اردو بازار پہنچ جاتے۔ راستے میں قطب الدین ایبک کے مزار پہ فاتحہ خوانی کر لیتے۔ وہاں عجب اداس سی خاموشی ہوتی تھی۔ باہر سڑک پہ ہجوم ہوتا تھا مگر مزار پہ کوئی شخص نہ ہوتا۔ بس کبوتر دانہ جگتے نظر آتے تھے۔ آج بھی دل چاہتا ہے کہ کالج سے سر طارق کے گھر اور اردو بازار تک کا پیدل مارچ کروں، مگر وہ دوست کہاں سے ڈھونڈ لاؤں جن کی بدولت اس سفر میں رنگ بھرے تھے۔ علی شہزاد انھی دنوں سائپرس چلا گیا تھا۔ آج کل جرمنی میں آباد ہے۔ عرفان سعودی عرب کے اسکول میں انگریزی پڑھاتا ہے۔ عظیم سبجیکٹ اسپیشلسٹ بھرتی ہوا تھا۔ اپنے ادارے جاتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا اور لمبے سفر کا راہی ہوگیا۔ حافظ نوید گردش زمانہ میں کہیں گم ہو گیا۔ لہذا اب یہ خواہش حسرت بن کر دل ہی میں رہے گی؛ شاید۔ یادوں کا سہارا لے کر ان لمحوں کو پھر سے جینے کا لطف ضرور اٹھا لیتا ہوں۔

اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں گزرے وہ دن میری زندگی کے خوبصورت دن تھے۔ کالج نے ہماری سوچوں کو نئی اڑانیں دیں، ہمارے دلوں میں علم کے دیپ جلائے، امید کی فصلیں ہری کیں، آرزووں کے بیج بوئے۔ زندگی سے لبریز دوست اور اساتذہ دیے۔ دانائی کے پھول نچھاور کیے۔ کہا نا! ہم ہی تنگ دامن تھے جو چند کلیاں ہی سمیٹ پائے۔
کالج کے فرنٹ لان کے ایک کونے میں ایک دو قبریں تھیں۔ یاد نہیں کن کی تھیں۔ ان قبروں میں زندگی سوئی تھی باقی پورے کالج میں ہر جگہ زندگی پورے جوبن پہ تھی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں